خطبہ اول:

بیشک تمام تعریف اللہ کے لئے ہے، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، اور ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

 میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے انہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا، پھر ان کے ذریعے شرح صدر عطا کیا، عقلوں کو روشن کیا، اور ان کے ذریعے اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور بند دلوں کو کھولا، اللہ تعالیٰ تا قیامت ان پر، ان کی آل و اصحاب پر خوب رحمت اور خوب سلامتی نازل فرمائے۔

امّا بعد!

 بیشک سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے مضبوط کڑا کلمہ تقویٰ ہے، اور سب سے بہتر ملت ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے، اور سب سے عمدہ بیان اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمدﷺ کا طریقہ ہے، اور سب سے برے کام دین میں نئی ایجاد کردہ چیزیں ہیں، اور ہر ایجاد کردہ چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو ان چیزوں میں جن کا اس نے حکم دیا ہے، اور ان چیزوں سے باز آ جاؤ جن سے اس نے منع کیا اور روکا ہے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ1

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔

 اوراللہ نے فرمایا:

أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا٘ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا2

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔ وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقیناً اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی۔

لوگو! بیشک انسان اپنے رب اور مولا کا محتاج اور ضرورت مند ہے۔ وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا، اسے درست کیا، اس میں روح پھونکی اور اسے زندہ کیا، اسے رزق دیا، اس پر نوازش کی اور اسے غنی بنایا، اسے کھانا کھلایا، پانی پلایا، اس کی ستر پوشی کی اور اسے کپڑا پہنایا، اسے شفا دی اور عافیت بخشی۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ3

 اور جب سمندر میں تمہیں تکلیف آ پہنچتی ہے تو جنہیں تم پکارتے ہو وہ گم ہو جاتے ہیں سوائے اللہ کے۔

 اوراللہ نے فرمایا:

 وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ4

 اور زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمے ہے اور وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے۔

اللہ کے بندو! دعا کرنے والوں کی دعاؤں کو قبول کرنے اور پریشان حال لوگوں کی حاجت پوری کرنے کی طاقت رب العالمین کے سوا کسی میں نہیں۔ وہی ہے جو ہر سائل کی دعا قبول کرتا ہے اور ہر امید لگانے والے کو عطا کرتا ہے، اس کے خزانے کم نہیں ہوتے اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ ختم نہیں ہوتا۔ لوگوں کی طلب کا کوئی شمار نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی حد ہے، اور صرف اللہ ہی ان کا احاطہ کر سکتا ہے۔

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 ا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي، وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ5

 اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، لہذ4ا تم آپس میں ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم میں سے ہر شخص گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم میں سے ہر شخص بھوکا ہے مگر جسے میں کھانا کھلا دوں، سو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم میں سے ہر شخص ننگا ہے مگر جسے میں کپڑا پہنا دوں، پس تم مجھ سے کپڑا مانگو میں تمہیں کپڑا پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں سارے گناہ معاف کرتا ہوں، سو تم مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔ اے میرے بندو! تم مجھے نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور نہ ہی تم مجھے نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھے نفع پہنچا سکو۔ اے میرے بندو! اگر تم اول سے آخر تک اور انس سے جن تک سب مل کر تم میں سے ایک انتہائی متقی انسان کے دل کے مطابق ہو جاؤ تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ اے میرے بندو! اگر تم اول سے آخر تک اور انس سے جن تک سب مل کر تم میں سے سب سے فاجر آدمی کے دل کے مطابق ہو جاؤ تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ میرے بندو! اگر تم اول سے آخر تک اور انس سے جن تک سب مل کر ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جاؤ اور مجھ سے مانگو اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دوں تو اس سے میرے پاس جو کچھ ہے اس میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سوئی کو سمندر میں ڈبو دینے سے ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں نے تمہارے لئے شمار کر رکھا ہے، پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا، تو جسے بھلائی ملے وہ اللہ کی تعریف کرے اور جسے بھلائی کے سوا ملے تو وہ اپنے سوا کسی اور کو ملامت نہ کرے۔

لوگو! دعا ہی عبادت ہے اور یہ قربتوں میں سب سے بڑی قربت اور اطاعتوں میں سب سے عظیم اطاعت ہے، اس کی شان بلند ہے اور نفع وسیع ہے۔ یہ نعمتوں کے حصول کا سب سے نفع بخش ذریعہ اور بلاؤں کو دور کرنے کا سب سے ٹھوس وسیلہ ہے۔ دعا حاجات و مقاصد کے حصول، درجات کی بلندی اور ہر بھلائی کو پانے اور ہر ناپسندیدہ چیز اور برائی کو دور کرنے کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ دعا مصیبت کے وقت مومن کا مونس ہے اور مشکلات کی شدت میں اس کی تسلی کا سامان ہے۔

