قرضوں کی اشاریہ بندی

کاغذی کرنسی سے پیداشدہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ افراطِ زر(Inflation)کا بھی ہے ۔ معاشی تکنیک کے حوالے سے افراطِ زرایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کی جملہ وجوہات کا احاطہ کرنا یہاں مقصود نہیں ، البتہ کاغذی کرنسی اور افراطِ زر کے درمیان جو لازمی تعلق ہے ،اسے آئندہ سطور کے حوالے سے پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے ۔

افراطِ زر کے مسئلے کی کوئی ایک جہت نہیں بلکہ معاشیات کی اصطلاح میں یہ ایک ہمہ جہت مسئلہ ہے۔مثال کے طور پر کاروباری قرضوں، تنخواہوں، امانتوں اوربچتوں سمیت کئی معاملات میں افراطِ زر کے مسائل درپیش ہیں۔ ان مسائل پر قابوپانے کے لئے اقتصادی ماہرین جو حل تجویز کرتے ہیں ان میں عام طور پر سب سے مقبول اور سب سے زیادہ کامیاب تصور کئے جانے والے حل کو اشاریہ بندی (Indexation)کہتے ہیں یعنی اشاریہ بندی کے ذریعے افراطِ زر کی وجہ سے پیداہونے والے مسئلے کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔

افراطِ زر کے نتائج اور اشاریہ بندی کی تکنیک کوسمجھنے کے لئے اس عام مثال پر غور کریں

زید نے بکر سے 10000 روپے 1990ء میں اس وعدہ پر قرض لئے کہ یہ رقم 1994ء میں واپس کردی جائے گی۔1994ءمیں جب یہ رقم واپس کی گئی تو قوتِ خرید میں کمی کے باعث 10000 روپے کی رقم حقیقتاً 8000 روپے کے برابر آچکی تھی۔بالفاظِ دیگر چار سال کے عرصے میں افراطِ زر نے جو صورت اختیار کی اس کی وجہ سے 10000 روپے رقم کی حقیقی قیمت میں کمی واقع ہوئی اور اس کے نتیجے میں بکر کو (قوتِ خریدمیں کمی کے باعث )2000 روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

معاشیا ت میں اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اشاریہ بندی کا طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے ، یعنی ’’معاشی تخمینہ لگا کر ایسا توازن بروئے کا ر لانا جس کی وجہ سے قوتِ خرید میں جو کمی ایک مقررہ مدت کے درمیان واقع ہوئی ہے اس کو دور کیا جائے ‘‘یہ حل اشاریہ بندی کہلاتا ہے ۔

مذکورہ بالاتکنیک اشاریہ بندی کی مکمل تعریف نہیں بلکہ اس کی تفہیم کے لئے ایک مثال ہے ۔ اشاریہ بندی کی مخصوص تعریف کا ذکر آگے ہوگا جہاں اس کےلئے استعمال میں آنے والے طریقہ ہائے کار کی بھی وضاحت کی جائے گی۔

اشاریہ بندی (Indexation)کیا ہے ؟

 پال ۔ اے سموئل سن(Paul A.Samuelson)کے مطابق

“)Indexation is( a mechanism by which wages, prices and contracts are partially or wholly adjusted to compensate for changes in the general price level’[1]

’’اشاریہ بندی ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے قیمتوں کی عام سطح میں تبدیلیوں کی تلافی کرنے کے لئے تنخواہوں ،قیمتوں اور معاہدات میں جزوی یا کلی توازن پیدا کیا جاتاہے‘‘۔

جبکہ جے ایل ہانسن (J.L. Hansan)کے مطابق:

“A System of relating income especially from investment the retail price index in a time of inflation in order to offset the fall in the value of money’’.[2]

’’ایک ایسا نظام جس میں بالخصوص سرمایہ کاری سے حاصل ہونیوالی آمدن کا افراطِ زر کے وقت قیمتوں کی پرچون سطح سے اس طرح تعلق قائم کرنا تاکہ روپے کی قدر میں کمی کا ازالہ کیا جاسکے ‘‘

مندرجہ بالا دونوں اور اسی نوعیت کی دیگر تعریفات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ افراطِ زر کی بنا پر تنخواہوں ، قیمتوں اور معاہدات کو جو خطرات لاحق ہوتے رہتے ہیں ان سے پیدا شدہ نقصانات کو دور کرنے کے لئے جو طریقہ کا ر استعمال کیا جاتا ہےاسے اشاریہ بندی کہتے ہیں ۔

کرنسی کی قوتِ خرید میں کمی کے علاج کے لئے ہر حل’’اشاریہ بندی‘‘ نہیں کہلاتا:یہاں یہ امر خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ اشاریہ بندی کےلئے چند مخصوص طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ افراطِ زر سے قوتِ خریدمیں جو کمی واقع ہوتی ہے اس کے علاج کے لئے تجویز کردہ ہر طریقے کو اشاریہ بندی نہیں کہا جاسکتا ۔ یہ وضاحت اس لئے بھی ضروری ہے کہ سپریم کورٹ میں حافظ عبدالرحمن مدنی کےبیان کے حوالے سے جو غلط فہمی انجینئر سلیم اللہ اور بعض دوسرے حضرات کو لاحق ہوئی ہے، وہ دراصل اس غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ افراطِ زر کا ہر ممکنہ حل اشاریہ بندی کی طرف جاتا ہے ۔ اس بارے میں مضمون کے آخر میں چند گذارشات پیش کی جائیں گی ، فی الوقت اس نکتہ کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔

