دین اسلام نے انسان کے بنیادی حقوق کا جتنا خیال رکھا ہے دنیا کے کسی اور دین، مذہب اور نظام نے نہیں رکھا، دنیا کا کوئی اور نظام ایسا نہیں ہے جس میں اس طرح انسان کے بنیادی حقوق دیے گئے ہوں ۔ یہ انسان کا حق ہے کہ اس کے بنیادی حقوق بنا مانگے اسے حاصل ہوں اور اس کے لیے اسے کسی قسم کی کوئی تحریک چلانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور نہ ہی اسے اپنے حقوق کے حصول کیلئے احتجاج کے مختلف طریقے اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑے۔
جب بھی اس کے حقوق دبانے کی کوشش کی گئی تو اس نے اپنے حقوق کے تحفظ اور اس کے حصول کے لیے احتجاج کےمختلف طریقے اختیار کیے اور ہر دور میں احتجاج کے مختلف طریقے موجود رہے ہیں ۔ انسانی تاریخ میں ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ جب ہر فرد کو اس کا حق اس کے مطالبے کے بغیر مل جاتا تھا یہاں تک کہ ایک عام شہری کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ جہاں چاہے اور جب چاہے حاکمِ وقت کا احتساب اور مواخذہ کرے۔ اب جبکہ موجودہ دور میں لوگوں کو جمہوری یا بادشاہی نطاموں میں جکڑ دیا گیا ہے ۔ اور وطن عزیز پاکستان میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں، لانگ مارچ اور بڑے بڑے سیمینارز کا سلسلہ تقریباً پورا سال ہی جاری و ساری رہتا ہے جن میں سے بعض مستقل اور بعض ہنگامی ہوتے ہیں اور بعض مذہبی اور بعض سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں لوگوں کی کثیر تعداد اپنے گھروں سے نکل کر باہر سڑکوں پر اپنی مذہبی اور سیاسی وابستگی کا اظہار کرتی ہے،درج ذیل سطور میں ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں چند باتیں پیش کی جارہی ہیں ۔
احتجاج کی تعریف
احتجاج کو انگریزی میں (PROTEST) کہا جاتا ہے جس کی تعریف یوں کی گئی ہے ؛
A protest also called a remonstrance, remonstration or demonstration is an expression of bearing witness on behalf of an express cause by words or action with regard to particular events, politics or situation.1
ترجمہ : ایک احتجاج جسے مظاہرہ بھی کہا جاتا ہے، مخصوص واقعات،پالیسیوں، سیاست یا صورت حال کے حوالے سے الفاظ یا عمل کے ذریعے کسی اظہار خیال کے اظہارکا نام ہے۔
احتجاج کے طریقے
احتجاج کے مختلف طریقے ہیں جیسے : مظاہرہ، دھرنا، جلوس، ہڑتال، سول نافرمانی، تحریر، تقریر ۔
احتجاج کے مقاصد
احتجاج اور مظاہروں کے مختلف مقاصد ہوسکتے ہیں جن میں درج ذیل مقاصد نمایاں ہیں ۔
1۔ اپنے جائز مطالبات اور حقوق کے حصول کیلئے ۔
2۔ ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کی حمایت کیلئے ۔
3۔ شعائر اسلام کے تحفظ اور اسلام کی قوت کے اظہار کیلئے ۔
4۔ حاکمِ وقت کے فیصلے کی حمایت یا مخالفت میں ۔
5۔ منکرات کی روک تھام کیلئے ۔
6۔ قوانین اسلام کے نفاذ کیلئے ۔
احتجاج کی مشروعیت
احتجاج کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے اور اس کا پیدائشی حق ہے۔بچہ دنیا میں آتے ہی احتجاج کرتا ہےجب تک بچہ روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی ۔ لہذا اپنے جائز حقوق منوانے، امت مسلمہ کے مفادات، اسلامی شعائر اور ارکان اسلام کے دفاع کے لیے اگر احتجاج اور دھرنا ناگزیر ہو جائے تو پھر احتجاج کرنے، دھرنا دینے اور لانگ مارچ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، ایسا کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات احتجاجی مظاہرے نہ صرف جائز بلکہ واجب اور ضروری ہو جاتے ہیں۔
غیرت اسلامی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی ”احتجاج“ کی ضرورت محسوس ہو، ضرور کیا جائے تاکہ اپنے جذبہ ایمانی کا اعلان ہوسکے اور کل روز قیامت ہم یہ کہہ سکیں کہ جب کبھی بھی اسلام یا اسلامی اقدار کے خلاف کوئی عمل ہوا، ہم نے مقدور بھر اس کے خلاف آواز بلند کی تھی۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا
(النساء : 148)
اللہ یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص دوسرے کے متعلق علانیہ بری بات کرے الا یہ کہ اس پر ظلم ہوا ہو اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
یعنی اگر کسی شخص میں کوئی دینی یا دنیوی عیب پایا جاتا ہے تو اسے سر عام ذلیل کرنا جائز نہیں اور نہ ہر شخص کو بتانا جائز ہے، کیونکہ یہ غیبت ہے اور غیبت قطعی حرام ہے، البتہ جب کوئی شخص ظلم پر اتر آئے تو مظلوم کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کی زیادتی کے خلاف آواز بلند کرے، خصوصاً جہاں آواز بلند کرنے سے اس پر ظلم رک سکتا ہو یا اس کا مداوا ہو سکتا ہو۔ اسی طرح لوگوں کو اس کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کا عیب بیان کرنا بھی جائز ہے۔
اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ظالم کے حق میں بددعا کرنا جائز ہے۔ جیسےحضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے ۔
قوله عز وجل: {لايحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم ، قال ابن عباس وقتادة إلا أن يدعو على ظالمه.2
