استغفار کی فضیلت

پہلا خطبہ :

بے شک تمام تعریفیں اللہ  تعالیٰ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بجالاتے ہیں ، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں ، ہم اپنے نفس کی برائی اور اپنے برے اعمال سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

 میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ بے شک سب سے سچا کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور سب سے اچھا طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ سب سے بری چیز دین میں ایجاد کردہ چیزیں ہیں اور دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم تک لے جانے والی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

آل عمران – 102

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رقيبا

النساء – 1

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں، اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو، بے شک اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ‎﴿٧٠﴾‏ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا

الاحزاب – 70/71

 اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔ تاکہ وہ تمہارے اعمال کو درست کرے اور تمہارے گناہ معاف کر دے، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کا کہنامانا سو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔

اے مومنو! آپ لوگ ماہ رجب کے آخری حصے میں ہیں جو خیر و برکت اور حرمت والا ہے ، یہ مہینہ باقی خیر وبرکت کے مہینوں کے لیے کنجی ہے، چنانچہ سال ایک درخت کی طرح ہے، اس میں پتیاں رجب کے مہینے میں آتی ہیں، اس کی شاخیں شعبان میں پھلتی پھولتی ہیں، اور اس کے پھلوں کے توڑنے کا وقت رمضان کا مہینہ ہے اور یہ پھل اہل ایمان توڑتے ہیں۔توپھر صاحب استطاعت ام القری کے لیے رخت سفر باندھنے کی تیاری کرناشروع کر دے۔

دل ایک باغ کی طرح ہے، اس کے پھل اسی وقت نشو و نما پائیں گے جب اس کی سینچائی صاف شفاف پانی سے کی جائے گی اور زمین کو صاف کیا جائے گا، اور دل کی سینچائی استغفار ہے اور اس کی صفائی تو بہ ہے۔چنانچہ جو شخص اپنے نامہ اعمال کو گناہوں کی آلائشوں سے سیاہ کر چکا ہے اسے چاہیے کہ وہ ان ایام میں تو بہ واستغفار کے ذریعے اسے سفید کرلے اور جو شخص سستی اور کاہلی میں اپنی عمر اب تک ضائع کر چکا ہے، اس کو چاہیے کہ باقی ماندہ عمر کو قیام اللیل اور دن میں روزے رکھنے کے لئے غنیمت جانے، اور جو حرام سے بیچ گیاوہ سب سے بڑا عبادت گزار ہے۔

 لہذا دل و دماغ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ تو بہ کے ذریعہ اس کی قربت حاصل کرو۔ اور اس کی طرف رجوع کر کے اس کا محبوب بندہ بن جاؤ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دل اُس تو بہ نصوح کی طرف آمادہ نہ ہو جو روشنیوں کا باغ ہے اور نیکو کاروں کے دلوں کی خوشی و مسرت ہے! اور دونوں جہانوں کے پالنہار نے توبہ کرنے والے کو اپنا محبوب بتایا ہے! چنانچہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

البقرۃ – 222

 بے شک اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

بھلا ایک کمزور لاچار بندہ رب کی خوشی کا منظر دیکھ کر کیسے خوش نہیں ہو سکتا ہے، جو رب نے ہمیں عطا کیا ہے، اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جسے چٹیل بیابان میں اپنی گم شدہ سواری مل جاتی ہے۔ ( صحیح مسلم)۔

بندے کی حقیقی زندگی اس کا اپنے رب کے ساتھ رشتہ استوار رکھنے اور اس کی طرف شوق و محبت ، اور غلامی اور بندگی کے جذبے کے ساتھ دوڑنے میں ہے، اور صفت بندگی کی معراج یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے تو بہ کرنے والا اور اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو، گناہوں سے دور رہتا ہو ، اور گناہوں کے ارتکاب کو اپنا و تیرہ نہ بناتا ہو، بلکہ اپنے ارادے کی کمزوری اور اپنے گناہوں سے بھاگتا ہو، اور گناہوں کی غلامی سے آزاد ہو کر اللہ سبحانہ و تعالی کی رحمت کی طرف لپکتا ہو ، ارشادِ باری تعالی ہے:

فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا

الاسراء – 25

یقینا وہ بار بار رجوع کرنے والوں کو ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا ہے۔

اللہ نے ہم پر بے حد رحم فرمایا، چنانچہ اس نے ان کے ساتھ بھی اپنا رشتہ جوڑا جو گناہوں کے صحرا اور غفلت ولا پرواہی کی دلدل میں بہت آگے نکل گئے ہیں، ان کو اپنی طرف منسوب کیا، ان کے لیے مغفرت کے دروازے کھول دیئے، اور انہیں انتہائی لطیف اور عظیم اسلوب میں مغفرت کی خوشخبری سنائی۔ ارشاد باری تعالی ہے:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

الزمر – 53

کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی بخشش ، بڑی رحمت والا ہے۔

تو بہ خوف الہی کے نور سے آنکھ کے کھلنے اور بیدار ہونے کا نام ہے۔۔ تو بہ آنکھ کے چشمے سے بہتے آنسو کی بدولت قبول ہوتی ہے جو دل کے زنگ کو ختم کر کے آخرت کی حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔

استغفار تو بہ کے لیے ایک لازمی شئی اور اس کا دروازہ ہے، اور اس کے مختلف درجات اور حالات ہیں، چنانچہ ہمارے ماں باپ آدم وحواء کا استغفار گناہ کا اعتراف اور خالق ارض و سماء سے شرم و حیا تھی ارشاد باری تعالی ہے:

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمَّ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخَاسِرِينَ

الاعراف – 23

 دونوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا یقینا ہم خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔

دونوں بھائی (موسی وہارون) کا استغفار صلہ رحمی کرنا اور رب العالمین کے پیغام کو پہنچانے میں صدق و راستی اختیار کرنا تھا، ارشاد باری تعالی ہے:

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

الاعراف – 151

” پروردگار ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما۔ تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے“۔

دونوں خلیل کا استغفار شفقت ورحمت کا اظہار تھا، ارشاد باری تعالی ہے:

رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ‎﴿٤٠﴾‏ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

ابراھیم – 40/41

 “پروردگار! مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی نماز قائم رکھنے والے بنا۔ پروردگار! میری یہ دعا قبول فرما پروردگار! مجھے، میرے والدین اور جملہ مومنوں کو اس دن معاف فرمانا جب حساب لیا جائے گا“۔

جب صدیقہ بنت صدیق (عائشہ رضی اللہ عنہا) کے لیے آپ ﷺنے استغفار کیا تو یہ دعا فرمائی: ”اے اللہ تو عائشہ کے اگلے پچھلے، پوشیدہ و اعلانیہ ہر طرح کے گناہوں کو بخش دے۔ جب اس دعا سے عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہوئیں تو آپ ﷺنے فرمایا: قسم اللہ کی یہ دعا میں ہر نماز میں اپنی امت کے لیے کرتا ہوں“۔

چنانچہ ہم میں سے ہر شخص کے لیے ہمارے نبی  اکرم ﷺنے دعائے استغفار کی اور اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا:

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا

النساء – 64

اور اگر واقعی یہ لوگ، جب انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، آپ کے پاس آتے، پھر اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول ان کے لیے بخشش مانگتے تو اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان پاتے۔

استغفار آسمان سے بارش کے نزول کا ذریعہ ، مال و اولاد میں برکت کا سبب، اچھے مال و متاع اور طاقتور جسم و بدن کا راز اور رحمن ورحیم کے ساتھ دوستی اور محبت کا وسیلہ ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ‎﴿١٠﴾‏ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ‎﴿١١﴾‏ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا

نوح – 10/11/12

 تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے * وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا * اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا ۔

اپنے رب سے گناہوں کی بخشش طلب کرو پھر اس کی طرف تائب ہو جاؤ، اپنے رب سے معافی مانگو پھر تو بہ کرو۔

استغفار اللہ کے برگزیدہ مقرب فرشتوں کا اہل ایمان سے رشتہ جوڑنے کا ذریعہ ہے۔

الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ‎﴿٧﴾‏رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدتَّهُمْ وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ‎﴿٨﴾‏ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ ۚ وَمَن تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