قرضوں کی اشاریہ بندی……….بنیادی مسئلہ

 جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہےکہ اشاریہ بندی نےتنخواہوں، امانتوں اور قرضوں سمیت کئی معامالات کو اپنے احاطہ میں لے رکھا ہے۔جہاں تک تنخواہوں وغیرہ کا تعلق ہے، اس ضمن میں ہر سال افراطِ زر کا تخمینہ لگا کر تنخواہوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے اس میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ اسلامی نظامِ پیداوار میں مزدور کی اجرت اور سرمائے کو برتنے کے پیمانے مختلف ہیں ۔یعنی مزدور کو مقررہ تنخواہ دی جاسکتی ہے اور اس میں حسبِ حال مخصوص اضافہ بھی کیاجاتا ہے جبکہ سرمائے کے لئے متعین ، لازمی منافع طے کرنا جائز نہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ اشاریہ بندی کا مسئلہ تجارتی قرضوں کے حوالے سے زیادہ اہم ہے اور عام طور پر بنکوں کے حوالے سے جب افراطِ زر اور اشاریہ بندی کی بات ہوتی ہے تو اس سے قرضوں کی اشاریہ بندی ہی مراد ہوتی ہے ، آئندہ سطور میں اشاریہ بندی کے جواز اور عدمِ جواز کے بارے میں بحث کا اصل محور’’قرضوں کی اشاریہ بندی‘‘ ہی ہے۔

کاغذی کرنسی ……….شرعی حیثیت

 چونکہ دورِ حاضر میں افراطِ زر کا بڑا مسئلہ براہِ راست کاغذی کرنسی کا پیدا کردہ ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ کاغذی کرنسی کی اصل حیثیت کا تعین کرلیا جائے ۔ جب سے اشاریہ بندی کا معاملہ سامنے آیا ہے، کاغذی کرنسی کی اصل حیثیت کی بحث بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہیں ۔ اس ضمن میں متعدد ملکوں کی فقہ اکیڈمیوں نے اپنے اپنے طور پر سیمینار منعقد کروائے اور مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی ۔ اس ضمن میں کسی تفصیل میں جائے بغیر سامنے آنے والی ان نمائندہ آراءکا خلاصہ درج ذیل ہے:

کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں علمائے کرام میں مندرجہ ذیل آراء پائی جاتی ہیں ۔ اس ضمن میں سب سے جامع بحث مکہ مکرمہ ہائیکورٹ کے جسٹس ڈاکٹر عبد اللہ بن سلیمان المنیع نے عربی زبان میں کی ہے ۔ تفصیل کے شائقین اصل کتاب کی طرف رجوع کریں [3] }جس کا اردو ترجمہ بھی پاکستان میں کاغذی  کرنسی کی تاریخ ارتقاء اور شرعی حیثیت کے نام سے فضلی سنز لمیٹڈ اردو بازار، کراچی نے شائع کیا ہے۔

(1)کرنسی نوٹ بحیثیت دستاویز

اس نظریے کے مطابق کرنسی نوٹ جاری کنندہ کی طرف سے (ادھارکی)دستاویز ہے اور شرعی احکامات لگاتے وقت اس کے اس کردارکو مدِ نظر رکھاجائے گا۔

(2) نظریہ عروض

بعض ماہرین نے یہ رائے پیش کی ہے کہ کرنسی نوٹ عروضِ تجارت میں سے ایک عرض ہے یعنی اس کی حیثیت سامان کی سی ہے ۔ چنانچہ سامانِ تجارت کے شرعی احکام اس پر لاگو ہوں گے۔

(3)کرنسی نوٹ کا معدنی سکوں سے الحاق

اس نظریہ کے حاملین کے مطابق کرنسی نوٹ اسلامی قرونِ وسطی کے فلوس سے مشابہت رکھتے ہیں اور فلوس کی قیمتوں میں تغیر وتبدل کے حوالےسے فقہاء کرام کی آراء کرنسی نوٹوں پر بھی لاگو تصور کی جائیں گی ۔

(4) نظریہ بدل

 اس مؤقف کے حامی ماہرین کے مطابق کرنسی نوٹ اپنے اصل کا عوض یا بدل ہیں اور ان کا اصل سونا، چاندی یا کوئی قیمتی شے(Commodity)ہے۔ یعنی کرنسی اصل کی نمائندہ ہے۔

(5)ثمنِ حقیقی

 اس نظریے کے مطابق سابق تمام نظریات کے برعکس کرنسی نوٹوں کی ثمنیت کسی خارجی شے پر موقوف نہیںبلکہ اب یہ مستقل ثمن حقیقی کی حیثیت اختیار کرچکےہیں اور ان پر شرعی احکامات بھی اسی لحاظ سے واردہوں گے۔

کرنسی نوٹوں کے بارے میں یہ نمائندہ آراء عبداللہ بن سلمان المنیع نے پیش کی ہیں اور ہررائے کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے ۔مندرجہ بالاآراء میں سے کسی ایک کو بھی اختیار کرنے کےجو نتائج وعواقب یا شرعی اشکال وارد ہوسکتےہیں، انہوں نے ان پر سیر حاصل گفتگوکی ہے ۔ نیز صاحبِ کتاب نے مؤخر الذکر رائے کو علمی غوروخوض کے بعد قبول کرلیاہے ۔اس ضمن میں اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ ، اسلامی ترقیاتی بینک ، بین الاقوامی ادارہ برائے اسلامی اقتصادیات اسلام آباد اور اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کےمنعقدکردہ سیمینارز اور قراردادیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں ۔[4]

 پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت نے سود کےخلاف جو فیصلہ دیاتھا اس میں اس پہلو پر بھی بحث کی گئی تھی کہ فقہاء نے قیمتوں میں رد وبدل کےحوالے سے لین دین کی جو شروط پیش کی ہیں ، آیا ان سے اشاریہ بندی کےجوازکا کوئی پہلو برآمد ہوتا ہے کہ نہیں ؟ چنانچہ علامہ ابن عابدین ، ابنِ قدامہ اور فتاوی عالمگیری کے متعدد حوالہ جات سے اس تاثر کو زائل کیا گیا تھا کہ فقہاء کرام کی بعض تحریریں اشاریہ بندی کا جواز لئے ہوئے ہیں ۔ [5]5 یہ تفصیل کا موقع نہیں ، اس پہلوکو پیشِ نظر رکھنے کے لئے صرف اشارہ مقصود تھا۔

