پہلا خطبہ:

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالی ٰ کے لئے ہے ،جس نے اُس کی اطاعت کی اور اُسے دوست بنایا وہ اُسے عزت عطا فرماتا ہےاور جس نے اُس کے ساتھ شرک کیا اورنافرمانی کی اُسے ذلیل کرتاہے۔میں اُس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں نہ ہی اُس کےعلاوہ کوئی  رب ہے اور نہ ہی اُس کے علاوہ کوئی معبود۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں ،وہ اکیلا ہے اُس کاکوئی شریک نہیں ۔اُس نے حکم دیا ہے کہ ہم اُس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سردار محمد ﷺ اللہ کے بندے نبی اور رسول ہیں ۔اُس کی مخلوق میں سب سےبہتر ہیں ۔ اے اللہ ! درود و سلام نازل ہو تیرے بندے اور رسول ﷺ پر ، اور اُن کی آل اور اُن کے صحابہ ِ کرام پر ۔

اما بعد!

اے اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اُس کے سامنے اپنے پیش ہونے کو یاد کرو۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ‎﴿٨٨﴾‏ إِلَّا مَنْ أَتَى اللهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

الشعراء – 88/89

جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی۔لیکن فائدےوالاوہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے۔

قیامت کے دن کے لئے سب سے بہتر توشہ اختیار کرو،دنیاوی زندگی تمہیں دھکے میں نہ ڈال دے اور نہ ہی دھوکہ دینے والا شیطان تمہیں اللہ سے غافل کردے ۔

اللہ کے بندو! صحیح مسلک اور خالص منہج اللہ کے بندوں کو اللہ کی نعمتوں اور اکرام کو یاد کرنے پر ہمیشہ ابھارتا ہے ، اس لئے کہ اُسی نے اُن کے دلوں کوایمان کے نور اور یقین کی پختگی سے زندہ کیا ،اُن کی اُس حق کی طرف رہنمائی کی جسے اللہ کے تمام رسول لے کر آئے ہیں  ۔ انوارِ ہدایت نے انہیں ڈھانپ لیا ،چنانچہ انہوں نے گمراہوں کی گمراہیوں  اور  جہالت کو دیکھ لیا جن میں وہ گمراہ لوگ اوندھے منہ پڑے ہوئے ہیں۔جن کے لئے اس گمراہی سے کوئی رہائی نہیں ہے،جن کی تاریکیوں سے اُن کےلئے کوئی چھٹکارہ نہیں ہے اور جن کے بُرے انجام سے اُ ن کے لئے کوئی نجات نہیں ہے۔ارشادِ ربانی ہے :

أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

الانعام – 122

ایسا شخص جو پہلے مرده تھا پھر ہم نے اس کو زنده کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وه اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے؟ جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں پاتا۔ اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال خوش نما معلوم ہوا کرتے ہیں۔

انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ اور اُس کےرسول کے حکم کی بجا آوری  اور اُس کی شریعت کی اتباع اور نادان خواہش پرستوں کی پیروی سے بچنا اُن کے لئے ضروری اور لازم ہے اور اُن پر عائد کی گئی ذمہ داری ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ نے اپنی  مخلوق کے سب سے معزز شخص صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ پر کو اپنے اِس قول میں حکم دیا ہے:

ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

الجاثیة – 18

پھر ہم نے آپ کو دین کی (ظاہر) راه پر قائم کردیا، سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں۔

یہ آیت اس دین کے کمال اور ملت ِ حنیفی اور اس شریعتِ محمد ی  کی عظمت پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا ہے: کوئی عبارت اُس کے کمال کو نہیں پاسکتی کوئی وصف اُس کے حسن کا ادراک نہیں کرسکتا، دانشمندوں کی عقلیں  اگرچہ وہ کسی کامل ترین شخص کی عقل پر اکھٹے ہوجائیں پھر بھی اُس سے بہتر کی تجویز نہیں پیش کرسکتیں ،کامل و فاضل عقلوں کےلئے یہ ہی کافی ہے کہ اُنہوں نے اُس کے حسن کا ادراک کیااور اُس کی فضیلت سمیت اس بات کی گواہی دی کہ دنیا میں کوئی شریعت اُس  سے زیادہ کامل و برتراور عظیم نہیں آئی ، یہ بذاتِ خود شہادت دینے والی بھی ہے اور اِس کے لئے شہادت بھی دی گئی ہے،یہ حجت بھی ہے اور اِ س کے لئے حجت بھی پیش کی گئی ہے، یہ دلیل بھی ہے او ر دعویٰ بھی ۔ اگر رسول اُس پر کوئی برھان لےکر نہیں آتے  توبھی وہ خود ہی برھان و نشانی ہونے اور اللہ کی طرف سے ہونے کی گواہی دینے کے لئے کافی تھی۔

