اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الا إن للموت سكرات

ترجمہ: “خبردار! موت کی سختیاں ہیں۔” (صحیح بخاری) یہ ارشادِ نبوی (ﷺ) ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ موت کا مرحلہ سخت ہے، اور انسان کو اس وقت کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کو قائم رکھنے اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی اور حسنِ سلوک کی تاکید کی، کیونکہ یہ اعمال ہماری آخرت کے لیے بہترین ذخیرہ ہیں۔

الشیخ عبید الرحمان حفظہ اللہ

Recent Posts

شب برأت کی حقیقت؟

ماہ شعبان میں پیارے نبی کریم ﷺ کا کیا معمول تھا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟…

2 hours ago

دل کی سختی اہم وجہ اور علاج!

امام ابن تیمیہؒ دل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کو کون سے…

2 days ago

ملازمت، ایک امانت اور ذمہ داری

خطبہ اول: ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے مسلمان کی پوری…

4 days ago

بعثتِ نبوی ﷺ کا مقصد اور سیرت کا پیغام

نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح…

4 days ago

نکاح کی نیت سے RELATIONSHIP میں رہنا کیسا؟

اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…

5 days ago

موسم سرما میں شریعت کی رخصتیں اور سہولتیں

محترم قارئین کرام! ہم اس وقت سخت سردیوں کے موسم میں داخل ہو رہے ہیں۔جب…

1 week ago