سیرت و سوانح

جنت و جہنم کا مشاہدہ

اللہ تعالیٰ نے جنت کو ایمان والوں کے لیے نعمتوں سے بھرا،
اور جہنم کی آگ کو بھڑکایا یہاں تک کہ وہ سیاہ و تاریک ہوگئی۔

فرشتے نے جنت دیکھی تو کہا:

“ہر شخص اس میں داخل ہوگا!”
جب جہنم دیکھی تو کہا:
“کوئی اس کے اعمال نہیں کرے گا!”

پھر جنت کے اردگرد مشقتیں اور جہنم کے اردگرد خواہشات رکھ دی گئیں۔
فرشتہ بولا:

“اب شاید ہی کوئی جنت میں جائے، اور شاید ہی کوئی جہنم سے بچے۔”

نبی ﷺ نے معراج کی رات آدم علیہ السلام کو دیکھا —
دائیں طرف جنت والے تھے، بائیں طرف جہنمی۔

اور ایسے لوگوں کو دیکھا جو غیبت کرتے تھے،
اپنے چہروں کو نوچ رہے تھے،
اور خطیب جو نیکی کا حکم دیتے مگر عمل نہیں کرتے تھے—
ان کے جبڑے آگ کی کینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔

جنت کا راستہ صبر و عمل کا، اور جہنم کا راستہ خواہشات کا ہے۔

الشیخ عبید الرحمان حفظہ اللہ

Recent Posts

جرابوں پر مسح کرنا اجماع کے خلاف ہے؟

کیا مسح صرف چمڑے کے موزوں پر ہی ہوتا ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنے…

2 days ago

عبادت میں دل نہیں لگتا، کیا کریں؟

عبادت میں دل کیوں نہیں لگتا؟ عبادت میں دل کیسے لگائیں؟ عبادت کے اثرات ہماری…

4 days ago

تاریخِ اسلام کی ایک دلچسپ اور انوکھی شادی

ایک غریب صحابی کے رشتے کے لیے نبی کریم ﷺ نے کس گھرانے کو منتخب…

4 days ago

کیا اہلِ حدیث کے فقہی مسائل اجماع کے خلاف ہیں؟

مسئلہ تین طلاق پر اجماع کے دعوے کی حقیقت؟ "حلالہ" کی حقیقت اور شرعی حیثیت؟…

7 days ago