نبی کریم ﷺ کے فرمان مبارک سے بھی احتجاج کا جواز ملتا ہے ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
جاءَ رجلٌ إلى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يَشكو جارَهُ ، فقالَ : اذهَب فاصبِر فأتاهُ مرَّتينِ أو ثلاثًا، فقالَ: اذهَب فاطرَحْ متاعَكَ في الطَّريقِ فطرحَ متاعَهُ في الطَّريقِ، فجعلَ النَّاسُ يَسألونَهُ فيُخبِرُهُم خبرَهُ، فجَعلَ النَّاسُ يلعنونَهُ: فعلَ اللَّهُ بِهِ، وفَعلَ، فجاءَ إليهِ جارُهُ فقالَ لَهُ: ارجِع لا تَرى منِّي شيئًا تَكْرَهُهُ3
نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے اپنے ہمسائے کی شکایت کی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” جاؤ اور صبر کرو ۔ “ وہ پھر آپ ﷺ کے پاس دو یا تین بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” جا اپنا سامان راستے پر ڈال دے ۔ “ چنانچہ اس نے اپنا مال متاع راستے پر ڈال دیا ۔ لوگ اس سے پوچھنے لگے ( کہ کیا ہوا ؟ ) تو اس نے انہیں اپنے ہمسائے کا سلوک بتایا ۔ تو لوگ اسے لعنت ملامت کرنے لگے ۔ اللہ اس کے ساتھ ایسے کرے اور ایسے کرے ۔ تو وہ ہمسایہ اس کے پاس آیا اور اس سے بولا : اپنے گھر میں واپس چلے جاؤ ۔ ( آئندہ ) میری طرف سے کوئی ناپسندیدہ سلوک نہیں دیکھو گے
سامان گھر سے باہر نکال کر رکھنا ایک پر امن احتجاج تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دی۔اسی طرح کوئی شخص باوجود وسعت کے دوسرے کا حق نہ دیتا ہو تو اس کو طعن و ملامت کرنا بھی جائز ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
أَتَى النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ، فأغْلَظَ له، فَهَمَّ به أصْحَابُهُ، فَقالَ: دَعُوهُ فإنَّ لِصَاحِبِ الحَقِّ مَقَالًا.4
نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص قرض مانگنے اور سخت تقاضا کرنے لگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے اس کو سزا دینی چاہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ، حق دار ایسی باتیں کہہ سکتا ہے ۔
ایک اور مقام پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَيُّ الْوَاجِدِ یُحِلُّ عِرضَهُ وعُقُوبَتَهُ.5
’’مالدار آدمی کا حق ادا کرنے میں دیر کرنا یا ٹال مٹول کرنا اس کی سزا اور اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے۔
کیونکہ وسعت ہونے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں دیر کرنا یا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَطْلُ الغَنِيِّ ظُلْمٌ.6
’’مالدار کا(اپنا قرض ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
اسی طرح مسند احمد کے اندر سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَيُّ الواجدِ ظُلْمٌ يحلُّ عِرضَهُ وعُقُوبَتَهُ. 7
مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، یہ چیز اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتی ہے۔
قال وَكيعٌ: عِرضُه: شِكايَتُه، وعُقوبَتُه : حَبسُه۔8
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں : بے عزتی سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مراد اس کو قید کرنا ہے۔
قالَ ابنُ المبارَكِ : يحلُّ عرضَهُ: يغلَّظُ لَهُ ، وعقوبتَهُ يحبسُ لَهُ.9
امام ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کی بے عزتی کو حلال کر دیتا ہے ۔ یعنی اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے ۔ اور اس کو سزا دینا حلال ہے ۔ یعنی اسے قید کیا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح جو زیادتی میں پہل کرے اسے جواب دینا جائز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الْمُسْتَبَّانِ ما قالا فَعَلَى البادِئِ، ما لَمْ يَعْتَدِ المَظْلُومُ.10
آپس میں گالی گلوچ کرنے والے جو بھی کہیں ، اس کا گناہ ابتداء کرنے والے ہی پر ہے جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔
یعنی : جو شخص کسی گناہ کا سبب بنے تو مقابل کے گناہ کا وبال بھی ابتدا کرنے والے ہی کے سر ہوتا ہے۔ الا یہ کہ مقابل زیادتی کر جائے
دنیاوی امور کے بارے میں اسلام کی تعلیم
احتجاج کا تعلق دنیاوی معاملات میں سے ہےاور دنیاوی امور کے بارے میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ سب کچھ جائز ہے الا یہ کہ کسی مخصوص امر کو قرآن و حدیث میں منع فرمایا گیا ہو یا کوئی دنیاوی امر کسی اسلامی تعلیم سے متصادم ہو۔
اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق برائی کو روکنا
جب کوئی برائی یا غلط کام کیا جا رہا ہو تو اسے (ہاتھ،زبان یا دل سے) اپنی استطاعت کے مطابق روکنا یا ختم کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.11
تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو اسے اپنے دل میں برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔
کسی ظلم یا اسلام مخالف بات یا واقعہ کے خلاف زبان و قلم سے کچھ کہنا ”احتجاج“ ہی تو ہے۔ چونکہ ہر فرد بولنے، تقریر کرنے یا لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے ایک بولنے والے مقرر کی تائید میں ہزاروں لوگ اس کے پیچھے بنفس نفیس (بصورت جلسہ ، جلوس یا مظاہرہ وغیرہ) موجود ہوتے ہیں۔