دعا سے مظلوم کو مدد ملتی ہے کیونکہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ دعا سے حاجتیں پوری ہوتی ہیں اور بلا اور عذاب ٹل جاتے ہیں، اور دعا ہی ہے جو تقدیر کو ٹال دیتی ہے۔ سنو! دعا کے ذریعے اللہ کی پناہ میں آ جاؤ کیونکہ اللہ کو دعا سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں۔ ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاؤ اور اخلاص و یکسوئی کے ساتھ اللہ سے دعا کرو۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً6

اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو۔

 یہ محرومی اور نقصان ہے کہ بندہ اپنے رب سے اپنی حاجت مانگنے سے بے رغبت ہو حالانکہ اللہ نے اسے مانگنے کا حکم دیا ہے اور قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ نہایت کریم، رحیم، غنی، قادر اور عظیم ہے۔ اس کے دروازے بند نہیں ہوتے اور اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں، وہ جیسے چاہے خرچ کرتا ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

 إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ7

اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے۔

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے اور اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے مجھے اور آپ سب کو نفع پہنچائے۔

 اور میں اللہ سے اپنے لئے، آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بیشک وہ بہت معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔

خطبہ ثانی:

تمام تعریف اللہ کے لئے ہے اس کے احسان پر، اور اس کا شکر ہے اس کی توفیق اور اس کے انعام پر۔ میں اس کی شان کی عظمت بیان کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں جو اس کی رضا کی طرف بلانے والے ہیں۔ اللہ ان پر اور ان کی آل و اصحاب پر خوب رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو! بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ضرورتیں پوری کر کے ان پر احسان کیا، انہیں دعا کا حکم دیا اور ان سے قبولیت کا وعدہ کیا، اور اللہ نے جسے چاہا اسے دعا کی توفیق دی۔

 فرمان باری تعالیٰ ہے:

 وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ8

اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

 اوراللہ نے فرمایا:

 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ9

اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

 مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا أَوْ صَرَفَ عَنْهُ مِنْ السُّوءِ مِثْلَهَا مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ إِذًا نُكْثِرُ قَالَ اللَّهُ أَكْثَرُ10

زمین پر کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو گناہ اور قطع رحمی کی دعا کو چھوڑ کر کوئی بھی دعا کرتاہو اور اللہ اسے وہ چیز نہ دیتاہو، یا اس کے بدلے اس کے برابر کی اس کی کوئی برائی ( کوئی مصیبت) دور نہ کردیتا ہو اس پر ایک شخص نے کہا: تب تو ہم خوب (بہت) دعائیں مانگا کریں گے، آپ نے فرمایا:’اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے۔

لوگو! افضل اوقات کو تلاش کرو کیونکہ وہ قبولیت کے لئے زیادہ مناسب اور مانگنے کے لئے زیادہ بہتر ہیں، اور بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہذا سجدے میں زیادہ دعائیں کرو۔ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس میں اللہ سے کوئی بھلائی مانگے تو وہ اسے ضرور عطا کرتا ہے۔ رات کے تہائی حصے میں اللہ آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے

اور نبیﷺ نے فرماتا ہے:

 مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ11

کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں۔

 اور اذان و اقامت کے درمیان کی دعا بھی رد نہیں ہوتی، اور شبِ قدر قبولیت کے لئے سب سے زیادہ لائق ہے۔ مقبول دعاؤں میں سے ہے روزے دار کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا، والدین کی دعا، مجبور کی دعا، نیک آدمی کی دعا اور مسلمان کی اپنے بھائی کے لئے اس کی پیٹھ پیچھے کی گئی دعا۔

اللہ کے بندو! دعا عبادت ہے لہذا دعا میں پورے اخلاص کے ساتھ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی طرف رجوع کرو۔ اسے خوشحالی میں یاد رکھو وہ مصیبت اور تنگی میں تمہارے ساتھ ہوگا۔ آسودگی کی حالت میں اس کے ساتھ رہو وہ تنگی کی حالت میں تمہارے ساتھ ہوگا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ

قَالَ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ يَا غُلَامُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ12

 میں ایک دن رسول اللہﷺ کے پیچھے سوار تھا تو آپﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں، تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تم مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد چاہو۔ اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لئے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور تقدیر کے صحیفے خشک ہو گئے۔

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

 مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكَرْبِ فَلْيُكْثِرْ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ 13

جسے اچھا لگے ( اور پسند آئے) کہ مصائب ومشکلات (اور تکلیف دہ حالات) میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے، تو اسے کشادگی وفراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیے۔

اللہ کے بندو! دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہے سچی نیت سے اللہ کی پناہ میں آنا، گڑگڑانا، خشوع و خضوع اور عاجزی اختیار کرنا، اور دعا میں حد سے تجاوز نہ کرنا یعنی نہ اپنے اوپر بد دعا کرے، نہ اپنی اولاد پر، نہ اپنے مال پر، اور تم میں سے کوئی ظلم یا گناہ کی دعا نہ مانگے اور نہ قطع رحمی کی دعا کرے، اور جب کوئی دعا کرے تو اپنی آواز پست رکھے اور عزم و یقین کے ساتھ دعا مانگے۔

 مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دعا کرنے میں خوب محنت کرے اور یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے، سنتا ہے اور قبولیت سے نوازتا ہے کیونکہ اس نے اس چیز کا وعدہ کیا ہے اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ا

بو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

 ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ14

تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل سے دعا قبول نہیں کرتا۔

پھر درود و سلام بھیجو اس پر جس پر اللہ نے تمہیں درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے،

اللہ کا ارشاد ہے:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا15

 بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجتے رہو۔

 اے اللہ رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمد پر اور ان کے آل و اصحاب پر۔ اور اے اللہ تو راضی ہو جا ان کے خلفائے راشدین سے اور ان لوگوں سے جنہوں نے تا قیامت اچھی طرح ان کی پیروی کی۔

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما اور اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما۔ اے اللہ اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن و اطمینان والا بنا۔ اے اللہ مسلمانوں کے حالات درست فرما دے، اے اللہ ان کے درمیان باہمی تعلقات درست فرما، انہیں حق پر متحد کر دے۔

 اے اللہ ہمارے ملک میں امن و امان اور استحکام کو ہمیشہ قائم و دائم رکھ، اسے ہر برائی اور ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رکھ، اسے سلامتی، خوشحالی اور اطمینان کا ملک بنا، اسے فتنوں اور جنگوں کے شر سے بچا، اس کے خلاف سازش کرنے والوں اور چال بازوں کی چالوں کو ناکام بنا۔ اے اللہ ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، ان پر موجود ہمارے فوجیوں کو توفیق دے، ان کے نشانے درست کر، ان کے قدم جما دے، انہیں مضبوط ڈھال بنا اور ان کے دشمنوں پر انہیں فتح عطا فرما۔

اے اللہ تمام مسلمانوں کے ممالک کو ہر برائی سے محفوظ رکھ اور ان پر امن و سلامتی اور استحکام کی نعمت قائم رکھ۔ اے اللہ ہمیں ہمارے وطنوں میں امن عطا فرما، ہمارے سربراہان اور حاکموں کی اصلاح فرما۔ اے اللہ ہمارے حاکم خادم حرمین شریفین کو اپنی توفیق سے نواز اور اپنی تائید سے ان کی مدد فرما، اے اللہ انہیں صحت و عافیت عطا فرما اے رب العالمین۔ اے اللہ انہیں اور ان کے ولی عہد کو اس چیز کی توفیق دے جو تجھے پسند ہے اور جس سے تو راضی ہو، اے دعا سننے والے۔

اے اللہ ہم سے قبول فرما بیشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے، ہم پر رحم فرما بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اے اللہ رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرما محمد پر اور ان کی پاکیزہ آل پر اور ان کے نیک صحابہ پر اور ہمیں ان کے ساتھ اپنی رحمت میں شامل فرما، اے غلبہ والے اے بخشنے والے۔

خطبہ جمعہ: مسجد النبوی

خطیب: فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن البعیجان   حفظہ اللہ

تاریخ: 15 شوال 1447ھ / 3 اپریل 2026ء

  1. (سورۃ آل عمران:102 )
  2. (سورۃ الأحزاب:70-71)
  3. (سورۃ الاسراء:67)
  4. (سورۃ ھود:06)
  5. (صحیح مسلم:2577)
  6. (سورۃ الاعراف:55)
  7. (صحیح بخاری:7419)
  8. (سورۃ غافر:60)
  9. (سورۃ البقرۃ:186)
  10. (جامع ترمذی:3573)
  11. (صحیح بخاری:1145)
  12. (جامع ترمذی:2516)
  13. (جامع ترمذی:3382)
  14. (جامع ترمذی:3479)
  15. (سورۃ الأحزاب:56)
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمٰن بعیجان حفظہ اللہ

آپ مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، آپ ایک بلند پایہ خطیب اور بڑی پیاری آواز کے مالک ہیں۔جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ، پھر مسجد نبوی میں امام متعین ہوئے اور ساتھ ساتھ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کلیۃ الشریعۃ میں مدرس ہیں۔

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمٰن بعیجان حفظہ اللہ

Recent Posts

اسباب اختیار کرتے ہوئے یہ غلطی ہرگز نہ کریں!

اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…

2 days ago

منافقین کی صفات اور نفاق کا ظہور

مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…

3 days ago

مہنگائی کیوں؟

قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…

4 days ago

مہنگائی سے متعلق ہماری 3 غلط فہمیاں!؟

پیارے نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں کس بات کا سب سے…

7 days ago

پیٹرول قیمت میں اضافہ! حکومت کو چھوڑیں عوام کی بات کریں!

کیا پیٹرول کی قیمت بڑھتے ہی میٹر بدل لینا اور پمپ بند کر دینا دینداری…

7 days ago

قلبِ سلیم کی اہمیت

آخرت کی نجات کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے، اور قرآن نے اسے…

1 week ago