ایمان کی شاخیں — ایک مکمل زندگی کا دستور
بی کریم ﷺ نے فرمایا:
“ایمان کی ساٹھ سے زائد شاخیں ہیں، سب سے اعلیٰ ‘لا إله إلا الله’ کہنا ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیا بھی ایمان کی شاخ ہے۔”
یہ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایمان صرف دل کی کیفیت یا عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔
ہر نیکی، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، ایمان کا حصہ ہے — چاہے راستے سے کانٹا ہٹانا ہو یا دوسروں کا خیال رکھنا۔
اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے…
انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی…
کیا ساس، سسر کی خدمت شادی کے اہم مقاصد میں سے ہے؟ کیا بہو پر…
کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اجماع ہے؟ ایک مجلس…
کیا سفرِ معراج 27 رجب کو ہوا؟ کیا شبِ معراج منانا بدعت ہے؟ شبِ معراج…