بارش کی برکت اور نبی ﷺ کا عمل
جب زمین بنجر اور بے جان ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے، جس سے وہی زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ یہ منظر اللہ کی قدرت کی روشن نشانیوں میں سے ایک ہے۔
نبی کریم ﷺ بارش کو اللہ کی خاص رحمت سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ بارش کے قطرے اپنے جسم اور چہرے پر لگواتے اور فرماتے:
“یہ ابھی اپنے رب کے پاس سے آیا ہے” (صحیح مسلم)
یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ بارش محض پانی نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت، اس کی قدرت اور قیامت کے دن دوبارہ زندگی دینے کی یاد دہانی ہے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…