سورۃ العصر کا پیغام
خطبہ اول:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور اس سے مغفرت چاہتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کی برائیوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے تم ہرگز کوئی کارساز اور راہ دکھانے والا نہیں پاؤ گے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ واحد احد ہے، بے نیاز ہے، بیوی اور اولاد سے پاک ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو انبیاء اور رسولوں کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کے تمام آل و اصحاب پر درود و سلام نازل کرے، اور آپ کے بھائیوں انبیاء اور رسولوں پر جنہیں اللہ نے لوگوں کی طرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے کی دعوت دی اور انہیں شرک کی مختلف صورتوں اور مہلک باطل عقائد سے آگاہ کیا اور ان سے اچھے طریقے سے بحث و مکالمہ کیا، یوں وہ اللہ کی طرف سے اس کی مخلوق پر حجت بن گئے۔
اما بعد:
لوگو، اگر تم مؤمن ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اس کی عبادت اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے اسی طرح کرو جیسے اللہ نے تمہیں اپنی عبادت اور توحید کا حکم دیا ہے۔ اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا اور تمہیں نبیِ رحمت کی امت میں شامل کیا۔
اللہ کا فرمان ہے:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ1
وہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، تمہارا تزکیہ کرتے ہیں اور تمہیں کتاب و سنت کی تعلیم دیتے ہیں۔
اللہ کے بندو، بیشک نصیحت کے اعتبار سے سب سے زیادہ نفع بخش اور بار بار دہرانے کے باوجود سب سے زیادہ شیریں کلام اس ذات کا کلام ہے جس نے قرآن کو صاف صاف بیان کرنے والا بنا کر نازل فرمایا اور خود ہی اس کی حفاظت کا ذمہ لیا۔ اور اسی میں سے قرآن کریم کی ایک سورت ہے جو تین آیات، چودہ کلمات اور اڑسٹھ حروف پر مشتمل ہے اور یہ سورۃ الحشر کے بعد نازل ہوئی ہے۔ یہ ایک مکمل اسلامی طرزِ عمل کی نمائندگی کرتی ہے اور انسان کے لیے ایک جامع نظام وضع کرتی ہے، انسان کو گھاٹے کی تباہی سے نجات دلاتی ہے، اس کی اس ذمہ داری کو واضح کرتی ہے جس پر نبی ﷺ نے اپنی امت کی تربیت کی۔ یہ ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ2
زمانے کی قسم، بیشک بالیقین انسان سرتا سر نقصان میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
خالق سبحانہ وتعالیٰ نے اس زمانے کی قسم کھائی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جس چیز کی چاہے قسم کھائے، لیکن بندوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھائیں۔
اللہ کے بندو!زمانہ وہ وقت ہے جس میں انسانوں کی تمام حرکات واقع ہوتی ہیں اور وہ زمانہ اپنے وقت کے حیرت انگیز امور پر محیط ہے۔ اس میں خوشحالی اور تنگدستی، صحت اور بیماری، دولت اور فقر، عزت اور ذلت، اطاعت اور نافرمانی، نیند اور بیداری، غفلت اور آگاہی، اجتماع و افتراق، محنت اور سستی، فائدہ اور نقصان، زندگی اور موت واقع ہوتی ہے۔
زمانہ انسان کو آخرت کی طرف لے جانے والی سواری ہے جو اسے اور اس کا ساز و سامان اٹھاتی ہے۔ یہ اعمال کی کھیتی ہے، چنانچہ انسان پر گزرتا ہر دن اسے آخرت کی طرف بڑھاتا ہے۔ اور انسان کا اصل سرمایہ اس کی عمر ہے، اگر وہ اسے کھیل کود میں ضائع کر دے تو خسارے میں ہو گا۔ اور کون سا نقصان اس سے بڑا ہو گا کہ وہ اپنے رب کی مناجات سے محروم ہو جائے؟
نبی ﷺ کا فرمان ہے:
. كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا3
ہر انسان صبح اٹھتا ہے، یا تو اپنی جان کو آزاد کرنے والا ہوتا ہے یا اسے ہلاک کرنے والا۔ یہ انسان کے نیک و بد اعمال کا خزانہ ہے۔
چنانچہ انسان اپنی زندگی کو یا تو گناہوں میں لگائے اور یہ بدترین اور شدید ترین نقصان ہے، یا اسے جائز کاموں میں لگائے۔