الغافر – 7/8/9

 “وه (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے ، اے ہمارے رب ! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا اے ہمارے رب! اور انھیں ہمیشہ رہائش والی ان جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے لائق ہیں۔ بلاشبہ تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے * اور انھیں برائیوں سے بچا اور تو جسے اس دن برائیوں سے بچالے تو یقینا تونے اس پر مہربانی فرمائی اور یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے “۔

استغفار اپنے معبود اور پروردگار کی نعمتوں کے کفر وانکار کا اعتراف واظہار ہے اور رب العالمین کی بندگی کے حقوق کی ادائیگی میں کمی و کوتاہی کا اعلان ہے۔چنانچہ جو اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے وہ تسبیح بیان کرنے والا ہو ا، جو اس کی تعظیم اور کبریائی بیان کرتا ہے وہ تکبیر کہنے والا ہو ا، اور جو حمد و ثنا بجالا تا ہے وہ تعریف کرنے والا ہوا، اور جو اس کی وحدانیت کو بیان کرتا ہے وہ تہلیل کرنے والا ہوا، اسی لیے جو تسبیح و تحمید اور تکبیر کو ایک ساتھ تینتیس تینتیس بار کہتا ہے اور سویں بار یہ کہتا ہے:

لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدیر

 اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہت اسی کی ہے ، ہر طرح کی تعریف کا وہی سزاوار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ جو شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے وہ استغفار کر رہا ہوتا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے:

وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ

آل عمران – 17

” اور رات کے آخری حصہ میں استغفار کرنے والے“۔

رکوع خشوع کا مقام ہے یہاں بھی استغفار ہے:

 سبحانك اللهم وبحمدك، اللهم اغفرلي

 ” اے اللہ ، ہمارے رب! تیری ذات پاک ہے، تمام قسم کی تعریفیں تیرے لیے ہیں ، اے اللہ تو ہمیں معاف فرما“۔

سجدہ خضوع کا مقام ہے، یہاں بھی استغفار ہے :

 اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْي كُلَّهُ، دِفَهُ وَجُلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ

 اے میرے رب ! میرے تمام گناہ چھوٹے بڑے، اول و آخر ، علانیہ اور پوشیدہ سب کو بخش دے۔

اور دونوں سجدوں کے درمیان بھی انسان شکستہ دل قیدی کی طرح استغفار کرتا ہے :

 رَبِّ اغْفِرْلِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْلي

 ”اے میرے رب ! مجھے معاف فرما، اے میرے رب ! مجھے معاف فرما، اے میرے رب ! مجھے معاف فرما“۔

صدق و سچائی کا پیغام لیکر آنے والے نبی نے پیکر تصدیق و تسلیم صدیق اکبر کو نماز میں پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھلائی:

اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

اے اللہ ! میں نے اپنے نفس پر خوب ظلم کیا اور گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی معاف نہیں کر سکتا، لہذا تو مجھے اپنے فضل و کرم سے معاف فرما، بے شک تو بہت زیادہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے“۔

جب آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے لیے بھی تین بار استغفار کہنا مسنون قرار دیا گیا ہے۔ روزہ صبر کرنے والوں کا استغفار ہے اور رب العالمین کی طرف سے اعانت ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ

”مبر (روزہ) اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، اسی طرح مغفرت اور معافی کو رمضان، عرفہ اور عاشوراء وغیرہ کے روزے کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

اور مجلس کے آخر میں اس کے لہو اور بے ہودہ باتوں کا کفارہ یہ دعا ہے:

سبحانك اللهم و بحمدك أشهد أن لا اله الا أنت أستغفرك واتوب إلیك

”اے اللہ تیری ذات پاک ہے، تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں اور تو بہ کرتا ہوں“۔

سرور کائنات ، رحمت دو جہاں جب اپنی مجلسوں میں ہوتے تو اعلانیہ استغفار کرتے تھے ، جیسا کہ عبد اللہ بن عمر لا انا سے مروی ہے کہ کہ ہم ایک مجلس میں رسول صلی ایم کو سو مرتبہ یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتے تھے: ”اے اللہ ! مجھے معاف فرما، میری توبہ قبول کر، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے“۔ اور سید الاستغفار رب کی چوکھٹ میں عبودیت کے ساتھ گناہ کے ارتکاب کا اعتراف ہے اور اللہ اور بندے کے در میان عہد و پیمان کی تجدید ہے:

اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبّي لا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ

“اے اللہ تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور حتی المقدور تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے اعمال کی برائیوں سے پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا بھی، لہذا تو مجھے معاف فرمادے کیوں کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کرسکتا“۔

دوسرا خطبہ :

 مومنو! اللہ عزوجل نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو بس اس قدر علم سے نوازا جو اس کے علم کی وسعت کے سامنے سمندر میں پرندے کے چونچ مارنے کی مقدار کے برابر بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کچھ ایسے کام کیے جو بادی الامر میں موسی کلیم اللہ کو ناگوار گزرے، چنانچہ اس اللہ کے بندے (خضر) نے فقیروں کی کشتی میں سوراخ کر کے انہیں ظالم و جابر بادشاہ کے ظلم سے نجات دلائی، اور یہ معاملہ خیر والا ثابت ہوا۔

(اسی طرح اس اللہ کے بندے نے بظاہر ) ایک ایسے کام کا ارتکاب کیا جو (موسی) کلیم اللہ علیہ السلام پر گراں گزرا، اس نے ایک بظاہر معصوم جان کو قتل کر دیا، اگر وہ مزید زندہ رہتا تو عاقبت و انجام کے لحاظ سے وہ برا ہو تا۔ تو اس معاملے میں بھی بہتری ثابت ہوئی۔ (اسی طرح اس اللہ کے بندے نے بظاہر ) بغیر کسی اجرت و ظاہری نفع کے ایک دیوار کو کھڑا کر دیا، جس میں کمینے شخص سے یتیم کے مال کی حفاظت تھی۔ تو اس کام میں بھی بہتری ثابت ہوئی۔

 تو ذرا سوچیں ہماری کیا حیثیت ہے رب العالمین کے ان افعال و اعمال کے سامنے جو قضا و قدر کے مطابق مخلوقات میں جاری وساری ہیں اور جو کمال علم ، قدرت، حکمت اور تدبیر پر قائم ہیں ؟ وہ پاک ہے، انتہائی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا

الكهف – 54

” اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے لئے ہر قسم کی مثال بیان کی ہے اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے“۔

 اللہ عزوجل عظیم شان والا اور مضبوط سلطنت و بادشاہت والا ہے ، جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو ارادہ کرتا ہے اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ۔ ارشادِ باری تعالی ہے:

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَذِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الحساب

الرعد – 41

 ” کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم ( ان کے لئے زمین کو اس کی تمام اطراف سے گھٹاتے جارہے ہیں اور اللہ فیصلہ فرماتا ہے، اس کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے“۔

وہ فیصلہ فرماتا ہے اور اس کے فیصلے کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے:

وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ

الانبیاء – 23

” وہ اپنے کاموں کے لئے (کسی کے آگے ) جواب دہ نہیں اور سب (اس کے آگے ) جواب دہ ہیں “۔

وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِمَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ

الرعد – 13

 اور وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے ، کفار اللہ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں اور اللہ سخت قوت والا ہے“۔

اگر اللہ تعالی زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کو بھی عذاب میں مبتلا کر دے تب بھی وہ ظالم نہیں ہو گا۔ جیسا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا:

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا

فاطر – 45

” اور اگر اللہ لوگوں سے ان کے اعمال پر گرفت کرتا تو سطح زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے، پس جب ان کا وقت مقرر آجائے گا تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔“

 کوئی بھی مصیبت گناہ کی وجہ سے نازل ہوتی ہے ، اور توبہ کے ذریعے اٹھالی جاتی ہے۔اور ارشاد فرمایا:

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

الروم – 41

 خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔

( جان لو کہ) آفت جب نازل ہوتی ہے تو یہ صرف ظالموں کو نہیں پہنچتی (بلکہ سبھوں کو لاحق ہوتی ہے، البتہ روز قیامت) لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