پوری شریعت اللہ کے کمال و حکمت،اس کی رحمت ،بھلائی و احسان کی  وسعت کی گواہی دے رہی ہے ساتھ ہی اس بات  کی گواہی ہےکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاضر و غائب کا احاطہ کئے ہوئے ہےاور آغاز و انجام کا پورا علم رکھتا ہے۔ اور اس بات کی بھی گواہ ہےکہ یہ شریعت اللہ تعالیٰ کی اُن نعمتوں میں سے سب سے عظیم نعمت ہے جو اُس نے اپنے بندوں پر کی ہیں ۔

اُس پاک ذات نے اُن پر کوئی ایسا  انعام نہیں کیا ہے جو اس بات سے بڑھ کر ہوکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شریعت کی ہدایت دی ،انہیں اپنے ماننے والوں میں سے بنایااور انہیں ان لوگوں میں سے بنایا جن کے لئے اُسے پسند کرلیا ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان جتلایا کہ اُنہیں اس کی ہدایت دی۔ ارشادِ  باری تعالیٰ ہے: 

لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

آل عمران – 164

بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

اللہ تعالی ٰ نے اپنے بندوں کو اس شریعت کے عظیم احسان کا تعارف اور یاد دہانی کراتے ہوئے  اور انہیں اس کے ماننے والوں میں سے بنانے پر اُس ذات کا شکر بجالانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا :

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ

المائدة – 3

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔

غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے اس دین کو اپنے خاص بندوں کےلئے کمال سے متصف کیا  اوراِ س نعمت کو جس سے انہیں بھرپور نوازا ہےتمام سے متصف کیا۔ایسا کر کے دین کے بارے میں یہ بتانا ہے کہ اُس میں کوئی نقص، عیب اور خلل  نہیں ہے۔اُس میں کوئی بھی چیز کسی طور پر حکمت سے باہر نہیں ہے۔بلکہ وہ اپنے حسن و عظمت میں کامل ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کوتمام سے متصف کیا یہ بتانے کےلئے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور جاری رہے  گی۔اور اُسے دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اُسے نہیں چھینے گابلکہ اس دنیا میں اور آخرت میں اسے دوام عطا کرکے پورا کرے گا۔

اے اللہ کے بندو! تو کیا دین سے زیادہ  اہم کوئی چیز ہے جسے اللہ علیم و حکیم نے اپنے بندوں کے لئے پسند کرلیا ہو۔جسے اپنے ذات تک پہنچنے کے لئے راہ بنایا ہو۔اس کی خوشنودی و مغفرت اور بُلند جنتوں میں داخل ہونے کا راستہ بنایا ہو۔جسے زمین میں اس امتِ محمدیہ کی سربُلندی اور عظمت کامقام بنایاہوجیسا کہ اُس حدیث میں آیا ہے جسے امام احمد نے اپنی مسند میں اور امام حاکم نے اپنی مستدرک میں صحیح سند کے ساتھ جناب  ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے  بیان کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:  اس امت کو رفعت ،ملکوں میں استحکام اور فتح و نصرت اور دین کی سربلندی  کی خوشخبری سنادیں ۔ اُن میں سے جس نے بھی دنیا کے لئے  آخرت کا عمل کیا  تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

اللہ کے بندو!  اصحابِ بصیرت  جب اُن پر تلاوت کی جانے والی اللہ کی ندا کو سنتے ہیں  تو وہ اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ اُسے کان لگا کر سنیں اور اللہ اور اُس کےرسول ﷺ کی دعوت کی پر لبیک کہیں ۔اس لئے کہ یہ ایسی دعوت ہے کہ جس کی بجاآوری سے دل زندہ ہوتے ہیں ۔ فرمان ِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

الانفال – 24

اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے اور بلاشبہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنی کتاب کے طریقے اور اپنے نبی ﷺ کی سنت سے فائدہ پہنچائے۔اور میں یہ ہی کہتا ہوں کہ میں  اللہ تعالیٰ سے  ہم سب کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئےہر طرح کے گناہ سے مغفرت طلب کرتاہوں ،یقیناً وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ :

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو کارساز اور قابلِ حمد و ثنا ہے،جو چاہے اُسے کرنے والا ہےمیں اُس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوال کوئی  معبود نہیں وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی ہم سر نہیں کوئی سانجھی نہیں ،وہ عظیم عرش والا ہے۔میں گواہی دیتا  ہوں کہ  ہمارے سردار نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ اے اللہ ! درود و سلام نازل ہو تیرے بندے اور رسول ﷺ پر اور اُن کی آل و اصحابِ کرام پر۔

اما بعد!

