متفرقات

موسمِ سرما کےفضائل

موسمِ سرما کےفضائل،قرآن وحدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں

موسمِ سرما اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک بابرکت موسم ہے، جس میں فطرت انسان کو عبادت، فکر اور قربِ الٰہی کی طرف خود بخود متوجہ کر دیتی ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں، طویل راتیں اور مختصر دن بندۂ مؤمن کے لیے اطاعت اور نیکی کے دروازے آسان کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلفِ صالحین اس موسم کو غنیمت سمجھتے تھے اور اسے عبادت، قیامِ لیل، ذکر و تلاوت اور روزوں کے لیے بہترین وقت قرار دیتے تھے۔ سردی کی معمولی مشقت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا، گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کے بے شمار مواقع پوشیدہ ہوتے ہیں، بشرطیکہ انسان اس موسم کو غفلت کے بجائے عبادت اور شکر کے ساتھ گزارے۔ درج ذیل سطور میں ہم سردیوں کی ان نمایاں فضیلتوں پر روشنی ڈالیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث اور اقوالِ سلف میں ملتا ہے، تاکہ یہ موسم ہمارے لیے صرف جسمانی سردی نہیں بلکہ ایمان کی گرمی کا ذریعہ بن سکے۔

1۔ مومنوں کا موسمِ بہار:

موسمِ سرما اہلِ ایمان کے لیے حقیقی معنوں میں موسمِ بہار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں عبادت کے مواقع آسان اور زیادہ میسر آ جاتے ہیں۔ طویل راتیں قیام، ذکر اور تلاوت کے لیے سازگار ہوتی ہیں، جبکہ مختصر دن روزے رکھنے میں سہولت پیدا کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری ری اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :

الشتاء ربيع المؤمن1

ترجمہ:سردی کا موسم مومن کے لئے موسم بہار ہے۔

ایک اور روایت میں  چند الفاظ کے اضافے کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری ری اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :

الشِّتاءُ ربيعُ المؤمنِ، قصُرَ نهارُهُ فصامَ، وطالَ ليلُهُ فقامَ 2

ترجمہ:سردی کا موسم مومن کے لئے موسم بہار ہے، اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں جن میں وہ روزے رکھ لیتا ہے اور اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں، جن میں وہ قیام کرتاہے۔

2۔ برکتوں کا موسم:

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

مَرْحَبًا بِالشِّتَاءِ، تَتَنَزَّلُ فِيهِ الْبَرَكَةُ، وَيَطُولُ فِيهِ اللَّيْلُ لِلْقِيَامِ، وَيَقْصُرُ فِيهِ النَّهَارُ لِلصِّيَامِ۔۔3

ترجمہ: سردی کو خوش آمدید! اس موسم میں برکتیں نازل ہوتی ہیں وہ اس طرح کہ اس میں تہجد کے لئے رات لمبی  ہوتی ہے جبکہ روزہ رکھنے کے لئے دن چھوٹا ہوتا ہے۔

3۔ غنیمت کا موسم

موسم سرما عبادت کے لحاظ سے مومن کے لیے  غنیمت موسم ہے کیونکہ اس میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں دن کو روزہ رکھنے اور رات کو قیام کرنے میں کوئی زیادہ مشقت اور تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی۔ اس لیے عبادت گزاروں کے لیے اسے غنیمت کہا گیا ہے۔

سیدنا عمر  بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

اَلشِّتَاءُ غَنِيمَةُ الْعَابِدِينَ 4

ترجمہ:   موسم سرما عبادت گزاروں کے لیےباعث  غنیمت ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى الْغَنِيمَةِ الْبَارِدَةِ؟ قَالُوا بَلَى. فَيَقُولُ الصِّيَامُ فِي الشِّتَاءِ.. ۔ 5

ترجمہ:   کیا میں تمہیں ٹھنڈی غنیمت نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: ابوہریرہ! وہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: سردی کے موسم میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔

4۔ موسمِ سرما میں عبادت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی

موسم سرما میں اگر کوئی بندہ سرد رات میں اٹھ کر  اللہ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھ کر  خوشی سے مسکراتا ہے۔سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

“إنَّ اللَّهَ ليضحَكَ إلى رجُلَينِ: رجلٌ قامَ في ليلةٍ بارِدَةٍ مِن فِراشِهِ ولِحافِهِ ودِثارِهِ فتوضَّأَ ، ثمَّ قامَ إلى الصَّلاةِ ، فيقولُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ لملائكتِهِ:  ما حمل عبدي هذا على ما صنَعَ ؟  فيقولون : ربَّنا ! رجاءَ ما عِندَكَ ، وشفقَةً مِمَّا عندَكَ  فيقولُ :  فإنِّي قد أعطيتُهُ ما رجا ، وأمَّنتُهُ مِمَّا يخافُ” 6