قرضوں کی اشاریہ بندی کی شرعی حیثیت

 جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اشاریہ بندی کا اصل تعلق کاغذی کرنسی کی فقہی حیثیت کے تعین کے ساتھ ہے ، چنانچہ اس سلسلے میں علماء اور ماہرین معیشت کو دو واضح گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے :

اول :

 اس گروہ میں وہ علماء اور دانشور شامل ہیں جو اشاریہ بندی کے قائل ہیں ، ان میں رفیق مصری ، سلطان ابوعلی ، ایم اے منان ،ضیاءالدین احمد ، سلیم چشتی ، عمر زبیر ، گل محمد، مولانا محمدطاسین اور دیگر کئی علماء شامل ہیں۔[6]

دوم :

 اس گروہ میں وہ علماء /دانشور شامل ہیں جو اشاریہ بندی کے مخالف ہیں اور متعدد وجوہ کی بنا پر اسے ناجائز بتلاتے ہیں ان میں محمد عمر چھابرا ، حامد اللہ کاف، محمد نجات اللہ صدیقی ، محمد حسن الزمان ، مولانا تقی محمد عثمانی ، علی احمد سالوس اور دیگر کئی علماء اور ماہرین معیشت شامل ہیں ۔[7] } اسی نقطہءنظر کو مختلف ممالک کی اسلامی فقہ اکیڈمیوں نے بھی اختیار کیا ہے ۔[8]}اسلامی معیشت کے عام ماہرین اور اساتذہ کی رائے میں یہی راجح ہے ۔ ذیل میں ہم ہر دو فریقین کے دلائل کا مختصراً جائزہ لیں گے۔

مجوزین کے دلائل

قرضوں کی اشاریہ بندی کے حامی مندرجہ ذیل دلائل سے استفادہ کرتے ہیں :

 کاغذی کرنسی کی شرعی حیثیت کے بارے میں مجوزین کا نقطہءنظر: وہ تمام حضرات جو کاغذی کرنسی کو ثمن حقیقی قرار نہیں دیتے بلکہ دیگر آراء میں سے کسی رائے کے حامی ہیں ، وہ کسی حد تک اشاریہ بندی کے حامی ہوسکتے ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ سب ہی اشاریہ بندی کے حامی ہوں مگر عام طور پر یہ اشاریہ بندی کے حامی اور قائلین انہی آراء کے حامل نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ جب یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی ثمن حقیقی کی حیثیت اختیا ر کرگئی ہے تو اشاریہ بندی کا دروازہ خود بخود بند ہوجاتا ہے ، اس ضمن میں وضاحت پہلے گذر چکی ہے۔

(1)چنانچہ قائلین اشاریہ بندی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب کاغذی کرنسی کی ثمنیت کسی اور چیز پر موقوف ہے تو افراطِ زر کے نتیجے میں وہ دوسری شے بنیاد بن سکتی ہے اور اس کو بنیاد بنا کر قوتِ خرید میں جو کمی واقع ہوئی ہے، اس کے نقصان کی تلافی ممکن ہے۔

 اگر بغور دیکھا جائے تو یہ رائے درست نہیں ، کیونکہ کاغذی کرنسی کے ضمن میں راجح رائے یہی ہے کہ وہ

 ثمن حقیقی ہے۔اس راجح رائے کو قبول کرنے کے سے یہ سارا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ۔بنابریں اگر اس راجح رائے کو نہ لیا جائے بلکہ کسی دوسری رائے مثلاً نظریہ بدل کو قبول کیا جائے (جیسا کہ مولانا مدنی نے اپنے بیان میں کہا ہے)تو بھی اشاریہ بندی ایک لازمی حل کے طور پر سامنے نہیں آتی ،بلکہ کسی دوسرے قابلِ قبول اور منصفانہ حل کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔اس لئے کہ بقول مولانامدنی اشاریہ بندی استحصالی ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے اور اس ضمن میں جو طریقہ کا ر استعمال کیا جاتا ہے وہ نہ صرف غیر معقول بلکہ بہت حد تک ظالمانہ ہے۔

(2)اشاریہ بندی کے قائلین کے دیگر جملہ دلائل کا خلاصہ یہ ہےکہ اسلامی اَحکامات عدل و انصاف کے بارے میں واضح ہیں ۔افراطِ زر سے ناانصافی جنم لیتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ظلم کا عنصر نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے، چنانچہ ’’لا ضرر ولاضرار‘‘کے قاعدے کے تحت اِشاریہ بندی کو قبول کیاجاسکتا ہے۔

جیسا کہ یہ واضح ہے کہ افراطِ زر سے ناانصافی اور ظلم کا باب کھلتا ہے، مگر کیا یہ ضروری ہے کہ ایک ظلم کو ختم کرنے کے لئے دوسرا ظلم شروع کردیا جائے ۔اشاریہ بندی کا نظام بذاتِ خود اس حد تک ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے کہ اس کو کسی مثبت حل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ ’’لا ضرر ولاضرار‘‘ کا قاعدہ بھی یہاں لاگو نہیں ہوتا کیونکہ افراطِ زر سے اگر دائن(قرض دینے والے)کو ضررلاحق ہوتا ہےتو اشاریہ بندی سے یہ ضرر مدین (قرضدار)کی طرف منتقل ہونے کا خطرہ ہے۔

 قائلین اشاریہ بندی کے جملہ دلائل کا خلاصہ یہی ہے اور عام فہم شخص بھی یہ محسوس کرسکتا ہے کہ افراطِ زر سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کی نشاندہی کی حد تک تو یہ نقطہءنظر بالکل درست ہے۔مگر جہاں تک علاج کا تعلق ہے وہاں سے ایک دوسری غلطی کاآغاز ہوجاتا ہے۔

مانِعین کے دلائل

 اشاریہ بندی کے مخالفین کے دلائل کو نوعیت کے اعتبار سے دو اقسام میں تقسیم کیا جاتاہے :

