احکام و مسائل

موسم سرما میں شریعت کی رخصتیں اور سہولتیں

محترم قارئین کرام! ہم اس وقت سخت سردیوں کے موسم میں داخل ہو رہے ہیں۔جب ٹھنڈ اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو بالخصوص ضعیف، کمزور اور بیمار افراد کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وضو کے لیے ٹھنڈا پانی استعمال کرنا، نماز کے لیے مسجد تک رسائی، اور دیگر دینی ذمہ داریاں بعض اوقات ان کے لیے بیماری یا تکلیف کا سبب بن سکتی ہیں۔ ایسے مواقع پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام فطری آسانی اور خدائی رحمت کا دین ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے اپنے پیروکاروں کے لیے ہر اُس صورت میں رخصت اور سہولت رکھی ہے جہاں مشقت یا ضرر کا اندیشہ ہو۔ چنانچہ سرد موسم میں پیش آنے والی مشکلات کے بھی دین نے نہایت حکیمانہ اور سہل حل مقرر کیے ہیں۔درج ذیل سطور میں ہم چند اہم  سہولتوں اور رخصتوں کا ذکر کریں گے، ان شاء اللہ۔

1۔ گرم پانی استعمال کرنے کی رخصت

سردیوں کے شدید موسم میں اگر کوئی شخص ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل کرنے کی وجہ سے  بدن یا صحت کے لیے نقصان دہ  محسوس کرے تو ایسی صورت میں گرم پانی کا استعمال کرنا اولیٰ ہے، کیونکہ شریعت اسلامیہ میں گرم پانی بھی عام پانیوں ہی کی طرح ہے ، گرم ہونے کے باوجود اس کے وصف طہوریت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی بلکہ اس میں طاہر ومطہر یعنی پاک ہونے  اور پاک کرنے کا دونوں وصف موجود رہتا ہے۔

دوسری وجہ   شریعت میں دفع ضرر  جلب منفعت  پر مقدم ہے۔یعنی اگر کسی کام میں فائدہ ہو لیکن اس کے ساتھ جان، صحت یا بدن کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو شریعت ایسے کام سے رکنے کی اجازت دیتی ہے۔ اسلام کا مقصد انسان کو مشقت میں ڈالنا نہیں بلکہ آسانی اور حفاظت فراہم کرنا ہے، اسی لیے جہاں صحت ، بدن  یا جان کو نقصان کا خدشہ ہو وہاں رخصت دی جاتی ہے اور نقصان والے کام سے بچنے کو  ترجیح دی جاتی ہے ۔ یہ رخصت نہ صرف عبادت کو صحیح طریقے سے ادا کرنے میں مددگار ہے بلکہ مومن کی صحت اور تحفظ کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔  گرم پانی نہ صرف وضو اور غسل کو آسان اور مکمل طریقے سے کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ صحت اور حفاظت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، خاص طور پر آج کے دور میں جب سہولیات عام ہیں ۔ اگر شدید سردی کے سبب ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل میں دشواری ہو اور مطلوبہ کمال کے ساتھ عبادت ادا نہ ہو سکے، تو اس صورت میں ٹھنڈے پانی کو ترک کرنا اور گرم پانی اختیار کرنا  ثواب کا  بھی موجب ہوگا ۔

 امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فالماء المسخن داخل في جملة المياه التي أمر الناس أن يتطهروا بها وروينا عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : “الصعيد الطيب طهور المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين فإذا وجد الماء فليمسه بشرته 1

ترجمہ : گرم پانی بھی ان پانیوں میں شمار ہوتا ہے جن سے وضو اور طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ نبی کریم  ﷺ نے فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہے، اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی کھال (یعنی جسم) پر بہائے ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عمل

اور صحیح بخاری میں تعلیقا یہ روایت آئی ہے کہ

وتوضأ عمر بالحميم ومن بيت نصرانية 2

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گرم پانی سے وضو کیا، جو ایک نصرانی عورت کے گھر سے لیا گیا تھا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام اسلم بیان کرتے ہیں:

أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يُسَخَّنُ لَهُ مَاءٌ فِي قُمْقُمَةٍ وَيَغْتَسِلُ بِهِ3

ترجمہ : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک مٹکے میں پانی گرم کیا جاتا تھا، وہ اس پانی کے ذریعے غسل کرتے تھے۔

صحابی رسول سیدنا اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

كنت أرحل ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم فأصابتنى جنابة فى ليلة باردة، وأراد رسول الله صلى الله عليه وسلم الراحلة، فكرهت أن أرحل ناقته وأنا جنب، وخشيت أن أغتسل بالماء البارد فأموت. فذكر الحديث قال: ثم وضعت أحجارًا فأسخنت فيها ماء فاغتسلت، ثم لحقت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال :«يا أسلع! ما لى أرى راحلتك تضطرب؟». فقلت : يا رسول الله! لم أرحلها. وذكر الحديث إلى أن قال: قلت : فأسخنت ماء فاغتسلت4

ترجمہ: میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی پر کجاوہ باندھا کرتا تھا۔ ایک سرد رات مجھے جنابت لاحق ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے سفر کا ارادہ فرمایا، مگر مجھے یہ بات ناگوار لگی کہ میں حالتِ جنابت میں آپ ﷺ کی اونٹنی پر کجاوہ باندھوں، اور میں اس بات سے بھی ڈر گیا کہ اگر ٹھنڈے پانی سے غسل کیا تو کہیں جان ہی نہ چلی جائے۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی ۔ پجر کہنے لگے کہ میں نے پتھر رکھ کر ان پر پانی گرم کیا اور اسی گرم پانی سے غسل کیا، پھر رسول اللہ ﷺ سے جا ملا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اسلع! کیا بات ہے کہ میں تمہاری اونٹنی کو بے چین دیکھ رہا ہوں؟  میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میں نے اس پر کجاوہ نہیں باندھا تھا۔ پھر  انہوں نے مکمل حدیث بیان کی ،آخر میں انہوں نے کہا:  پھر میں نے پانی گرم کیا اور اس سے غسل کیا۔

صحابہ کرام ، اہل مدینہ وکوفہ اور ائمہ کا عمل

صحابۂ کرام، اہلِ مدینہ و اہلِ کوفہ اور جمہور ائمہ کا عمل یہ رہا ہے کہ وہ سردی کے موسم میں گرم پانی سے وضو کو جائز اور درست سمجھتے تھے اور خود بھی اس پر عمل کرتے تھے۔

چنانچہ امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَمِمَّنْ رَوَيْنَا عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى الْوُضُوءَ بِالْمَاءِ الْمُسَخَّنِ: عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ مَذْهَبُ عَطَاءٍ، وَالْحَسَنِ، وَأَبِي وَائِلٍ، وَكَذَا قَالَ كُلُّ مَنْ نَحْفَظُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وَكَذَلِكَ قَالَ الشَّافِعِيُّ، وَأَبُو عُبَيْدٍ، وَذَكَرَ أَنَّهُ قَوْلُ أَهْلِ الْحِجَازِ وَالْعِرَاقِ جَمِيعًا5

ترجمہ: اور  جن صحابہ  کرام سے یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے گرم پانی سے وضو کیا ، ان میں  سیدنا عمر بن الخطاب، عبد اللہ بن عمر، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم  شامل ہیں۔ اور یہی رائے عطاء، الحسن ابو وائل اور اہلِ مدینہ و کوفہ کے بعض علماء کی ہے۔ امام شافعی اور ابو عبید نے بھی یہی کہاہے، اور اہلِ حجاز و عراق کے زیادہ تر علماء کا بھی یہی موقف ہے۔

معلوم ہوا کہ  ٹھنڈا پانی استعمال کرنے میں پریشانی ہو یا نہ ہو، ہر حال میں گرم پانی سے وضو کرنا جائز ہے۔