ترجمہ : اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر پر مسکراتا ہے: ایک وہ  شخص ہے جو سرد رات میں بھی اپنے بستر، لحاف اور کمبل سے اٹھ  کھڑا ہوتا ہے ، وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے۔ اللہ عزوجل فرشتوں سے پوچھتا ہے: “میرے اس بندے کو اس عمل پر کس چیز نے اُبھارا؟” فرشتے جواب دیتے ہیں: “یا رب! وہ تیری رحمت کی امید وار ہے اور تیرے عذاب سے ڈرتا ہے۔” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ جس چیز کا امیدوار ہے وہ میں نے اسے عطا کردی اور جس سے وہ ڈرتا ہے اس سے امن عطا کردیا ۔

موسم سرما کی آمد اور  فرشتوں کا اظہارِمسرت

امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَفْرَحُ بِالشِّتَاءِ لِلْمُؤْمِنِ، يَقْصُرُ النَّهَارُ فَيَصُومُهُ، وَيَطُولُ اللَّيْلُ فَيَقُومُهُ؛ 7

ترجمہ : مومن کے لیے موسم سرما کی آمد پر فرشتے  خوش ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں دن چھوٹا ہو جاتا ہے تو مؤمن  روزہ رکھ لیتا ہے، اور رات لمبی ہو جاتی ہے تو وہ قیام کر لیتا ہے۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

بَلَغَنَا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَفْرَحُ لِلْمُؤْمِنِ بِالشِّتَاءِ: أَنَّ لَيْلَهُ طَوِيلٌ فَيَقُومُهُ، وَأَنَّ نَهَارَهُ قَصِيرٌ. فيصومه 8

ترجمہ : ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ فرشتے مؤمن کے لئے موسمِ سرما کی آمد  پر خوش ہوتے ہیں، کیونکہ اس کی رات لمبی ہوتی ہے جسے وہ قیام میں گزارتا ہے، اور اس کا دن چھوٹا ہوتا ہے جسے وہ روزے میں گزارتا ہے۔

6۔ موسم سرما کی آمد اور سلف صالحین کا اظہار مسرت

اس امت کے سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ موسم سرما کے آمد پر خوش ہوجایا کرتے تھے، کیونکہ یہ عبادت کے لیے بہترین وقت ہوتا ہے۔چنانچہ سیدنا  ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَرْحَبًا بِالشِّتَاءِ؛ تَنْزِلُ فِيهِ الْبَرَكَةُ، وَيَطُولُ فِيهِ اللَّيْلُ لِلْقِيَامِ، وَالنَّهَارُ لِلصِّيَامِ۔ 9

ترجمہ:  موسم سرما کا آنا مبارک اور خوش آمدیدہے، کیونکہ اس میں برکت نازل ہوتی ہے، راتیں طویل ہو جاتی ہیں تاکہ تہجد کی نماز بآسانی پڑھ لی جائے اور دن مختصر ہو جاتے ہیں تا کہ روزے بسہولت رکھ لیے جائیں ۔

7۔ تلاوتِ قرآن اور روزوں کے دن

موسم سرما تلاوت قرآن مجید ، قیام اللیل اور روزہ رکھنے کے ایام ہیں ۔چنانچہ جب موسمِ سرما آجاتا تو ثقہ تابعی جناب عبید بن عمیررحمہ اللہ فرمایا کرتے:

يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، طَالَ اللَّيْلُ لِصَلَاتِكُمْ، وَقَصُرَ النَّهَارُ لِصِيَامِكُمْ، فَاغْتَنِمُوا. 10

ترجمہ: اے اہل قرآن! تمہاری نمازوں کے لیے راتیں لمبی ہو گئی ہیں اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹے ہو گئے ہیں۔ لہٰذا تم اسے غنیمت جانو ۔

8۔ گرمی کے روزوں کا ثواب

سردیوں کی راتوں میں قیام اللیل  کرنا گرمیوں کے دن کے روزے کے برابر ہے۔چنانچہ امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

قِيَامُ لَيْلِ الشِّتَاءِ يَعْدِلُ صِيامَ نَهارِ الصَّيْفِ 11

ترجمہ: سردیوں کی راتوں کا قیام گرمیوں کے دنوں کے روزوں کے برابر ہے۔

9۔ قضاشدہ  روزوں لے لئےسنہری موقع

جو شخص رمضان میں روزہ رکھنے سے قاصر تھا، اسے ضروری ہے کہ وہ ان قضا روزوں کو اگلے رمضان آنے سے پہلے پورا کرے،جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے :

وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ 12

 ترجمہ: اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزے رکھے”

