مومن کی چال کیسی ہونی چاہیے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا1
ترجمہ: رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی سے چلتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی چال میں وقار، عاجزی، اور میانہ روی ہونی چاہیے، نہ غرور اور تکبر، نہ بے راہ روی اور شوخی۔ چال ایسی ہو جو دوسروں کو محبت، سکون، اور شائستگی کا پیغام دے۔ ایک سچا مومن اپنی چال ڈھال میں بھی اسلامی تعلیمات کی جھلک دکھاتا ہے۔
نیک لوگوں پر سب سے خطرناک شیطانی حملہ کیا ہوتا ہے؟ رمضان میں مسجد آنے…
کیا اہل حدیث وقت سے پہلے روزہ کھولتے ہیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب کے بے…
مضان المبارک آپ ﷺ کن اعمال کا زیادہ اہتمام فرماتے؟ صدقہ کے روحانی، معاشرتی اور…
کیا نبی ﷺ نے تراویح باجماعت ادا فرمائی، اور کتنی رکعات پڑھائیں؟ بیس رکعات تراویح…
نبی کریم ﷺ کی سحری کیسی ہوتی تھی؟ سحری اور افطاری میں آپ ﷺ کا…