سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو کاتبِ وحی ہونے کا شرف بھی حاصل رہا جبکہ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اُمہات المؤمنین تھیں۔
ایک جھوٹ جسے بطور شبہ مسلمانوں میں پھیلایا جاتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ “کاتبِ وحی” نہیں تھے بلکہ صرف کاتب تھے۔ جو کہ سراسر جھوٹ ہے اور جہلا کے بغض و عناد کا شاخسانہ ہے۔
جبکہ ابن حجر رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ فتح الباری میں لکھا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا اور وہ کاتبِ وحی تھے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…