کیا والدہ زیادہ حق دار ہیں ؟
آج ہم سب کی مائیں موجود ہیں اور ہم والدہ کی قدر نہیں کرتے کیا ہمیں اس حوالے سے شریعت کی کوئی رہنمائی ملتی ہے ؟ آئیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جانتے ہیں۔۔۔
نبی ﷺ سے پوچھا گیا:
“میں سب سے زیادہ کس کے ساتھ بھلائی کروں؟”
آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: “اپنی ماں کے ساتھ”
اور چوتھی بار فرمایا: “پھر اپنے باپ کے ساتھ”۔
اسی طرح عبداللہ بن عباسؓ کے پاس ایک قاتل شخص آیا اور توبہ کا پوچھا۔
آپؓ نے سب سے پہلے پوچھا:
“کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں؟”
اس نے کہا: “ہاں!”
آپؓ نے فرمایا:
“اللہ سے توبہ کرو اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرو۔”
راوی کہتے ہیں کہ ابنِ عباسؓ نے فرمایا:
“میں والدین کی نیکی سے بڑھ کر کوئی افضل عمل نہیں جانتا۔”
والدین کی خدمت ہی سب سے عظیم نیکی اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
ماں باپ کی رضا ،اللہ کی رضا ہے ۔۔۔
ماہ شعبان میں پیارے نبی کریم ﷺ کا کیا معمول تھا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟…
امام ابن تیمیہؒ دل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کو کون سے…
خطبہ اول: ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے مسلمان کی پوری…
نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح…
اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…
محترم قارئین کرام! ہم اس وقت سخت سردیوں کے موسم میں داخل ہو رہے ہیں۔جب…