رمضان کے وہ روزے جو گرمیوں کے طویل دنوں میں کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے قضا ہوئے ہوں، انہیں ادا کرنے کے لیے سردیوں کا موسم ایک بہترین موقع ہے۔ جو شخص رمضان میں روزہ رکھنے سے قاصر تھا، اسے چاہئےکہ وہ ان قضاشدہ  روزوں کو  آئندہ رمضان آنے سے پہلے پورا کرے ۔ اورموسمِ سرما  ایسا وقت ہوتا ہے جس میں  روزے رکھنا اور قضا  شدہ روزوں کو مکمل کرنا جسمانی طور پر نسبتاً آسان ہوتا ہے ۔

10۔ عبادت اور نیکیوں کا  موسم

امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

إِنَّمَا كَانَ الشِّتَاءُ رَبِيعَ الْمُؤْمِنِ؛ لِأَنَّهُ يَرْتَعُ فِيهِ فِي بَسَاتِينِ الطَّاعَاتِ، وَيَسْرَحُ فِي مَيَادِينِ الْعِبَادَاتِ، وَيُنَزِّهُ قَلْبَهُ فِي رِيَاضِ الْأَعْمَالِ الْمُيَسَّرَةِ فِيهِ، كَمَا تَرْتَعُ الْبَهَائِمُ فِي مَرْعَى الرَّبِيعِ فَتَسْمَنُ وَتَصْلُحُ أَجْسَادُهَا، فَكَذَلِكَ يَصْلُحُ دِينُ الْمُؤْمِنِ فِي الشِّتَاءِ بِمَا يَسَّرَ اللَّهُ فِيهِ مِنَ الطَّاعَاتِ؛ فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَقْدِرُ فِي الشِّتَاءِ عَلَى صِيَامِ نَهَارِهِ مِنْ غَيْرِ مَشَقَّةٍ وَلَا كُلْفَةٍ تَحْصُلُ لَهُ مِنْ جُوعٍ وَلَا عَطَشٍ؛ فَإِنَّ نَهَارَهُ قَصِيرٌ بَارِدٌ، فَلَا يَحِسُّ فِيهِ بِمَشَقَّةِ الصِّيَامِ.13

ترجمہ : سردی کا موسم مؤمن کے لیے بہار کی مانند ہے، کیونکہ اس میں وہ نیکیوں اور عبادات کی راہوں میں آزادی سے عمل کرتا ہے اور دل کو آسان عبادات کے باغات میں سکون دیتا ہے، جیسے جانور بہار کے سبزہ زاروں میں چر کر صحت مند اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح سردی کے موسم میں اللہ کی طرف سے عبادات کے مواقع اور آسانیاں فراہم کی گئی ہیں، جو مؤمن کے دین کو مضبوط بناتی ہیں۔ سردی کے دن چھوٹے اور ٹھنڈے ہونے کی وجہ سے مؤمن بغیر کسی مشقت کے روزے رکھ سکتا ہے، کیونکہ اسے بھوک یا پیاس کی سختی محسوس نہیں ہوتی۔

11۔سب سے  بہترین موسم

موسمِ سرما اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جو جسمانی راحت کے ساتھ روحانی ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس موسم میں عبادات نسبتاً آسان ہو جاتی ہیں، اسی لیے اہلِ علم نے موسمِ سرما کو نیکیوں کی بہار اور گناہوں کی مغفرت کا بہترین زمانہ قرار دیا ہے۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

نَعَمْ، زَمَانُ الْمُؤْمِنِ الشِّتَاءُ: لَيْلُهُ طَوِيلٌ يَقُومُهُ، وَنَهَارُهُ قَصِيرٌ يَصُومُهُ.14

ترجمہ: مومن کے لیے بہترین وقت  موسم سرما ہے،کیونکہ  اس کی راتیں طویل ہوتی ہیں جن میں وہ قیام کرتا ہے، اور اس کا دن مختصر ہوتا ہے جس میں وہ روزہ رکھتا ہے۔

12۔ ایمان کی نشانی

موسمِ سرما کی سخت سردی کے باوجود عبادت اور طہارت کی پابندی کرنا ایک سچے مومن کی نمایاں صفت ہے۔ اسلام نے وضو کو محض ظاہری پاکیزگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے دل کی صفائی، روح کی تازگی اور ایمان کی پختگی سے جوڑا ہے۔چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

أَيُّ بُنَيَّ، عَلَيْكَ بِخِصَالِ الْإِيمَانِ. قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: الصِّيَامُ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ أَيَّامَ الصَّيْفِ، وَقَتْلُ الْأَعْدَاءِ بِالسَّيْفِ، وَالصَّبْرُ عَلَى الْمُصِيبَةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْيَوْمِ الشِّتَائِيِّ، وَتَعْجِيلُ الصَّلَاةِ فِي يَوْمِ الْغَيْمِ، وَتَرْكُ رَدْغَةِ الْخِبَالِ. قَالَ: وَمَا رَدْغَةُ الْخِبَالِ؟ قَالَ: شُرْبُ الْخَمْرِ. 15

