دعا کی اہمیت
خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد چاہتے ہیں اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ درود نازل کرے ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر اور بہت زیادہ سلامتی نازل کرے۔
اما بعد:
اللہ کے بندو اللہ کا کما حقہ تقویٰ اختیار کرو اور خلوت و جلوت میں اس سے ڈرو۔ مسلمانوں، دینِ اسلام ایک ٹھوس دین ہے، وہ ایسے ارکان پر قائم ہے جنہیں واجبات تقویت دیتے ہیں اور مستحبات زینت بخشتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جسے اس نے اپنے بندوں پر فرض کیا۔
نبیﷺ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ1
میرا بندہ جن چیزوں سے میرا تقرب حاصل کرتا ہے ان میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ عمل ہے جسے میں نے اس پر فرض کیا ہے۔
فرائض میں سب سے بڑا اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب فرض، اسلام کے پانچ ارکان ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو شب و روز کبھی بھی بندے سے جدا نہیں ہوتے، اور وہ شہادتین ہیں۔ اور کوئی رکن ایسا ہے جو رات و دن میں کئی مرتبہ ادا کیا جاتا ہے۔ اور کوئی رکن ایسا ہے جو زندگی میں ایک ہی مرتبہ کیا جاتا ہے۔ اور کوئی رکن ایسا ہے جو ہر سال ادا کیا جاتا ہے۔
رمضان کا روزہ ایسا رکن ہے جو ہر سال واجب ہے، جب اس کا موسم قریب آتا تو نبی ﷺ ارشاد فرماتے:
أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ2
تمہارے پاس رمضان کا مبارک مہینہ آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کا روزہ فرض کیا ہے، اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کی بھلائی سے محروم ہوا وہ واقعی محروم ہوا۔
اللہ تعالی نے روزے کی خصوصیت یوں رکھی کہ اس نے اپنے مقدس نفس کی طرف اس کو منسوب کیا اور اس پر بدلہ دینے کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔” رمضان کا مہینہ ایک معزز مہینہ اور بیش بہا موسم ہے، جس کا استقبال شادمانی، مسرت اور خوشی کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ3
آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اسی انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے، وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔
اور جن بہترین کاموں سے رمضان کا استقبال کیا جائے ان میں سے یہ ہے کہ اس کی آمد سے پہلے بہتر انداز میں عمل کیا جائے کیونکہ اچھا آغاز بعد میں اچھے اعمال کی علامت ہے اور رمضان کا مہینہ فصل کاٹنے کا مہینہ ہے۔ نبی ﷺ بطور تمہید شعبان ہی سے رمضان کے لیے تیاری کرتے تھے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ “4
میں نے کبھی بھی نبی ﷺ کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
رمضان جلد ہی رخصت ہونے والا ایک مہمان ہے، یہ گنتی کے چند ہی دن ہیں، لہٰذا اہل عزائم پر واجب ہے کہ وہ اس میں رحمن کی رحمتوں کے درپے ہوں اور اس بات کا عزم کریں کہ سب سے بڑے فرض یعنی رب العالمین کی توحید کو بجا لا کر سب سے معزز اطاعت کو انجام دیں۔ کیونکہ اسی توحید سے عبادتیں آسان ہوتی ہیں اور بندے کو ان کی حلاوت ملتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:
إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي5
بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں، پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔
اور نیک اعمال کی بنیاد اللہ کے لیے اخلاص ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا:
إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ6
آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اس کے لیے عبادت کو خالص کر لوں۔
روزے میں گناہوں کی بخشش کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اجر کی طلب کیا جائے۔
رسول ﷺ نے فرمایا:
وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ7
جو رمضان کا روزہ ایمان کے ساتھ اور اجر کی نیت سے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
اسی طرح رمضان میں قیام اللیل اسی وقت مقبول ہوگا جب صرف اللہ سے ثواب کی امید رکھی جائے گی۔
رسول ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ8
جو رمضان میں ایمان کے ساتھ اور اجر کی امید سے قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
نیت اگر صحیح ہو اور مضبوط ہو تو اجر کو بڑھا دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ9
جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے۔
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یعنی اس کے عمل میں اخلاص کے اعتبار سے بڑھا دے گا۔
رمضان مہینوں کا سردار ہے، جدوجہد اور محنت، صبر اور شکر کا مہینہ ہے۔ قرآن عظیم اس کی سب سے معزز رات میں نازل کیا گیا، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ لَهُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ10
کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزہ کے، یقیناً وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
رمضان میں جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے ساتھ قرآن کا مذاکرہ کرتے تھے اور جب رمضان آ جاتا تو سلف صالحین حدیث اور فقہ کی مجلسیں چھوڑ دیتے اور قرآن کی طرف متوجہ ہو جاتے۔
