(اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ۔۔۔۔۔)
اس دعا میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے سفر میں اپنی معیت اور حفاظت طلب کی، اپنے اہل کو اللہ کے سپرد کیا، سفر کی مشقت اور تکالیف سے پناہ مانگی اور مال، اہل و اولاد کے معاملے میں برے انجام سے حفاظت کی دعا فرمائی۔ یہ جامع دعا ہر مسافر کے لیے باعثِ سکون اور ذریعۂ برکت ہے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…