شیخ زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وَإِنْ تَرَكَ الْوُضُوءَ لِشِدَّةِ حَرٍّ أَوْ بَرْدٍ قَاصِدًا اتِّبَاعَ الشَّرْعِ، كَأَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مَانِعًا مِنْ إِسْبَاغِهِ أَوْ مُضِرًّا بِهِ، أُجِرَ عَلَى ذَلِكَ، وَحُمِلَ حَدِيثُ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ عَلَى مَا لَا يَمْنَعُ مِنْ أَدَاءِ الْعِبَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا الْمَطْلُوبِ6

ترجمہ: اگر کوئی شخص  شدید گرمی یا سردی کی وجہ سے وضو چھوڑدے اور اس کا مقصد شریعت کی پیروی ہو، مثلاً اس وجہ سے کہ یہ شدت وضو کے مکمل کرنے سے مانع ہے یا اس سے نقصان کا اندیشہ ہو، تو اسے  اس پراجر ملے گا، اور حدیث “ناگواری اور مشقت میں وضو مکمل کرنا” اس حالت  پر محمول ہے کہ مشقت ایسی نہ ہو جو مطلوبہ طریقے سے عبادت کے ادا کرنے میں مانع ہو۔

علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فَيُثَابُ التَّارِكُ امْتِثَالًا لِشِدَّةِ حَرٍّ وَبَرْدٍ لِمَنْعِهِمَا الْإِسْبَاغَ أَوْ لِلضَّرَرِ، فَإِنْ قُلْتَ: يُنَافِي هَذَا حَدِيثَ «وَإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ»، قُلْتُ: لَا يُنَافِيهِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ فِي إِسْبَاغٍ عَلَى مَكْرَهَةٍ لَا بِقَيْدِ الشِّدَّةِ، وَهَذَا مَعَ قَيْدِهَا الَّذِي مِنْ شَأْنِهِ مَنْعُ وُقُوعِ الْعِبَادَةِ عَلَى كَمَالِ الْمَطْلُوبِ مِنْهَا.7

ترجمه : شدید گرمی یا سردی کی حالت میں اگر ان سے وضو مکمل نہ ہو سکتا ہو یا نقصان پہنچتا ہو تو ترکِ وضو پر ثواب ملتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ حدیث “ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا” کے خلاف ہے تو جواب یہ ہے کہ یہ حدیث ان مشقتوں کے بارے میں ہے جن میں شدت نہ ہو، کیونکہ شدت عبادت کے کامل طور پر ادا ہونے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

علامہ  محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ فِي حَالَةِ شِدَّةِ الْبَرْدِ عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ، هَذَا يَدُلُّ عَلَى قُوَّةِ الْإِيمَانِ، وَيَكُونُ الْأَجْرُ أَعْظَمَ، لَكِنْ إِذَا تَيَسَّرَ لَهُ الْمَاءُ الدَّافِئُ يَكُونُ أَفْضَلَ؛ لِأَنَّ هَذَا الْمَاءَ الدَّافِئَ أَعْوَنُ لَهُ عَلَى الْإِسْبَاغِ، وَإِكْمَالِ الْوُضُوءِ كَمَا شَرَعَهُ اللَّهُ، وَأَبْلَغُ فِي إِزَالَةِ الْأَوْسَاخِ وَالنَّظَافَةِ8

ترجمہ: سخت سردی میں ضرورت کے وقت تکلیف برداشت کرتے ہوئے وضو کو اچھی طرح مکمل کرنا ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے اور اس پر اجر بھی زیادہ ہوتا ہے، لیکن اگر گرم پانی میسر ہو تو وہی افضل ہے، کیونکہ گرم پانی وضو کو پورا کرنے میں زیادہ مددگار ہوتا ہے، وضو کو اس طریقے کے مطابق مکمل کرنے میں معاون بنتا ہے جس طرح اللہ نے مقرر فرمایا ہے، اور صفائی اور میل کچیل دور کرنے میں بھی زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

مکارہ سے کیا مراد ہے ؟

مکارہ سے مقصود نا پسندیدہ شاق چیزیں ہیں، یعنی سخت سردی کے باوجود اور ایسی بیماریوں اور جراحتوں کے باوجود جن میں مبتلا ہونے کی صورت میں پانی لگنے سے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے باوجود نماز کے لیے شخص وضو کرتا ہے۔ اور پانی کی سخت حاجت و طلب، اس کے حصول میں سخت دوڑ دھوپ اور مہنگے داموں پانی خریدنے کے باوجود وہ وضو کا اہتمام ضرور کرتا ہے جو کہ اس کے لیے مشقت کا باعث ہیں۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر گرم پانی کے بجائے مشقت برداشت کرتے ہوئے ٹھنڈے پانی سے وضو کریں گے تو یہ افضل ہوگا اور اس سے زیادہ ثواب ملے گا۔یہ سراسر غلط فہمی کا نتیجہ ہے اگر دونوں قسم کا پانی موجود ہو یا ٹھنڈے پانی کو گرم کیا جا سکتا ہو تو گرم پانی سے وضو کرنا ہی افضل ہے ۔ امّ المؤمنین  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہيں:

ما خُيِّرَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بيْنَ أمْرَيْنِ قَطُّ إلَّا أخَذَ أيْسَرَهُمَا، ما لَمْ يَكُنْ إثْمًا، فإنْ كانَ إثْمًا كانَ أبْعَدَ النَّاسِ منه 9

ترجمہ : جب بھی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان دونوں میں سے آسان تر کو اختیار فرماتے تھے، بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہو، اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ۔

لہٰذا سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے سہولت اور آسانی کو ترجیح دینا ہی افضل ہے۔

ٹھنڈے پانی سے وضو کرناكب افضل هے ؟

 البتہ اگر گرم پانی موجود نہ ہو یا پانی گرم کرنے کے وسائل مہیا نہ ہوں تو ایسی صورت میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا بیش بہا فضائل کا حامل ہے، اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:

ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ، وَثَلَاثٌ كَفَّارَاتٌ، وَثَلَاثٌ دَرَجَاتٌ.وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ: فَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ.10

اسی طرح سیدنا عبدالله بن عباس  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أتاني اللَّيلةَ ربِّي في أحسَنِ صورةٍ فقال : يا مُحمَّدُ ! أتَدري فيمَ يختَصمُ الملأُ الأعلَى ؟ قلتُ : نعَم ؛ في الكفَّاراتِ و الدَّرجاتِ ، و نَقلِ الأقدامِ للجَماعاتِ ، و إسباغِ الوُضوءِ في السَّبراتِ ، و انتِظارِ الصَّلاةِ بعد الصَّلاةِ ، و من حافَظ عليهِنَّ عاشَ بخيرٍ ، و ماتَ بِخَيرٍ ، و كان مِن ذُنوبِه كيومِ ولدَتْهُ أُمُّهُ (صحيح الترغيب : 194 ، صحيح لغيره ، والسلسلة الصحیحة: 3169)

ترجمه:  آج رات میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا اور فرمایا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» (اونچے مرتبے والے فرشتے) کس بات كے متعلق آپس میں بحث و مباحثہ کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: جی ہاں! وہ گناہوں کو مٹانے اور درجات کی بلند كرنے اعمال كے بارے میں جھگڑ رہے ہیں، جیسے  : باجماعت نماز کے لیے چل کر جانا، سخت  ترین سردی میں بھی  مكمل اور اچھے طریقے سے وضو کرنا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ جو شخص ان اعمال کی پابندی کرے، وہ اچھی زندگی گزارتا ہے، اچھی موت پاتا ہے، اور اس کے گناہ اس طرح صاف ہو جاتے ہیں جیسے وہ آج ہی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو۔

اور جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بشِّرِ المشَّائينَ في الظُّلمِ إلى المساجدِ بالنُّورِ التَّامِّ يومَ القيامةِ ( صححه الألباني في صحيح أبي داود: 561، وصحیح الترمذي (223)

ترجمہ :اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو۔

تو جو شخص اندھیروں اور شدید سردی کے باوجود اللہ کی عبادت کے لیے مسجد کی طرف نکلتا ہے، اس کا اجر بلا شبہ بہت زیادہ ہے۔

