احکام و مسائل

بندے کے اعمال کا عادلانہ بدلہ!

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات سے پہلے اپنا محاسبہ خود کرے، اس سے قبل کہ اس سے حساب لیا جائے۔
ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن و سنت میں سو سے زائد نصوص اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمائے گا، جیسا بندہ خود کرتا ہے۔
یعنی اگر بندہ نیکی کرے گا تو نیکی کا بدلہ پائے گا، اور اگر برائی کرے گا تو ویسا ہی انجام دیکھے گا۔ یہی ہے “جزاء وفاقا” — یعنی اعمال کے مطابق بدلہ۔

الشیخ خالد حسین گورایہ حفظہ اللہ

آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالمعہد الرابع مکمل کیا، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں نائب المدیر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔

Recent Posts

کیا قبر میں پیارے نبیﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟

کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…

1 day ago

اسباب اختیار کرتے ہوئے یہ غلطی ہرگز نہ کریں!

اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…

6 days ago

منافقین کی صفات اور نفاق کا ظہور

مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…

7 days ago

اللہ کے اسماء وصفات کی معرفت

 خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…

1 week ago

چند جامع نصیحتیں

 خطبہ اول: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو بقا و ابدیت میں منفرد ہے۔…

1 week ago

مہنگائی کیوں؟

قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…

1 week ago