اول : اشاریہ بندی کےتکنیکی اور اقتصادی نقصانات

 ڈاکٹرحسن الزمان نے اشاریہ بندی کی مخالفت میں وفاقی شرعی عدالت میں جو بیان دیا تھا ، اس میں مندرجہ ذیل عقلی دلائل شامل تھے ۔[9]

Aکرنسی کی قیمت ایک اضافی اصطلاح ہے ، اس سے کرنسی کی اصل یا اندرونی خصوصیات کا اظہار نہیں ہوتا اور نہ ہی کرنسی کی قیمت کا دارومدار ہمیشہ اس کی ذاتی خصوصیات پر ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر کئی مرتبہ یہ قیمت طلب ورسد کے نظام میں کسی تبدیلی کی بنیاد پر کم یا زیادہ ہوتی ہے ۔ اس صورت میں اشاریہ بندی سے اس کا علاج …… جس کا براہِ راست تعلق کرنسی سے ہے…… کسی طور پر درست نہیں ، کیونکہ اس صورت میں خرابی کے ذمہ دار عناصر خارجی ہیں ۔

اور پھر یہ بھی کہ کرنسی کے نظام میں خرابی یا افراطِ زر کے ذمہ دار عناصر کا ٹھیک طور پر تعین ممکن نہیں ۔ اس لئے آنکھیں بند کرکے اشاریہ بندی کو بطورِ حل استعمال کرنا…… جبکہ اس کے استعمال کا محل ہی نہیں…… کسی طور پر مناسب نہیں ۔

(3)اشاریہ بندی کے پس منظر میں یہ مقصد کا ر فرما ہے کہ قوتِ خرید میں کمی کے باعث دائن کو جو نقصان مستقبل میں لاحق ہوگا اس کی تلافی کی جائے ۔ یہ مستقبل قرض کی ادائیگی کے وقت سے نہیں بلکہ فوری طور پر شروع ہوجاتا ہے ۔ اشاریہ بندی کے لئے مستقبل میں قوتِ خرید میں ہونے والی کمی کو مدنظر رکھا جاتا ہے حالانکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ کرنسی کی متوقع قوتِ خرید کو بھی یقینی بنایا جائے ۔ یہ ایک ایسی شرط ہے کہ اس پر عمل تقریباً ناممکن ہے اور اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے یہ دعویٰ کہ اشاریہ بندی میں عدل وانصاف مضمر ہے خود ہی باطل ہوجاتاہے۔

(4)اشاریہ بندی کے لئے جو طریقہ کار عام طور پر متدوال ہے وہ بھی ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے۔ اس کے لئے صارف کی ٹوکری کا(Consumer’s Basket) طریقہ کا ر استعما ل کیاجاتا ہے ، صارف کی اس ٹوکری میں کئی ایسی اشیاء شامل ہیں جن کا عام صارف سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ اس طرح اشاریہ بندی کا نظام کئی لوگوں کے لئے غیر منصفانہ حمایت کا باعث بھی بن جاتا ہے۔

(5) بچتوں کےحوالے سے اشاریہ بندی کا طریقہ اور زیادہ مضحکہ خیز تصور پیش کرتا ہے۔ تمام بچت کنندگان کی بچتوں(Consumer’s Basket)کے حوالے سے برتا جاتاہے اور اس طرح بزعم خویش نقصان کی تلافی کی جاتی ہے۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کتنے بچت کنندگان ایسے ہیں جو (Consumer’s Basket)خریدنے کے لئے بچت کرتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں! ایک ایسا شخص جو سونا خریدنے کےلئے بچت کررہا ہے، اس کی بچت کردہ رقم کی قوتِ خرید میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کےلئے (Consumer’s Basket)کو میعار بنانا مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے ؟ ایسے شخص کے لئے تو منصفانہ قدم یہ ہے کہ (Consumer’s Basket) کے بجائے سونے کو معیار بنایاجائے ۔ علی ہذا القیاس ہر بچت کنندہ کے اپنے مقاصد ہیں ۔ ہر بچت کے پس منظر میں کارفرما مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اشاریہ بنانا یقیناً ناممکن ہے۔ سو اشاریہ بندی کا یہ نظام فائدہ مند نہیں ۔

(6) اس پر مستزاد یہ کہ قرض دینے کا عمل افراطِ زر کا باعث نہیں بنتابلکہ عام طور پر بچتوں کا عمل افراطِ زر کے پس منظر میں کارفرماہوتا ہے ۔ چنانچہ قرض دار سے اشاریہ بندی کی بنا پر زائد رقم لینا بذات خود ایک غیرمنصفانہ قدم ہے۔

Fقیمتوںمیں تغیرو تبدل ایک لازمی امر ہے ۔ خاص کرایک ایسے معاشرےمیں جہاں معاشی تبدیلیاں زیاد ہ کارفرماہوں وہاں قیمتوں میں یکسانیت اوروہ بھی ایک طویل مدت کےلئے ناممکن ہے ۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ترقی کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں تغیروتبدل لازمی امر بن جائے وہاں اشاریہ بندی ناقابل عمل بن جاتی ہے۔

(7)اشاریہ بندی کے حامی معیشت کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کہ جہاں افراطِ زرکے عمل کو ہمیشگی اور دوام حاصل رہے۔ جب کہ عقل کا تقاضہ ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رکھا جائےیعنی تفریطِ زر کے دوران اشاریہ بندی کا کردار کیا ہوگا؟ اس پر تاحال خاموشی ہے۔

(8)افراطِ زر کے باعث نقدی کی جملہ خصوصیات متاثرہوتی ہیں مگر اشاریہ بندی ان میں سے صرف چند ایک کا علاج کرتی ہے اور باقی کو اسی طرح چھوڑ جاتی ہےمثلاً(Store of value)کا علاج تو اشاریہ بندی سے ممکن ہے مگر (Measure of value)کا مسئلہ جوں کا توں برقراررہتا ہے۔

Iجیسا کہ زیادہ تر بلا سودی قرضے غیر پیداواری ہوتے ہیں چنانچہ نقصان کی تلافی کے لئے مدین (دَین دار )سے رجوع کرنا غیرمنصفانہ ہوگا۔

