اصلاحِ نفس و معاشرہ

ملازمت، ایک امانت اور ذمہ داری

خطبہ اول:

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے مسلمان کی پوری زندگی کو عبادت قرار دیا، اسے ایمان کی فراواں نعمت عطا کی اور اس کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دیے۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، اسی کے ہاتھ میں تمام فیصلے ہیں اور اسی کے لیے ساری بادشاہی ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ نے پیغام پہنچا دیا، امت کے لیے تعمیر و ترقی کا طور و طریقہ قائم کر دیا، اور آپ نے اپنے رب کے حکم سے قائدانہ کاموں کے پیشوا تھے۔ درود و سلام ہو آپ پر اور آپ کے آل و اصحاب پر جب تک دین کے محافظین باقی رہیں۔ میں آپ اور خود کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں جس سے دلوں کی درستی، اعمال کی استقامت اور بندوں کی نجات ہے۔

اللہ کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ1

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔

ملازمت ایک مسلسل عمل ہے۔ ملازم اس عمل کے سائے میں عمر کا ایک حصہ گزارتا ہے۔ ہر صبح جاتا ہے اور ہر شام کو لوٹتا ہے۔ اور یہ ملازمت گزرتے دنوں کے ساتھ بار بار ہونے والا ایک روٹین بن جاتی ہے جس میں کبھی کبھار ملازم کو اکتاہٹ بھی ہوتی ہے اور کبھی کبھی وہ سستی کا بھی شکار ہوتا ہے۔

 لیکن اسلام کی میزان میں ملازمت کی ایک دوسری ہی شان ہے جب ملازم اپنے گھر سے یہ ذہن میں رکھتے ہوئے نکلتا ہے کہ وہ عبادت کے محراب کی طرف جا رہا ہے، تب کام کا وقت لطف میں بدل جاتا ہے، اس کی حصول یابیاں سعادت بن جاتی ہیں، اور صرف کی گئی کوشش عبادت بن جاتی ہے اور اس کے گھنٹے سرمایۂ ثواب بن جاتے ہیں۔ اور وہ ملازم مہارت کے ساتھ بندگی کے مدارج طے کرتا جاتا ہے، پھر اس کا دل خوش ہوجاتا ہے، اس کی ہمت بڑھ جاتی ہے، اور اپنی بہترین صلاحیتیں لگاتا ہے اور لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں ایسی لذت پاتا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں۔ کیونکہ وہ قبل اس کے کہ لوگوں کے لیے کام کرے، اللہ کے لیے کام کرتا ہے۔ اور جو اپنے کاموں میں اللہ سے ڈرے گا اس کا اثر بلند ہوگا اور اس کی کوشش میں برکت ہوگی۔

تمام ملازمتیں خواہ وہ لوگوں کی نظر میں جتنی بڑی یا چھوٹی ہوں، یہ وطن و امت کے ڈھانچے میں ایک اینٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ داعی اپنے منبر و محراب میں، استاد اپنی کلاس میں، ڈاکٹر اپنے مطب میں، انجینئر اپنی عمارت میں، سیکیورٹی انچارج اپنے مقام پر، اور انتظامی امور سنبھالنے والے اپنے انتظام و انصرام میں، یا اور دوسرے تمام کے تمام ایک کردار کے حامل ہیں اور ایک پیغام ادا کرتے ہیں۔ ان سے سماج آگے بڑھتا ہے، ترقی ہوتی ہے، عمارت مضبوط ہوتی ہے اور زندگی مستحکم ہوتی ہے۔

ملازمت انتظامی معاہدہ نہیں کہ جسم کے حاضر ہونے اور وقت کے ختم ہوجانے سے ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ امانت کا عہد ہے اور ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہے۔ قیامت کے دن ملازم سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ ڈیوٹی کا وقت امانت ہے، اس کے گھنٹے امانت ہیں، لوگوں سے تعامل امانت ہے، ان کے راز امانت ہیں اور ان کی ضرورتیں امانت ہیں۔ اور جسے اس امانت کی عظمت اور اس ذمہ داری کی سنگینی کا احساس ہوگا وہ لوگوں کے مفادات معطل نہیں کرے گا، ان کی خدمت میں ٹال مٹول سے کام نہیں لے گا اور نہ حق ان کے کام کو پورا کرنے میں تاخیر نہیں کرے گا بلکہ اس کا زندہ ضمیر اور اللہ کا ڈر اسے اس بات پر آمادہ کرے گا کہ وہ سچائی کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرے اور ہر حقدار کو اس کا حق دے۔

