(اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ۔۔۔۔۔)
اس دعا میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے سفر میں اپنی معیت اور حفاظت طلب کی، اپنے اہل کو اللہ کے سپرد کیا، سفر کی مشقت اور تکالیف سے پناہ مانگی اور مال، اہل و اولاد کے معاملے میں برے انجام سے حفاظت کی دعا فرمائی۔ یہ جامع دعا ہر مسافر کے لیے باعثِ سکون اور ذریعۂ برکت ہے۔
ماہ شعبان میں پیارے نبی کریم ﷺ کا کیا معمول تھا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟…
امام ابن تیمیہؒ دل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کو کون سے…
خطبہ اول: ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے مسلمان کی پوری…
نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح…
اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…
محترم قارئین کرام! ہم اس وقت سخت سردیوں کے موسم میں داخل ہو رہے ہیں۔جب…