صحابہ کرامؓ کی مغفرت اور جنت کی ضمانت
محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ، جو تابعین کے معتبر علماء میں شمار ہوتے ہیں، نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عظیم مقام پر فرمایا:
“غُفِرَ لِجَمِیْعِ الصَّحَابَةِ، وَأَوْجَبَ الْجَنَّةَ لِمُحْسِنِهِمْ وَمُسِیْئِهِمْ”
“اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کی مغفرت فرما دی، اور ان میں سے نیک لوگوں اور (بشری تقاضے سے) گناہگاروں دونوں کے لیے جنت کو لازم کر دیا۔”
یہ قول اس بات کا ثبوت ہے کہ صحابہ کرامؓ کا درجہ عام انسانوں سے کہیں بلند ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا، دین کی خاطر قربانیاں دیں اور اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ اختلافات اور فتنوں کے باوجود، اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص، ایمان، اور قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے ان سب کو معاف فرما دیا۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا اور ان سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے…
انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی…
کیا ساس، سسر کی خدمت شادی کے اہم مقاصد میں سے ہے؟ کیا بہو پر…
کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اجماع ہے؟ ایک مجلس…
کیا سفرِ معراج 27 رجب کو ہوا؟ کیا شبِ معراج منانا بدعت ہے؟ شبِ معراج…