ملازمت حقیقت میں لوگوں کی خدمت ہے اور ایسا نفع ہے جو دوسروں تک پہنچتا ہے اور یہ عظیم شرف ہے بلکہ یہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین اعمال میں سے ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 أَنَّ رَجُلا، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،” أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ، وَأَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ،2

ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! سب سے محبوب شخص اللہ تعالیٰ کو کون ہے اور سب سے محبوب عمل اللہ کو کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے پیارا شخص وہ ہے جو لوگوں کو بہت زیادہ نفع پہنچائے۔

 اجر بڑا ہوتا ہے اور میزان بھاری ہوتی ہے جب انسان ایسے نفع بخش مقام پر ہو جس کا نفع اس کی ذات سے نکل کر ایک بڑے میدان تک پہنچ رہا ہو۔ چنانچہ استاد جب کہ وہ بچوں کو پڑھاتا ہے، نسلیں بناتا ہے، انجینئر جس وقت عمارت کو ترقی دیتا ہے، زندگی کو آسان کرتا ہے، ڈاکٹر جب کہ وہ زخمیوں کا علاج کرتا ہے، امیدیں جگاتا اور درد کم کرتا ہے، اور منتظم جب وہ لوگوں کے معاملات آسان کرتا ہے، ان سے مشقت کو دور کرتا ہے، اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جگہ پر ملک کی حفاظت کرتا اور لوگوں کی پہرے داری کرتا ہے۔ ہر وہ لمحہ جس میں تم کسی انسان کی مدد کرتے ہو اور ہر وہ کوشش جو تم لوگوں کی ضرورت پوری کرنے میں صرف کرتے ہو، وہ پوشیدہ عبادت ہے جو تمہارے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہے اور آخرت کی میزان میں تمہارے لیے رکھی جاتی ہے، اور وہاں کوئی بھلائی ضائع نہیں جاتی، کوئی کوشش مخفی نہیں رہتی اور کوئی احسان بھلایا نہیں جاتا۔

اللہ کی جاری سنتوں میں سے جو کبھی بدلتی نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ ویسا معاملہ کرتا ہے جیسا وہ لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اور جزا عمل کی جنس سے ہے۔ چنانچہ جو لوگوں کے لیے آسانیاں کرے گا اللہ اس کے لیے اس کا کام آسان کردے گا، جو کسی ضرورت مند کی مدد کرے گا اللہ اس کی مدد کرے گا، جو کسی کمزور اور پریشان حال پر رحم کرے گا اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اور ہرچند کہ بڑا اجر تو آخرت کے لیے مؤخر کیا جاتا ہے لیکن اس کی بشارتیں دنیا ہی میں مل جاتی ہیں، دل کو اطمینان ملتا ہے، اولاد و صحت میں برکت ہوتی ہے، کوشش میں توفیق ملتی ہے اور موت کے وقت حسنِ خاتمہ ہوتا ہے۔

اور اس برکت کے مخصوص ترین اور لوگوں کی روزمرہ کی زندگی سے قریب ترین مظاہر میں سے پاکیزہ کھانا اور رزق میں بڑھوتری ہے۔

 وہ ملازم جو اپنی ڈیوٹی کے وقت حلال روزی تلاش کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ لقمہ جو وہ اپنے اہل و عیال کے لیے پیش کر رہا ہے اس میں اس کے اخلاص کا پسینہ شامل ہے جو اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کا سبب بنا ہے۔ اور جس طرح عمل عبادت ہے اسی طرح اسے حرام یا کوتاہی کے شائبے سے بچانا اس عبادت کا تکملہ ہے۔ اسی سے زندگی خوشگوار ہوتی ہے، دعا سنی جاتی ہے اور زیادہ سے پہلے کم میں ہی قناعت مل جاتی ہے۔

