فتح مبین کا مفہوم اور سورۃ الفتح کا پس منظر
سورۃ الفتح صلح حدیبیہ کے بعد 6 ہجری میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے “فتح مبین” قرار دیا، حالانکہ وہ بظاہر جنگ نہیں بلکہ صلح تھی، مگر اسلام کی عظیم فتح کا سبب بنی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 8 ہجری رمضان میں تواضع کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے، آپ کا سر جھکا ہوا تھا اور آپ کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی تھی۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے:
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا
ترجمہ: یقیناً ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کی۔
مزید جاننے کے لیے آڈیو سماعت فرمائیں
عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…
ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم…
رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟…
عصرِ حاضر میں اسلامی بینکاری کے نام پر متعدد مالی مصنوعات (Financial Products) متعارف…
وہ کون شخص ہے جو قیامت کے دن کامیاب ہوگا، اور کامیابی کے لیے کیا…