(9)اگر افراطِ زر کی شرح،منافع کی شرح سے زائد ہوجائے گی تو بینک اور دوسرے مالیاتی ادارے قرضوں کے کھاتے قبول کرنے سے احتراز کریں گے ۔نیز ایکویٹی Equity کی بنیاد پر رقوم کی فراہمی میں بھی تعطل پیدا ہوجائے گا۔

(10)اشاریہ بندی کے عمل کو اگر عام کردیاگیا تو معاشرےمیں ایک ہی کرنسی کی مختلف قیمتیں رائج ہوجائیں گی۔ یعنی کاروباری مقصد کے لئے مختلف قیمت ، اشاریہ بندی کے لئے مختلف قیمت، افراطِ زر کے دوران ایک نئی قیمت ، غرض یہ کہ بنیادی یونٹ ہونے کے ناطے کرنسی کی جو اہمیت ہے وہ ختم ہو کر رہ جائے گی۔

 یہ تو اشاریہ بندی کے وہ نقصانات تھے جو اقتصادی اور عقلی نقطہءنظر سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ شرعی نقطہءنظر سے سب سے اہم اعتراض اس حوالے سے یہ ہے کہ اشاریہ بندی کا عمل سود سے مماثلت رکھتا ہے۔یعنی اس میں رباالفضل کا عنصر پایا جاتا ہے۔

دوم:اشاریہ بندی اورربا الفضل

اشاریہ بندی پر سب سے زیادہ سنگین اعتراض شرعی نقطہء نظر سے یہ ہے کہ اس میں ربا الفضل کا پہلو پایا جاتا ہے ۔ اس بنا پر علماءکرام کی اکثریت نے اسے ناجائز قرار دیا ہے ۔ڈاکٹر طاہر منصوری اس ضمن میں لکھتے ہیں :

’’کیونکہ یہ شریعت کا غیر متنازع فیہ اصول ہے کہ قابلِ مبادلہ شے اس کی مثل کی صورت میں واپسی کی جائیگی ، یہ مثلیت جنس کے ساتھ ساتھ وزن ومقدار میں برابری کی شکل میں ہوگی ۔ کاغذی نوٹ بھی ،جو تمام علماء کرام کے متفقہ فیصلہ کی رو سے درہم ودینار کے مشابہ ہیں ، اس اصول کے تابع ہوں گے اور ان کا مبادلہ چاہے صرف کی صورت میں ہو یا قرض کی صورت میں، مقدار میں برابری کی بنیادپر ہوگا،مقدار کی اس مثلیت سے ذرا بھی انحراف ربا الفضل کے زمرے میں آئے گا ‘‘[10]

طرزِ استدلا ل بالکل واضح اورصحیح ہے ۔ کیونکہ حدیث عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ اس باب میں اصل ہے اور اگر اشاریہ بندی پر اس کا انطباق کیا جائے تو نتیجہ ربا الفضل کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا ۔ ربا الفضل اور اشاریہ بندی کے باہمی رشتے کے بارے میں محققین نے سیرِ حاصل بحثیں کی ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں ۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات اصل مباحث کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اشاریہ بندی میں ربا الفضل سےمشابہت کا جو پہلو ہے اس کے پیشِ نظر اسلامی نظریاتی کونسل[11] اور وفاقی شرعی عدالت نے بھی قرضوں کی اشاریہ بندی کو خلافِ شرع قرار دیا ہے ۔ نیز یہ سلسلہ اب کسی حد تک اجماعی شکل اختیا کرتا چلا جارہا ہے۔اسلامی ترقیاتی بینک جدہ اور انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اسلام آباد کے زیر اہتمام اشاریہ بندی کے موضوع پر منعقد سیمینار۱۹۸۷ نے قرار دیا تھا کہ:

’’ربا اور قرض کی احادیث میں مذکورہ یکسانیت اورمساوات سے وزن ،پیمائش اور مقدار کی مساوات مراد ہیں، مالیت کی برابری مراد نہیں ۔ یہ بات متعلقہ احادیث سے بھی ظاہر ہے جن میں اموالِ ربویہ کے لین دین میں ان کی قدر کو مدنظر رکھا جاتا۔ اس نکتہ پر امت کا اجماع ہے[12]اور اس پر اسی طرح عمل ہوتا چلا جارہا ہے۔‘‘[13]

چنانچہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ربا الفضل کے پہلو کی بنا پر اشاریہ بندی ناجائز ہے۔

سوم: غرر اور جہالت

شرعی نقطہءنگاہ سے اشاریہ بندی پر دوسرااہم اعتراض یہ ہے کہ اس میں غرراور جہالت کاعنصرنمایاں ہے اور معلوم ہے کہ ایسے تمام عقودباطل ہیں جن میں غرر اور جہالت کا عنصر موجود ہو۔اشاریہ بندی میں ایک عوض کو مستقبل کےحوالے سے مجہول چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اس بناپر غرر اور جہالت لازم آتے ہیں۔

ممکنہ حل

اشاریہ بندی سے قطع نظر ماہرین نے افراطِ زر کے مسئلے کو حل کرنے کےلئے مندرجہ ذیل طریقے وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔

(1)فہیم خان کا پیش کردہ حل

افراطِ زر کے مسئلےکو حل کرنے کےلئے فہیم خان نے گولڈ اکاؤنٹ کا نظریہ متعارف کرایاہے۔[14]

