امام بخاری رحمہ اللہ نے “باب مثل الدنیا والآخرة” باندھ کر یہ سمجھایا کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔

دنیا کھیتی کی مانند ہے اور آخرت اس کی فصل۔ جیسا بیج یہاں بوئیں گے، ویسی ہی فصل وہاں کاٹیں گے۔

اس باب کا مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا میں جو اعمال کرے گا، وہی اس کی آخرت کا انجام طے کریں گے، اس لیے دنیا کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فراز الحق مدنی

Recent Posts

جرابوں پر مسح کرنا اجماع کے خلاف ہے؟

کیا مسح صرف چمڑے کے موزوں پر ہی ہوتا ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنے…

2 days ago

عبادت میں دل نہیں لگتا، کیا کریں؟

عبادت میں دل کیوں نہیں لگتا؟ عبادت میں دل کیسے لگائیں؟ عبادت کے اثرات ہماری…

4 days ago

تاریخِ اسلام کی ایک دلچسپ اور انوکھی شادی

ایک غریب صحابی کے رشتے کے لیے نبی کریم ﷺ نے کس گھرانے کو منتخب…

4 days ago

کیا اہلِ حدیث کے فقہی مسائل اجماع کے خلاف ہیں؟

مسئلہ تین طلاق پر اجماع کے دعوے کی حقیقت؟ "حلالہ" کی حقیقت اور شرعی حیثیت؟…

7 days ago