ترجمہ: بیٹا! ایمان کی چند خصلتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔بیٹے نے پوچھا: ابّا جان! وہ کون سی خصلتیں ہیں؟فرمایا:

گرمی کے تیز دنوں میں روزہ رکھنا، اللہ کے دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنا، مصیبت آنے پر صبر کرنا، سخت سردی میں پورے اہتمام سے وضو کرنا، بادلوں والے دن نماز  جلدی ادا  کرنا، اور ردغة الخبال سے بچنا۔ بیٹے نے پوچھا: “یہ ردغة الخبال کیا ہے؟” حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شراب نوشی۔”

امام ابن رجب حنبلی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلَا رَيْبَ أَنَّ إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ فِي الْبَرْدِ يَشُقُّ عَلَى النَّفْسِ وَتَتَأَلَّمُ بِهِ، وَكُلُّ مَا يُؤْلِمُ النُّفُوسَ وَيَشُقُّ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ كَفَّارَةٌ لِلذُّنُوبِ “16

ترجمہ : اس میں کوئی شک نہیں کہ سردیوں میں مکمل وضو کرنا نفس کے لیے مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے، اور جو بھی عمل نفس کو تکلیف دے یا اسے مشکل لگے، وہ گناہوں کو مٹانے کا سبب بنتا ہے۔

13۔ موسم سرما اور سلف صالحین کا اظہارِ افسوس

سلف صالحین رحمہم اللہ اپنی آخرت کی تیاری میں ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ جب ان کی موت قریب آتی، تو وہ موسم گرما کے طویل دنوں کے روزوں   اور موسم سرما کی طویل راتوں کو یاد کرکے روتے اور افسوس کرتے کہ یہ برکت والے لمحات ان سے ہمیشہ کے لیے گزر گئے اور اب انہیں دوبارہ نہیں ملیں گے۔ چنانچہ  سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنی موت کے وقت روتے ہوئے فرمایا:

إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى ظَمَأِ الْهَوَاجِرِ وَقِيَامِ لَيْلِ الشِّتَاءِ وَمُزَاحَمَةِ الْعُلَمَاءِ بِالرُّكْبِ عِنْدَ حَلْقِ الذِّكْرِ.17

ترجمہ : میں صرف اس لیے رو رہا ہوں  کہ  مجھے اب نہ گرمیوں کی  شدید اور طویل دنوں میں روزہ رکھنے ، نہ سرد راتوں میں اللہ کے حضور کھڑے ہونے ، اور نہ ہی ذکر کی محفلوں میں علماء کے ساتھ گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر بیٹھنا نصیب ہوگا۔

جليل القدر   تابعی جناب معضد أبو زيد العجلي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَوْلَا ثَلَاثٌ: ظَمَأُ الْهَوَاجِرِ، وَقِيَامُ لَيْلِ الشِّتَاءِ، وَلَذَّاذَةُ التَّهَجُّدِ بِكِتَابِ اللَّهِ، مَا بُلِيتُ أَنْ أَكُونَ يَعْسُوبًا. 18

ترجمہ: اگر یہ تین چیزیں نہ ہوتیں:  گرمیوں کی  شدید اور طویل دنوں میں روزہ رکھنے، سردیوں کی راتوں میں قیام اللیل اور قرآن کے ساتھ تہجد کی لذت، تو مجھے اس بات کی کوئی پروا نہ ہوتی کہ میں کیا بنوں ، چاہے ایک معمولی سا  شہد کی مکھی ہی کیوں  نہ ہو۔

مراد یہ ہے کہ اگر یہ چند عظیم عبادتیں نہ ہوتیں تو مجھے دنیا میں کسی بڑے مرتبے یا مقام کی بھی کوئی خواہش نہ رہتی، حتیٰ کہ ایک حقیر سی مخلوق ہونا بھی مجھے منظور ہوتا۔

جليل القدر   تابعی  جناب عامر بن عبد اللہ  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَمَّا حَضَرَ جَعَلَ يَبْكِي، فَقِيلَ لَهُ: مَا يَبْكِيكَ؟ قَالَ: مَا أَبْكِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ، وَلَا حَرَصًا عَلَى الدُّنْيَا، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَى ظَمَأِ الْهَوَاجِرِ وَقِيَامِ لَيَالِي الشِّتَاءِ. 19

ترجمہ : جناب عامر بن عبد اللہ  رحمہ اللہ پر  جب موت کے وقت قریب  آیا تو  وہ رونے لگ گئے ، ان سے پوچھا گیاکہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں موت کے ڈر  سےیا دنیا کی لالچ پر نہیں رو رہا ہوں، بلکہ میں گرمیوں کی شدید اور طویل دنوں میں روزہ رکھنے اور سردیوں کی راتوں میں قیام اللیل کے فوت ہوجانے پر رو رہا ہوں۔

