احکام و مسائل

بہادری، مردانگی اور نسلِ نو کی تربیت

[خطبہ اول]

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے ہر چیز کی تقدیر مقرر کی اور وہ ہر چیز سے پورا باخبر ہے۔ میں اس پاک ذات کی حمد کرتا ہوں، اس کا شکر بجا لاتا ہوں، اس نے ہمارے اوپر اپنی حفاظت کا پردہ ڈال رکھا ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں اس گواہی کو قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ بنا کر رکھتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار و نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جو جن و انس کے لیے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے، تاکہ عذر ختم کیا جائے اور ڈرایا جائے۔

اللہ درود و سلام اور برکت نازل کرے آپ ﷺ پر، آپ کے آل و اصحاب پر جن کے لیے اللہ نے اجر کو بڑھایا اور جن کے ذکر کو لازوال کر دیا۔ تابعین پر اور تا قیامت ان لوگوں پر جو ان کی اچھی طرح پیروی کریں۔ اللہ مزید بہت زیادہ مسلسل سلامتی نازل کرے۔

اما بعد:

لوگو! میں تم کو اور خود کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔ اللہ تم پر رحم کرے، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ جس کا دل صاف ہوگا وہ اللہ سے حسنِ ظن رکھے گا اور اس کی امیدیں خوشخبریوں سے کھل جائیں گی۔ جس کی نیت سچی ہوگی، اس کا ذکر لوگوں میں بلند ہوگا۔ جو اپنے رب کے صلہ پر یقین رکھے گا اس پر سکینت نازل ہوگی۔

اللہ کے بندے! اپنی زبان کو “رب اغفر لی” (اے رب مجھے بخش دے) کہنے کا عادی بناؤ۔ تمہارے رب کے یہاں قبولیت کی گھڑیاں ہیں۔ اور دیکھنے کی بنیاد پر لوگوں سے معاملہ کرو، سننے کی بنیاد پر نہیں۔ اور دو چیزوں کو بھول جاؤ: لوگوں کے ساتھ تمہارا احسان، دوسرا تمہارے ساتھ لوگوں کا برا سلوک۔ نرمی حکمت کی بنیاد ہے۔ عافیت کے برابر کوئی چیز نہیں۔ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتیں، برائی کو بھلائی سے دفع کرو، پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست۔ یہ بات انہی کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اسے سوائے بڑے نصیب والوں کے کوئی نہیں پا سکتا۔

مسلمانوں: ہر معاشرے کی اپنی بنیاد، خاندانی شرافت، اس کے اپنے اصول ہیں۔ یہی اس کی مضبوطی اور استحکام کا عنوان ہے۔ اس استحکام اور مضبوطی کا حصول تب ہی ہوگا جب خاندان باہم جڑے ہوں گے، اپنی خاندانی شرافت اور بنیاد پر کاربند ہوں گے، اپنے فرزندوں کو فضیلتوں، مردانگی اور اقدار پر پروان چڑھائیں گے۔ یہیں سے نسلیں ان اخلاق، شرافتوں، عادتوں، رسموں اور اچھی روایتوں کو ایک دوسرے سے لیتی ہیں۔

قرآنِ عزیز میں ہے:

 وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ1

 اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمایا ہے، خبردار تم مسلمان ہی رہنا۔

مسلمانوں! خاندانی شرافت، مردانگی اور عزت سے معاشرہ طاقتور ہوتا ہے۔ خاندان اپنے بندھن کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی نسلوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کی بدولت ممالک در اندازی اور داخلی کمزوری سے محفوظ رہتے ہیں۔ اللہ کے حکم سے فوائد اور حصولیابیاں برقرار رہتی ہیں۔

مسلمانو! حکمت کے اعمال اور تجربے کی راہوں میں سے یہ ہے کہ مردانگی کو اور قابلِ تعریف خصلتوں اور اچھے اخلاق کو مضبوطی سے تھاما جائے۔ قابلِ تعریف خوبیوں کو راسخ کیا جائے جن میں شرفاء مقابلہ آرائی کرتے ہیں اور جن سے وابستہ ہونے میں باکمال لوگ مشہور ہیں۔

بھائیو! مردانگی ایک شریفانہ موروثی صفت اور قابلِ تعریف ورثہ ہے۔ اس کی وجہ سے معاشرہ رفعت و بلندی، احترام اور بلند ادب پر قائم ہو کر دین، وطن اور امت کی تاریخ، زبان اور میراث پر فخر محسوس کرنے کے باوقار مقام پر فائز ہوتا ہے۔