قتادہ رحمہ اللہ:
رمضان کے دوران ہر تین دن میں قرآن ختم کرتے اور جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو ہر رات قرآن ختم کرتے۔
لہٰذا تم اس مہینے میں رات و دن بکثرت اپنے رب کی کتاب کی تلاوت کرو، اس سے شرح صدر حاصل ہوگا۔
اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے اور رمضان کی خصوصیت میں سے یہ بھی ہے کہ لوگ قیام اللیل کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ قَالَ إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ قِيَامَ لَيْلَةٍ11
جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ امام نماز پوری کرکے لوٹ جائے تو اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
اور پل بھر کے لیے بھی بندے اللہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتے اور روزہ دار ان میں سے ہے جن کی دعا رد نہیں ہوتی، لہٰذا اللہ سے جو چاہو مانگو کیونکہ وہ دعا قبول کرنے والا، نہایت کریم ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا:
مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا أَوْ صَرَفَ عَنْهُ مِنْ السُّوءِ مِثْلَهَا مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ إِذًا نُكْثِرُ قَالَ اللَّهُ أَكْثَرُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَابْنُ ثَوْبَانَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ الْعَابِدُ الشَّامِيُّ12
زمین پر کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو گناہ اور قطع رحمی کی دعا کو چھوڑ کر کوئی بھی دعا کرتاہو اور اللہ اسے وہ چیز نہ دیتاہو، یا اس کے بدلے اس کے برابر کی اس کی کوئی برائی ( کوئی مصیبت) دور نہ کردیتا ہو اس پر ایک شخص نے کہا: تب تو ہم خوب (بہت) دعائیں مانگا کریں گے، آپ نے فرمایا:’اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے۔
رمضان سخاوت اور کمزوروں پر رحم کرنے کا مہینہ ہے۔ نبی ﷺ خیر کے معاملے میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور اس وقت سب سے زیادہ سخی ہوتے جب رمضان میں جبریل علیہ السلام سے ملاقات کرتے۔
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَلْقَاهُ، فِي كُلِّ سَنَةٍ، فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ13
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر (اچھی چیزوں ) میں تمام انسانوں میں سے زیادہ سخی تھے۔اور آپ رمضان کے مہینے میں سخاوت میں بہت ہی زیادہ بڑھ جا تے تھے ۔جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان کے مہینے میں اس کے ختم ہو نے تک (روزانہ آکر) آپ سے ملتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے قرآن مجید کی قراءت فر ما تے تھے۔اور جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے آکر ملتے تھے تو آپ خیر (کے عطا کرنے) میں بارش برسانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہو جا تے تھے۔
اور چلتی ہوا کا نفع عام ہوتا ہے اور اس کی بھلائی ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کو سایہ دے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رمضان میں یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ ہی افطار کرتے تھے۔
توبہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور توبہ کے ذریعے ہی بندہ کامل طور پر اللہ کے قریب ہو سکتا ہے۔ اللہ نے تمام مومنوں کو توبہ کا حکم دیا تاکہ وہ کامیاب ہو جائیں۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ14
اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
اللہ نے اپنا نام “تواب” رکھا تاکہ بندے اس کی طرف رجوع کریں، جو اس کی طرف توبہ کے ساتھ آتا ہے، اللہ اس سے خوش ہوتا ہے، اسے پناہ دیتا ہے، اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ بندے کی زندگی کا سب سے بہترین دن وہ ہے جس دن اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ استغفار نعمتوں کو لاتا ہے اور مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جب بندہ جان لیتا ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والی برائی صرف اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے تو وہ استغفار اور توبہ کرتا ہے، پھر برائی کا سبب دور ہو جاتا ہے۔”
چنانچہ بندہ ہمیشہ شکر گزار اور استغفار کرنے والا رہتا ہے تو اس کے لیے خیر بڑھتا رہتا ہے اور اس سے شر دور ہوتا رہتا ہے۔ رمضان میں اللہ کا ذکر روزہ دار کی زینت ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “عمل کرنے والوں میں سب سے افضل وہ ہے جو اللہ کا سب سے زیادہ ذکر کرے۔” لہٰذا سب سے افضل روزہ دار وہ ہے جو اپنے روزے میں اللہ کا سب سے زیادہ ذکر کرے۔
گناہوں اور آلودگیوں سے دل کا پاک ہونا روزہ دار کے لیے بلندی کا سبب ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ۔ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ15
جس دن نہ مال فائدہ دے گا نہ اولاد، مگر وہ جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے گا۔
فُضَیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ہمارے نزدیک رتبے کی بلندی روزہ اور نماز کی کثرت سے نہیں بلکہ سخاوتِ نفس اور دل کی سلامتی سے ہے۔
روزہ کہتے ہیں کھانے پینے سے رک جانا، اعضاء کو گناہوں سے روکنا، جیسے اس غیبت سے روکنا جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے، یا حرام نظر سے روکنا جو روزے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اور چاہیے کہ رمضان میں تمہارے اوپر ایک وقار اور سکون ہو اور تم اپنے روزے کے دن کو اور دوسرے دن کو ایک جیسا نہ بناؤ۔
مسلمانو، رمضان مسابقہ کا میدان ہے جس میں نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔ اس میں بھلائی کے دروازے پورے کھلے ہوئے ہیں۔ توفیق یاب وہ ہے جو رمضان میں مختلف قسم کی طاعتوں کو انجام دے۔
نبی ﷺ رمضان میں مختلف قسم کی عبادتیں ایک ساتھ کرتے تھے جو آپ دوسرے اوقات میں نہیں کرتے تھے اور بدلہ عمل ہی کی جنس سے ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جو شخص اس دنیا میں اللہ کو پسند آنے والے محبوب، مختلف قسم کے اعمال کرے گا، اس کو جنت میں بھی مختلف قسم کی نعمتیں ملیں گی اور ان نعمتوں کی کثرت اس کے اعمال کی کثرت اور ان میں تنوع کے مطابق ہوگی۔”
سستی اور کاہلی سے بچو کیونکہ یہ گنے چنے چند ہی دن ہیں جو جلد ہی گزر جائیں گے۔ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے اسے پایا اور مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جس نے اس کے روزے رکھے، قیام کیا اور اس میں کثرت سے طاعت کی۔
اللہ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ16
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
اللہ مجھے اور آپ سب کو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں اس کی آیات اور حکمت بھری باتوں سے نفع دے۔ میں یہ کہتا ہوں اور اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، بے شک وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اس کے احسان پر اور اسی کے لیے شکر ہے اس کی توفیق و انعام پر۔ میں اللہ کی شان کی تعظیم کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر کثرت سے درود و سلام نازل فرمائے۔
مسلمانو، دن اور راتیں عمر کے گھٹنے اور روانگی کے قریب ہونے کی خبر دے رہی ہیں۔ اور عقلمند وہ ہے جو عبرت حاصل کرے اور عمل کرے۔ ان لوگوں کو یاد کرو جو گزشتہ رمضان میں تمہارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور آج وہ قبر کے اندر اپنے اعمال کے ساتھ پڑے ہوئے ہیں۔ وہ رمضان کے صرف ایک دن روزہ رکھنے کی تمنا کر رہے ہوں گے۔ اللہ نے تم پر انعام کیا کہ اس نے تمہیں مہلت دی، لہٰذا اس کے ختم ہونے سے پہلے اسے غنیمت جانو۔ کتنے ہی ایسے ہیں جو دن کا استقبال کرتے ہیں مگر اسے پورا نہیں کر پاتے اور کتنے ہی ایسے ہیں جو کل کی امید رکھتے ہیں مگر اسے پاتے نہیں۔ اگر تم موت اور اس کی پیش رفتگی کی حقیقت کو سمجھ لو تو تم جھوٹی آرزو اور اس کے دھوکے سے نفرت کرنے لگو۔
پھر جان لو کہ اللہ نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا
اللہ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا17
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔
اے اللہ، ہمارے نبی محمد پر درود و سلام نازل فرما۔ اے اللہ، خلفاء راشدین ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا، جنہوں نے حق کے ساتھ فیصلہ کیا اور اسی کے مطابق انصاف کیا۔ اور تمام صحابہ کرام سے بھی راضی ہو جا اور ان کے ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، اپنے جود و کرم سے، اے سب سے زیادہ کرم فرمانے والے۔
اے اللہ، اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل کر، دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر۔ اے اللہ، اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن و سکون اور خوشحالی عطا فرما۔ اے اللہ، ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو ان چیزوں کی توفیق عطا فرما جو تجھے پسند ہوں اور جن سے تو راضی ہو۔ انہیں نیکی اور تقویٰ کی راہ پر چلا، ان دونوں سے اسلام اور مسلمانوں کو نفع پہنچا اور مسلمانوں کے تمام حکمرانوں کو تیری کتاب کے مطابق عمل کرنے اور تیری شریعت کو نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب، ہم نے اپنے پر ظلم کیا، اگر تو ہماری بخشش نہیں فرمائے گا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
اے اللہ کے بندو، بے شک اللہ تعالیٰ انصاف، احسان اور قرابت داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور تم بزرگ و برتر اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا، اور یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
خطبہ جمعہ، مسجد نبوی۔
موضوع:رمضان عبادتوں کا مہینہ
خطیب:شیخ عبد المحسن القاسم حفظہ اللہ
تاریخ:25شعبان 1447 | 13 فروری 2026
_______________________________________________________________________________________________________
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…
پیارے نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں کس بات کا سب سے…
کیا پیٹرول کی قیمت بڑھتے ہی میٹر بدل لینا اور پمپ بند کر دینا دینداری…