2 ۔وضو کے بدلے تیمم کرنے كی رخصت

شریعتِ اسلامیہ نے پانی کی عدم دستیابی یا استعمال میں مشقت و ضرر کی صورت میں، وضو کے بدلے تیمم کی رخصت عطا فرما کر دین کو آسان بنا دیا ہے۔ لہذا سخت سردی  کی وجہ سے کركے  نماز پڑھنا جائز هے ،ارشاد باری تعالی ہے:شریعتِ اسلامیہ نے پانی کی عدم دستیابی یا استعمال میں مشقت و ضرر کی صورت میں، وضو کے بدلے تیمم کی رخصت عطا فرما کر دین کو آسان بنا دیا ہے۔ لہذا سخت سردی  کی وجہ سے وضو یا غسل جنابت کے بدلے تیمم کركے  نماز پڑھنا جائز هے ،ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَي أَوْ عَلَي سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّباً11

ترجمہ :اور اگر تم مریض ہو یا مسافر یا تم میں سے کوئی ایک قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو، یا پھر تم نے بیوی سے جماع کیا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاکیزہ اور طاہر مٹی سے تیمم کر لو‘‘

اس آیت میں دلیل ہے کہ جو مریض شخص پانی استعمال نہ کرسکتا ہو یا پھر اسے غسل کرنے سے موت کا خدشہ ہو، یا مرض زیادہ ہونے کا، یا مرض سے شفایابی میں تاخیر ہونے کا ، یا پھر شدید سردی میں پانی استعمال کرنے سے کسی کمزور وناتواں اور بوڑھے شخص کو بیمار ہونے یا بیماری میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہو اور پانی گرم کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو وہ تیمم کر لے۔سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:

احتَلمتُ في ليلةٍ باردةٍ في غزوةِ ذاتِ السُّلاسلِ فأشفَقتُ إنِ اغتَسَلتُ أن أَهْلِكَ فتيمَّمتُ، ثمَّ صلَّيتُ بأصحابي الصُّبحَ فذَكَروا ذلِكَ للنَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ فقالَ: يا عَمرو صلَّيتَ بأصحابِكَ وأنتَ جنُبٌ ؟ فأخبرتُهُ بالَّذي مَنعَني منَ الاغتِسالِ وقُلتُ إنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ يقولُ:( وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) فضحِكَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ولم يَقُلْ شيئًا12

ترجمہ : غزوۂ ذات السلاسل میں شدید سرد رات میں مجھے احتلام ہوگیا ،اس لیے مجھے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا اس لیے میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھا دی، چنانچہ انہوں نے اس واقعہ کا نبی کریم ﷺ کے سامنے ذکر کیا تو رسول کریم ﷺ فرمانے لگے:اے عمرو ! کیا تم نے جنابت کی حالت میں ہی اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی تھی ؟تو میں نے رسول کریم ﷺکو غسل میں مانع چیز کا بتایا اور کہنے لگا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا فرمان سنا ہے:’ اور تم اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، یقینا اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرنے والا ہے‘‘(النساء :29 ( چنانچہ رسول کریم ﷺ مسکرانے لگے اور کچھ بھی نہ فرمایا ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وفي هذا الحديث جواز التيمم لمن يتوقع من استعمال الماء الهلاك سواء كان لأجل برد أو غيره ، وجواز صلاة المتيمم بالمتوضئين .13

ترجمہ: اس حدیث میں اس بات کا جواز پایا جاتا ہے کہ سردی وغیرہ کی بنا پر اگر پانی استعمال کرنے سے ہلاکت کا خدشہ ہو تو تمیم کیا جا سکتا ہے، اور اسی طرح تیمم کرنے والا شخص وضو کرنے والوں کی امامت بھی کروا سکتا ہے‘‘

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وإن خاف من شدَّة البَرد، وأمكنه أن يسخِّنَ الماء، أو يستعمِلَه على وجهٍ يأمَن الضَّرر، مثل: أن يغسِلَ عضوًا عضوًا، وكلَّما غسل شيئًا ستَرَه، لزمه ذلك، وإن لم يقدِر، تيمَّم وصلَّى ف14

ترجمہ :اگر کسی شخص کو سخت سردی کے باعث پانی استعمال کرنے سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، لیکن وہ پانی گرم کر سکتا ہو یا ایسے طریقے سے وضو کر سکتا ہو کہ نقصان سے محفوظ رہے، مثلاً ایک ایک عضو دھوئے اور فوراً اسے ڈھانپ لے، تو اس کے لیے یہی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ اور اگر وہ ایسا کرنے پر قادر نہ ہو تو اکثر اہلِ علم کے نزدیک وہ تیمم کرے اور نماز ادا کرے۔

امام سَرخسي رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

أمَّا إذا كان يخافُ الهلاك باستعمال الماء، فالتيمُّم جائزٌ له بالاتِّفاق15

ترجمہ :اگر پانی استعمال کرنے کی صورت میں جان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو بالاجماع اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔

 امام عيني رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 أجمعوا على أنَّه لو خاف على نفْسه الهلاكَ، أو على عضوِه ومنفعَتِه، يُباح له التيمُّم 16

ترجمہ:اس بات پر اہلِ علم کا اجماع ہے کہ اگر اگر پانی استعمال کرنے کی صورت میں کسی شخص کو اپنی جان کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو، یا کسی عضو کے ضائع ہو جانے یا اس کی منفعت ختم ہو جانے کا خوف ہو، تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔

علامہ ابن عثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ يَعْنِي: أَنَّ الْإِنْسَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ عَلَى كُرْهٍ مِنْهُ، إِمَّا لِكَوْنِهِ فِيهِ حُمَّى يَنْفِرُ مِنَ الْمَاءِ فَيَتَوَضَّأُ عَلَى كُرْهٍ، وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الْجَوُّ بَارِدًا وَلَيْسَ عِنْدَهُ مَا يُسَخِّنُ بِهِ الْمَاءَ فَيَتَوَضَّأُ عَلَى كُرْهٍ، وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ هُنَاكَ أَمْطَارٌ تَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْوُصُولِ لِمَكَانِ الْوُضُوءِ فَيَتَوَضَّأُ عَلَى كُرْهٍ، الْمُهِمُّ أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ عَلَى كُرْهٍ وَمَشَقَّةٍ، لَكِنْ بِدُونِ ضَرَرٍ، أَمَّا مَعَ الضَّرَرِ فَلَا يَتَوَضَّأُ بَلْ يَتَيَمَّمُ، هَذَا مِمَّا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ.

ترجمہ: ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا (إسباغ الوضوء على المكاره) اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دل کی ناچاہت اور مشقت کے باوجود پورا وضو کرے۔یہ ناگواری مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے: مثلاً آدمی کو بخار ہو اور پانی استعمال کرنا طبیعت پر گراں گزرے، یا شدید سردی ہو اور پانی گرم کرنے کا کوئی انتظام نہ ہو، یا بارش اس کے اور وضو کی جگہ کے درمیان رکاوٹ بن جائے۔غرض یہ کہ انسان مشقت اور ناگواری کے ساتھ وضو کرے، لیکن  كسی نقصان کے بغیر۔ اگر وضو کرنے میں واقعی نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر وضو نہیں بلکہ تیمم کیا جائے گا۔یہی وہ اسباب ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات کو بلند فرماتا ہے۔

3۔ پگڑی  اور موزوں پر مسح كی رخصت

سخت سردی  کی وجہ سے موزوں،جرابوں، جوتوں، پگڑیوں اور عورتوں کے سروں پر بندھی چادروں پر مسح کی اجازت ہے ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ سے پگڑی اور موزے  دونوں پہ مسح کرنا ثابت ہے ۔چنانچہ عمرو بن امیہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

رأیتُ النبیَّ صلَّی اللہ علیہ وسلَّمَ یمسح علی عمامته و خفَّیه 17

ترجمہ : میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے (وضو میں) اپنی پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔

مشہور تابعی جناب ہمّام بن الحارث النخعی رحمہ اللہ  کہتے ہیں:

رأيتُ جريرًا بالَ ، ثمَّ دعا بماءٍ فتَوضَّأ ومَسحَ علَى خُفَّيهِ ثمَّ قامَ فصلَّى فسُئِلَ عن ذلِك فقالَ : رأيتُ النَّبيَّ صنعَ مثلَ هذا18

ترجمہ :  میں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو پیشاب کرتے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا، وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، اس کے بعد کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو بھی ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔”

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں که:

بعثَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ سريَّةً فأصابَهُمُ البَردُ فلمَّا قدِموا علَى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أمرَهُم أن يمسَحوا علَى العَصائبِ والتَّساخينِ 19

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ایک قافلہ بھیجا تو سرد موسم کی وجہ سے انہیں تکلیف پہنچی جب وہ واپس نبی ﷺ کے پاس آئے تو  آپ ﷺ سے سردی کی تکلیف کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انہیں پگڑیوں اور تساخین پر مسح کرنے کا حکم دیا۔

عربی میں ’’تساخین‘‘ ہر اس چیز کو کہاجاتا ہے جس سے پاؤں گرم رکھے جائیں ، جس میں موزے اور جراب دونوں شامل ہیں۔

اسی طرح سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ  بیان کرتےہیں کہ:

ومَسَحَ بناصِيَتِهِ وعلَى العِمامَةِ وعلَى خُفَّيْهِ 20

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو اپنی پیشانی ،پگڑی اوردونوں  موزوں پر مسح کیا۔

اسی طرح سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أن رسول اللہ ﷺ مسح علی الخفین و الخمار  21

ترجمہ: رسول  اللہ  ﷺ نے اپنے موزوں اور پگڑی پر مسح فرمایا ۔

موزہ خواہ کسی بھی چیز سے بنا ہو اور اس کی نوعیت خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو جس پر بھی (خف) موزہ کا اطلاق ہوتا ہےاس  پر مسح کرنا بالاجماع جائز ہے ۔اس کے موٹا ہونے یا چمڑے کا ہونے یا اس طرح کی کوئی بھی شرط شریعت مطہرہ میں ثابت نہیں ہے ۔

4۔ جرابوں اورجوتوں پر مسح كی رخصت

سخت سردی  کی وجہ سے پر جرابوں اورجوتوں پر مسح کی اجازت ہے، چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

توضَّأَ النَّبیُّ صلَّی اللَّہُ علیہِ وسلَّمَ ومسحَ علی الجَورَبینِ والنَّعلینِ22

ترجمہ: نبی كریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔

امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبُو مَسْعُودٍ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو أُمَامَةَ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَعُمَرُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.23

ترجمه :اور سیدنا  علی بن ابی طالب، ابومسعود (ابن مسعود ) اور براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث نے جرابوں پر مسح کیا اور عمر بن خطاب اور ابن عباس سے بھی جرابوں پر مسح مروی ہے۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)

علامہ ابن قدامہ  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ولأن الصحابة رضي اللہ عنھم مسحوا علی الجوارب ولم یظھر لھم مخالف في عصرھم فکان إجماعا‘‘۔ 24

ترجمہ: چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہرنہیں ہوالہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے۔

خلاصہ کلام

مذکورہ  احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ہر قسم کے موزوں۔ چاہے وہ چمڑے کے ہوں، اُونی ہوں یا سوتی۔ اس پر مسح کرنا جائز ہے۔ مزید برآں مسح سے متعلق دیگر تمام شرعی نصوص پر غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ احادیث میں موزے یا جراب پر مسح کا حکم عام اور مطلق ہے۔ شریعت نے اس کے لیے کوئی خاص علت یا شرط بیان نہیں کی کہ یہ رخصت صرف مجبوری، سردی، بیماری یا کسی خاص حالت کے ساتھ ہی مخصوص ہو۔اسی بنا پر یہ حکم ہر حال میں یکساں ہے کہ  آدمی بیمار ہو یا تندرست، مقیم ہو یا مسافر، کسی عذر میں مبتلا ہو یا بالکل معمول کی حالت میں ہو۔ ہر صورت میں موزے یا جراب پر مسح کر سکتا ہے۔ اسی طرح اس کا تعلق نہ موسم کی شدت سے ہے اور نہ ہی پانی کے گرم یا ٹھنڈا ہونے سے۔ چنانچہ بغیر کسی عذر اور کسی مجبوری کے، ہر موسم اور ہر جگہ موزوں اور جرابوں پر مسح کرنا شرعاً جائز ہے۔

5۔مسجد کے بجائے  گھروں میں نماز پڑھنے کی رخصت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو شدید سردی، بارش، اور برفباری کی حالت میں جماعت کی نماز سے چھوٹ دی هے۔ بخاری اور مسلم دونوں نے اپنی صحیح میں ابن عمیر سے روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں:

خرجتُ في ليلةٍ مَطيرةٍ فلمَّا رجعتُ استفتحتُ فقالَ أبي من هذا قالَ أبو المَليحِ قالَ لقد رأيتُنا معَ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ يومَ الحديبيةِ وأصابَتنا سماءٌ لم تبلَّ أسافِلَ نعالِنا فنادى منادي رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ صلُّوا في رحالِكم25

ترجمہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زمانہ حدیبیہ میں تھے، اور ہم پر ایسی بارش ہوئی کہ ہمارے جوتوں کے نیچے کا حصہ بھی گیلا نہ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا کہ نماز اپنے گھروں میں پڑھو۔

اس طرح، جب شدید بارش یا شدید سردی ہو، تو اذان دینے والا اذان کے بعد ( صلُّوا في رحالِكم ) کے الفاظ  کہا كرے۔

اسی طرح سیدنا  نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

نُودِيَ بالصبحِ في يومٍ باردٍ وهو في مِرطِ امرأتِه فقال ليتَ المُنادي نادى ومن قعد فلا حرجَ فنادى مُنادِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ في آخرِ أذانِه ومن قعد فلا حرجَ26

ترجمہ :ایک سردی  والے دن فجر کی اذان دی گئی اس حال میں کہ سیدنا  نعیم اپنی بیوی کے چادر میں تھے تو انہوں نے کہا کاش مؤذن یہ کہہ دے اپنے اپنے گھروں میں رہ کر نماز پڑھ لے تو اس پر پر کوئی گناہ نہیں ہے تو رسول اللہ  ﷺکے مؤذن نے اذان کے آخر میں کہا: جو شخص  اپنے گھر رہ کر میں  نماز پڑھ لے، اس پرکوئی گناہ نہیں ہے ‘‘

ان دونوں حدیثوں سے پتا چلتا ہے کہ اگر سخت ٹھنڈی کی وجہ سے گھروں سے نکلنا مشکل ہو یا بیماری یا کسی بھی قسم کی مشقت کا اندیشہ ہو تو بجائے مسجد کے گھروں میں نماز پڑھ لینا جائز ہے ۔

امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

الْبَرْدُ الشَّدِيدُ عُذْرٌ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَشِدَّةُ الْحَرِّ عُذْرٌ فِي الظُّهْرِ، وَالثَّلْجُ عُذْرٌ إنْ بَلَّ الثَّوْبَ27

ترجمہ:سخت سردی عذر ہے خواہ رات میں ہو یا دن میں، اور سخت گرمی عذر ہے ظہر کی جماعت کے لیے اور برف باری بھی عذر ہے، اگر اس سے کپڑا بھیگ جائے۔

کویتی فقہی انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے :

والْبَرْدُ الشَّدِيدُ لَيْلاً أَوْ نَهَارًا ، وَكَذَلِكَ الْحَرُّ الشَّدِيدُ ، من الأَْعْذَار العامة الَّتِي تُبِيحُ التَّخَلُّفَ عَنْ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ . وَالْمُرَادُ : الْبَرْدُ أَوِ الْحَرُّ الَّذِي يَخْرُجُ عَمَّا أَلِفَهُ النَّاسُ ، أَوْ أَلِفَهُ أَصْحَابُ الْمَنَاطِقِ الْحَارَّةِ أَوِ الْبَارِدَةِ28