چنانچہ ( نیتوں کی درستی کے مطابق) وہاں بعض کو قربت الہی حاصل ہو گی تو بعض کو عذاب میں ڈالا جائے گا۔ بعض اللہ کا برگزیدہ ثابت ہو گا تو بعض شقی و بد بخت قرار پائے گا۔ شہدا اللہ کے مقرب ہو جائیں گے جبکہ نافرمانوں کے لیے ہلاکت مقدر ہو جائے گی۔ یہ اس اللہ کا فیصلہ ہے جو قوت و غلبے والا ہے ، حکمت والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

تقدیر کی حیرت انگیز حکمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ مصیبت زدہ شخص کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے اور جو عافیت میں ہو تا ہے وہ کفرانِ نعمت و سرکشی پر اتر آتا ہے،۔ چنانچہ آپ کھنڈرات اور ملبے کے نیچے صرف اور صرف اللہ اکبر، الحمد اللہ ، لاحول ولا قوۃ الاباللہ، اناللہ وانا الیہ راجعون اور اللہ کی بزرگی و بڑائی کی صدائیں سنیں گے۔ بے شک آپ کا رب آپ کو اپنی رضا حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ، آپ کو مہلت دیتا ہے، آپ کو آزماتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ آپ کا تعامل رحم و کرم اور اخوت و بھائی چارگی کی بنیاد پر ہے یا نہیں؟۔ نبی رحمت ﷺ نے سچ فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے ، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔

لہذا مومنو! آپ کو اللہ کا واسطہ ، اپنے بھائیوں کا خیال رکھیں، ان کے لیے دعا کریں۔ ان کی مدد کریں اور ہلاکت سے ان کی نجات کا ذریعہ بنیں۔

جان لیں کہ اللہ تعالی اور اس کی کسی مخلوق کے درمیان نہ کوئی قرابت داری ہے اور نہ رشتہ داری۔ بلکہ اللہ رب العالمین انصاف کا معاملہ کرتا ہے اورعدل کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اس کے میزان میں ذرہ برابر عمل بھی پوشیدہ نہیں رہتا .. اور وہ مجرم کو ضرور سزا دیتا ہے،گرچہ کچھ وقت کے بعد ہی سہی۔ لہذا اللہ سے ڈریں! اس کا خوف کھائیں۔ تنہائیوں میں گناہوں کے ارتکاب سے بچیں۔ اپنی نیتوں کو درست کریں، اپنے باطن کی اصلاح کریں ! گناہوں سے بچیں شاید کہ اللہ آپ پر رحم کھائے اور آپ کو در گزر و معاف کر دے۔ اہل علم و معرفت کے یہاں یہ بات معلوم ہے کہ استغفار سے بڑھ کر کوئی چیز نزول رحمت و برکت کا سبب نہیں، زبان اضطرار و مجبوری سے بڑھ کر کوئی چیز رب کی نصرت و مدد کے نزول کا ذریعہ نہیں۔ اور نبی مصطفی ﷺ پر درود و سلام جیسی کوئی اعلی چیز نہیں جو آسمان کی طرف جاتی ہو۔ وہ نبی اکرم ﷺ سب سے زیادہ امن و امان والے ہیں۔

 درود و سلام نازل ہوں آپ ﷺ پر اور درود وسلام سے غم و مصیبت دور ہوتی ہے ، اور یہ دونوں بندے کے لیے کافی ہیں، ان کے لیے ڈھال ہیں اور ان سے رب العالمین کا لطف و کرم حاصل ہوتا ہے۔

اللہ کے بندو! سچے لوگوں کے پیشوا، اہل توحید و اخلاص کے امام رسول اکرم ﷺ پر درد بھیجو، جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اس کا حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

الاحزاب – 54

”بیشک اللہ اور اس کے (سب) فرشتے نبی صلی لی کم پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو”۔

اے اللہ تو مخلوقات میں سب سے پاک فرد اپنے بندے ، اپنے رسول اور اپنے خلیل محمد ﷺ پر درود و سلام نازل کر۔

 اے اللہ! ان کے چاروں ہدایت یافتہ خلفا ابو بکر، عمر، عثمان، علی سے راضی ہو جا، جو ہدایت کے امام تھے ، حق کے ساتھ انہوں نے فیصلہ کیا اور اس پر عمل پیرا بھی رہے۔ ان کے علاوہ دیگر تمام صحابہ کرام سے بھی راضی ہو جا اور اپنی بخشش و مغفرت کی بارش کرتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ ہم تمام سے بھی راضی ہو جا۔ یا اکرم الاکرمین !