مردانگی اپنے اندر طاقت و مہربانی، سختی و نرمی، بہادری، اپنی ذات اور دوسروں کے معاملے میں حق کی پابندی، دل کی مضبوطی، فکر کی سلامتی اور عقل کی شفافیت سمیٹے ہوئے ہے۔ جب مردانگی مستحکم ہوتی ہے تو اللہ کے حکم سے ناگہانی حادثات میں مدد اور مصائب کے وقت رسد ملتی ہے۔

مردانگی لمبے راستے والی سیدھی لکیر ہے جو علم و عمل، بھلائی، احسان اور ہر خوبصورت چیز کو سموئے ہوئے ہے۔ مردانگی عیبوں کو نکارتی ہے، مذموم کاموں سے نفرت کرتی ہے۔ مردانگی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو اس کے تمام مادی اور اخلاقی تقاضوں کے ساتھ نبھانا ہے۔ مردانگی انسان کو بلند امور پر ابھارتی ہے، اسے گھٹیا چیزوں سے بالاتر رکھتی ہے۔

تربیت جو سب سے بہتر کام انجام دیتی ہے وہ ہے “مردم سازی”، مردوں کی تربیت اور مردانگی کی تعمیر۔ اور مردوں کی تربیت صرف صحیح عقیدے اور بلند خصلتوں کے سائے میں ہوتی ہے۔

مسلمانو! مردانگی کی اپنی مضبوط بنیادیں اور اس کے مظاہر ہیں۔ وہ عظیم ترین چیزیں جو شرافت و مردانگی کو قائم رکھتی ہیں ان میں سے دین اور اپنی شناخت کو مضبوطی سے تھامنا، اپنے لوگوں اور اچھی روایات سے وابستگی پر فخر محسوس کرنا ہے۔ یہ ایسا ٹھوس راستہ ہے کہ اگر معاشرے نے اور تربیت کے مناہج نے اس کا خیال رکھا تو یہ اللہ کے حکم سے نسلوں کو ضائع ہونے، کمزور پڑنے اور منحرف ہونے سے بچائے گا۔

اللہ کے بندو! جو چیزیں مردانگی کی تعمیر کرتی ہیں ان میں سے احساسِ ذمہ داری، دین داری پر مضبوط پکڑ، حصولیابیوں کی حفاظت اور تاریخ اور میراث کی تعظیم پر بے لچک تربیت ہے تاکہ غلبہ و بلندی والے مستقبل کی طرف دانشمندانہ اقدام ہو سکے۔ احساسِ ذمہ داری کو راسخ کرنے سے اللہ کے حکم سے طاقتور نسلیں بنتی ہیں جو مقاصد کے حصول پر ڈٹ جاتی ہیں۔ پھر بلند چیزوں پر توجہ دینے اور بلند ہمتی کو کمزور کرنے میں اس وقت تعیش پرستی اور کمالیات میں مصروفیت کا کوئی بڑا کردار نہیں رہ جاتا۔

بھائیو! مردانگی کی بنیادوں میں سے علماء، سرکردہ شخصیات، تاجروں اور تجربہ کاروں کی ہم نشینی اختیار کرنا ہے۔ یہ نسلوں کے لیے ان کی شرافت کو، اپنے وطن اور اپنے لوگوں سے ان کی وابستگی کو اور اس وابستگی پر ان کے فخر و ناز کو محفوظ کرتا ہے۔

خوبصورت باتوں میں سے بعض خاندان کی عادات ہیں جیسے “بیٹھک، مجلسیں، دیوان خانے کھولنا”۔ زائرین کی موجودگی سے جو ہمیشہ معمور رہتے ہیں۔ ایسی مجلسیں جہاں معاشرے کے سرکردہ اور بزرگ لوگوں کی ضیافت کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی آراء، تجربات اور تعلیمات پیش کریں۔ جہاں تکریم و عزت افزائی کے مستحق اہلِ کمال اور کامیاب لوگوں کی عزت افزائی کی جائے۔ ان سب باتوں سے حقیقی مردانگی اپنے اصول اور اپنے علمی، عملی، تربیتی اور نفسیاتی آثار کے ساتھ راسخ ہوگی۔ بلکہ ان مجلسوں اور دیوان خانوں سے خاندانوں کے بچوں اور بچیوں کے ہنر پروان چڑھتے ہیں، ان کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں، ان کی سوچ اور افق میں توسع پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ ادب و اخلاق اور حسنِ معاملہ سیکھتے ہیں۔ بڑوں کی تعظیم کرنا، اعلیٰ مرتبہ والوں کی عزت کرنا اور لوگوں کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔

ان مجلسوں میں ہونے والے بحث و مباحثے، آراء اور فوائد کی بات ہی کچھ اور ہے جن کی بالواسطہ اور بلاواسطہ بڑی تاثیر ہوتی ہے۔

دینی بھائیو! مردانگی کی اہم ترین مضبوط بنیادوں میں سے بولنے، سیکھنے اور سکھانے میں “مادری زبان” کی پاسداری ہے۔ جب بات یہ ہے تو اس زبان کا معاملہ کیا ہو جو قرآن کریم کی زبان ہے، جو وحی عظیم اور سنتِ مطہرہ کی حامل ہے۔ انسان میں تعبیر کی کمزوری نقص و عیب ہے اور نقص، کمزوری اور کمزور گویائی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ ان لوگوں میں ہو جو رہنمائی، ہدایت اور قدوہ کے مقام پر قائم ہوں۔

سردارانِ قریش اپنے شیر خوار بچوں کو دیہات بھیجا کرتے تھے تاکہ وہ فصیح اور عمدہ زبانیں سیکھیں اور قوموں کو تب غلبہ حاصل ہوتا ہے جب ان کی زبانیں غالب ہوتی ہیں۔ شرافت اور مردانگی زبان کی سلامتی، لسانی مہارت کی ایک حد کا تقاضا کرتی ہے۔ جہاں سے ہم نیچے نہ اتریں۔ ضیاع، فکری سطحیت، لچر تحریر و تعبیر سے بچاتی ہے۔

نوجوانو! مردانگی کے ظہور کے بہت سے مقامات ہیں جیسے علم، اقتصاد، تجارت، ٹیکنالوجی۔ چنانچہ جو اسلام کی مدد کرنے، وطن کو بلند کرنے، امت کی شان بڑھانے، محمد ﷺ کے رب و دین سے وابستہ ہونا چاہے تو مردانگی کی راہ کھلی ہوئی ہے۔ اور جس کے لیے یہ میسر نہ ہو تو میسر ہونے پر اس کے کرنے کا عزم کرے۔

مجلسوں اور تربیت کے نمونوں میں سے ایک نمونہ ہے جہاں تک چھوٹے بچوں کے معاملے کی بات ہے۔ تو اللہ کے بندو! چھوٹے بچوں کی اچھی پرورش کرنے، ان کے حقوق کی حفاظت کرنے، ان کے اندر ادب کے بیج بونے کی اس تربیتی اثر کے تسلسل پر غور کریں۔

عَنْ سَيَّارٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ2

سیار” سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں “ثابت بنانی” کے ساتھ چل رہا تھا کہ ان کا گزر چھوٹے بچوں کے پاس سے ہوا تو انہوں نے انہیں سلام کیا۔ پھر ثابت کہتے ہیں میں انسؓ کے ساتھ چل رہا تھا کہ ان کا گزر چھوٹے بچوں کے پاس سے ہوا تو انہوں نے ان کو سلام کیا۔ اور انسؓ نے کہا میں نبی ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ ان کا گزر چھوٹے بچوں کے پاس سے ہوا تو انہوں نے ان کو سلام کیا۔

اس کے بعد، اللہ آپ کی حفاظت کرے۔ جب مردانگی کو اس کے نہج پر استوار کیا جائے تو اللہ کے حکم سے معاشرے، خاندانوں اور وطنوں کے امن و امان کا ضامن ہے، جو قابلِ تعریف کاموں کی طرف سبقت لے جانے کا باعث ہے۔ اور جو منفی، بے وقعتی، کمزوری اور بربادی کا صفایا کرتی ہے۔ خصوصاً ان مشکوک نعروں کے مقابلے میں جو معاشروں کو تباہ کرنے، وابستگی کو کمزور کرنے، امت کی سرکردہ شخصیات سے اعتماد کو چھیننے، اس کی جڑوں پر مضبوط پکڑ اور ان پر فخر کے احساس کو ختم کرنے کے لیے وہ نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔

مردانگی اور شرافت پر کاربند رہنا ہی راہِ ہدایت اور درست منہج ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا3

 مومنوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچ کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض موقع کے منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔

اللہ ہم کو اپنی کتاب کی آیات اور نبی ﷺ کی سنت سے فائدہ پہنچائے۔ ہم اپنے لیے اور آپ سب کے لیے دعا کرتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کی مغفرت فرمائے۔

[خطبہ ثانی]

ہر طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنی رحمت میں تمام بندوں کو شامل کیا، خاص طور پر اپنے فرمانبردار بندوں کو رشد و ہدایت سے سرفراز کیا۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں، اس کی نعمتوں اور نوازشوں پر اس کا شکر بجا لاتا ہوں۔ یہ نعمتیں شکر گزاری کے ساتھ فزوں تر ہوتی ہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ ہم مثل اور نظیر سے پاک ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے ان کے ذریعے دین کو مکمل کیا اور توحید کے نشانات قائم اور بلند کیے۔ اللہ درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر جو اصحابِ خیر و فضل اور اہلِ سعادت ہیں۔ تابعین پر اور ان لوگوں پر جو تا قیامت ان کی اچھی طرح پیروی کریں۔

اما بعد:

مسلمانو! مردانگی پر جو چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں، اسے کمزور کرتی ہیں، ان میں سے وہ مظاہر ہیں جو سوشل میڈیا پر ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسے سطحی چیزوں میں مگن ہونا، زیبائش و آرائش، چھوٹی چھوٹی چیزوں میں مبالغہ کرنا، خود کو بڑا سمجھنا، ذوق کو بگاڑنا، عبوری لمحے کو زیادہ اہمیت دینا، حقیر اور معمولی چیزوں پر تربیت کرنا۔

یہاں تک کہ لوگوں کے یہاں “لائک( (Like کرنے اور شیئر(Share)کرنے والوں کی تعداد اور نمبروں کی نمائش ہی معیار بن گئی ہے ، نہ کہ شرافت، مردانگی اور انسان کی حقیقی تعمیر۔ جب حقیر و معمولی اور سطحی چیزیں زیادہ رائج ہوں گی تو انہی چھوٹی، کمزور اور بے وقعت رجحانات پر رائے عامہ کی تشکیل ہوگی۔ اور انسان استعمال کرنے والا بنے گا ایجاد کرنے والا نہیں، مغلوب ہوگا غالب نہیں، کسی کے پیچھے چلنے والا ہوگا خود اعتماد نہیں ہوگا۔

ان وسائل کے استعمال کرنے والے کو یہ خیال ہے کہ وہ آزاد ہے، جو چاہے اختیار کر سکتا ہے، جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کا اسیر ہے جو اس کے لیے پہلے ہی تیار کی گئی ہیں اور ان تک اسے دھکیلا جا رہا ہے خواہ اسے اس کا پتہ ہو یا نہ ہو۔

یہ طرزِ عمل گہری سوچ سے روکتا ہے، فوری ردعمل کی طرف لے جاتا ہے۔ اس میں انسان اپنی ذات کا اظہار نہیں کر پاتا بلکہ وہ خود کو پیش کرتا ہے۔ وہ شرافت اور سنجیدہ زندگی کی تلاش نہیں کرتا بلکہ وہ نمائش، شہرت اور مقبولیت کی تلاش کرتا ہے۔

کے حصول کی جستجو کرتا ہے۔ (Viewers)  اور ویورز (Followers) زیادہ سے زیادہ فالوورز وہ بجائے اس کے کہ صاحبِ فکر انسان بنے، دیکھی جانے والی چیز بن کر رہ جاتا ہے۔

اس کی فکر ہوتی ہے کہ اس کی تصویر ظاہر ہو اور اس تصویر کو وہ بدلتا رہتا ہے۔ اس کی یہ فکر نہیں ہوتی کہ وہ اپنی مردانگی کی تعمیر کرے، اپنی فکر کو مالا مال کرے۔ وہ خود کی ویسے ہی مارکیٹنگ کرتا ہے جیسے سامان کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔

چھوٹے لوگوں کے معیار میں تصویر کو مواد پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ “فالوونگ” دلیل سے زیادہ اہم ہے اور تیزی سے “وائرل” ہونے کو مضمون پر مقدم سمجھا جاتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وطن، برادرانِ وطن، اس میں موجود دین داری، صالحیت، استقامت اور شرافت سے بے رخی برتی جاتی ہے۔ اس کی میراث، اس کی تاریخ، اس کی شناخت کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ بلند امور اور بلند ہمتی سے دوری ہونے لگتی ہے۔