اس سلسلے میں وہ بینکوں میں رقوم جمع کروانے اور بینکوں سے قرض لینے کے عمل میں تفریق کرتے ہیں۔جہاں تک رقوم جمع کروانےکا تعلق ہے اس سلسلے میں فہیم خان کہتے ہیں کہ جب بینک رقم لے ، اس وقت سونے کی مروجہ قیمت کے مطابق اسے تبدیل کرلے اور مودِع (Creditor)جب اپنی رقم نکلوائے تو اس سونے کی قیمت کے حساب سے رقم نکلوائے ، مثلاً زید نے1990 ء میں بینک میں اتنی رقم جمع کروائی کہ اس سے 100 گرام سونا خریدا جاسکتا تھا ۔ اب 1995ءمیں زید جب یہ رقم نکلوانا چاہتا ہے تو اسے اتنی رقم واپس کی جائیگی کہ اس سے 100 گرام سونا خریدا جاسکے ، قطع نظر اس حقیقت سے کہ ظاہری طور پر یہ رقم جمع شدہ رقم سے زیادہ ہے یا کم ۔

جہاں تک بینکوں سے قرض لینے کا تعلق ہے ، اس ضمن میں فہیم خان قرضوں کو دو گروپوں میں تقسیم کرتے ہیں ، یعنی :

(1) تجارتی قرضے                          (2) گھریلو قرضے

تجارتی قرضوں کے ضمن میں وہ یہ حل پیش کرتے ہیں کہ اس سارے نظام کو شراکت کی بنیاد پر حل کیا جائے ۔ البتہ گھریلو قرضوں کے لئے بینکوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ ایسے قرضے قرضِ حسنہ کی صورت میں جاری کئے جائیں اور اگر بینک اس کے لئے آمادہ نہ ہو ں تو اس ضمن میں گولڈ اکاؤنٹ والا طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جائزہ :فہیم خان کی یہ تجویز اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نئی تجویز نہیں ۔ اشاریہ بندی کے وسیع تر مفہوم کے قائلین اسے بھی اشاریہ بندی قرار دیتے ہیں ۔ البتہ اشاریہ بندی کو چند مخصوص طریقہ کا ر تک محدود سمجھنے والے اسے اشاریہ بندی سے ہٹ کر ایک علیحدہ تصور قرار دیتے ہیں ، اول الذکر صورت میں اس پر وہ تمام اعتراضات وارد ہوتے ہیں جو اشاریہ بندی پر ہوتے ہیں۔

مگر مؤخر الذکر نظریے کو اپنایا جائے تو اس ضمن میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ مودِع (Creditor) بینک میں نقد رقم جمع کراتا ہے اور واپسی کے وقت وہ سونے کو معیار بنا کر واپسی لیتا ہے ۔ یہاں گفتگو ایک مرتبہ پھر کاغذی کرنسی کی شرعی حیثیت کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔راجح رائے کے مطابق کاغذی کرنسی بذاتِ خود ثمن حقیقی ہے ۔ چنانچہ اس کی قیمت کا تعین سونے یا کسی دوسری شے کے حوالے سے کرنا کسی طور پر درست نہیں ۔

(2)شیخ محمود احمد کا پیش کردہ حل[15]

شیخ محمود احمد نے اس ضمن میں متبادل قرض کی رائے پیش کی کہ اگر ایک شخص بینک سے ۱۰/ہزار روپے کی رقم قرض کےطور پر لیتا ہے تو بینک کو اس کے جواب میں ایک ہزار روپے قرض دے ۔ مدین Debtor(جو خود دائن Creditorبھی ہے)اور بینک (جو خود Debtorبھی ہے)دونوں مقررہ مدت تک اپنی اپنی رقوم سے کاروبارکریں اور پھر ایک دوسرے کو اصل زر واپس کردیں ۔اس دوران جو منافع کمائیں وہ دونوں کی ملکیت ہوگا۔اس بارے میں شیخ محمود احمد نے ایک خاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کوبھی پیش کیا تھا جو (سود سے مشابہت کی بنا پر )مشکوک قرار دے کر مستردکردیاگیاتھا۔

اِ سی حل کی بنیادی سکیم ہی متعدد شرعی اصولوں سے متصادم ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں قرض کی رقم سے منفعت اٹھانے کی جو ممانعت آئی ہے وہ اور قاعدہ کلیہ بمعنی

کل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا

کے تحت اس پر جو اعتراضات لازم آتے ہیں وہ بہت واضح ہیں اور شیخ محمود احمد ان کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

(3)اسلامی نظریاتی کونسل کا پیش کردہ حل

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی مجموعی سفارشات میں برائے اسلامی نظامِ معیشت میں قرار دیا کہ : ’’لہٰذا اگر ڈالر کو معیار قرار دینے میں کوئی عملی سہولت ہے تو اس کا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ جن صنعت کاروں کو بیرونی مشینری درآمد کرنے لے لئے قرض دیا جارہا ہے، انہیں پاکستانی روپے کی بجائے ڈالر قرض دے ۔۔۔۔ بلکہ اگر ڈالر قرض دینے کے بعد انہی سے اس وقت کی شرح سے پاکستانی روپے کے عوض میں وہ ڈالرخرید لئے جائیں تب بھی ادائیگی ڈالر کے حساب ہی سے واجب ہوگی‘‘[16]

خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں ۔ حیلہ ساز ذہنوں کی حیلہ سازی یہاں بھی بالکل واضح ہے اور یہ حل کسی بھی تبصرے سے مبرا ہے ۔ کاغذی نوٹ کو ثمن حقیقی تسلیم کرتے ہوئے بھی ڈالر کو معیار مان لینا غلط نہیں ۔ لیکن اگر یہی حل سونے کے حوالے سے پیش کیا جائے تو اشاریہ بندی کے حامی ہونے کا فتویٰ صادر کردیا جاتا ہے۔ شیخ محمود احمد نے بجا لکھا تھا کہ :

’’شرعی حیلے تو کئے جاتے ہیں ، پہلے بھی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں اور (اسلامی نظریاتی کونسل کی)رپورٹ میں بھی متعدد نئے حیلے بیان کردیئے گئے ہیں ، ان کی مدد سے تو اسلامی نظام قائم نہیں ہوسکتا……‘‘[17]