14۔ ٹھنڈی غنیمت

موسم سرما میں روزےرکھنے کو ٹھنڈی  غنیمت کہا گیا ہے ، کیونکہ  چھوٹے دن اور ٹھنڈے ماحول کی بدولت بھوک اور پیاس کی شدت کم محسوس ہوتی ہے، جس سے روزہ رکھنے میں سہولت رہتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ موقع روحانی تربیت، تقویٰ اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بہترین وقت فراہم کرتا ہے۔ سیدنا عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ  نے فرمایا:

الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ 20

ترجمہ:  ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کا مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو۔  یعنی سردیوں کے روزے مفت کی غنیمت ہیں۔

امام مناوی رحمہ اللہ “غنیمتِ باردہ”  کی تشریح  میں  لکھتے ہیں:

الْغَنِيمَةُ الَّتِي تَحْصُلُ بِغَيْرِ مَشَقَّةٍ، وَالْعَرَبُ تَسْتَعْمِلُ الْبَارِدَ فِي شَيْءٍ ذِي رَاحَةٍ، وَالْبَرْدُ ضِدُّ الْحَرَارَةِ، لِأَنَّ الْحَرَارَةَ غَالِبَةٌ فِي بِلَادِهِمْ، فَإِذَا وَجَدُوا بَرْدًا عَدُّوهُ رَاحَةً.21

ترجمہ  :  ایسی غنیمت جو بغیر کسی مشقت کے حاصل ہو، اسے “ٹھنڈی غنیمت” کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں “بارد” کا استعمال ایسی چیز کے لئے ہوتا ہے جو آرام اور سکون فراہم کرے ۔ چونکہ عرب ملکوں میں گرمی کا غلبہ ہے  ، اس لیے جب انہیں  کبھی ٹھنڈک میسر آتی ہے،تو وہ اسے راحت اور سکون کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ أَيِ السَّهْلَةُ، وَلِأَنَّ حَرَارَةَ الْعَطَشِ لَا تَنَالُ الصَّائِمَ فِيهِ. 22

ترجمہ : “ٹھنڈی غنیمت” یعنی آسان غنیمت، کیونکہ سردی کے موسم میں روزے دار کو پیاس کی شدت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مَعْنَى أَنَّهَا غَنِيمَةٌ بَارِدَةٌ أَنَّهَا حُصِلَتْ بِغَيْرِ قِتَالٍ وَلَا تَعَبٍ وَلَا مَشَقَّةٍ، فَصَاحِبُهَا يَحُوزُ هَذِهِ الْغَنِيمَةَ بِغَيْرِ كُلْفَةٍ.23

ترجمہ :اس ٹھنڈی غنیمت کا مطلب یہ ہے کہ  ایسی کامیابی یا نعمت جو بغیر جنگ، محنت یا مشقت کے حاصل ہو جائے۔ اس کے حاصل کرنے والے کو کسی قسم کی تکلیف یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مِنَ الْغَنِيمَةِ الْبَارِدَةِ أَنْ تَصْلُحَ مَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِكَ فَيُغْفَرَ لَكَ مَا مَضَى مِنْهُ. 24

ترجمہ:  ٹھنڈی غنیمت یہ ہے کہ تم  اپنی باقی ماندہ زندگی کو سنوار لو، تاکہ تمہارے ماضی کے گناہ معاف کر دیے جائیں۔

حضرت انس  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

علامہ سندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قوله: (الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ): هِيَ الْحَاصِلَةُ بِلَا تَحَمُّلِ كُلْفَةِ الْمُحَارَبَةِ، وَصَوْمُ الشِّتَاءِ لَهُ أَجْرٌ بِلَا تَحَمُّلِ مَشَقَّةِ الْجُوعِ؛ لِقِصَرِ الْأَيَّامِ وَالْعَطَشِ لِبُرُودَتِهَا، وَفِيهِ تَرْغِيبٌ لِلْنَّاسِ فِي صَوْمِ الشِّتَاءِ 25

حدیث میں جو ٹھنڈی غنیمت کا لفظ آیا ہے، اس سے مراد وہ فائدہ ہے جو بغیر جنگ کی مشقت اور تکلیف کے حاصل ہو۔کیونکہ سردیوں کے روزوں میں بغیر زیادہ مشقت کے اجر ملتا ہے، کیونکہ دن چھوٹے ہوتے ہیں اور ٹھنڈک کی وجہ سے پیاس بھی کم محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیے  لوگوں کو سردیوں میں روزے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

وجہ تشبیہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سردیوں میں روزے کو “ٹھنڈی غنیمت” سے تشبیہ دی، کیونکہ اس میں اجر و ثواب مشقت کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔ “ٹھنڈی غنیمت” کا مطلب ایسی غنیمت ہے جو آسانی سے مل جائے۔ سردیوں میں روزہ رکھنے سے پیاس کی شدت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ موسم ٹھنڈا ہوتا ہے، اور یوں یہ عبادت آرام  اور آسانی سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے  اسے “غنیمتِ باردہ” کہا جاتا ہے۔