ترجمہ: شدید سردی، چاہے رات میں  ہو یا دن میں، اور اسی طرح شدید گرمی بھی اُن عام عذروں میں شامل ہے جن کی وجہ سے جماعت کی نماز میں حاضر نہ ہونا جائز ہو جاتا ہے۔ یہاں شدید سردی یا گرمی سے مراد وہ کیفیت ہے جو لوگوں کی معمول کی عادت سے ہٹ کر ہو، یا اُن علاقوں کے رہنے والوں کی عادت سے باہر ہو جو گرم یا سرد خطّوں میں آباد ہوتے ہیں۔

کویتی فقہی انسائیکلوپیڈیا میں  مزیدلکھا ہے :

وَفِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ وَالْجَمَاعَةِ : أَجَازَ الْفُقَهَاءُ فِي الْبَرْدِ الشَّدِيدِ التَّخَلُّفَ عَنْ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ ، وَعَنْ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ نَهَارًا أَوْ لَيْلاً 29

ترجمہ:نمازِ جمعہ اور باجماعت نماز کے بارے میں فقہاء نے یہ اجازت دی ہے کہ شدید سردی کی صورت میں، چاہے دن ہو یا رات، نمازِ جمعہ اور نمازِ جماعت میں حاضر نہ ہونا جائز ہے۔

6۔ دو نمازوں کو اکھٹے پڑھنے کی رخصت

اگرسخت سردی  کی وجہ سے بار بار مسجد میں جمع ہونا لوگوں کے لیے مشقت، پریشانی اور حرج کا باعث ہو تو ایسی صورت میں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ جمع کر کے ایک ہی وقت میں پڑھ لینا جائز ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں:

صَلَّى رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بالمَدِينَةِ، في غيرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ. قالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذلكَ؟ فَقالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كما سَأَلْتَنِي، فَقالَ: أَرَادَ أَنْ لا يُحْرِجَ أَحَدًا مِن أُمَّتِهِ. 30

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کر کے پڑھا۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ ﷺنے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔

اس حدیث میں مذکور ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بغیر کسی عذر کے ایسا کیا تھا اس وجہ سے بعض علماء بلا کسی معقول عذر کے بھی محض انسانی حاجات کی وجہ سے جمع بین الصلاتین جائز سمجھتے ہیں ۔جیسے ابن عباس ،ابن سیرین، اشہب، قفال، شاشی، ابو اسحاق مروزی اور امام ابن المنذر وغیرہم ۔

لیکن راجح قول کے مطابق اگر کسی قسم کی پریشانی یا حرج میں واقع ہونے کا خدشہ ہو- جیسا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آپ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں- تو اس صورت میں جمع بین الصلاتین جائز بلکہ سنت و مستحب ہے۔

چونکہ سخت ٹھنڈی جس سے انسان کو ضرر لاحق ہونے کا خطرہ ہو ، یہ عذر ہے ،لہٰذا اس کی وجہ سے بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے ۔چنانچہ اس کا جواز حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے ثابت ہے ۔اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،شیخ ابن عثیمین، شیخ عبید الجابری ،شیخ سلیمان الماجد اور شیخ ولید بن راشد السعیدان نے بھی جواز کا فتویٰ دیا ہے۔31

7۔ نماز جمعہ سویرے  ادا کرنے کی رخصت

شدید سردی كے موسم  میں نماز جمعہ کوجلدی یعنی  اولین وقت پر  ادا کیا جائے، جبکہ گرمیوں میں نماز جمعہ بھی دیگر نمازوں کی طرح ٹھنڈے وقت میں پڑھی جائے۔چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ البَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلاةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الحَرُ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي الجمعة 32

ترجمہ: جب سردی بہت زیادہ ہوتی تو رسول اللہﷺ جمعہ کی نماز سویرے پڑھتے اور جب گرمی بہت زیادہ ہوتی تو نماز یعنی جمعہ کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھتے تھے۔

حدیث کی مختصر تشریح

ارشاد باری تعالی ہے:

يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ33

ترجمہ: اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تم پر تنگی نہیں چاہتا۔

 اور ایک اور جگہ فرمایا:

وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ34

ترجمہ: اور اس نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔

یہ دونوں آیات شریعتِ اسلامیہ کا ایک بنیادی اصول ہیں ، اسی اصول کے تحت شریعت نے عذر كی صورت  میں سہولت رکھی ہے ،لہٰذا دین کا ہر وہ حکم جس سے مشقت اور دشواری لازم آتی ہو، اس اصول کی روشنی میں  حل کیا  جائے گا اور اس کی مشقت اور دشواری  کو اسی اصول کی روشنی میں دور کر دی جائے گی۔

درج بالا  حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ شدید سردی کے وقت جمعہ کی نماز جلد ادا فرمایا کرتے تھے، کیونکہ جمعہ کا ابتدائی وقت سورج کے زوال کے آغاز سے ہوتا ہے، اور اس وقت عام طور پر درجۂ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سردی بڑھنے لگتی ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ سردی میں جمعہ کی نماز جلد ادا فرماتے تھے، تاکہ مسلمان نسبتاً گرم وقت میں نماز کے لیے نکل سکیں۔اور جب گرمی شدید ہوتی تو آپ ﷺ نماز میں تاخیر فرماتے، یہاں تک کہ موسم کچھ ٹھنڈا ہو جاتا، یہ مؤمنین پر شفقت اور رحمت کے طور پر تھا۔ یہ طریقہ عام طور پر نمازِ ظہر کے بارے میں ہے، صرف نمازِ جمعہ کے ساتھ خاص نہیں۔ کیونکہ بِشر بن ثابت کی روایت میں یہ بھی ذکر آیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت بیان کی جب بصرہ کے امیر، حکم بن ابی عقیل ثقفی نے ان سے نبی ﷺ کی نمازِ ظہر کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ یہ سوال اس وقت کیا گیا جب امیر نے لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی تھی۔

7۔ احرام کے اوپر دوسرا کپڑا ڈالنے کی رخصت

سردی اور اس کے باعث ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے احرام کے اوپر اضافی کپڑا یا چادر اوڑھنا جائز ہے ۔ جناب نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں :

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ وَجَدَ الْقُرَّ، فَقَالَ : أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا يَا نَافِعُ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ : تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ 35

ترجمہ : سیدنا ابن عمر  رضی اللہ عنہ نے ٹھنڈک محسوس کی تو فرمانے لگے:اے  نافع ! مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو ، تو میں نے ان پر  ٹوپی ڈال دی تو انہوں نے فرمایا : تم مجھ پر یہ ٹوپی  ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے محرِم کو اسے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔

8۔حائضہ بیوی سے چمٹ کر گرمی  لینے کی رخصت

سردی کے موسم میں گرمی حاصل کرنے کے لیے اپنی حائضہ بیوی سے بھی چمٹنا  جائز ہے۔البتہ  بیوی سے  جماع کرناجائز نہیں ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أَنَّ الْيَهُودَ، كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ، لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ، إِلَّا النِّكَاحَ 36

یہودیوں میں جب کسی عورت کو ایام آتے تو وہ لوگ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے ہوتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ترجمہ : اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ  : یہ لوگ آپ سے ایام والی عورت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ ایام بذات خود بیماری ہے، اس لئے ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کی قربت نہ کرو “یہ آیت مکمل پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جماع کے علاوہ سب کچھ کرسکتے ہو۔ “

لہذا سردی کے موسم میں گرمی حاصل کرنے کے لیے اپنی بیوی سے چمٹنا  جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ،ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ:

وَكانَ يَأْمُرُنِي، فأتَّزِرُ، فيُبَاشِرُنِي وأَنَا حَائِضٌ.37

آپ ﷺ  مجھے ازار باندھنے کا حکم دیتے، پھر مجھ سے چمٹ جاتے ،جبكه میں حائضہ ہوتی تھی۔

ایک اور روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ :

كَانَتْ إحْدَانَا إذَا كَانَتْ حَائِضًا، فأرَادَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أنْ يُبَاشِرَهَا أمَرَهَا أنْ تَتَّزِرَ في فَوْرِ حَيْضَتِهَا، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا، قالَتْ: وأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إرْبَهُ، كما كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يَمْلِكُ إرْبَهُ38

ترجمہ: ہم ازواج میں سے کوئی جب حائضہ ہوتی، اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مباشرت کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حیض کی زیادتی کے باوجود ازار باندھنے کا حکم دے دیتے ۔ پھر بدن سے بدن ملاتے، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں :تم میں ایسا کون ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنی شہوت پر قابو رکھتا ہو۔ (یہاں بھی مباشرت سے ساتھ لیٹنا بیٹھنا مراد ہے)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

المراد بالمباشرة هنا التقاء البشرتين، لا الجماع.39

ترجمہ: یہاں مباشرت سے مراد صرف  دو جلدوں کا آپس میں   ملنا ہے، نہ کہ ہمبستری۔

گرمائش حاصل کرنا

سنن ترمذی میں  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے  انہی  الفاظ کے ساتھ روایت منقول ہے ، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

رُبَّمَا اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ فَاسْتَدْفَأَ بِي، فَضَمَمْتُهُ إِلَيَّ، وَلَمْ أَغْتَسِلْ.40

ترجمہ : بسا اوقات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جنابت کا غسل فرماتے،  پھر آ کر مجھ سے گرمی حاصل کرتے تو میں آپ کو چمٹا لیتی، حالانکہ میں بغیر غسل کے ہوتی تھی۔

یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن  اس کا معنی درست ہے، اور وہ یہ کہ جسم سے  گرمائش حاصل کرنے میں غسل لازم نہیں آتا ۔

امام ترمذی رحمه الله کہتے ہیں:

هٰذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا اغْتَسَلَ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَسْتَدْفِئَ بِامْرَأَتِهِ، وَيَنَامَ مَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.41

ترجمہ: اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ،صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے کہ مرد جب غسل کر لے تو اپنی بیوی سے چمٹ کر گرمی حاصل کرنے میں اسے کوئی مضائقہ نہیں، وہ عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ چمٹ کر سو سکتا ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔

وضاحت:

امام ترمذی رحمه الله كا یه كهنا كه اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ۔ اس كا معنی یه هے كه  یہ  حدیث حسن کے حکم میں ہے، اس کے راوی «حریث بن ابی المطر» ضعیف ہیں ۔اس لیے علامہ البانی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ایک دوسرے طریق سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے، جو عبدالرحمٰن افریقی کے طریق سے ہے، عبدالرحمٰن حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہیں، لیکن دونوں طریقوں کا ضعف ایک دوسرے سے قدرے دور ہو جاتا ہے، نیز صحیحین میں عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے اس کے معنی کی تائید ہو جاتی ہے، وہ یہ ہے:

ہم لوگ حائضہ ہوتی تھیں تو آپ ہمیں ازار باندھنے کا حکم دیتے، پھر ہم سے چمٹتے تھے ۔ واللہ اعلم۔

( ڈاکٹر عبد الرحمن فریوائی ، سنن ترمذي،كتاب الطهارة ،حدیث: 123)

صحابہ کرام  وتابعین کا عمل

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:

إني ﻷغتسل من الجنابة ثم أتكوى بالمرأة قبل أن تغتسل. (مصنف  ابن أبي شیبة :97/1 ، إسناده صحيح )

ترجمہ: میں جنابت کا غسل کر لیتا ہوں، پھر بیوی کے غسل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ لپٹ کر گرمی حاصل کرتا ہوں۔

سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:

ذاك عيش قريش في الشتاء. (مصنف  ابن أبي شیبة :97/1 ، إسناده حسن)

ترجمہ: یہی سردیوں میں قریش کا طرزِ زندگی تھا۔

:معروف تابعی جناب ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں

كان علقمة يغتسل ثم يستدفئ بالمرأة وهي جنب42

جناب علقمہ بن قیس نخعی رحمہ اللہ غسل جنابت کے بعد اپنی بیوی سے گرمی حاصل کرتے تھے حالانکہ بیوی  بھی جنابت کی حالت میں ہوتی تھی۔

:مشہور تابعی  جناب جبلہ بن سحیم التیمی رحمہ اللہ  کہتے ہیں

سمعت ابن عمر يقول : إني لاحب أن أسبقها إلى الغسل فاغتسل ثم أتكوى بها حتى أدفا ، ثم آمرها فتغتسل 43

ترجمہ : میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: مجھے یہ پسند ہے کہ میں پہلے غسل کروں، پھر اپنی بیوی کے ساتھ گرم ہو جاؤں، اور پھر اسے غسل کرنے کا حکم دوں۔

:مشہور تابعی ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ

سئل عطاء أن يستدفئ الرجل جنبا بامرأته وهي كذلك ؟ قال : نعم ، لا بأس أن يصيب الرجل المرأة مرتين في جنابة واحدة.44

مشہور تابعی   عطاء بن ابی رباح  رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا مرد جنابت کی حالت میں اپنی بیوی سے گرمی حاصل کرسکتا ہے، جبکہ بیوی بھی جنابت کی حالت میں ہو ؟ تو انہوں نے کہا:جی  ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، مرد ایک ہی جنابت میں بیوی کے ساتھ دو بار ایسا کر سکتا ہے۔

:مولانا عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں

أن بشرة الجنب طاهرة؛ ﻷن الاستدفاء إنما يحصل من مس البشرة البشرة 45

ترجمہ :جنابت کی حالت میں آدمی کی جلد پاک ہوتی ہے، کیونکہ گرمی تو صرف جسموں کے باہمی لمس سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

:خلاصہ کلام

یہ تمام  روایات ثابت کرتی ہیں کہ جنبی انسان کی جلد اور پسینہ ناپاک نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص غسل کے بعد اپنی بیوی سے گرمی حاصل کرے تو اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔

9۔ ہیٹر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی رخصت

آگ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا اکثر فقہاء کے نزدیک مکروہ ہے  ۔ جیساکہ حافظ ابن رجب حنبلي رحمه الله فرماتے ہیں:

كره أكثر العلماء الصلاة إلى النار 46

ترجمہ: اکثر علما کے نزدیک آگ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

مکروہ جاننے کی وجہ

کیونکہ اس میں آتش پرستوں کی ظاہر صورت کے لحاظ سے مشابہت پائی جاتی ہے، لہذا وہ اسے مکروہ سمجھتے ہيں اگرچہ نمازی اللہ کے لیے ہی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، جیسا کہ طلوع اور غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اس وقت اللہ کے لیے سجدہ کرنے والے کی مشابہت سورج کی پوجا کرنے والوں سے ظاہری صورت میں ہورہی ہوتی ہے، جیسا کہ بت کی طرف یا بنائی گئی صورتو ں کی طرف نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

 لیکن شدید سردی کے موسم میں گرمی حاصل کرنے کی خاطر گیس اور  ہیٹر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے۔کیونکہ نماز کا مقصد آگ کی پوجا کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بحالت نماز دوزخ کا منظر پیش کیا گیا تھا، امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کے کتاب الصلاۃ میں ایک باب قائم کیا ہے :

بَابُ مَنْ صَلَّى وَقُدَّامَهُ تَنُّورٌ أَوْ نَارٌ أَوْ شَيْءٌ مِمَّا يُعْبَدُ، فَأَرَادَ بِهِ اللَّهَ

باب اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے آگے تندور، یا آگ، یا اور کوئی چیز ہوجس کی عبادت کی جاتی ہے، لیکن اس نمازی کا ارادہ صرف اللہ کی عبادت ہو ( تو اس کی نماز درست ہے)۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وأشار به إلى ما ورد عن ابن سيرين أنه كره الصلاة إلى التنور وقال هو بيت نار47