اس شریعتِ محمدیﷺ اور ملتِ حنیفی کے محاسن شمار سے زائد اور گنتی سے بالا تر ہیں ۔  اُ س کے شرف کے لئے یہی کافی ہے کہ ا للہ تعالیٰ نے اُ س کے ذریعے روح و نفس ،مال و عقل اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ناحق کسی ایسے نفس کے قتل کو حرام قرار دیا جس اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ زنا کے ذریعے بستروں کو ناپاک کر کے آبروؤں کو پامال کر نے کو حرام قرار دیااور اُس نے ان تمام چیزوں کے استعمال کو منع کیا ہے جو عقل کی سلامتی کے لئے خطرہ ہوں یا اُس میں کمی پیدا کرتی ہوں  جیسے شراب ،منشیات اور دیگر نشہ آور چیزیں ۔اور لوگوں کے اموال کو باطل طریقے سے  کھانے سے منع کیا ہے خواہ اس کا طریقہ کا ر جو بھی ہو ۔ اللہ تعالی ٰ نے شریعتِ اسلام کےذریعے پوری مخلوق کے مابین انصاف کے اصولوں کے راسخ فرمایا خواہ  وہ مسلم ہوں یا کافر،عربی ہو یاعجمی، کالا ہو یا گورا،مرد ہو یا عورت ، چھوٹا  ہو یا بڑا ، اور اللہ کے تقویٰ کے اُن کے مابین باہمی فضیلت کی بنیاد بنایا۔ارشادِ ربانی ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

الحجرات – 13

اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے والا ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عظیم ربانی شریعت میں ہر انسان کے حق کی حفاظت کی ہے اور اُس انسان پر جو واجب ہے اس کی وضاحت کی ہے ۔انسانی حقوق کی حفاظت  کے لئے شریعت اسلام کے علاوہ بہت ساری انسانی شریعتیں بن چکی ہیں لیکن یہ شریعت اُن تمام شریعتوں کی کمزوری  اور کمی سے محفوظ ہے۔اس نے انسان کے مرتبے کو بلند کیا ،اس کی کرامت کی حفاظت کی اور اسی لئے حقیقی مومن کو اس بات میں کوئی حیرت و شک نہیں ہوگا، اس کے رب کی شریعت اور اس کا دین و طریقہ ہی دنیا و آخرت میں نجا ت کی راہ اور سعادت کا راستہ ہے ۔لیکن جس نے اپنے رب کے راستے سے اعراض کیا ،اس کے حکم کی مخالفت کی ، اس کی راہ سے الگ ہوا ، اس کے بتائے ہوئے طریقے کے علاوہ دوسرے چیزوں میں ہدایت تلاش کی  تو اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کا  انجام بیان کیا ہے ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ ‎﴿١٢٤﴾‏ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ‎﴿١٢٥﴾‏ قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ

طه – 124/125/126

اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا۔ (جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے۔

اللہ کے بندو! زندگی کی تنگی مال اور ساز و سامان کی قلت سے نہیں ہے بلکہ و ہ  ابن قیم رحمہ اللہ کے بقول  اس بات سے ہے کہ “انسان کو طمانیت اور راحت ِ قلب نہ مل سکے ، اس کا سینہ تنگ و پریشان رہے اگرچہ  ظاہری طور پر اس کے پاس نعمتیں ہوں  وہ جس طرح چاہے پہنے ،جس طرح چاہے کھائے پیئے ،جس طرح چاہے رہےلیکن اس کا دل کسی شک اور اضطراب کی کیفیت میں رہے “۔

اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور ا س کا تقویٰ اختیار کرو۔اوراپنے نبی صادق ِ امین ،امام المتقین  اور رحمۃ للعالمین پر کثرت سے درود و سلام پڑھو جیسا کہ آپ کو آپ کے رب العالمین نے اس کاحکم دیا  اور اپنی معزز کتاب میں فرمایا:

إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

الاحزاب – 56

اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔

ہماری طرف سے نبی کریم ﷺ اور اُن کے اہلِ خانہ پر درودو سلام ہو ۔لاتعدا د و بے شمار کہ اگر گنا جائے تو ختم نہ ہوں۔جس کے سبب ہمارے مالک و خالق کے نزدیک ہمارے درجات بلند ہوتے ہیں  جہ کہ نجات ہے اور پیشانی پر تمغہ ہے ۔