اے والدین! اساتذہ اور معلمات! اے ذمہ داران! اپنی ذمہ داریاں ادا کرو۔ اپنے بچوں اور بچیوں میں فاضلانہ اخلاق راسخ کرو، ان کی اچھی طرح تربیت کرو، انہیں کمزوری اور بزدلی کے راستے سے بچاؤ۔ نسلوں کی دیکھ ریکھ، نئی نسل کی تعمیر، معاشرے کی حفاظت اور مردانگی کی تعمیر کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو فضیلت، پاکدامنی، حیاء اور شریفانہ اخلاق کی طرف لے جاؤ، انہیں برباد اور ضائع ہونے سے بچاؤ۔ انہیں فحش کاموں، جرائم کے راستوں اور حقیر چیزوں سے دور رکھو۔

سنو اللہ تم پر رحم کرے، اللہ سے ڈرو اور جان لو! خوش آئند نمونوں اور باوقار تصویروں میں سے فلسطین عزیز کے چھوٹے بچے، وہ ہمارے فرزند ہیں، جو اپنی عمر کے لحاظ سے بچے ہیں مگر اپنے کارناموں کے لحاظ سے مرد، اپنے موقف کے لحاظ سے بہادر ہیں۔ وہ بہادر بچے ہیں، ان کی نظروں کے سامنے ان کے باپ قتل کیے گئے، ان کے گھر ڈھا دیے گئے، اس کے باوجود وہ صہیونی ظالم و جارح دشمن کے خلاف اپنے پتھروں، لاٹھیوں، جسموں کے ساتھ ڈٹے رہے، جو متنوع، برتر اور تباہ کن ہتھیاروں کے ساتھ ہیں۔ اور وہ اس مردانگی کے ساتھ ڈٹے رہے جو ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتی ہے اور ذلت و رسوائی کو نکارتی ہے۔

بے شک شہیدوں کے خون اور بہادروں کے کارنامے، اللہ کے حکم سے خوددار نفس اور پستی قبول نہ کرنے والے دل پیدا کریں گے۔ فلسطین اور بیت المقدس عرب اور مسلمانوں کے دلوں میں بلند و بالا رہیں گے۔

یہ باتیں ہوئیں اور درود و سلام بھیجو۔ ہدیہ میں ملی ہوئی رحمت اور عطا کی گئی نعمت، اپنے نبی اور اللہ کے رسول محمد ﷺ پر۔ تمہارے رب نے اپنی محکم کتاب میں تم کو یہی حکم دیا ہے اور اپنے قول میں وہ سچا ہے

اس نے فرمایا:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا4

 بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔

اے اللہ! اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ، محبوبِ مصطفیٰ، نبی مجتبیٰ پر درود و سلام اور برکت نازل فرما۔ ان کے پاکیزہ اور پاکباز اہلِ بیت پر، ان کی ازواجِ مطہرات مومنوں کی ماؤں پر۔

اے اللہ! خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان و علی سے راضی ہو جا، تمام صحابہ سے، ان کے بعد آنے والے تابعین سے اور ان سے بھی جو قیامت تک احسان کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلیں، اور ہمیں بھی اپنی معافی، کرم، احسان سے ان کے ساتھ شامل فرما، اے ارحم الراحمین!

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل کر، ظالموں، ملحدوں اور دین و ملت کے تمام دشمنوں کو رسوا کر۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے ملک میں امن و امان عطا فرما، ہمارے رہنما و حکمرانوں کی اصلاح فرما، ہمارے معاملات ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرتے ہوں، پرہیزگار ہوں، تیری رضا کے پیروکار ہوں، اے رب العالمین!

اے اللہ! ہمارے سربراہ اور حاکم، خادم حرمین شریفین کو اپنی توفیق عطا فرما، انہیں اپنی فرمانبرداری کے ذریعے عزت و غلبہ عطا فرما، ان کے ذریعے اپنے کلمے کو بلند کر، انہیں اسلام اور مسلمانوں کی مدد کا ذریعہ بنا۔ انہیں اور ان کے ولی عہد کو، ان کے بھائیوں کو، معاونین کو وہ کام کرنے کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں اور جن سے تو راضی ہو، انہیں نیکی اور تقویٰ کی راہ پر گامزن رکھ۔