ترجمہ :امام بخاری رحمہ اللہ اس عنوان سے امام ابن سیرین  رحمہ اللہ کی تردید کرنا چاہتے جن کا موقف ہے کہ تنور کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنامکروہ ہے۔وہ  فرماتے ہیں: یہ آگ کا گھر ہے ۔امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ ایسی حالت میں نماز درست ہے، اسے کچھ نقصان نہیں ہوتا۔

 امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ وَأَنَا أُصَلِّي”48

ترجمہ : نماز کی حالت میں مجھ پر آگ پیش کی گئی  ۔

اسی طرح عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں کہ  :

انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، ثُمَّ قالَ: أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أرَ مَنْظَرًا كَاليَومِ قَطُّ أفْظَعَ.49

ترجمہ: سورج گہن ہوا تو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  گرہن کی نماز پڑھی اور فرمایا کہ مجھے آج دوزخ کی آگ دکھائی گئی، اس سے زیادہ بھیانک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔

حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں گیس ہیٹر لگانے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ وہ بجانب قبلہ ہی کیوں نہ ہوں، تاہم احتیاط کاتقاضا ہے کہ انھیں دائیں بائیں یا عقبی دیوار پر نصب کیاجائے تاکہ سامنے ہونے کی صورت میں نمازی کے لیے تشویش کاباعث نہ بنیں۔51

ترجمہ: نمازیوں کے سامنے ہیٹرز رکھنا مکروہ نہيں ہے، بلکہ جائز ہے، اور یہ آگ کی جانب رخ کرنے میں سے نہیں ہے کہ جس کےبارے میں بعض فقہاء نے کہا ہے کہ یہ مکروہ ہے۔ کیونکہ جو بات بعض فقہاء نے ذکر کی ہے وہ اس آگ کے بارے میں ہے جو مجوسیوں کی آگ کی طرح ہو کہ جس کی وہ عبادت کرتے ہیں اور وہ بھڑکتی ہوئی شعلوں والی آگ ہوتی ہے۔اور جو کچھ خیموں میں ہوتا ہے اگر وہ  الیکٹرک ہیٹرز ہیں  تو ان کا حکم واضح ہوچکا ہے۔ اور اگر شعلوں والی جلتی آگ ہے تو وہ اس میں داخل ہے جسے بعض فقہاء کرام نے مکروہ کہا ہے، لہذا انہيں چاہیے کہ اسے اپنے پیچھے کرلیں، یا دائیں یا بائيں ۔

10۔ منہ ڈھانپ کر نماز پڑھنے کی رخصت

دوران نماز، انسان کو کپڑے یا ہاتھ سے اپنا منہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں۔ چنانچہ  سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ نَهى عنِ السَّدلِ في الصَّلاةِ وأن يغطِّيَ الرَّجلُ فاهُ 52

ترجمہ :  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز کپڑا لٹکانے اور اپنا منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔

ہاں اگر کوئی عذر ہو تو منہ کو ڈھانپا جا سکتا ہے، مثلاً جمائی آ رہی ہے تو اسے حتی الوسع روکنا چاہیے ۔اگر اسے روکا نہ جا سکے تو منہ پر ہاتھ رکھ لیا جائے اور آواز نہ نکالی جائے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:

التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا، قَالَ: هَا، ضَحِكَ الشَّيْطَانُ”.53

ترجمہ :جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ پس جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔ کیونکہ جب کوئی (جمائی لیتے ہوئے) ”ہاہا“ کرتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ نبی کریم  ﷺ نے فرمایا:

إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ فَمَهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُهُ.54

ترجمہ: جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنے ہاتھ سے منہ کو بند کرے، کیونکہ شیطان اس میں داخل ہو جاتا ہے۔

لیکن شدید سردی  کی وجہ سے سے اگر کوئی شخص منہ ڈھانپ کر نماز پڑھتا ہے تو’’ المشقۃ تجلب التیسیر ‘‘ کے تحت یہ بھی جائز ہے۔ اسی طرح   اگر منہ پر زخم ہواور مکھیاں وغیرہ تنگ کر تی ہوں تو دوران نماز منہ پر کپڑا رکھا جا سکتا ہے ، بصورت دیگر نماز پڑھتے وقت منہ کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانپنا شرعاً جائز نہیں۔56

ترجمه: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا، ، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو تو اپنے ہاتھوں کو کپڑے سے نکال لیا ،پھر رفع یدین کی ۔

 اس حدیث سے  سخت سردی کی وجہ سے منہ ڈھانپنے کی بھی اجازت ثابت ہوتی ہے۔

:خلاصہ  کلام

موسمِ سرما میں شریعتِ مطہرہ کی عطا کردہ رخصتیں اسلام کی حکمت، رحمت اور سہولت پسندی کا روشن مظہر ہیں۔ یہ رخصتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام انسان کو مشقت میں ڈالنے کے بجائے اس کی طاقت، حالات اور ضرورتوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ سردی کی شدت میں تیمم کی اجازت، موزوں پر مسح، نمازوں کو جمع کرنے کی بعض صورتیں، اور دیگر آسانیاں اسی رحمتِ الٰہی کا عملی اظہار ہیں۔

ان رخصتوں سے فائدہ اٹھانا شریعت سے انحراف نہیں بلکہ شریعت ہی کی پیروی ہے، تاہم ان کا استعمال اعتدال، تقویٰ اور اخلاص کے ساتھ ہونا چاہیے۔ جہاں رخصت موجود ہو وہاں بلاوجہ سختی اختیار کرنا درست نہیں، اور جہاں عزیمت پر عمل ممکن ہو وہاں غفلت اور کوتاہی بھی مناسب نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سہولتوں کو سمجھنے، ان سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے اور ہر حال میں شریعت کے احکام پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
________________________________________________________________________________

  1. (الأوسط لابن المنذر: 250/1)
  2. (صحيح البخاري 1/50)
  3. (أخرجه البيهقي فى سننه الكبير: 11، والدارقطني فى سننه: 85، وقال الدارقطني: إسناده صحيح، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 429/1)
  4. (أخرجه البيهقي في  الكبرى في «باب التطهر  بالماء المسخن» (1/ 18)
  5. (الأوسط لابن المنذر: 250/1)
  6. (شرح مختصر خليل (1/33)
  7. (تحفة المحتاج بشرح المنهاج ، ط العلمية ، ج،1 ص5 )
  8. (فتاوی نور على الدرب (5-134).
  9. (أخرجه البخاري (6126)، ومسلم (2327)
  10. (حسنه الألباني في صحیح الجامع :3045، وصحيح الترغيب (453)
  11. سورۃ المائدۃ:(6)
  12. (أخرجه أحمد (17845)وصححه الألباني في صحيح أبي داود: 334 )
  13. (فتح الباري ” ( 1 / 454 )
  14. قول أكثَرِ أهل العلم (المغني:1/192).
  15. (المبسوط:1/105)
  16. (البناية شرح الهداية (1/517)
  17. (صحیح مسلم:205)
  18. (صحيح النسائي: 773)
  19. (أخرجه  أحمد (22383)، والبيهقي (292) بلفظه.وصححه الألباني في صحيح أبي داود : 146 )
  20. (صحیح البخاری:182، ومسلم:284)
  21. ( صحیح مسلم: 275)
  22. (صحیح الترمذی:99، صحیح ابن ماجة:460)
  23. (سنن ابي داؤد : 1/24،حدیث :159)
  24. (المغنی:181/1، مسئلة :426)
  25. (صححه الألباني في صحيح ابن ماجه: 773 )
  26. (صححه الألباني في السلسلة الصحيحة: 2605)
  27. (المجموع:4/99)
  28. (الموسوعة الفقهية الكويتية (27/186)
  29. (الموسوعة الفقهية الكويتية (8/57-58)
  30. (صحيح مسلم : 705)
  31. (مجموع الفتاویٰ : 24/29)
  32. (صحيح البخاري : 906)
  33. (البقرة: 185)
  34. (الحج: 78)
  35. (رواہ ابوداؤد : 1828۔ اسنادہ صحیح)
  36. ( صحیح مسلم : 302 )
  37. (صحيح البخاري: 300)
  38. (أخرجه البخاري (302)، ومسلم (293)
  39. (فتح الباري: (1/ 403).
  40. ( سنن الترمذی  123 ، وقال الألباني ضعیف)
  41. (سنن ترمذي،كتاب الطهارة ،حدیث: 123)
  42. (مصنف  ابن أبي شیبة :97/1 ، إسناده صحيح)
  43. (أخرجه عبد الرزاق في مصنفه ؛ 1065 ، إسناده صحيح)
  44. ( أخرجه عبد الرزاق في مصنفه  1064 ، وإسناده صحيح )
  45. (شرح مشكاة المصابيح للمباركفوري 307/2)
  46. (فتح الباري لابن رجب (3/209) .
  47. (فتح الباري: 684/1)
  48. صحيح البخاري: Q431)
  49. (صحيح البخاري،كتاب الصلاة: 431)
  50. (هداية القاري شرح صحيح بخاري،حدیث : 431) [/efn_note