درج بالاحدیث مبارکہ کے مطابق کسی کو زبان کے ذریعے برائی سے روکنا ثابت ہوتا ہے اور اگر زبان کے ذریعے روکنے والے عمل کو زیادہ طاقت سے پیش کرنا ہو تو باقاعدہ جلسے اور جلوس کی شکل بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔بشرطیکہ وہ جلسہ یا جلوس درج ذیل قباحتوں سے پاک ہو۔ جیسے:
احتجاج اور مظاہروں کے منفی پہلو
1۔ مخالفین کے خلاف گالم گلوچ یا نازیبا الفاظ ادا کرنا ۔
دھرنوں، ریلیوں اوراحتجاجی مظاہروں میں اپنی زبان سےمخالفین کے خلاف گالم گلوچ یا نازیبا الفاظ ادانه كرے بلکہ تقریر و تحریر میں اخلاقی قدروں میں رہتے ہوئے مجرموں کے اقدامات کی مذمت کرے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ، وقِتَالُهُ كُفْرٌ.12
”مسلمان کو گالی دینا فسق (نافرمانی) ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔
چونکہ مسلمانوں میں باہمی تعلقات کا خوش گوار ہونا شرعا مطلوب ہے اس لیے شریعت نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے جن سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور ان میں ایک چیز گالی گلوچ بھی ہے جو ایک اچھے مسلمان کی شان کے لائق نہیں۔ اس لیے اسے فسق یعنی نافرمانی اور گناہ قرار دیا گیا ہے۔
اس حدیث میں مسلمان سے لڑائی کو کفر کہا گیا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ یہ ایسا کفر نہیں جو انسان کو کافر بنا دے بلکہ یہ چھوٹا کفر ہے، یہی وجہ ہے کہ مومنوں کی آپس میں لڑنے والی دونوں جماعتوں کو قرآن میں مومن ہی کہا گیا ہے۔ البتہ یہ عمل شرک کے بعد کبیرہ گناہ ہے اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔
2۔ مد مقابل کی عزت و حرمت سے کھیلنا
پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن احتجاج کے دوران اپنے مخالفین کی عزت و آبرو کو ہرگز نہ بھولیں۔ سیاسی اختلافات کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے مخالفین کی عزت و آبرو پر حملہ کریں ۔کیونکہ وہ لوگ بھی مسلمان ہیں ۔ اور ایک مسلمان کی عزت وآبرو کعبۃ اللہ سے بھی زیادہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے:
ما أَطْيَبَكِ ، وما أَطْيَبَ رِيحَكِ ؟ ما أعظمَكَ وما أَعْظَمَ حُرْمَتَكِ . والذي نَفْسُ محمدٍ بيدِهِ لَحُرْمَةُ المُؤْمِنِ عِنْدِ اللهِ أعظمُ حُرْمَةً مِنْكِ ؛ مالِهِ ودَمِهِ وأنْ نَظُنَّ بهِ إِلَّا خيرًا.13
”تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، مومن کی حرمت (یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے“۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا:
مرحبًا بِكِ من بَيْتٍ ، ما أَعْظَمَكِ ، وأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ ! ولَلْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةَ عندَ اللهِ مِنْكِ ، إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مِنْكِ واحدةً ، وحَرَّمَ مِنَ المُؤْمِنِ ثَلاثًا : دَمَهُ ، ومالهُ ، وأنْ يُظَنَّ بهِ ظَنَّ السَّوْءِ.14
” اے اللہ کے گھر! تجھے مرحبا ہو، تو کتنا عظیم ہے، تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مومن کی حرمت تجھ سے زیادہ ہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھ سے ایک چیز کو اور مومن سے تین چیزوں یعنی خون، مال اور سوئے ظن کو حرام قرار دیا ہے۔
سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّ مِنْ أَرْبَی الرِّبَا الْاِسْتِطَالَةَ فِيْ عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ.15
’’سود کی سب سے بڑی قسموں میں سے ایک کسی مسلمان کی عزت پر دست درازی یا زبان درازی ہے
خطبہ حجۃ الوداع کا پیغام
رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی جان ومال کو تلف کرنے ،عزت وآبرو پر حملہ کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
فإنَّ دِمَاءَكُمْ، وأَمْوَالَكُمْ، وأَعْرَاضَكُمْ، وأَبْشَارَكُمْ، علَيْكُم حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَومِكُمْ هذا، في شَهْرِكُمْ هذا، في بَلَدِكُمْ هذا.16
نبی کریم ﷺ نے فرمایا پس تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
كُلُّ المُسْلِمِ علَى المُسْلِمِ حَرامٌ؛ دَمُهُ، ومالُهُ، وعِرْضُهُ.17
ہر مسلمان کا خون ، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
3۔ املاک کو نقصان پہنچانا
قرآن میں لوگوں کے اموال واملاک کی بربادی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ ایک جگہ تخریب پسند حکمرانوں کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے:
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ
(البقرۃ: 205)
اور جب اسے اقتدار ملتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے، کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا
نااہل اور وحشی قوموں کا خاص طریقہ
