مومن کی چال کیسی ہونی چاہیے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا1
ترجمہ: رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی سے چلتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی چال میں وقار، عاجزی، اور میانہ روی ہونی چاہیے، نہ غرور اور تکبر، نہ بے راہ روی اور شوخی۔ چال ایسی ہو جو دوسروں کو محبت، سکون، اور شائستگی کا پیغام دے۔ ایک سچا مومن اپنی چال ڈھال میں بھی اسلامی تعلیمات کی جھلک دکھاتا ہے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…