اے اللہ! مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی کتاب، اپنے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرما، انہیں اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت بنا، ان کے دلوں کو حق اور ہدایت پر اکٹھا کر دے۔ اے اللہ! دنیا بھر کے مسلمانوں کے حالات درست فرما، ان کے خون کی حفاظت فرما، ان کو حق و ہدایت اور سنت پر جمع کر دے۔ اے اللہ! امت اسلام کے لیے ایک صحیح مضبوط رہنمائی پیدا فرما جس میں تیری فرمانبرداری، عزت، گناہگاروں کی ہدایت ملے، نیکی کا حکم دیا جائے، برائی سے روکا جائے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

اے اللہ! غاصب، قابض یہودیوں کی گرفت کر، یقیناً تجھے عاجز نہیں کر سکتے۔ اے اللہ! ان پر وہ عذاب نازل فرما جو گناہگار قوموں سے نہیں ٹلتا۔ اے اللہ! ہم ان کے شر کو تیرے سپرد کرتے ہیں، ان کے فتنوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم ہر مصیبت سے تیری عافیت چاہتے ہیں، ہر عافیت پر تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہم ہر بری چیز سے تیرے ذریعے بچاؤ کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

اے اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ جو کچھ تو نے مقدر کیا اس میں نرمی کر اور جو فیصلے کیے ان پر ہماری مدد فرما، ہمیں اور ہمارے قدم کو پھسلنے سے محفوظ رکھ۔ اے ہر فریاد سننے والے، ہر مشکل دور کرنے والے، ہمیں ستر پوشی، عافیت اور تقویٰ کا لباس عطا فرما اور جنت الفردوس کو ہمارا ٹھکانہ بنا۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسباب آسان کر دے، دروازے بند نہ کر، ہمیں قبول ہونے والی دعاؤں کی توفیق دے۔

اے اللہ! ہمیں مزید عطا کر، کمی نہ کر، ہمیں نواز، محروم نہ کر۔ اے اللہ! ہم تیری تعریف کرتے ہیں، تو نے اپنی رحمت کے دروازے ہمارے لیے کھولے، اپنے فضل سے بادل ہم پر برسائے جنہوں نے آسمان کو اور زمین کو سیراب کیا۔ اے اللہ! ہم تیری نعمتوں سے خوش ہیں، تیری بھلائی، برکت اور مدد سے فرحاں ہیں، تیرے مزید فضل اور احسان کی امید رکھتے ہیں۔ تیری رحمت کے اثرات بندوں اور زمین پر اترنے کی امید رکھتے ہیں۔

اللہ کے بندو! اپنے رب کا خوب شکر ادا کرو، صبح و شام اس کی تسبیح کرو، اس سے مزید برکت والی بارش طلب کرو، دعا کرو وہ اپنی سخاوت اور فضل سے اسے زیادہ کرے۔ ہمارے رب کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، ہمیں نا امید نہ کر، ہم تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں۔ اے اللہ ہم تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، تو بخشنے والا ہے، ہمارے اوپر موسلا دھار بارش نازل فرما۔

پاک ہے تیرا رب جو عزت کا مالک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں، اور سلام ہو پیغمبروں پر، اور تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

مسجد الحرام  خطبہ جمعہ

 خطیب:ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید حفظہ اللہ

(تاریخ: 21 جمادی الثانی 1447ھ بمطابق 12 دسمبر 2025ء)

_________________________________________________________________________________________________________________

  1. (سورۃ البقرۃ:132)
  2. (صحیح مسلم:5665)
  3. (سورۃ الأحزاب:23)
  4. (سورۃ الأحزاب:56)
فضیلۃ الشیخ صالح بن حمید حفظہ اللہ

Recent Posts

جرابوں پر مسح کرنا اجماع کے خلاف ہے؟

کیا مسح صرف چمڑے کے موزوں پر ہی ہوتا ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنے…

2 days ago

عبادت میں دل نہیں لگتا، کیا کریں؟

عبادت میں دل کیوں نہیں لگتا؟ عبادت میں دل کیسے لگائیں؟ عبادت کے اثرات ہماری…

4 days ago

تاریخِ اسلام کی ایک دلچسپ اور انوکھی شادی

ایک غریب صحابی کے رشتے کے لیے نبی کریم ﷺ نے کس گھرانے کو منتخب…

4 days ago

کیا اہلِ حدیث کے فقہی مسائل اجماع کے خلاف ہیں؟

مسئلہ تین طلاق پر اجماع کے دعوے کی حقیقت؟ "حلالہ" کی حقیقت اور شرعی حیثیت؟…

7 days ago