رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه

کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے (ترمذی)
یہ حدیث مومن کی ایک اہم صفت بیان کرتی ہے، جسے اختیار کرنے سے اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔ مومن دنیا کو امتحان سمجھتا ہے اور وقت کو قیمتی جانتے ہوئے صرف فائدہ مند کاموں میں صرف کرتا ہے۔ لغو ہر ایسی بات یا عمل ہے جو بے فائدہ اور لاحاصل ہو۔ قرآن مجید میں بھی مومنین کی صفت بیان کی گئی ہے: جو لغو باتوں سے دور رہتے ہیں۔ (المؤمنون: 3)

IslamFort

Recent Posts

نکاح کی نیت سے RELATIONSHIP میں رہنا کیسا؟

اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…

4 days ago

اسلامی اخلاق و آداب سورۃ الحجرات کے تناظر میں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے…

1 week ago

آزمائش میں مومن کا کردار کیا ہو؟

انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی…

1 week ago

کیا ساس، سسر کی خدمت واجب ہے؟

کیا ساس، سسر کی خدمت شادی کے اہم مقاصد میں سے ہے؟ کیا بہو پر…

2 weeks ago

ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں، تین ہوں گی یا ایک؟

کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اجماع ہے؟ ایک مجلس…

2 weeks ago

“شبِ معراج منانا عبادت ہے یا بدعت؟”

کیا سفرِ معراج 27 رجب کو ہوا؟ کیا شبِ معراج منانا بدعت ہے؟ شبِ معراج…

2 weeks ago