قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے ہفتہ کے دن کاروبار اور شکار کو سختی سے ممنوع قرار دیا۔ ان کی آزمائش کے لیے یہ ترتیب رکھی گئی کہ ہفتے کے دن مچھلیاں کثرت کے ساتھ ظاہر ہوتیں، جبکہ باقی دنوں میں بہت کم آتی تھیں۔
اسی آزمائش میں بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی کی اور دھوکے سے مچھلیاں پکڑنے کے طریقے اختیار کیے۔ نتیجتاً وہ اللہ کے سخت غضب اور پکڑ کا شکار ہوئے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کے احکام کے سامنے چالاکی، حیلہ سازی اور نافرمانی انسان کو فائدہ نہیں دیتی۔ اصل کامیابی اطاعت، تقویٰ اور اللہ کے قوانین کی پاسداری میں ہے۔
نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح…
اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے…
انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی…
کیا ساس، سسر کی خدمت شادی کے اہم مقاصد میں سے ہے؟ کیا بہو پر…
کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اجماع ہے؟ ایک مجلس…