    اختلف العلماء رحمهم الله تعالى في الصلاة إلى النار : فمنهم من كرهها ، ومنهم من لم يكرهها ، والذين كرهوها عللوا ذلك بمشابهة عباد النار ، والمعروف أن عبدة النار يعبدون النار ذات اللهب ، أما ما ليس لهب فإن مقتضى التعليل أن لا تكره الصلاة إليها .ثم إن الناس في حاجة إلى هذه الدفايات في أيام الشتاء للتدفئة ، فإن جعلوها خلفهم فاتت الفائدة منها أو قلت ، وإن جعلوها عن إيمانهم أو شمائلهم لم ينتفع بها إلا القليل منهم وهم الذين يلونها ، فلم يبق إلا أن تكون أمامهم ليتم انتفاعهم بها ، والقاعدة المعروفة عند أهل العلم أن المكروه تبيحه الحاجة . ثم إن الدفايات في الغالب لا تكون أمام الإمام ، وإنما تكون أمام المأمومين ، وهذا يخفف أمرها ؛ لأن الإمام هو القدوة ، ولهذا كانت سترته سترة للمأموم

    (مجموع فتاوى ورسائل ابن عثيمين (12 / 340-341)

      ترجمه:علماء کرام کا آگ کے سامنے نماز پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہے: بعض اسے مکروہ کہتے ہیں اور بعض اسے مکروہ نہیں سمجھتے۔ جو اسے مکروہ سمجھتے ہيں وہ یہ علت بتاتے ہیں کہ اس میں آتش پرستوں کی مشابہت ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ  آتش پرست لوگ شعلے مارتی آگ کی پوجا کرتے ہيں البتہ جو بغیر شعلوں والی ہوتی ہے تو اس علت کا تقاضہ ہے کہ اس کی طرف نماز مکروہ نہ ہو۔

    پھر یہ بھی ہے کہ یقیناً لوگوں کو سردیوں میں ان ہیٹرز کی ضرورت ہوتی ہے گرم رہنے کے لیے اگر وہ اسے اپنے پیچھے رکھ دیتے ہیں تو اس کا فائدہ فوت یا کم ہوجائے گا، اور اگر اپنے دائیں یا بائيں رکھتے ہيں تو بھی اس سے سوائے چند لوگوں کے جو اس کے قریب ہوں گے باقی فائدہ نہیں اٹھا پائيں گے ۔ چنانچہ  اس کے سوا کوئی چارہ نہيں رہتا کہ اسے ان کے سامنے ہونا چاہیے تاکہ اس سے مکمل فائدہ اٹھایا جاسکے۔ اور اہل علم کے ہاں یہ معروف قاعدہ ہے کہ بلاشبہ مکروہ ضرورت کے وقت مباح (جائز) ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات بھی ہے کہ غالباً  یہ ہیٹرز امام کے سامنے نہیں ہوتے بلکہ مقتدیوں کے سامنے ہوتے ہیں جس سے یہ معاملہ اور بھی ہلکا ہوجاتا ہے، کیونکہ یقیناً امام نمونہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے ۔

    ایک اور جگہ  شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    وضع الدفايات الكهربائية أمام المصلين ليس مكروهاً، بل هو جائز، ولا يدخل في استقبال النار التي ذكر بعض الفقهاء أنه مكروه؛ لأن الذي ذكره بعض الفقهاء هي النار التي تشبه نار المجوس التي يعبدونها وهي نار مشتعلة ذات لهب. وأما ما يقع في المخيمات فإن كان دفايات كهربائية فقد بان حكمها، وإن كانت نار موقدة مشتعلة فإنها تدخل فيما كره بعض الفقهاء فليجعلوها خلفهم، أو عن أيمانهم، أو عن شمائلهم.50(مجموع فتاوى ورسائل ابن عثيمين (13 /337) كتاب السترة في الصلاة)

  51. (أخرجه أبو داود (643)، وابن خزيمة (772)، وابن حبان (2797)، والبيهقي (3351) واللفظ لهم،
  52. (صحيح البخاري: 6223)
  53. (الادب المفرد: 951، وقال الشيخ الألباني: صحيح)
  54. ( فتاویٰ اصحاب الحدیث جلد4۔ صفحہ:111) [/efn_note

    11۔ ہاتھوں میں دستانے پہننےیا  ہاتھوں کوکپڑوں کے اندر داخل کرنے کی رخصت

    شدید سردی کی وجہ سے کپڑوں کے اندر ہاتھ داخل کرنا یا دستانے پہننا جائز ہے۔مردوں اور عورتوں کے لئے نماز کے اندر اور باہر امام اور مقتدی دونوں کے لئے دستانے پہننا جائز ہے کیونکہ انسان کو سردی وغیرہ کی وجہ سے دستانے پہننے کی ضرورت ہوتی ہے۔شریعت میں اس کی ممانعت وارد نہیں ہوئی۔ یہ عمل نماز کے خشوع کے منافی بھی نہیں، خصوصاً جب سردی شدید ہو اور اس سے تکلیف لاحق ہوتی ہو،

    سیدنا  وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس کی کیفیت یوں بیان فرمائی:

    أنَّهُ رَأَى النبيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ في الصَّلَاةِ كَبَّرَ، -وصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ-، ثُمَّ التَحَفَ بثَوْبِهِ، ثُمَّ وضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى علَى اليُسْرَى، فَلَمَّا أرَادَ أنْ يَرْكَعَ أخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، (صحيح مسلم: 401) أخرجه أحمد (18866) بلفظه، وأبو داود (723)، وابن حبان (1862)

    ترجمہ:آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو اپنے ہاتھ اٹھا کر تکبیر تحریمہ کہی (ہمام نے کہا کہ کانوں کے برابر ہاتھ اٹھائے)پھر انہیں کپڑے سے  ڈھانپ کر   سیدھے ہاتھ کودوسرے   ہاتھ پر رکھ  لیا ،پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا،تو اپنے ہاتھوں کو کپڑے سے نکال لیا ۔

    :اسی طرح سنن ابی داود كے اندر سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

    صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَحَفَ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا، 55 (أخرجه أبو داود (723)، وابن حبان (1862) ، والطبراني (61) ( 22 /28) وصححه الألباني في صحيح أبي داود: 723 )

الشیخ اکرم الٰہی حفظہ اللہ

Recent Posts

شب برأت کی حقیقت؟

ماہ شعبان میں پیارے نبی کریم ﷺ کا کیا معمول تھا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟…

2 hours ago

دل کی سختی اہم وجہ اور علاج!

امام ابن تیمیہؒ دل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کو کون سے…

2 days ago

ملازمت، ایک امانت اور ذمہ داری

خطبہ اول: ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے مسلمان کی پوری…

4 days ago

بعثتِ نبوی ﷺ کا مقصد اور سیرت کا پیغام

نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح…

4 days ago

نکاح کی نیت سے RELATIONSHIP میں رہنا کیسا؟

اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…

5 days ago

سعادت کا راز

خطبہ اول: بلا شبہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد بیان…

2 weeks ago