اس کے علاوہ بھی افراطِ زر کے مسئلے سے نپٹنے کے لئے کئی حل پیش کئے گئے ہیں ۔ مثلاً منور اقبال کا فکسڈویلیو یونٹس (Fixed Value Units)پر مشتمل مجوزہ حل جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے فہیم خان کے گولڈ اکاؤنٹس سے مختلف نہیں ۔[18] FR نیز اس مضمون میں ان تما م تفصیلات کا احاطہ مقصود نہیں ۔

سپریم کورٹ میں حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب کا بیان اور اس سے پیدا شدہ غلط فہمی

سپریم کورٹ (شریعت اپلیٹ بنچ)میں حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے بطور معاون جو بیان دیا تھا، اس کے متعلق بعض اخبارات کےرپوٹروں نے بے احتیاطی کی بنا پر غلط سلط رپورٹنگ کی جس کی بناپر بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ حافظ صاحب چونکہ افراطِ زر کی واقعاتی صورت تسلیم کررہے ہیں، اس لئے ان کا موقف اشاریہ بندی (indexation)کی حمایت میں ہے ۔ جہاں تک اس تاثر کا تعلق ہے اسی کی تردید ’’محدث‘‘(اگست 99ء) میں واضح طور پر کردی گئی ۔ علاوہ ازیں مدنی صاحب کے داخل کردہ تحریری بیان کا مطالعہ بھی اسی سلسلے کی صورتِ حال کو واضح کرتا ہے۔میں یہاں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اخبارات کے رپوٹرز کی غلط فہمی سے قطع نظر کہ ان کا مبلغ علم معروف ہے، بعض اہلِ علم کو جو غلط فہمی ہوئی ہے ، اس کا حقیقی سبب کیا ہے؟

اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے کاغذی کرنسی کی شرعی حیثیت کے ضمن میں جو موقف اختیار کیا ہے کہ کاغذ ی کرنسی ثمن حقیقی نہیں بلکہ کاغذی کرنسی کی (Commodity)کا قائم مقام /بدل ہےاور یہ واضح ہے کہ یہ رائے اس رائے سے مختلف ہے جو مولانا گوہر الرحمن،انجینئر سلیم اللہ یا دیگر حضرات نے اختیار کی ہے یا جسے راقم الحروف نے گزشتہ سطور میں راجح رائے قرار دیا ہے ۔ بہر کیف حافظ صاحب نے مقام /بدل مقام کے موقف کو راجح تر قرار دے کر گفتگو کا آغاز کیاتھا۔اب ہمارے ہاں ماحول یہ بن گیا ہے کہ ان تمام حضرات کو جو کاغذی کرنسی کو ثمنِ حقیقی قرار نہیں دیتے بلکہ دیگر آراء میں سے کسی رائے کے حامل ہیں ، انہیں اشاریہ بندی کا حمایتی سمجھ لیاجاتا ہے۔

اس بات کو اگر دوسرے زاویہ سے لیا جائے تو صورتحال یوں بنتی ہے کہ کاغذی کرنسی کو ثمنِ حقیقی قرار دینے والے حضرات… کم از کم پاکستا ن کی حد تک …افراطِ زر کےمسئلے کوبطورِ مسئلہ حل کرنےمیں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ۔ ان کے نزدیک یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کاغذی کرنسی کے ساتھ ناگزیرہے اور اس کا ہر ممکنہ حل اشاریہ بندی کی طرف لے جاتا ہے ۔ چنانچہ اس غلط فہمی اور اس کے نتیجے میں پیداہونے والی فکر نے حافظ صاحب کو بھی اشاریہ بندی کا حامی قرار دیا ہے ۔ حالانکہ کاغذی کرنسی کو ثمنِ حقیقی تسلیم نہ کرنے اور اشاریہ بندی کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں کہ ایک کا انکار دوسرے کے اقرار کو لازم کردے۔

یہاں اسی حقیقت کا اظہار بھی مقصود ہے کہ اشاریہ بندی کے غلط مفہوم کی وجہ سے یہ لازمی تعلق قائم کرنے والا ذہن پیدا ہواہے۔افراطِ زر کرنسی کو لاحق ہونے والی بیماری ہے اور اس کا ہر علاج اشاریہ بندی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم فہیم خان اور منور اقبال جیسے ماہرین معیشت یہ غلطی نہ کرتے کہ دونوں حضرات نے اشاریہ بندی کے عمل کو مسترد کرکے جو متبادل حل پیش کئے ہیں وہ اگر کلی طور پر نہیں تو اصولی طور پر ضرورمدنی صاحب کے پیش کردہ حل سے مماثلت رکھتے ہیں ۔یہ حضرات خوب سمجھتے ہیں کہ اشاریہ بندی کا دائرہ کار کہا ں تک وسیع ہے اور اس کی حدود کہاں ختم ہوجاتی ہے۔

اس ساری بحث کا مقصدیہ نہیں کہ حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے جو موقف اختیا ر کیا ہے اس کی صحت کو ثابت کیا جائے ۔ حافظ صاحب کے موقف سے اختلاف ممکن ہے مگر ان کے موقف کی صحیح روح کو سمجھنے کے بعد ہی یہ اختلاف فائدہ مند ہے بصورتِ دیگر خلطِ مبحث ہوجائےگا۔

خلاصہ

اس ساری بحث کو سمیٹا جائے تو مندرجہ ذیل امور ہمارے سامنے آتے ہیں۔

1۔ افراطِ زر کا مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا قباحتوں سے پاک شرعی حل تلاش کرنا ہوگا۔

2۔ اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے اب تک جو طریقے سامنے آئے ہیں وہ ناقابلِ عمل ہیں ، کیونکہ:

(الف )وہ حضرات جو کاٖغذی کرنسی کو ثمنِ حقیقی قراردیتے ہیں ، ان کی طرف سے تو اس مسئلے کا کوئی حل پیش ہی نہیں کیا گیا ۔

(ب)وہ حضرات جو نظریہ بدل کے قائل ہیں اس کا حل تھیوری سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے اور موجودہ نظام میں اس کا آگے بڑھنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

(ج)باقی رہ گیا اشاریہ بندی کے ذریعہ اس کا حل ، اس میں جو مفاسد ہیں وہ بالکل واضح ہیں ۔