اس کے بالمقابل جس نے لوگوں کے معاملات معطل کرکے انہیں مشقت میں ڈالا یا ان کے کام نپٹانے میں ان پر سختی کی، اللہ اس پر سختی کرے گا۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور اللہ کی سنتیں کسی کی رو رعایت نہیں کرتیں۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو فرمایا:

 اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ3

اے اللہ! جسے میری امت کی کوئی ذمہ داری دی گئی اور اس نے ان پر سختی کی تو تُو اس پر سختی کر، اور جسے میری امت کی کوئی ذمہ داری دی گئی اور اس نے ان پر شفقت برتی، تُو اس پر رحم فرما۔

ملازم جب یہ احساس رکھتا ہے کہ وہ عبادت میں ہے تو وہ صبر جمیل سے آراستہ ہوتا ہے اور لوگوں کی ضرورتوں کے لیے اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے۔ وہ اس نرمی سے مزین ہوتا ہے جو کام کو خوبصورت بناتی اور اس کی اصلاح کرتی ہے، اور وہ ہے چہرے کی بشاشت، اچھی بات، اچھی طرح سننا، کام کو آسان کرنا، بزرگ، محتاج اور تنگی میں پھنسے انسان کی حالات کی رعایت کرنا۔

 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

 إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ4

نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے۔

 اس کے بعد تواضع کا نمبر ہے، یہ حقیقی بلندی اور بلند قدری ہے جسے دل میں محسوس کیا جاتا ہے قبل اس کے کہ وہ نگاہوں میں دکھے۔ تواضع اختیار کرنے والا ملازم منصب کو لوگوں کی خدمت کا ذریعہ سمجھتا ہے، اسے برتری کا اسٹیج نہیں سمجھتا۔ وہ بڑے چھوٹے میں فرق نہیں کرتا، نہ جاہ و حشمت والے اور عام لوگوں میں فرق کرتا ہے۔ یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا جو سب سے بلند مقام کے حامل اور سب سے نرم دل والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلتے، ان کی ضرورتیں پوری کرتے اور تمام کی خدمت کرتے تھے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا5

اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں۔

میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور بقیہ تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے اللہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں۔ آپ سب بھی اس سے مغفرت طلب کریں، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

خطبہ ثانی:

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے زمین پر انسان کو خلیفہ بنایا اور اپنے حکم کے مطابق عمل کرنے والوں کو امانت بنایا۔ میں اس پاک ذات کی فروتنی اور طاعت کے ساتھ حمد بیان کرتا ہوں، اس سے مدد مانگتا ہوں اور مغفرت طلب کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور حمد ہے اور اسی کے لیے دلوں میں کمالِ عظمت ہے۔

 اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ رحمت و شفاعت کے دروازے ہیں۔ درود نازل ہو آپ پر اور آپ کے آل و اصحاب پر جن کے ذریعے دین کی حفاظت کی گئی اور سلامتی باقی رہی۔ میں خود کو اور آپ کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، یہ دلوں کا توشہ، کامیابی کا سبب اور نجات کا ذریعہ ہے۔

جو باتیں گزریں ان کی بنیاد پر ہر ملازم کو جاننا چاہیے کہ ملازمت کی زندگی چند ایام نہیں کہ گزر گئے اور بھلا دیے گئے، بلکہ یہ رقم کیے گئے صحیفے اور لکھے گئے رجسٹر ہیں جو ملازم کے انتظار میں ہیں اس دن جب وہ اللہ سے ملے گ

ا۔ اللہ کا فرمان ہے:

 فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ6

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔

پھر ہدایت والے نبی، رحمت والے رسول، دلوں کے چراغ، راستے کے نور پر درود بھیجو، یہ وہ ہستی ہے جسے اللہ نے اپنے آسمان میں عظمت بخشی اور اپنے ملأ اعلیٰ میں شرف سے نوازا۔

