عقیدہ ختم نبوت کے چار تقاضے

مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا

الاحزاب:40

’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ‘‘

نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات مومنوں کی مائیں تھیں ان میں سے سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے آپ ﷺکی چاربیٹیاں ہوئیں جن کے اسمائے گرامی زینب ،رقیہ ،امّ کلثوم ،فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں اور بیٹے قاسم ، طیب ہیں۔ آپ کا تیسرا بیٹا آپ کی لونڈی ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوا جس کا نام ابراہیم تھا۔نبی ﷺ کے تینوں بیٹے اس آیتِ کریمہ کے نازل ہونے سے پہلے فوت ہوچکے تھے ان کے بعدآپ کے ہاں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا ۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ محمد ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں آپ اللہ کے رسول اور خاتم المرسلین ہیں اللہ تعالیٰ ہر بات اور کام کو اچھی طرح جانتا ہے۔

· اللہ تعالیٰ اس حکمت کوجانتا ہے کہ اس نے آپ ﷺکے بیٹوں کو کیوں حیات نہیں رکھا۔

· اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین ہیں جو بہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے مگر تم نبی ﷺکی شوکت و عظمت کو پوری طرح نہیں جانتے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حقیقت میں اس کے نبی کا کیا مقام ہے ۔

· جب محمدرسول اللہ ﷺتمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں تو زید رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ کی بہو کیسے بن گئی۔

نبی کریم ﷺکی بعثت سے پہلے نبوت کے چار بنیادی تقاضے پورے نہ ہوئے تھے اس لیے آپ سے پہلے سلسلہ نبوت جاری رکھا گیا۔ آپ کی تشریف آوری کے بعد نبوت کے حوالے سے تمام تقاضے اور ضرورتیں پوری ہو گئیں لہٰذا اب کسی اور نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اسی لیے نبی ﷺکو خاتم النبیین کے عظیم الشان اور بے مثال اعزاز سے نوازا گیا۔

جب پہلے نبی کو جھٹلادیا جاتا تو دوسرا نبی مبعوث کیا جاتا:

سلسلہ نبوت کو جاری رکھنے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ تھی کہ پہلے نبی کو کلّی طور پر جھٹلا دیا جاتا تو اس کی تائید اور تصدیق کے لیے دوسرے اور تیسرے نبی کو بھیجا جاتا جیساکہ سورۃ یٰسین میں ہے:

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ اِذْ جَاۗءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمُ اثْــنَيْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُـوْٓا اِنَّآ اِلَيْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَيْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ

یس آیت نمبر 13 تا 15

’’انہیں بستی والوں کا واقعہ سنائیں جب اُس میں رسول آئے۔ ہم نے ان کی طرف دورسول بھیجے انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے ان کی تائید کے لیے تیسرا رسول بھیجا انہوں نے اپنی قوم کو کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔بستی والوں نے کہا تم کچھ بھی نہیں مگر ہم جیسے انسان ہو ،الرّحمان نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے تم جھوٹ بولتے ہو۔‘‘

اگرچہ کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کو جھٹلا دیا لیکن آپ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے مکی دور سے لے کر اب تک رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے ۔آپ ﷺ کی امت قیامت کے دن تمام امتوں سے زیادہ ہو گی۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَوْمًا فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفق فَقيل هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَايَسْتَرْقُوْنَ وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رجل فَقَالَ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ (متفق علیہ)

’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺباہر نکلے اورارشاد فرمایا‘ مجھ پر اُمتیں پیش کی گئیں۔ ایک پیغمبر گزرا ‘اس کے ساتھ اس کا ایک پیروکار تھا۔کسی کے ساتھ دوآدمی تھے، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی اوربعض ایسے پیغمبر بھی آئے‘ جن کا کوئی پیروکار نہیں تھا۔ میں نے اپنے سامنے ایک بہت بڑااجتماع دیکھا‘ جو آسمان کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا‘ شاید یہ میری امت ہے لیکن بتایا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے۔ پھر مجھے کہا گیا‘ آپ نظر اٹھائیں، تو میں نے بہت بڑا اجتماع دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو بھرا ہواہے ۔مجھ سے دائیں اوربائیں جانب دیکھنے کے لیے کہا گیا۔میں نے دیکھا ادھر بھی بہت زیادہ لوگ آسمان کے کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ مجھ سے کہا گیا‘ یہ سب آپ کے اُمتی ہیں اور ان کے ساتھ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ ایسے لوگ ہیں‘ جو نہ بدفالی اورنہ دم کراتے ہیں اور نہ گرم لوہے سے داغتے ہیں بلکہ صرف اپنے اللہ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر کہا‘ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمائے۔ آپ ﷺ نے دعاکی‘ اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما۔ اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا‘اس نے آپ سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ مجھے بھی ان سے شامل کرے ۔ آپ ﷺنے فرمایا‘ عکاشہ تم سے سبقت لے گیا۔‘‘