چنانچہ تمام تر سنگینی کے باوجود یہ مسئلہ بدستور اپنی جگہ قائم ہے ۔ راقم کی ناقص رائے یہ ہے کہ اسلامائزیشن کے عمل (خواہ معیشت کے حوالے سے ہو یا سیاست کےحوالے سے)کو نتیجہ خیز بنانے کےلئے جب تک ہم بحیثیتِ امہ مثبت قدم نہیں اٹھاتے ، مسائل کا حل ممکن نہیں ۔ اس وقت ہمارا طریقہ کار پیوند کاری (Grafting)کا رجحان لئے ہوئے ہے ۔ سرمایہ دارانہ معیشت کے شجر خبیثہ میں کیسی ہی پاک اور مبارک قلم کی پیوندکاری کیوں نہ کی جائے، مثبت نتائج کی توقع رکھنا عبث ہے۔ کیونکہ اس نظام کا بنیادی استعارہ…… استحصال ہے اور رہےگا!!

 وصلی اللّٰہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ وصحبہ أجمعین


[1] پال اے سموئل سن، اکنامکس،1992ء سنگاپور ،ص738

[2] جے ایل ہانسن ، ڈکشنری آف اکنامکس اینڈکامرس ، پانچویں اشاعت ، لندن ص255

[3] ڈاکٹر عبداللہ المنیع نے کرنسی کے بارے میں مستقل ثمن ہونے کا کوئی پانچواں نظریہ قائم نہیں کیا ہے بلکہ چوتھے نظریہ بدل /قائم مقام کو ہی صحیح تر قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو : صفحہ 61)۔کیونکہ اگر کرنسی کو کسی کیونکہ اگر ( بقیہ اگلے صفحہ پر)

[4]مجموعہ سفارشات سیمنار بابت اشاریہ بندی اور اسلامی معیشیت پر اس کے اثرات ۔اپریل 1987

[5] محمود الرحمن فیصل بنام سیکرٹری منسٹری آف لاء ، پی ایل ڈی 1992ء،ص152سے آگے

[6] محمد طاہر منصوری، فکرونظر، ج 33شمارہ25،اکتوبر/دسمبر1995ء،ص68،67، استادِ محترم منصوری صاحب نے تفصیلی حوالہ جات نقل کئے ہیں ۔

[7] محولہ بالا

[8] مثال کے طور پر دیکھئے : مجموعہ سفارشات سیمیناربرائے اشاریہ بندی 1998ء ، اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ کی قرار دادیں (1994ء/1995ء)اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کی رپورٹ 1980ء، اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کے مذکورہ موضوع پر خصوصی سیمینارکی روداد۔

[9] پی ایل ڈی 1994ء ، ص 130نیز حسن الزماں ، اشاریہ بندی ، ایک اسلامی نقطہ نظر ، جریدہ برائے اسلامی معیشت ، ج2، شمارہ 2،ص49۔

[10] محمد طاہر منصوری ، فکر ونظر، ج33، شمارہ2، اکتوبر/دسمبر1995ء،ص68۔

[11] اسلامی نظریاتی کونسل نے ، افراطِ زر کی وجہ سے جو اقتصادی مشکلات پیدا ہوتی ہیں ، ان کا ایک حل مزدور کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونا کے برابر کرنے کی سفارش کی ہے ، اسی طرح عام لین دین میں بھی کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا علاج اسے سونے سے وابستہ کردینا تجویز کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو انگریزی رپورٹ اسلامی نظریاتی کونسل 54 مطبوعہ 1996؁(محدث)

[12] مجمع فقہ اسلامی جدہ کے جس اجتما ع کی قرارداد کی بنیاد پر اشاریہ بندی کے خلاف اجماع کی بات کی جارہی ہے ۔ اس اجتماع کے بارے میں اس حد تک تو بات درست ہے کہ اس اجتماع میں اشاریہ بندی کے حل کو مسترد کردیا گیا تھا تاہم اس اجتماع کی قرارداد صرف اکثریتی تھی اتفاقی نہیں تھی کیونکہ اسی اجتماع کے شرکاء میں سے ہی ڈاکٹر سلیمان الاشقر ، ڈاکٹر عجیل نشمی وغیرہ اس قرارداد کے حق میں نہ تھے ، لہذا قرارداد کو اکثریتی کہنا ہی زیادہ مناسب ہے، اجماع کا دعویٰ کرنا درست نہیں ۔ ملاحظہ ہو مجلہ الفقه الاسلامی……(محدث)

[13] مجموعہ سفارشات سیمیناربابت اشاریہ بندی، اور اسلامی معیشت پر اس کے اثرات، اپریل 1987ء۔

[14] محمد فہیم خان ، قرضوں کی اشاریہ بندی ، اسلامی نقطہء نظر سے چند نظری مباحث (انگریزی )پیش کردہ برائے سیمیناربابت اشاریہ بندی (1987ء )ص25۔

[15] محمود احمد شیخ ، سود کی متبادل اَساس ، ادارہ ثقافتِ اسلامی، لاہور ، 1991ء،ص83

[16] پی ایل ڈی۔1992ء ص131۔

[17] محمود احمد شیخ ، سود کی متبادل اَساس ،لاہور1991ء، ص27۔

[18] منور اقبال ، مقالہ پیش کردہ برائے سیمیناربابت اشاریہ بندی اور اسلامی معیشت (1987ء)ص32۔

IslamFort

Recent Posts

نزول قرآن کے حوالے سے اہم معلومات

لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…

2 days ago

فراغت کے لمحات کیسے گزاریں؟

عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…

2 days ago

عید الفطر کے مسنون اعمال

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

7 days ago

فیشن اختیار کیجیے مگر۔۔۔۔!

کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…

1 week ago

فلسطین: ایک مرتبہ پھر لہو لہو!

غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…

1 week ago

ایسی مسجد میں اعتکاف نہ کریں!

رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…

2 weeks ago