قومی و ملکی وسائل و ذرائع کو تباہ و برباد کرنا جاہل اور وحشی قوموں کا خاص طریقہ رہا ہے اور آج مغربی وحشی اقوام اپنے اوپر مصلحین انسانیت کا پر فریب لبادہ ڈال کر سابقہ درندوں سے بہت آگے بڑھ چکی ہیں. ہوائی اڈوں، ذرائع مواصلات، ذرائع حمل ونقل اور زراعت و تجارت کے مراکز کو تباہ کرنا اور انہیں جلا کر راکھ کر دینا ان کا طرہ امتیاز ہے۔
دہشت گردی کیا ہے ؟
سڑکوں پر ٹائر جلا کر راستوں کو بلاک کرنا، گاڑیوں کو نظر آتش کرنا، انسانی جانوں سے کھیلنا، فائرنگ کرکے دہشت پھیلانا، دکانیں جلانا، یہ ساری منفی سرگرمیاں زمین پر فساد مچانے کی مختلف صورتوں میں سے ہیں اور یہی ساری چیزیں دہشت گردی میں شامل ہیں جن سے اللّٰہ تعالیٰ نے منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں کو ڈانٹ پلائی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
(القصص: 77)
’’ اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ، اللہ تعالیٰ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
دہشت گردی کی جامع و مانع تعریف
رابطہ عالم اسلامی کی ذیلی تنظیم فقہ اکیڈمی نے اپنی سولہویں کانفرنس منعقده21 تا 26 شوال 1422ھ کے اختتامی بیان میں دہشت گردی کی سب سے زیادہ جامع و مانع تعریف کی ہے جو دہشت گردی کے تمام گوشوں کو شامل ہے اورشرعی احکام کے موافق اور اس کی اصطلاحات سے ہم آہنگ بھی ہے ۔ فقہ اکیڈمی نے دہشت گردی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے :
“العُدوان الذی یمارسه أفراد أو جماعات أو دُوَل بغيًا على الإنسان، في دينه ودمه وعقله وماله وعِرضه.18
’’ دہشت گردی نام ہے اس زیادتی کا جو افراد یا تنظیموں یا ملکوں کی جانب سے انسان کے دین ، جان ، عقل ، مال اور عزت و آبرو کے خلاف کی جاتی ہے۔‘‘
4۔چوری اور لوٹ مار کرنا
دہشت گردی میں کسی کو خوف زدہ کرنے، تکلیف پہنچانے، دھمکانے، ناحق قتل کرنے اور ڈاکہ زنی و رہزنی کی تمام صورتیں شامل ہیں۔ حدیث میں آتا ہے :
نَهَى النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ عَنِ النُّهْبَى والمُثْلَةِ.19
’’اللہ کے رسول ﷺ نے لوٹ مار اور لاشوں کو ٹکڑے کرنے سے منع فرمایا۔‘‘
حضرت عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم ۡﷺ کے ساتھ خیبر میں پڑاؤ کیا، جو لوگ آپ کے اصحاب میں سے آپ کے ساتھ تھے وہ بھی تھے، خیبر کا رئیس سرکش و شریر شخص تھا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد (ﷺ) ! کیا تمہارے لیے روا ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کر ڈالو، ہمارے پھل کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو پیٹو؟ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ غصہ ہوئے اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت سوائے مومن کے کسی کے لیے حلال نہیں ہے اور سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“، تو سب لوگ اکٹھا ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی پھر کھڑے ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اس قرآن میں جو کچھ حرام کیا اس کے سوا اور کچھ حرام نہیں ہے؟ خبردار! سن لو میں نے تمہیں کچھ باتوں کی نصیحت کی ہے، کچھ باتوں کا حکم دیا ہے اور کچھ باتوں سے روکا ہے۔ وہ باتیں بھی ویسی ہی (اہم اور ضروری) ہیں جیسی وہ باتیں جن کا ذکر قرآن میں ہے یا ان سے بھی زیادہ ۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ لم يحِلَّ لكم أن تدخلوا بيوتَ أهلِ الكتابِ إلَّا بإذنٍ ، ولا ضربَ نسائِهم ، و لا أكْلَ ثمارِهم ، إذا أعطَوْكم الَّذي عليهم.20
اللہ نے تمہیں بغیر اجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے اور نہ ہی ان کی عورتوں کو مارنے و ستانے کی اور نہ ہی ان کے پھل کھانے کی جبکہ وہ تمہیں اپنے ذمے کا واجب (یعنی جزیہ ) ادا کر رہے ہوں۔
اسی طرح ایک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خرجنا معَ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ في سفرٍ فأصابَ النَّاسَ حاجةٌ شديدةٌ وجَهدٌ وأصابوا غنمًا فانتَهبوها فإنَّ قدورنا لتغلي إذ جاءَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ يمشي على قوسِهِ فأَكفأَ قدورنا بقوسِهِ ثمَّ جعلَ يرمِّلُ اللَّحمَ بالتُّرابِ ثمَّ قالَ إنَّ النُّهبةَ ليسَت بأحلَّ منَ الميتةِ.21
کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( جنگ) میں نکلے، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی لاحق ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں، اتنے میں نبی کریمﷺ اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے اور فرمایا: ”لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں۔
کامل مؤمن کی پہچان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
المُسْلِمُ مَن سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِن لِسانِهِ ويَدِهِ، والمُهاجِرُ مَن هَجَرَ ما نَهَى اللَّهُ عنْهُ.22
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔
یعنی کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں یعنی نہ وہ انہیں گالیاں دے، نہ ان پر لعنت بھیجے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ ہی ان کے مابین کسی قسم کا شر و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اسی طرح وہ اس کے ہاتھ سے بھی محفوظ رہیں بایں طور کہ وہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے، ناحق اُن سے ان کے مال نہ لے اور اس طرح کی کوئی بھی زیادتی ان کے ساتھ نہ کرے۔ اور حقیقی مہاجر وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی حرام کردہ (امور) کو چھوڑ دے۔
5۔ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ باعث عذاب
پُرامن احتجاج ہر شہری کاحق ہےمگر توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا عمل روزِ قیامت باعث عذاب ہیں ۔ایساعمل جو کسی دوسرے کیلئے تکلیف، پریشانی، مشکلات اور نقصان کا سبب بنے اسلام میں جائز نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نےارشاد فرمایا:
إنَّ اللهَ يُعذِّبُ الَّذينَ يُعذِّبونَ النَّاسَ في الدُّنيا.23
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں۔
اذیت اور تکلیف پہنچانے والوں کیلئے رسول اللہ ﷺکی وعید
کسی کیلئے اذیت، مشقت یا نقصان کا باعث بننے والوں کے لیے رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ حضرت ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَن ضارَّ أضرَّ اللهُ بهِ ومَن شاقَّ شاقَّ اللهُ علَيهِ.24
جو شخص کسی کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو شخص کسی کو تکلیف میں ڈالے اللہ اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا۔
6۔تکفیر، بغاوت، قتل کے فتوی لگانا
احتجاج کے لیے نکلنے سے پہلے یہ بات اپنے ذہنوں میں اچھی طرح بٹھا لیں کہ پُر امن احتجاج کرنا ہے ، کسی قسم کی بد معاشی نہیں کرنی ۔ احتجاج کا مقصد متعلقہ حکام تک اپنی آواز پہنچانی ہے، کسی پر بغاوت، تکفیر اور قتل کے فتوے لگانا نہیں ۔ لہذا دوران احتجاج کسی بھی حکومتی یا غیر حکومتی اشخاص کی تکفیر مت کریں، کسی بھی انسان کے قتل کے فتوے مت جاری کریں اور نہ ہی عوام کو بغاوت یا کسی کے قتل یا سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہچانے کیلئے اکسائیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(المائدۃ: 8)
اے ایمان والو ! اللہ کی رضا کے لیے عدل و انصاف کے ساتھ ڈٹ کر گواہی دینے والے بنو اور کسی قوم کی عداوت تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل و انصاف سے کام نہ لو. انصاف کرو. یہی بات تقوی کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے۔
7۔ہوائی فائرنگ کرنا، ڈرانا اور دھمکانا
اسی طرح تشدد، دھمکی اور شدت پسندی کا ہر وہ کام جو انفرادی یا اجتماعی طور پر مجرمانہ مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کیا جائے اور جس کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا جائے یا اُنہیں تکلیف پہنچا کر ہراساں کیا جائے یا ان کی زندگی، آزادی، امن اور حالات کو خطرے میں ڈالا جائے اسلام میں بالکل نا پسندیدہ عمل ہے ۔ کیونکہ دین اسلام امن و سلامتی اور انسانی اصولوں پر قائم رہنے اور رکھنے والا مذھب ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لا يحلُّ لمسلمٍ أن يروِّعَ مسلمًا.25
كسی مسلمان كے لیے یہ جائز نہیں كہ كسی دوسرے مسلمان كو ڈرائے یا دھمکائے ۔
ایک مسلمان کو کوئی دوسرا مسلمان تلوار یا چاقو سے ڈرانے کی نیت سے اشارہ بھی کرتا ہے تو اس پر تمام فرشتے لعنت بھیجتے ہیں۔
مسلمانوں کو ناحق ایذا اور تکلیف نہ دی جائے۔
8۔تہمت، الزم تراشی اور بہتان
ادب و احترام ،تہذیب و اخلاق اور امن و رواداری معاشرے کی تعلیم وتربیت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں جبکہ طعن و تشنیع، بہتان، تشدد و نفرت اور الزام تراشی معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے بہتان بازی اور الزامات کی سیاست پورے جوبن پر جا رہی ہے جس میں صدر، وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈروں سے لیکر تاجے نائی تک سب شامل ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر دوسرے لوگوں خاص طور پر اپنے مخالفین پر طرح طرح کے جھوٹے الزامات و بہتان لگانا ایک عام فیشن بن چکا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو، الیکڑانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا صبح سے رات گئے تک جس کی چاہتے پگڑیاں اچھالتے ہیں اور اپنے مخالفین کو چور ڈاکو کہنے کے سوا انکے پاس کوئی اور موضوع نہیں ہوتا ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا
(الاسراء: 36)
اور جس بات کا آپ کو علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑیں ، بیشک کان، آنکھ اور دل ہر ایک کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
یعنی جس چیز کو دیکھا نہ ہو اُس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ہے اور جس بات کو سُنا نہ ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے سنا ہے ۔
تہمت اور الزام لگانے والوں کا انجام