15۔قبولتِ دعا اور  مغفرت کا  موقع

موسمِ سرما اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندۂ مؤمن کے لیے ایک عظیم نعمت اور قبولتِ دعا اور  مغفرت کا  سنہرا موقع ہے۔سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ  بیان کرتے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا :

مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ ، وَاللہُ أكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ  ، ثُمَّ دَعَا رَبِّ اغْفِرْ لِي ، غُفِرَ لَهُ” ، قَالَ الْوَلِيدُ: أَوْ قَالَ: دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ , فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ. 26

ترجمہ : جس شخص کی رات کو آنکھ کھل جائے اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھ لے : لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ ، وَاللہُ أكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ،  پھر یہ دعا پڑھے: « رَبِّ اغْفِرْ لِي » اے رب مجھ کو بخش دے تو اُسے بخش دیا جائے گا،   اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی، اور اگر اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہو گی ۔

موسم سرما کا عام معمول

سردیوں کی طویل اور خاموش راتوں میں آنکھ کھل جانا اور بیدار ہونا  عام بات ہے ۔ ایسے لمحات میں اگر انسان بستر کی گرمی چھوڑ کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے، تو اس کے لیے حدیث میں بیان کی گئی عظیم بشارتوں سے فائدہ اٹھانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وہ قیمتی اوقات ہیں جن میں معمولی سی محنت بھی بڑی مغفرت اور اللہ کی خاص رضا کا سبب بن سکتی ہے۔اس حدیث کو سننے اور پڑھنے  والے ہر مسلمان اورمؤمن  کو چاہئے کہ خلوص نیت کے ساتھ  اس عمل کو اپنائیں اور رات کے قیام سے اپنے حصہ کا رزق حاصل کریں۔

16۔ خطاؤں اور گناہوں  کو مٹانے کا موقع

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا :

ثلاثٌ مُهلِكاتٌ، وثلاثٌ مُنجِياتٌ، وثلاثٌ كفَّارَاتٌ، وثلاثٌ دَرَجاتٌ.…..  وأمّا الكفَّاراتُ : فانْتظارُ الصلاةِ بعدَ الصلاةِ، وإسْباغُ الوُضوءِ في السَّبَرَاتِ ، ونقلُ الأقدامِ إلى الجماعاتِ27

ترجمہ: تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں ، تین چیزیں گناہوں کو مٹانے والی ہیں، تین چیزیں درجات کو بلند کرنے والی ہیں، جہاں تک گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کا تعلق ہے تو وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے لیے انتظار کرنا ۔سخت سردی میں مکمل وضو کرنا اور باجماعت نماز کے لیے مساجد کی طرف چل کر جانا ہے ۔

17۔ درجات کی بلندی کا ذریعہ

سردیوں کی سختیوں کے باوجود وضو کرنا  مومن کے ایمان اور صبر کی علامت ہے۔اللہ ﷺ نے اس کو درجات کی بلندی اور گناہوں کی مغفرت کا سبب قرار دیا ہے، کیونکہ سخت موسم میں عبادت کی یہ قربانی اللہ کی خوشنودی اور خاص انعام کا ذریعہ بنتی ہے۔ 

چنانچہ سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ.28

ترجمہ : کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سخت سردی کی ناگواری میں کامل وضو کرنا ،کثرت سے  مساجد کی طرف چلنا،اور  ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔

17۔ غریبوں  کی خبرگیری  کرنے کا موقع

موسمِ سرما جہاں عبادت، صبر اور تقویٰ کی مشق کا وقت ہوتا ہے، وہیں یہ ہمیں اپنے اردگرد بسنے والے ضرورت مندوں کی طرف متوجہ ہونے کا بھی پیغام دیتا ہے۔ سرد ہوائیں، طویل راتیں اور کمزور جسم غریب اور بے سہارا افراد کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں۔ ایسے میں اہلِ ایمان کے لیے یہ موسم ایک سنہری موقع ہوتا ہے کہ وہ کمزوروں کی خبرگیری کریں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں، اور اپنے مال و وسائل کے ذریعے ان کے لیے آسانی پیدا کریں۔ یہی وہ وقت ہے جب معمولی سی توجہ، ایک گرم کپڑا، یا ایک بھرپور دعا بھی کسی کے لیے بڑی نعمت بن سکتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے  ارشاد فرمایا:

مَن نَفَّسَ عن مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِن كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللہُ عنْه كُرْبَةً مِن كُرَبِ يَومِ القِيَامَةِ، وَمَن يَسَّرَ علَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللہُ عليه في الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ،29

