بندے کے اعمال کا عادلانہ بدلہ!
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات سے پہلے اپنا محاسبہ خود کرے، اس سے قبل کہ اس سے حساب لیا جائے۔
ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن و سنت میں سو سے زائد نصوص اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمائے گا، جیسا بندہ خود کرتا ہے۔
یعنی اگر بندہ نیکی کرے گا تو نیکی کا بدلہ پائے گا، اور اگر برائی کرے گا تو ویسا ہی انجام دیکھے گا۔ یہی ہے “جزاء وفاقا” — یعنی اعمال کے مطابق بدلہ۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…