اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الا إن للموت سكرات

ترجمہ: “خبردار! موت کی سختیاں ہیں۔” (صحیح بخاری) یہ ارشادِ نبوی (ﷺ) ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ موت کا مرحلہ سخت ہے، اور انسان کو اس وقت کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کو قائم رکھنے اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی اور حسنِ سلوک کی تاکید کی، کیونکہ یہ اعمال ہماری آخرت کے لیے بہترین ذخیرہ ہیں۔

الشیخ عبید الرحمان حفظہ اللہ

Recent Posts

نکاح کی نیت سے RELATIONSHIP میں رہنا کیسا؟

اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…

4 days ago

اسلامی اخلاق و آداب سورۃ الحجرات کے تناظر میں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے…

1 week ago

آزمائش میں مومن کا کردار کیا ہو؟

انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی…

1 week ago

کیا ساس، سسر کی خدمت واجب ہے؟

کیا ساس، سسر کی خدمت شادی کے اہم مقاصد میں سے ہے؟ کیا بہو پر…

2 weeks ago

ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں، تین ہوں گی یا ایک؟

کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اجماع ہے؟ ایک مجلس…

2 weeks ago

“شبِ معراج منانا عبادت ہے یا بدعت؟”

کیا سفرِ معراج 27 رجب کو ہوا؟ کیا شبِ معراج منانا بدعت ہے؟ شبِ معراج…

2 weeks ago