اصلاحِ نفس و معاشرہ

اللہ کی ولایت اور اولیاء اللہ کا حقیقی مقام

خطبہ اول:

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور جس نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے۔ اس کی نعمتیں بے شمار ہیں اور اس کی نوازشیں بے انتہا ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ عظیم و بلند ہے اور عظمت و جمال و جلال والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ نے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھایا اور انہیں بے راہ روی اور ہلاکت کے راستے سے متنبہ کیا۔ اللہ درود نازل کرے آپ پر، آپ کے آل و اصحاب اور آپ کی بیویوں پر، تابعین پر اور ان لوگوں پر جو اچھی طرح ان کی پیروی کریں اور ان کے راستے پر چلیں اور اللہ بہت زیادہ سلامتی نازل کرے۔

 اما بعد:

 مومنوں! میں تم کو اور خود کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے، خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کرنے اور تنگدستی میں اللہ کی تقدیروں پر صبر کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔

امت مسلمہ علم کا شرف اس چیز کے شرف کی بنیاد پر ہے جس سے اس علم کا تعلق ہے اور سب سے افضل اور شریف علم وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ الرَّحْمَٰنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا1

 وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا وہ رحمن ہے، آپ اس کے بارے میں کسی جانکار سے پوچھ لیں۔

 اسی طرح جس قدر بندہ اپنے خالق کو پہچانے گا اسی قدر اللہ پر اس کا ایمان ہوگا اور اس سے ڈرے گا

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ2

 اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں میں سے ولی اور مولا یعنی کارساز و مالک ہے۔ ان دونوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اندر کئی مقامات پر فرمایا

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

 وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ3

 اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہو جانے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا۔

 دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۖ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ4

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز بنا لیے؟ اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے

* اَللّٰهُمَّ اٰتِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَيْرُمَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِيُّها وَ مَوْلَاھَا *5

 اے اللہ میرے نفس میں تقویٰ بھر دے اور اسے تو پاک کر تو ہی اسے سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا کارساز اور مالک ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہی جن و انس، جاندار اور جمادات تمام مخلوقات اور کائنات کا کارساز اور ان کے معاملات سنبھالنے والا ہے۔ اسی نے تنہا مخلوقات کو پیدا کیا اور ان کے معاملات کا نگہبان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ولایت یعنی نگہبانی دو قسم کی ہے ایک ولایت عامہ جو مومن و کافر اور نیک و بد سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا خالق و مالک ہے وہ ان کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور ان کی روزیاں مقدر و مقرر کرتا ہے۔ تمام بندے اس کی ولایت و نگہبانی کے ماتحت اور اس کی تدبیر کے تابع ہیں۔ دوسری قسم ولایت خاصہ ہے یہ محبت، تائید، مدد، حفاظت اور توفیق و ہدایت کی ولایت و نگہبانی ہے۔ یہ مومنوں اور اللہ کے نیک بندوں کے لیے خاص ہے

 اللہ کا فرمان ہےـ:

 اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ6

 ایمان والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔

مومن اپنے نفس سے لڑتا ہے اور اپنے رب کی ہدایت تلاش کرتا ہے جب وہ گناہ کرتا ہے تو توبہ کرتے ہوئے اپنے کارساز کی طرف لوٹتا ہے تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیادہ اچھا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ان چیزوں کی خبر دیتے ہوئے فرمایا جن سے ان کے دل مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں تقویت حاصل ہوتی ہے

 اللہ کا فرمان ہے:

 بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ7

 بلکہ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہترین مددگار ہے۔

یہ ولایت خاص مومنوں کے لیے ہے کافروں کے لیے نہیں

 جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَىٰ لَهُمْ8

وہ اس لیے کہ ایمان والوں کا کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس لیے کہ کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔

نبیﷺ نے فرمایا:

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِينَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ وَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا مِنْ الرُّمَاةِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ وَقَالَ لَا تَبْرَحُوا إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ فَلَا تَبْرَحُوا وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا فَلَا تُعِينُونَا فَلَمَّا لَقِينَا هَرَبُوا حَتَّى رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ فَأَخَذُوا يَقُولُونَ الْغَنِيمَةَ الْغَنِيمَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَبْرَحُوا فَأَبَوْا فَلَمَّا أَبَوْا صُرِفَ وُجُوهُهُمْ فَأُصِيبَ سَبْعُونَ قَتِيلًا وَأَشْرَفَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَا تُجِيبُوهُ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ قَالَ لَا تُجِيبُوهُ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ قُتِلُوا فَلَوْ كَانُوا أَحْيَاءً لَأَجَابُوا فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ فَقَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَبْقَى اللَّهُ عَلَيْكَ مَا يُخْزِيكَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ اعْلُ هُبَلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوهُ قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوهُ قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ9

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد میں زخمی اور آپ کے ستر صحابہ شہید ہو گئے تو ابوسفیان نے پہاڑی سے آواز دی اس وقت وہ مشرک تھے کیا تمہارے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے جواب نہ دیں۔ پھر اس نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ ابن ابی قحافہ موجود ہیں؟ آپ نے اس کا جواب دینے سے منع کر دیا۔ ابوسفیان نے پھر کہا کیا تمہارے ہاں ابن خطاب موجود ہیں؟ اس کے بعد وہ خود ہی کہنے لگے کہ یہ سب قتل کر دیے گئے اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔ اس پر حضرت عمر بے قابو ہو گئے اور فرمایا اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ذلیل کرنے کے لیے انہیں ابھی باقی رکھا ہے۔ ابوسفیان نے کہا اے ہبل تیرا نام بلند رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا جواب دو۔ صحابہ نے پوچھا ہم کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا تم کہو اللہ سب سے بلند اور بزرگ و برتر ہے۔ ابوسفیان نے کہا ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارے پاس کوئی عزیٰ نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا جواب دو۔ صحابہ نے پوچھا کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہو اللہ ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی مولا نہیں۔

ایمانی بھائیوں !اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کا نگہبان ہوتا ہے تو اسے چن لیتا ہے اس کو عزت بخشتا ہے اور اسے ہدایت دیتا ہے۔ جب بندہ اپنے رب سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو رب اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، جب بندہ اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو رب اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہے، جب بندہ اس کے پاس چل کر آتا ہے تو رب اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور اس کی خصوصی نگہبانی فرماتا ہے۔ یوسف علیہ السلام ہیں جنہیں کنوئیں کی تاریکیوں میں ڈال دیا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے قافلے کو پانی کا محتاج بنایا تاکہ انہیں نکالے اور عزیز مصر کی بیوی کو بچے کا محتاج بنایا تاکہ انہیں خریدے اور اپنا بیٹا بنا لے۔

 قیدیوں کو خواب کی تعبیر کا محتاج بنایا تاکہ وہ جیل سے نکل سکیں اور عزیز مصر کو اس بات کا محتاج بنایا کہ انہیں ملک کے خزانوں کا وزیر بنائے، پھر ان کے بھائیوں کو ان کے پاس لوٹنے کے لیے مجبور کیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے والدین سے ملایا اس حال میں کہ وہ غایت درجہ عزت و بلندی پر تھے۔

اللہ  تعالی نے فرمایا:

رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ10

اے میرے پروردگار تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے دنیا و آخرت میں تو ہی میرا ولی یعنی دوست اور کارساز ہے تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیک لوگوں میں ملا دے۔

بھائیوں اللہ جس کا کارساز ہوگا وہ اللہ کے لیے عمل کو خالص کرنے کی جدوجہد کرے گا، نفس کو اس کی خواہشات سے پاک کرے گا اسے اطاعت کی لگام سے باندھ رکھے گا اسے سیدھا کرے گا تو وہ سیدھا ہوگا اور اسے نرم کرے گا تو نرم ہوگا یہاں تک کہ اس کے حرکات و سکنات اپنے رب و مولا کی خوشنودی میں اور اسی وحدہ لا شریک کے لیے خالص ہوں گے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۖ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ11

 آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔

 اللہ جس کا کارساز ہوگا اس کا دل مطمئن ہوگا اس کی حالت استوار ہوگی اور اسے اپنے رب کی نصرت پر یقین ہوگا چنانچہ وہ ایک مضبوط قلعے اور مستحکم حفاظتی گاہ میں ہوگا۔