اگر وہ اپنی زندگی کو اطاعت اور عبادت میں صرف کرے تو عبادت اور خشوع کے درجات مختلف ہیں اور کوئی بھی عبادت ایسی نہیں کہ اسے اور بہتر اور کامل انداز میں انجام نہ دیا جا سکے، اگرچہ انسان کو نفع حاصل ہو جائے پھر بھی وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے بڑا نفع ضائع کر دیا جس پر وہ پچھتاتا ہے اور نقصان محسوس کرتا ہے۔ اور حصولِ نفع کی نشانی آخرت سے محبت اور اسے دنیا پر ترجیح دینا ہے، اور گھاٹے کی نشانی دنیا سے محبت اور اسے آخرت پر ترجیح دینا ہے اور میانہ روی میں ہی نجات ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ4
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى5
جو اپنی دنیا کو محبوب رکھتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اپنی آخرت کو محبوب رکھتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پس تم فنا ہونے والی چیز پر باقی رہنے والی چیز کو ترجیح دو۔ (مسند احمد :19697)
انسان خسارے میں غرق رہتا ہے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ فرمایا اور وہ لوگ ان چار خوبیوں ایمان، نیک عمل، حق کی نصیحت اور صبر و استقامت کی نصیحت کے حامل ہوتے ہیں۔
یہ خوبیاں وہ ہیں جن میں ایمانی قوت، جسمانی قوت، دینی و اخلاقی قوت کے ساتھ علم کی قوت اور مادی وسائل کی قوت بھی جمع ہو گئی ہے، اور جن میں معنوی اور حسی قوتیں یکجا ہو گئی ہیں۔ چنانچہ امت کے ہاتھ میں قیادت، سیاست، امر و نہی، سب کچھ آ گیا۔ اس نے عدل قائم کیا، امن و امان عام کیا اور اپنے تمام معاملات میں اللہ کے ساتھ رہی تو اللہ بھی ہر حال میں اس کے ساتھ رہا، یوں اس نے دنیا کو کامیابی اور سعادت کے راستے پر چلایا۔
سلف صالحین میں سے کسی نے کہا: میں نے سورۃ العصر کو بیس سال تک پڑھا مگر اس کا مفہوم پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا۔ میں سوچتا رہا کہ انسان کا اصل خسارے میں ہونا کیسے ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو ہر طرح کی تاکیدات کے ساتھ کیوں بیان فرما رہا ہے؟ پھر اللہ ان لوگوں کو خسارے سے کیوں مستثنیٰ قرار دیتا ہے جو ان چار صفات کے حامل ہیں؟
یہاں تک کہ ایک دن میں نے برف بیچنے والے کو سنا جو لوگوں کی ہمدردی لینے کے لیے پکار رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا: “اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھل رہا ہے۔” کیونکہ برف دراصل جما ہوا پانی ہے اور پانی کا جو قطرہ گر جائے وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا۔ اسی وقت میں نے سمجھ لیا کہ سورۃ العصر میں قسم کی یہی حکمت ہے۔
تو اے انسان! دنیا میں تمہارا اصل سرمایہ تمہاری عمر ہے اور تمہاری عمر کا جو لمحہ گزر گیا وہ دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔ ہم میں سے ہر ایک کا سرمایہ پگھل رہا ہے، لہٰذا مہلت ختم ہونے سے پہلے اپنے سرمائے پر توجہ دو۔ اور یہ سرمایہ وہ وقت ہے جس میں تم زندگی گزار رہے ہو۔ اس سے ہوشیار رہو جو تمہارا سرمایہ چرا رہا ہے، اور ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ وہ کون ہے جو اس کا سرمایہ چرا رہا ہے۔ اپنے سرمائے کا ایک لمحہ بھی اللہ کے ذکر یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز میں ضائع نہ کرو۔
اے مسلمانوں! زندگی کے ہنگامے میں اور خسارے اور گمراہی کی متلاطم موجوں کے بیچ اللہ کے کچھ مخلص بندے نظر آتے ہیں۔ وہ نیک مرد اور پرہیزگار اولیاء جو اپنے رب پر ایسا ایمان لائے جس نے انہیں تقویٰ اور کامیابی پر ابھارا۔ ایمان نے حق کو ان کے دلوں میں محبوب بنا دیا، اسے ان کے سینوں میں آراستہ کر دیا اور انہیں نیک اعمال کی رغبت دلائی اور انہیں خواہشاتِ نفس کے پیچھے چلنے سے روک دیا۔ یہ ایمان ان کے لیے شر سے بچنے کی ڈھال اور خیر کی طرف رہنمائی کرنے والا قائد بن گیا۔ یہی وہ بندے ہیں کہ جب لوگ گھبرا جاتے ہیں تو یہ نہیں گھبراتے، جب لوگ بیچین ہوتے ہیں تو یہ پُرسکون رہتے ہیں، جب لوگ حق سے منہ موڑتے ہیں تو یہ حق کو تھامے رکھتے ہیں اور جب لوگ آزمائش میں پڑتے ہیں تو یہ ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرتے ہیں۔
یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ غمگین ہوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے۔
اے مسلمانوں! اللہ عزوجل کا تقویٰ اختیار کرو، اللہ عزوجل اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اس کی تقدیروں پر صبر کرو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تلقین کرو۔ اللہ مجھے اور آپ سب کو قرآن میں برکت عطا فرمائے اور اس میں موجود ہدایت و بیان سے مجھے اور آپ کو نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے اللہ عظیم سے مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت مانگو، بیشک وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ایسی تعریف جو اس کی بقا کے ساتھ دائمی ہے۔ اللہ کے لیے تمام حمد ہے ایسی دائمی حمد جس کی بغیر مشیتِ الٰہی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ کے لیے تمام ستائش ہے ایسی دائمی ستائش جس کا ذکر کرنے والا صرف اللہ کی رضا چاہتا ہے۔ اور اللہ کے لیے ہر پلک کے جھپکنے اور ہر سانس کے چلنے کے ساتھ دائمی حمد ہے۔ اللہ کا درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد پر اور آپ کے آل و اصحاب پر اور اس پر جو آپ کی ہدایت پر چلے اور آپ کی دعوت جیسی دعوت دی۔
مسلمانوں! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ، اور اپنے نفسوں کو غفلتوں سے بیدار کرو اور انہیں ان کی نجات کے راستے پر چلاؤ۔ یاد رکھو، تم تو ٹھہرے ہوئے ہو اور موت تمہیں لیے جا رہی ہے، تم تو قیام پذیر ہو مگر ایام تمہیں لے کر رواں دواں ہیں۔ اور تم تو سوئے ہوئے ہو مگر موت تمہارے آنگن میں جاگ رہی ہے۔ تم دنیا کا مال و متاع چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت کو چاہتا ہے۔
اے مسلمانوں! جان لو کہ تم آزمائش کے گھروں میں ہو اور نتائج جلد ظاہر ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کر لو، اپنے عزائم کو مستحکم کر لو، محنت کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اور دین میں نئی ایجاد شدہ امور سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے کلام اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو، اور اللہ تعالیٰ کی عبادت علم و بصیرت کے ساتھ کرو، اس کا تقویٰ اختیار کرو، اس سے ڈرو، وہ تمہیں دیکھتا اور سنتا ہے۔ اور لا الٰہ الا اللہ کا زیادہ سے زیادہ ورد کرو، یہی جنت کی کنجی ہے۔ اپنے رب سے طلب کرو کہ وہ تمہیں اس مبارک کلمے پر ثابت قدم رکھے جو زبان پر ہلکا ہے لیکن میزان میں بھاری ہے، جو نامہ اعمال کو آراستہ کرنے والا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ملعون شیطان ناراض، اس کے ذریعے گناہ گار بندہ آگ سے بچتا ہے اور اس کے ذریعے بندہ ہمیشگی اور سلامتی والی نعمت تک پہنچتا ہے۔
مؤمن مرد اور خواتین! خوشخبری دینے والے، ڈرانے والے اور روشن چراغ پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجو
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا6
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی پڑھتے رہا کرو۔(ّسورۃ الأحزاب:56)
خطبہ جمعہ، مسجد الحرام،
تاریخ: 27 رجب 1447 ہجری بمطابق 16 جنوری 2026 عیسوی۔
خطیب فضیلۃ الشیخ عبداللہ الجہنی حفظہ اللہ۔
___________________________________________________________________________
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…