نیک اعمال کی قبولیت
نیک اعمال کی قبولیت اخلاص اور تقویٰ پر منحصر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ہابیل کی قربانی اس کے تقویٰ کی بنا پر قبول ہوئی جبکہ قابیل کی قربانی رد کر دی گئی۔
قرآن فرماتا ہے:
إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ1
اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔
یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ اعمال کی مقدار نہیں بلکہ نیت اور تقویٰ اصل معیار ہے۔
______________________________________________________________________________________________________________
کیا طاقت اور مضبوطی کا دار و مدار تعداد کی کثرت پر ہے؟ اتباعِ حق…
مسلمانوں کا "بیس کیمپ" کہاں ہوگا؟ کمیونسٹ بلاک (چین اور روس) کا کردار کیا ہوگا؟…
“غفور” کا اردو ترجمہ کب مکمل ہوتا ہے؟ لفظ “غفور” کن دو بنیادی حقائق پر…
عبادت میں سستی اور شہوت کے غلبے کی کیا وجہ ہے؟ شکم سیری (پیٹ بھر…