ترجمہ : جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرمادےگا، اور جس نے کسی تنگ دست و محتاج کے ساتھ آسانی و نرمی کی تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت دونوں  میں آسانی فرمائے گا۔

جناب سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَى صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، فَإِنِّي رَأَيْتُهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: بِقَمِيصٍ كَسَاهُ إِنْسَانٌ. قَالَ بَعْضُ إِخْوَانِ صَفْوَانَ: سَأَلْتُ صَفْوَانَ عَنْ قِصَّةِ الْقَمِيصِ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ، فَإِذَا رَجُلٌ عُرْيَانٌ، فَنَزَعْتُ قَمِيصِي فَكَسَوْتُهُ..30

ترجمہ: شام سے ایک شخص آیا اور کہا: مجھے صفوان بن سلیم کا بتاؤ، میں نے انہیں جنت میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا: کس نیکی کی وجہ سے؟ کہا: ایک انسان کو ایک قمیص پہنانے کی وجہ سے۔ صفوان کے ایک بھائی نے کہا: میں نے صفوان سے اس قمیص کے متعلق پوچھا تھا، انہوں نے بتایا: میں ایک ٹھنڈی رات کو مسجد سے نکلا، تو راستے میں ایک آدمی کو دیکھا، جس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا، میں نے اپنی قمیص اتار کر اسے پہنادی ۔

موسم سرما کے لیے عوام کو  تیار کروائیں

علامہ ابن رجب  حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَضَرَ الشِّتَاءُ تَعَاهَدَ أَصْحَابَهُ وَكَتَبَ لَهُمْ بِالْوَصِيَّةِ أَنَّ الشِّتَاءَ قَدْ حَضَرَ، وَهُوَ عَدُوٌّ فَتَأَهَّبُوا لَهُ أَهْبَتَهُ مِنَ الصُّوفِ وَالْخِفَّافِ وَالْجَوَارِبِ، وَاتَّخَذُوا الصُّوفَ شِعَارًا وَدِثَارًا، فَإِنَّ الْبَرْدَ عَدُوٌّ سَرِيعُ دُخُولِهِ بَعِيدُ خُرُوجِهِ.31

ترجمہ: جب موسمِ سرما آجاتا، تو سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کا خاص خیال رکھتے۔ وہ انہیں نصیحت کرتے اور خط لکھ کر آگاہ کرتے کہ سردی آ گئی ہے، یہ ایک دشمن ہے، اس سے نمٹنے کی تیاری کرو۔اون کے کپڑے تیار رکھو، موٹے موزے، خف اور جرابیں استعمال کرو، اور اون کو اپنا زیرِ لباس اور اوپر کا لباس بنا لو۔ کیونکہ سردی ایسا دشمن ہے جو بہت جلد انسان کے اندر داخل ہوجاتا ہے، اور بڑی دیر میں باہر نکلتا ہے۔”

موسمِ سرما میں ماہِ رمضان المبارک کی آمد

اس سال دنیا بھر کے  ماہ مسلمان ماہِ فروری میں رمضان المبارک کا استقبال کریں گے،یوں  جنوبی ایشیا کے مسلمان آئندہ تقریباً تیرہ سال تک رمضان المبارک سردیوں میں گزاریں گے، اور یہ سلسلہ 2031 تک جاری رہے گا۔

جب ماہِ رمضان المبارک موسمِ سرما میں آتا ہے تو یہ اپنے ساتھ ایک نہایت ہی خاص اور قیمتی غنیمت لاتا ہے۔ اس منفرد مہینے میں نیکیاں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں، یہاں تک کہ نفلی عبادات کا اجر فرض کے برابر ہو جاتا ہے اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا یا اس سے بھی زیادہ ملتا ہے۔ رمضان کا یہ مبارک مہینہ مؤمن کو ایک عبادت سے دوسری عبادت کی طرف لے جاتا ہے، ہر لمحہ اور ہر قدم عبادت اور قربِ الٰہی میں گذرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص فجر کی نماز باجماعت ادا کرتا ہے تو اسے نہ صرف وضو کا اجر ملتا ہے بلکہ گھر سے نکلنے اور واپس آنے کی دعاؤں کا ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔ “حیّ علی الصلاۃ، حیّ علی الفلاح” کی پکار پر لبیک کہنے کا اجر ملتا ہے، اندھیرے میں مسجد تک چل کر جانے کا ثواب بھی لکھا جاتا ہے، چاہے یہ فجر ہو یا عشاء۔ ہر قدم پر ثواب ہے، مسجد میں داخل اور باہر نکلنے کی دعاؤں کا اجر ملتا ہے، جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کا ثواب حاصل ہوتا ہے، رکوع و سجود میں ہر ذکر کے ثواب ملتے ہیں، امام کے ساتھ آمین کہنے کا بھی اجر ہے (اگر نماز جہری ہو)، اور نماز کے بعد کے اذکار کا بھی ثواب شامل ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک بابرکت مہینے، بابرکت وقت، اور ممکن ہے کہ کسی بابرکت مقام جیسے مکہ یا مدینہ میں  حاصل ہو جائے ۔اللہ ہمیں حرمین شریفین  کی زیارت بار بار   نصیب فرمائے۔ سردیوں کے چھوٹے دن اور لمبی راتیں مؤمن کے لیے عبادت میں آسانی پیدا کرتی ہیں اور نیکیوں کے ثواب میں اضافہ کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔

خلاصہ کلام

موسم سرما مؤمن کے لیے روحانی مواقع اور عبادات میں اضافہ کا سبب  ہے۔ چھوٹے دن اور طویل راتیں عبادت، نماز شب اور قرآن کی تلاوت کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں۔ سلف صالحین رحمہم اللہ نے اس موسم کو اپنی روحانی ترقی اور قربِ الٰہی کے لیے بھرپور استعمال کیا، اور ہمیں بھی یہی نصیحت کی کہ ہر لمحے کو ضائع نہ کریں بلکہ اسے نیکیوں اور طاعات میں گزاریں۔ سردیوں کی برکتیں دل و روح کو سکون، تقویٰ اور اللہ کی رضا کے حصول کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں، اسی لیے مؤمن کو چاہیے کہ اس موسم کی اہمیت کو پہچانے اور ہر لمحے کو اللہ کے نزدیک قیمتی بنائے۔

____________________________________________________________________________________

  1. (مسند الشهاب ، حدیث : 141 ، إسناده صحیح )
  2. (أخرجه البيهقي في سننه الكبری” (4 /489) برقم: (8456) أورده الهيثمي في ’’مجمع الزوائد‘‘( 3/200) برقم:(5217)وقال: رواه أحمد وأبو يعلى، وإسناده حسن.
  3. (المقاصد الحسنة للسخاوی، رقم الحدیث: 588)
  4. (الزهد لأحمد: 615، صحيح)
  5. (سنن الكبري للبيهقي: 09/44، وسندہ صحيح)
  6. (صححه الألباني في صحيح الترغيب (630)
  7. (نداء الريان،1 /42).
  8. (الزهد لأبي حاتم 1/26)
  9. (لطائف المعارف لابن رجب (ص327)
  10. (المصنف لابن أبي شيبة ٩٨٣٦، إسنادہ صحيح)
  11. (لطائف المعارف ، ص: 327).
  12. البقرة: 185)
  13. (لطائف المعارف ،ص: 326)
  14. (التهجد وقيام الليل لابن أبي الدنيا ، ص:432) ولطائف المعارف :326)
  15. (الطبقات الكبرى 3/359)
  16. (مجموع الرسائل: ( ٦٧/١ ).
  17. (حديث أبى الفضل الزهري (630)
  18. لطائف المعارف :326)
  19. (موسوعة ابن أبي الدنيا: 5/ 345)
  20. (صحيح الترمذي:797 ، و السلسلة الصحیحة :(1922)
  21. ( فيض القدير :320/4)
  22. (الشتاء أحكام وآداب ،ج10 ، ص: 1)
  23. (لطائف المعارف ص: 326)
  24. (البداية والنهاية :٣١٨/١٠)
  25. (حاشيته على مسند أحمد (31 /291)
  26. (صحیح البخاری (1154)، سنن ابی داود (5060)، سنن الترمذی  (3414)،سنن ابن ماجہ (3878)
  27. .(صحيح الجامع:3045) والسلسلة الصحيحة:1802)
  28. (صحیح مسلم: 251)
  29. (صحیح مسلم : 2699)
  30. (صفوۃ الصفوۃ 385/1) وحلية الأولياء :161/3)
  31. (لطائف المعارف،ص: 330).
الشیخ اکرم الٰہی حفظہ اللہ

Recent Posts

جرابوں پر مسح کرنا اجماع کے خلاف ہے؟

کیا مسح صرف چمڑے کے موزوں پر ہی ہوتا ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنے…

1 day ago

عبادت میں دل نہیں لگتا، کیا کریں؟

عبادت میں دل کیوں نہیں لگتا؟ عبادت میں دل کیسے لگائیں؟ عبادت کے اثرات ہماری…

3 days ago

تاریخِ اسلام کی ایک دلچسپ اور انوکھی شادی

ایک غریب صحابی کے رشتے کے لیے نبی کریم ﷺ نے کس گھرانے کو منتخب…

3 days ago

کیا اہلِ حدیث کے فقہی مسائل اجماع کے خلاف ہیں؟

مسئلہ تین طلاق پر اجماع کے دعوے کی حقیقت؟ "حلالہ" کی حقیقت اور شرعی حیثیت؟…

6 days ago