حضرت معاذ بن انس رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ أُرَاهُ، قَالَ: بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ.26
’’ جو شخص کسی مومن کی عزت کسی منافق سے بچائے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو روز قیامت اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو کسی مسلمان شخص پر اس کو بدنام کرنے کے لیے کوئی تہمت لگائے گا تو اللہ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا حتیٰ کہ وہ (سزا بھگت کر) اپنی کہی ہوئی بات سے پاک ہو جائے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
مَن حالَت شفاعتُهُ دونَ حدٍّ من حدودِ اللَّهِ فقَد ضادَّ اللَّهَ ، ومَن خاصمَ في باطلٍ وَهوَ يعلمُهُ ، لم يزَلْ في سَخطِ اللَّهِ حتَّى ينزِعَ عنهُ ، ومَن قالَ في مؤمنٍ ما ليسَ فيهِ أسكنَهُ اللَّهُ رَدغةَ الخبالِ حتَّى يخرجَ مِمَّا قالَ.27
’’ جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ کی مخالفت کی ، جس نے جانتے ہوئے کسی باطل (ناحق) کے بارے میں جھگڑا کیا تو وہ اس سے دست کش ہونے تک اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے اورجو کسی مسلمان کی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ پاک اس وقت تک دوزخیوں کے کیچڑ، پیپ اور خون میں رکھے گا جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع نہ کر لے۔
9۔نا مناسب القاب سے منسوب کرنا
عزت و آبرو کو نقصان پہنچانے کے کئی طریقے ہیں ۔ ان میں ایک بُرے اور نامناسب القاب سے منسوب کرنا ہے ۔ بُرے القاب سے پکارنے کا عمل در اصل اپنے بھائی کی عزت و آبرو پر حملہ اور اسے نفسیاتی طور پر مضطرب کرنے کا ایک اقدام ہے ۔
برے القاب کا مفہوم
برے القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی متعین شخص کو ایذا پہنچانے کی نیت سے کوئی لقب دینا یا کسی ایسےلقب سے منسوب کرنا جس سے مخاطب کو ناحق تکلیف پہنچے یا کوئی ایسا نام یا لقب استعمال کرنا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر اخلاقی ہو ۔
کسی کی تحقیر کرنے اور اذیت پہنچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے ایسے لقب سے منسوب کیا جائے جس سے اسے تکلیف یا اذیت پہنچے۔ مثال کے طور پر کسی کو برے عمل سے منسوب کرنا جیسے شرابی، زانی، قاتل، لٹیرا، دہشت گرد،چور وغیرہ۔ یا کسی کو منافق، فاسق، کافر، بنیاد پرست، یہودی، نصرانی، ہندو کہنا ۔یا کسی کو کسی دشمن ملک کا ایجنٹ کہنا ۔مہذب معاشروں میں اس قسم کا رویہ قابل مذمت ہوتا ہے۔
اس تضحیک آمیز رویے کے دنیا وآخرت دونوں میں بہت منفی نتائج ہیں ۔ دنیا کی زندگی میں باہمی کدورتیں ، رنجشیں، انتقامی سوچ ، بدگمانی، حسد اور سازشیں جنم لیتی ہیں جو دنیا کی زندگی کو جہنم بنا دیتی ہیں ۔ دوسری جانب اس رویے کا حامل شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو کر ظالموں کی فہرست میں چلا جاتا ہے ۔ اپنی نیکیاں گنوا بیٹھتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس اخلاقی قباحت کی بنا پر اس روئیے کی قرآن و حدیث میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
(الحجرات: 11)
اے ایمان والوں ! ایک جماعت دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں اور تم اپنے مسلمان بھائیوں پر طعنہ زنی نہ کرو اور ایک دوسرے کو برے القاب نہ دو۔ ایمان لانے کے بعد مسلمان کو برا نام دینا بڑی بری شے ہے اور جو ایسی بد زبانی و بد اخلاقی سے تائب نہیں ہوں گے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں سے منع فرمایا جو اسلامی اخوت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور باہمی عداوت اور لڑائی کا باعث بنتی ہیں۔ (1) کسی کا مذاق اڑانا۔ (2) کسی پر عیب لگانا۔ (3) کسی کو برے لقب سے پکارنا۔
مسلمان بھائی کی بے عزتی سب سے بڑی زیادتی
مسلمان کی عزت کی اس قدر حرمت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی حرمت کو نقصان پہنچانے کے عمل کو سب سے بڑی زیادتی قرار دیا ۔حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إن من أرْبى الربا الاستطالةَ في عرضِ المسلمِ بغيرِ حقٍّ.28
سب سے بڑا سود ( سب سے بڑی زیادتی ) یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی عزت سے کھیلے ۔
یعنی جس طرح معا ملاتِ تجارت میں سود حرام ہے اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی بےعزتی اور بے ادبی کرنا بھی حرام ہے۔
10۔راستوں اور سڑکوں کو بلاک کرنا
دوران احتجاج راستوں اور سڑکوں کو بلاک کر دیا جاتا ہے، موٹر سائیکلیں، بسیں اور دیگر گاڑیاں جلائی جاتی ہیں ۔ اسٹریٹ لائٹس، کھمبے، پُل، بس اسٹیشن، ریلوے اسٹیشن، سائن بورڈ توڑے اور جلائے جاتے ہیں اور مشتعل عوام جس چیز کو چاہتے ہیں آگ لگاتے گزر جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ چیزیں ہمارے پیسوں سے بنی ہوئی ہیں اگر ہم توڑ پھوڑ کرتے ہیں تو ایسے ہی ہے جیسے ہم اپنے گھر کا سامان توڑ رہے ہیں۔