اے اللہ! تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما اور شرک اور اہل شرک کو مغلوب کر، اپنے مومن بندوں کی مدد فرما اور دین کے حدود کی حفاظت فرما۔

اے اللہ! تو ہمیں اپنے ملکوں میں امن وامان عطا کر۔ ہمارے ائمہ و حکمرانوں کی اصلاح فرما اور انھیں راہ ہدایت کی توفیق عطا فرما، انھیں اپنی رضامندی والے کاموں کو انجام دینے کی توفیق دے، یارب العالمین !

 اے اللہ! تو ہمارے امام کو خیر و بھلائی کے کاموں کی توفیق دے۔ اپنی ہدایت کی توفیق دے، ان کو اپنی رضا کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے، حق میں تو ان کی مدد فرما اور ان کے ذریعے سے اپنے دین کو غلبہ عطا کر یا ذالجلال والاکرام!

اے اللہ! تو ان کے ولی عہد اور ان کے تمام اعوان و مدد گاروں کو خیر کی توفیق دے یارب العالمین !

اے اللہ! تو مسلمانوں کے تمام حکمرانوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی ﷺکی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا کر۔

اے اللہ! تو اس امت کو راہ ہدایت پر مضبوطی کے ساتھ گامزن کر دے، جہاں اہل طاعت کی عزت و تکریم کی جائے اور گناہ گاروں کی تذلیل ہو اور جہاں بھلائی کا حکم دیا جائے اور منکر سے روکا جائے۔ یا سمیع الدعا!

اے اللہ! تو سرحدوں کی نگرانی کرنے والوں کی مدد فرما۔ مصیبت زدہ افراد کے لیے تو معاون و مدد گار بن جا۔ ہم سے اور تمام مسلمانوں سے مصائب و مشکلات کو دور فرما۔ یا کریم!

اے اللہ! تو مسلمانوں سے مہنگائی، وہا، سود، زنا، زلزلزلے، آزمائشوں اور ظاہر و پوشیدہ ہر قسم کے برے فتنوں کو دور کر دے یارب العالمين !

اے اللہ! تو ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنادے اور اسے ہمارے دلوں میں مزین کر دے۔ اور کفر، فسق و فجور اور نافرمانی کو ہمارے لیے مبغوض بنادے اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنادے۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

الحشر – 10

اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے، جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان داروں کے لیے کینہ قائم نہ ہونے پائے ، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

الاعراف – 23

اے ہمارے رب! ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے ، اگر تو معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہیں کیا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

البقرۃ – 201

 اے ہمارے رب! تو ہمیں میں بھلائی عطا کر، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

 اللہ کے بندو! اللہ تعالٰی عدل کا بھلائی کا ور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں اور ناشائستہ حرکتوں، ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ وہ خو تمہیں نصیحت کر رہا ہے کہ تم نصحت حاصل کرو“۔

پس اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو وہ تمہیں یادر کھے گا۔ اور اُس کی نعمتوں پر اُس کا شکریہ ادا کرو، وہ مزید نوازے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر توسب سے بڑی چیز ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اُسے جانتا ہے۔

خطبة الجمعة مسجدالنبویﷺ: فضیلة الشیخ احمد طالب حمید حفظه اللہ
19 رجب 1444 ھ بمطابق 10 فروری 2023

فضیلۃ الشیخ احمد طالب حمید حفظہ اللہ

Recent Posts

نزول قرآن کے حوالے سے اہم معلومات

لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…

1 day ago

فراغت کے لمحات کیسے گزاریں؟

عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…

1 day ago

عید الفطر کے مسنون اعمال

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

7 days ago

فیشن اختیار کیجیے مگر۔۔۔۔!

کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…

1 week ago

فلسطین: ایک مرتبہ پھر لہو لہو!

غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…

1 week ago

ایسی مسجد میں اعتکاف نہ کریں!

رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…

2 weeks ago