دنیا اور آخرت کی مثال
امام بخاری رحمہ اللہ نے “باب مثل الدنیا والآخرة” باندھ کر یہ سمجھایا کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔
دنیا کھیتی کی مانند ہے اور آخرت اس کی فصل۔ جیسا بیج یہاں بوئیں گے، ویسی ہی فصل وہاں کاٹیں گے۔
اس باب کا مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا میں جو اعمال کرے گا، وہی اس کی آخرت کا انجام طے کریں گے، اس لیے دنیا کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
کیا مسح صرف چمڑے کے موزوں پر ہی ہوتا ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنے…
عبادت میں دل کیوں نہیں لگتا؟ عبادت میں دل کیسے لگائیں؟ عبادت کے اثرات ہماری…
ایک غریب صحابی کے رشتے کے لیے نبی کریم ﷺ نے کس گھرانے کو منتخب…
مسئلہ تین طلاق پر اجماع کے دعوے کی حقیقت؟ "حلالہ" کی حقیقت اور شرعی حیثیت؟…