اللہ کا فرمان ہے:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا7

 اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجتے رہا کرو۔

اے اللہ اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، اتنا جتنا یاد رکھنے والے ان پر درود بھیجیں اور غافل لوگ ان کے ذکر سے غافل رہ جائیں۔

 اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، ان کے حالات سنوار دے، ان کو متحد کردے، ان کا معین و مددگار بن جا، اے اللہ فلسطین میں ان کی حفاظت فرما، اپنے اور ان کے دشمن ظالم صیہونیوں کے خلاف ان کی مدد فرما، مسجد اقصی کو محفوظ رکھ،

 اے قوت اور غلبہ والے! اے اللہ ہم تجھ سے جنت کا اور اس سے قریب کرنے والے قول و عمل کا سوال کرتے ہیں اور ہم جہنم سے اور اس سے قریب کرنے والے قول و عمل سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

 اے اللہ ہماری دنیا کو درست کردے جو ہمارے ہر کام کے تحفظ کا ذریعہ ہے، اور ہماری دنیا کو درست کردے جس میں ہماری گزر بسر ہے، اور ہماری آخرت کو درست کردے جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہماری زندگی کو ہمارے لیے ہر بھلائی میں اضافے کا سبب بنا اور موت کو ہمارے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا۔ اے اللہ تمام امور میں ہمارے انجام کو بہتر بنا، ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے، ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما، ہمارے بیماروں کو شفا دے، ہمارے معاملات کو آسان بنا دے، اور ہمیں مزید ایمان و ہدایت اور توفیق کی دولت سے مالا مال کر۔

 اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما، اے اللہ رحمت کی بارش نازل فرما جس میں کوئی عذاب، آزمائش، بربادی اور ڈوبنے کا خطرہ نہ ہو، جس بارش سے تو ملکوں کو زندگی دے اور بندوں کی مدد کرے اور جسے تو گاؤں دیہات ہر جگہ پہنچائے۔ اے اللہ ہمارے سربراہ خادم حرمین شریفین کو ان چیزوں کی توفیق عطا فرما جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہو، انہیں اور ان کے ولی عہد کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما اور ان دونوں سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا۔ اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ اے ہمارے رب ہمیں معاف فرما اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ باقی نہ رکھ، بے شک تو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔
 بے شک اللہ انصاف کا، نیکی کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور وہ بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ سو اللہ عظیم کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید نوازے گا، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

خطبہ جمعہ، مسجد نبوی
تاریخ: 11 شعبان 1447 ہجری بمطابق 30 جنوری 2026 عیسوی
خطیب فضیلۃ الشیخ: عبدالباری بن عواض الثبیتی

_____________________________________________________________________________

  1. (سورۃ آل عمران:102)
  2. ( أخرجه الطبراني فى «الكبير» برقم: 13646)
  3. (صحیح مسلم:18278)
  4. ( صحیح مسلم:6602)
  5. (سورۃ الفرقان:63)
  6. (سورۃ الزلزلة:07)
  7. (سورۃ الأحزاب:56)
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ

مسجد نبوی کے معروف خطباء میں سے ایک نام فضیلۃ الشیخ داکٹر عبدالباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ کا ہے ، جن کے علمی خطبات ایک شہرہ رکھتے ہیں۔

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ

Recent Posts

شب برأت کی حقیقت؟

ماہ شعبان میں پیارے نبی کریم ﷺ کا کیا معمول تھا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟…

5 hours ago

دل کی سختی اہم وجہ اور علاج!

امام ابن تیمیہؒ دل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کو کون سے…

2 days ago

بعثتِ نبوی ﷺ کا مقصد اور سیرت کا پیغام

نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح…

4 days ago

نکاح کی نیت سے RELATIONSHIP میں رہنا کیسا؟

اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…

5 days ago

موسم سرما میں شریعت کی رخصتیں اور سہولتیں

محترم قارئین کرام! ہم اس وقت سخت سردیوں کے موسم میں داخل ہو رہے ہیں۔جب…

1 week ago

سعادت کا راز

خطبہ اول: بلا شبہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد بیان…

2 weeks ago