اے اللہ تو اپنی رحمتیں اپنی برکتیں سید المرسلین،امام المتقین خاتم النبین ،اپنے بندے اور رسول ﷺ پر نازل فرما جو خیر کے امام اور خیر کے قائد ہیں رسول ِ رحمت ہیں ۔ اے اللہ ! انہیں مقام ِ محمود سے نواز جسے سے اگلے اور پچھلے اُن پر رشک کریں اور اے اللہ تو راضی ہوجاان کے چاروں خلفاء راشیدین، ہدایت یافتہ سربراہان  ابو بکر ،عمر ،عثمان ،علی   سےاورتمام صحابہ اور تابعین سے اور ان سے جو دُرست طریقے سے قیامت تک اُن کی پیروی کریں ۔اے  سب سے بڑھ کر  کرم کرنے والے ۔

اے اللہ ! تو اسلام کو اور مسلمانوں کو عزت و عظمت عطا فرما۔

اے اللہ ! تو اسلام کو غالب کردے اور مسلمانوں کی مدد فرما۔اور شرک و مشرکین کو ذلیل و رسوا کردے اور دین ِ اسلام کے دشمنوں کو نیست و نابود کردے۔

اے اللہ ! اپنے بندے خادم الحرمین شریفین کو ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی ہوجاے۔اےاللہ ! تو اُن کے ولی عہد کو بھی بھلائی اور اپنی خوشنودی کے کاموں  کی توفیق عطا فرما اور اُ ن پر استقامت دے۔

اے اللہ ! تو اس ملک کو امن و اطمنان ، ہمدردی و سخاوت  ، اتحاد و بھائی چارے سے بھر دے اور اسی طرح باقی تمام مسلم ممالک کو بھی ۔

اے اللہ ! ہم تجھ سے سوائے خیر کے اورکسی چیز کا سوال نہیں کرتے تو ہمیں خیر عطا فرما۔اور جس چیز کا تجھ سے سوال نہیں کرتے اس کی ابتلاء سے محفوظ فرما۔

اے ﷲ! بے شک ہم تیری عطا کردہ نعمتوں کے زوال سے ، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے سے، تیری سزا کے اچانک وارِد ہو جانے سے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تیری پناہ چاہتے  ہیں۔

اے اللہ ! تو اپنے اور ہمارے دشمنوں کےلئے کافی ہوجا جس طرح تو چاہے۔ اے اللہ ! تو اپنے اور ہمارے دشمنوں کےلئے کافی ہوجا جس طرح تو چاہے۔ اے اللہ ! تو اپنے اور ہمارے دشمنوں کےلئے کافی ہوجا جس طرح تو چاہے اے تمام جہانوں کےرب۔

اے اللہ! ہم تجھ کو ان کے سامنےکرتے ہیں اور تیرے ذریعے ان کی شرارتوں (برائیوں) سے پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ کو ان کے سامنےکرتے ہیں اور تیرے ذریعے ان کی شرارتوں (برائیوں) سے پناہ مانگتے ہیں۔

اے اللہ !ہمارے بیماروں کو شفایاب کر،ہمارے مرحومین کی مغفرت فرما،اور ہمیں ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی ہوجائےاور ہمارا خاتمہ صالح اعمال پر فرما۔

اے اللہ ! ہم ہر طرح کی بیماری ،وبا  اور بلاء سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ ! ہم ہر طرح کی بیماری ،وبا  اور بلاء سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ ! ہم ہر طرح کی بیماری ،وبا  اور بلاء سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

اے اللہ ! ہم برص سے ،جنون سے  اور جذام سے تیری پناہ مانگتے ہیں

اے اللہ ! ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔ اللہ کے بندوں ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل و انصاف کا اور قریبی رشتہ داروں  سے صلہ رحمی کا اور ہر قسم کی بے حیائی اور نافرمانی سے بچنے کا ۔

خطبة الجمعة مسجد الحرام: فضیلة الشیخ  اسامه خیاط حفظه اللہ 
8 ذوالقعدة 1442هـ بمطابق 19جون 2021

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اُسامہ خیاط حفظہ اللہ

مسجد الحرام کے عظیم المرتبت خطباء میں ایک نام ڈاکٹر اسامہ خیاط کا ہے، آپ 12 فروری 1956ء کو پیدا ہوئے ۔ ام القریٰ یونیورسٹی مکہ المکرمہ سے پی ایچ ڈی کیا اور پھر یہیں تدریس بلکہ کتاب و سنت ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی رہے ۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف بھی ہیں اور رابطہ عالم اسلامی کے بنیادی رکن بھی ہیں۔

Recent Posts

نزول قرآن کے حوالے سے اہم معلومات

لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…

13 hours ago

فراغت کے لمحات کیسے گزاریں؟

عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…

13 hours ago

عید الفطر کے مسنون اعمال

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

6 days ago

فیشن اختیار کیجیے مگر۔۔۔۔!

کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…

7 days ago

فلسطین: ایک مرتبہ پھر لہو لہو!

غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…

1 week ago

ایسی مسجد میں اعتکاف نہ کریں!

رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…

2 weeks ago