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ ﷺقَالَ۔۔۔ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ كَشَعَرَةٍ بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ

رواہ البخاری: باب قصۃ یأجوج ومأجو

’’سيدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے، میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی ہم نے اللہ اکبر کہا آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں تمہاری تعداد تیسرا حصہ ہوگی ہم نے اللہ اکبر کہا پھر آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں، کہ تم جنت والوں میں نصف ہو گے ہم نے اللہ اکبر کہا آپ نے فرمایا تمہارا تناسب لوگوںمیں ایک سیاہ بال کی طرح ہے جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا سفید بال کی مانند جو سیا ہ رنگ کے بیل پر ہو۔ ‘‘

اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا

النصر

’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے اور اے نبی آپ دیکھ لیں کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ اپنے رب کا شکر اور اس کے حضور استغفار کیجئے، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

2پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتیں نامکمل تھیںآپ کا دین کامل اور اکمل ہے اس لیے آپ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں:

ابتدائی دور میں انسان کے شعور میں اتنا ارتقاء پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی انسان نے تمدن، سماج اور دیگر شعبہ جات میں اتنی ترقی کی تھی کیونکہ انسانی زندگی کا ارتقائی دور تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کی خاطر دین میں ارتقائی اور تدریجی عمل پسند فرمایا۔ نبی ﷺکے دور میں انسان نے کافی حد تک شعور حاصل کر لیا تھا اس لیے ہمیشہ کے لیے دین یعنی دستور حیات کو مکمل کر دیا گیا اور اعلان ہوا:

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا

المائدۃ آیت نمبر 3

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے، میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو دین کے طورپر پسند کر لیا‘‘۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَجُلًا مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا قَالَ أَيُّ آيَةٍ قَالَ ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا﴾ قَالَ عُمَرُ قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺوَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ

رواہ البخاری: باب زیادۃ الایمان ونقصانہٖ

’’سيدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے مجھے کہا اے امیر المؤمنین! تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے، میں نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے کہا ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ﴾ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے وہ دن اور مقام یاد ہے جہاں نبی ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ جمعہ کے دن عرفات میں کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔‘‘

3پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی کتب مسخ کر دی گئیں،اس لیے ایک مکمل کتاب، داعی اور نبی آخر الزمان کی ضرورت تھی لہٰذا آپﷺ مبعوث کیے گئے:

پہلی آسمانی کتابوں کو تبدیل کردیا گیا جس کی وجہ سے نبوت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ

75: البقرہ

’’حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کا کلام سن کر سمجھنے اور جاننے کے باوجود اسے بدل دیتے ہیں۔‘‘

دوسری کتابوں کے مقابلے اور حقیقت کے اعتبار سے قرآن مجید اپنی زبر، زیر کے ساتھ محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی احادیث اور اس کے بیان کرنے والے راویوں کے نام اور کوائف بھی محفوظ کر لئے گئے ہیں۔لہٰذا اب کسی نبی کی ضرورت نہیں ۔

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ

النحل:44

’’اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت نازل کی ،تا کہ آپ اسے لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف اُتارا گیا ہے اس لیے کہ وہ غوروفکر کریں ۔‘‘

IslamFort

Recent Posts

نزول قرآن کے حوالے سے اہم معلومات

لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…

2 days ago

فراغت کے لمحات کیسے گزاریں؟

عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…

2 days ago

عید الفطر کے مسنون اعمال

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

1 week ago

فیشن اختیار کیجیے مگر۔۔۔۔!

کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…

1 week ago

فلسطین: ایک مرتبہ پھر لہو لہو!

غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…

1 week ago

ایسی مسجد میں اعتکاف نہ کریں!

رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…

2 weeks ago