اللہ کے لیے مومن سے محبت اور کفار سے نفرت
الله کے لیے سب کچھ قربان کرنا ہی ایمان کی اصل روح ہے، چاہے وہ بھائی ہو، بہن ہو یا کوئی قریبی رشتہ دار۔ ابتدائی دور کے مسلمانوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنی قوم و قبیلہ سے زیادہ محبت ایمان والوں سے کی۔ ان کے لیے معیار صرف “لا الہ الا اللہ” تھا — جو اس کا اقرار کرے وہ اپنا، اور جو انکار کرے، وہ بیگانہ۔
آج ہمیں بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے کہ ہماری محبت اور نفرت صرف اللہ کے لیے ہو۔
آئیے! حقیقی معنوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کریں اور اپنی زندگی کو اتباعِ رسول ﷺ کے مطابق بنائیں۔
آج کے خطبہ جمعہ میں شیخ عبد الله شمیم حفظہ اللہ نے اسی حقیقت کو نہایت پر اثر انداز میں بیان فرمایا — ضرور سماعت فرمائیں۔
جب اللہ کا کوئی حکم میری خواہش، میری منطق یا زمانے کے رواج کے خلاف…
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…