 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفَىٰ بِاللَّهِ نَصِيرًا12

اللہ بحیثیت کارساز کافی ہے اللہ بحیثیت مددگار کافی ہے۔

 اللہ جس کا کارساز ہوگا وہ اللہ سے بطور رب، اسلام سے بطور دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور نبی و رسول راضی ہوگا اور اللہ کی ولایت تک پہنچنے کا راستہ صرف اس کے نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ13

 کہہ دیجیے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

 اس لیے مومن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کرنے، ان کے منہیات سے بچنے، ان کے طریقے کو پہچاننے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے دنیا و آخرت کی سعادت سے سرفراز ہوگا۔

 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَۖنَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ۖ  نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ14

واقعی جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو بلکہ اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیے گئے ہو ۔تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لیے جنت میں موجود ہے ۔بے حد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

اللہ میرے لیے اور آپ کے لیے قرآن عظیم میں برکت دے اور مجھے اور آپ کو اس کی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ پہنچائے میں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے ہر گناہ و خطا کی مغفرت طلب کرتا ہوں آپ اس سے مغفرت طلب کریں بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔

خطبہ ثانی:

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو عرش عظیم والا ہے جس نے اپنی رحمت کو عام فرمایا وہی کارساز اور قابل حمد ہے۔ اس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی سعادت مند۔ اس نے اپنے اولیاء کو عزت بخشی اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور تمہارا رب بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمد ﷺاللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے آل و اصحاب پر بہت زیادہ سلامتی و درود نازل فرمائے۔

 اما بعد:

مومنوں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب مبین میں اپنے متقی اولیاء کی صفات بیان فرمائی ہیں ان کے بلند مقام اور اعلیٰ مرتبے کو واضح کیا ہے ان کے خوبصورت انجام اور ان کے پاکیزہ ٹھکانے کو بیان فرمایا ہے۔

 اللہ نے فرمایا:

 أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۖ  الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ15

 خبردار بے شک اللہ کے اولیاء پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔

 پس جو شخص ایمان والا اور تقویٰ اختیار کرنے والا ہے وہ اللہ کا ولی ہے کیونکہ اس نے باطن کی اصلاح ایمان کے ذریعے اور ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح تقویٰ کے ذریعے کی ہے اور جتنا اس کا ایمان اور تقویٰ ہوگا اتنا ہی اس کی اللہ سے ولایت، قرب و دوستی ہوگی۔ پس نہ اللہ کے مقرب اولیاء نے اور نہ ہی سبقت لے جانے والوں نے اللہ کے نزدیک کسی ایسی چیز کے ذریعے قرب حاصل کیا جو اسے اس کے ان فرائض و واجبات سے زیادہ محبوب ہو جنہیں اس نے فرض و لازم قرار دیا پھر انہوں نے نوافل میں محنت کی اور اپنی استطاعت کے مطابق انہیں ادا کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ ان سے محبت کرنے لگا۔

امت مسلمہ توحید کے عظیم ابواب میں سے ایک باب جس میں بعض قدم ڈگمگا گئے وہ ولایت ہے جب بعض لوگوں نے اس بابت اپنے اعمال کو کتاب و سنت کی میزان پر نہیں تولا اور نہ ہی انہیں سلف امت کے فہم کے مطابق منضبط کیا تو نتیجتاً اولیاء کے بارے میں غلو پیدا ہو گیا یہاں تک کہ بعض لوگ اللہ ہمیں اور ان کو ہدایت دے اللہ کے سوا اولیاء کو پکارنے لگے اور ان سے مدد طلب کرنے لگے وہ ان کے لیے قربانی کرتے، نذر و نیاز کرتے اور ان کی قبروں کے گرد طواف کرتے یہ سمجھ کر کہ یہ عمل انہیں اللہ کے قریب کرے گا اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اولیاء کو وسیلہ کیا یہ اولیاء وسیلہ ہیں اور سفارشی ہیں اور اللہ نے اس شبہے کو باطل قرار دیا فرمایا خبردار بندگی تو خالص طور پر اللہ کے لیے ہے اور جو لوگ اس کے سوا اولیاء کو اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم انہیں صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کریں بے شک اللہ ان کے درمیان اس بات میں فیصلہ کرے گا جس پر وہ اختلاف کرتے رہے ہیں بے شک اللہ کسی جھوٹے کافر کو ہدایت نہیں دیتا اور اللہ جل جلالہ نے غیر اللہ سے دعا کرنے کے بطلان کو واضح کرتے ہوئے یہ فرمایا۔

 إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ16

اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں  اور اگر وہ سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے  بلکہ قیامت کے دن تمہارے شریک اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا ۔

پتا چلا کہ نیک اولیاء بھی اللہ کے مکلف بندے ہیں ان کی کسی بھی قسم کی کوئی عبادت نہیں کی جائے گی نہ ان کی زندگی میں اور نہ ان کی موت کے بعد اور نہ ہی ان کی قبروں پر تعمیر کی جائے گی اور نہ قبروں کے مقام کو عبادت کے لیے اختیار کیا جائے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب کو بند کر دیا اس لیے انہوں نے قبروں پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا

نبی ﷺنے فرمایا:

 أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ17

خبردار بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بناتے تھے پس تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔

 اس سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ اولیاء کے حق میں افراط و تفریط یعنی کمی و زیادتی کا معاملہ نہ کیا جائے نہ ان کا مقام گھٹایا جائے اور نہ حد سے بڑھایا جائے بلکہ ہم ان سے اللہ کی خاطر محبت کریں گے ان سے راضی ہوں گے ان کے لیے رحمت کی دعا کریں گے اور یہ کہ اللہ ہمیں ان کے ساتھ نعمتوں والی جنت میں اکٹھا کرے۔

 اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ18

ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول ﷺتم پر گواہ ہوجائیں۔

پھر جان لو اے مومنوں !کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک عظیم و بابرکت حکم دیا جس کی ابتدا اس نے اپنی ذات سے کی ہے

 چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا19

بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی اس نبی پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی پڑھتے رہا کرو۔

 اے اللہ محمد آپ کے ازواج مطہرات اور ذریت پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی اور محمد پر اور آپ کے ازواج مطہرات و ذریت پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی بے شک تو ہی لائق حمد و بزرگی والا ہے۔

 اے اللہ خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے تمام صحابہ کرام اور تابعین سے اور ان کے نقش قدم پر قیامت تک چلنے والوں سے راضی ہو جا اور ہم سے بھی راضی ہو جا۔

خطبہ جمعہ مسجد الحرام
فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی حفظہ اللہ۔
 جمادی الثانی 1447ھ بمطابق 19 دسمبر 2025ء۔28

  1. (سورۃ الفرقان:59)
  2. (سورۃ فاطر:28)
  3. (سورۃ الشوری:28)
  4. (سورۃ الشوری:09)
  5. ( صحیح مسلم:6906)
  6. (سورۃ البقرۃ:257)
  7. (سورۃ آل عمران:150)
  8. (سورۃ محمد:11)
  9. (صحیح بخاری:4043)
  10. (سورۃ یوسف:101)
  11. (سورۃ الانعام:162:163)
  12. (سورۃ النساء:45)
  13. ۔(سورۃ آل عمران:۳۱)
  14. (سورۃ حم السجدہ:30تا 32)
  15. (سورۃ یونس:62تا 63)
  16. (سورۃ فاطر:31)
  17. (صحیح مسلم:532)
  18. (سورۃ البقرۃ:143)
  19. (الأحزاب:(الأحزاب:56))
فضیلۃ الشیخ ماھر المعیقلی حفظہ اللہ

Recent Posts

نکاح کی نیت سے RELATIONSHIP میں رہنا کیسا؟

اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…

3 days ago

اسلامی اخلاق و آداب سورۃ الحجرات کے تناظر میں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے…

1 week ago

آزمائش میں مومن کا کردار کیا ہو؟

انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی…

1 week ago

کیا ساس، سسر کی خدمت واجب ہے؟

کیا ساس، سسر کی خدمت شادی کے اہم مقاصد میں سے ہے؟ کیا بہو پر…

2 weeks ago

ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں، تین ہوں گی یا ایک؟

کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اجماع ہے؟ ایک مجلس…

2 weeks ago

“شبِ معراج منانا عبادت ہے یا بدعت؟”

کیا سفرِ معراج 27 رجب کو ہوا؟ کیا شبِ معراج منانا بدعت ہے؟ شبِ معراج…

2 weeks ago