موسم کی تبدیلی میں نصیحت
موسم سرما حقیقتاً مومن کے لیے ایک عظیم روحانی موقع ہوتا ہے، جو اس کے اعمال صالحہ اور عبادت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جیسے بہار میں پھول کھلتے ہیں اور درخت ہرے بھرے نظر آتے ہیں، ویسے ہی سردی کا موسم مومن کے لیے نیکیوں کے میدان میں کامیابی کی نوید لاتا ہے۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں طویل ہوتی ہیں، جو روزے رکھنے اور رات کی عبادتوں جیسے قیام اور تہجد کے لیے بہترین وقت ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سردی کا موسم مؤمن کے لیے بہار کی طرح ہوتا ہے، اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں جن میں وہ روزہ رکھتا ہے، اور راتیں لمبی ہوتی ہیں جن میں وہ قیام کرتا ہے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…