سڑک پر گذرنے والی گاڑیوں کا کیا قصور ہے؟ ان گاڑیوں میں کوئی ڈاکٹر ہو سکتا ہے، کوئی مریض ہو سکتا ہے، کوئی مزدور ہوسکتا ہے، کسی اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کا طالب علم بھی ہو سکتا ہے یا کوئی مسافر ہو سکتا ہے جس کے لیے وقت پر مقررہ منزل پر پہنچنا بے حد ضروری ہو ۔ لہذا ہمیں کیا حق ہے کہ ہم کسی عام شہری کا راستہ روکیں۔ جو اسلام راستے میں سے چھوٹے چھوٹے پتھر، کانٹے اور کنکریاں ہٹانے کی تاکید کرتا ہو تاکہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے، اس اسلام کے نام پر کیسے پوری کی پوری سڑکیں بند کی جا سکتی ہیں؟ جو اسلام ہر معاملے میں عدل کی تاکید کرتا ہو اس اسلام کے نام پر کیسے کسی عام شہری کی موٹر سائکلیں اور گاڑیاں جلائی جا سکتی ہیں؟
اسلام میں راستے کے حقوق
اسلام نے حقوق و واجبات کی فہرست میں راستہ کے حق کا اضافہ کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کا حکم دیا کہ راستہ مسافروں کے لیے مامون و محفوظ ہو اور انہیں دوران سفر کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کے لیے کسی بھی تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹانا بھی ایک عبادت بنا دیا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الإِيمانُ بضْعٌ وسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، فأفْضَلُها قَوْلُ لا إلَهَ إلَّا اللہُ وأَدْناها إماطَةُ الأذَى عَنِ الطَّرِيقِ.29
ایمان کے ستر (یا ساٹھ) سے زیادہ شعبے ہیں۔ سب سے افضل شعبہ لا إله إلا الله کہنا ہے اور سب سے کم تر شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے۔
راستہ سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا صدقہ
راستے سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا صدقہ ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَمِطِ الأذى عن الطريقِ ، فإنه لك صدقةٌ.30
راستہ سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے صدقہ ہے ۔
تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا باعث ِمغفرت
راستہ سے تکلیف دہ و ناپسندیدہ چیزوں کا ہٹانا کوئی عام سا صدقہ نہیں بلکہ یہ اتنا بڑا عمل خیر ہے جو انسان کی مغفرت کے لیے کافی بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بيْنَما رَجُلٌ يَمْشِي بطَرِيقٍ وجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ علَى الطَّرِيقِ فأخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللهُ له فَغَفَرَ له.31
ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ (صرف اسی بات پر) اس سے راضی ہوگیا اور اس کی بخشش کردی۔
راستہ روکنے والوں کی کوئی عبادت قبول نہیں
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
غزوتُ معَ نبيِّ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ غزوةَ كذا وَكذا فضيَّقَ النَّاسُ المنازلَ وقطعوا الطَّريقَ فبعثَ نبيُّ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ مناديًا ينادي في النَّاسِ أنَّ من ضيَّقَ منزِلًا أو قطعَ طريقًا فلا جِهادَ لَه.32
میں نے اللہ کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے تو اللہ کے نبی کریم ﷺ نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔
مسلمانوں کا موجودہ طرز ِعمل
ایک طرف اسلام کی یہ تعلیمات ہیں جن سے راستے کے حقوق کی حسّاسیت واضح ہوتی ہے تو دوسری طرف بہت سے نام نہاد مسلمانوں کا عمل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اذیت سے بچانا تو دور کی بات ہے، نقصان پہنچانے کی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں ، ان کے مال اور عزّت و آبرو کے درپے رہتے ہیں۔ اس طرز عمل سے معاشرے کی اخلاقی پستی واضح ہوتی ہے۔ تو کہنا یہ ہے کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو ایک اچھے اور مہذب شہری ہونے کا ثبوت بھی دیں، جب تک آپ معاشرہ میں موجود عام لوگوں کے لیے اذیت کا باعث بنے رہیں گے تب تک آپ معاشرہ کے مفید شہری نہیں ہیں۔
لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھیں
احتجاج ضرور کریں لیکن لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھیں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ؛ فإنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بهَا علَى نَفْسِكَ.33
لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔
مسلمان کو بلا وجہ ایذا دینے کا شرعی حکم
کسی مسلمان کو تکلیف دینا اور ناحق ایذا پہنچانا اسلام کی نظر میں انتہائی قبیح جرم ہے جس کی سخت سزا مقرر کی گئی ہے ۔ فی زمانہ ہمارے معاشرے میں لوگ اس حوالے سے انتہائی غفلت کا شکار ہیں اور مختلف طریقوں سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ناحق ایذا پہنچاتے اور ان کی ایذا رسانی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
(الاحزاب: 58)
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بلاوجہ تکلیف دیتے ہیں انہوں نے بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا وبال اپنے آپ پر لیا ہے۔
مسلمانوں کو تکلیف دینے والے کے لیے عذابِ جہنم
مسلمانوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اور انہیں جبر و تشدد اور وحشت و بربریت کا شکار کرنا سخت منع ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جہنم اور آگ کی درد ناک سزا دینے کا اعلان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ
(البروج: 10)
بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے ‘‘
خلاصہ کلام
اسلام میں ہر چیز کا اصول بتا دیا گیا ہے۔ قانون کے دائرے میں ہی سب حقوق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔اسلام امن کا داعی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس دین میں جنگ کے بھی آداب سکھائے گئے ہوں اس دین میں اپنی بات کہنے کا طریقہ نہ بتایا گیا ہو۔ ہمارے ہاں احتجاج کی آڑ میں غریبوں کا نقصان کیا جاتا ہے جو شرعی اور قانونی ہر لحاظ سے ناجائز ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کم خواندگی کی وجہ سے سادہ لوگوں کو اکسا کر غیر مہذب حرکتیں کرائی جاتی ہیں جن کا مقصد مطالبے سے کہیں زیادہ اپنی طاقت کا اظہار ہوتا ہے اور پاکستان میں یہ طریقہ خوب اچھی طرح سے اختیار کیا جاتا ہے چونکہ یہاں پر ایسے تمام عوامل موجود ہیں اس کی وجہ سے ایسے تمام طاقت کے مظاہرے آسان طریقے سے کیے جاتے ہیں۔
سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری
پاکستان کی مشکلات اور مختلف قسم کے بحرانوں کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاست سے اخلاقی اقدار ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ ماضی میں ہمارے سیاست دان ہزار ہا سیاسی اختلافات اور رنجشوں کے باوجود تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑتے تھے اور اپنے سخت ترین سیاسی حریفوں کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے الفاظ کا چناؤ بڑی احتیاط سے کرتے تھے لیکن بد قسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران جوں جوں سوشل میدیا نے ترقی کی اور سیاسی مہم جوئی کا مرکز و محور ڈیجیٹل میڈیا بنا تو ایک دوسرے پر الزام تراشی اور بہتان بازی نے زور پکڑا اور سیاسی اقدار دفن ہونے لگیں ۔ سیاسی جماعتوں کے حامیوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں جعلی ناموں سے فیک اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں جن سے نہ کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کسی بڑے چھوٹے کا لحاظ کیا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا نے ہمارے نوجوانوں سے سیاسی اقدار چھین لی ہیں اور اقبال کے شاہینوں نے حصول اقتدار کیلئے طوفان بد تمیزی ، گالم گلوچ ، توڑ پھوڑ ، مار کٹائی اور ہٹ دھرمی کو ہی سیاست سمجھ لیا ہے ۔
سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی پیجز کی جانب سے ایسے ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں جن سے حریف رہنماؤں کی تضحیک ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ صبر ، تحمل ، برداشت ، اخلاق اور اعلی کردار کا درس دیا جائے نہ کہ ایسے ٹرینڈز کی حوصلہ افزائی کی جائے جس سے مزید بگاڑ پیدا ہو۔
سیاسی رہنماؤں کو احتجاج اور اپنے مطالبات منوانے کے حوالے سے لوگوں کی تربیت کرنی چاہئے۔حصول اقتدار کیلئے بد تمیزی ، گالم گلوچ ، توڑ پھوڑ ، مار کٹائی، جلاؤ گھیراؤ، سڑکوں کی بندش ، ہٹ دھرمی اور سرکاری و عوامی املاک کا نقصان قطعی جائز نہیں ہوسکتا ۔ یہ تشدد ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ در حقیقت جنونی اور دہشت گرد ہیں۔ احتجاج سب کا حق ہے مگر مدلل اور غیر متشدد طریقے سےہو۔ تشدد کی صورت میں وہ احتجاج نہیں رہتا بلکہ جرم بن جاتا ہے جو کسی شہری کو زیب نہیں دیتا۔ اس سے نہ تو مسئلے کا حل نکلتا ہے اور نہ ہی صلح ہوسکتی ہے۔ مسائل کے حل یا اختلاف رائے کو ظاہر کرنے کے لیے تشدد ایک منفی رویہ ہے جس سے ہر صورت میں سیاسی جماعتوں کو اجتناب کرنا چاہیئے اور اپنے کارکنوں کی بھی تربیت کرنی چاہیئے ۔
موجودہ سیاسی بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اپنے کارکنوں کو صبر ، تحمل اور اخلاقیات کا درس دے اور کارکنان کی سیاسی تربیت کی جائے اور انہیں بتایا جائے احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے مگر قومی املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے کیونکہ یہ تو نہ حکومت کی ملکیت ہوتی ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی فریق کی بلکہ عوام کے ٹیکس سے ہی بنتی ہیں اور توڑ پھوڑ کی صورت میں ان کی مرمت پر بھی عوام کا ٹیکس ہی لگتا ہے۔ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کارکنوں کو سیاسی اقدار کا پابند بنائیں اور نظم و ضبط سکھائیں۔
لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…
عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…
عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…
کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…
غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…
رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…