احکام و مسائل

آیت الکرسی کی فضیلت و اہمیت

خطبہ اول:

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے اس کی پناہ لی اس نے اس کی ہر اذیت سے حفاظت کی، اس سے ہر مصیبت کو دور کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے اللہ درود و سلام نازل فرما ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر۔

اما بعد:

اللہ کا کماحقہ تقویٰ اختیار کرو اور خوشحالی و بدحالی میں اس سے خوف کھاؤ۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ1

 اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم ہو۔

مسلمانو! اللہ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت آیت الکرسی ہے جو کہ نبی ﷺ سے ثابت ہے۔

 اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَنُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

جو آیت الکرسی پڑھے گا برائیوں سے محفوظ رکھا جائے گا اور شیطانوں کی اذیت سے بچایا جائے گا۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ ؛ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلَا يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ2

جس نے اسے سونے کے وقت پڑھا، اس کے ساتھ اللہ کی جانب سے ایک حفاظت کرنے والا فرشتہ لگا رہتا ہے اور اس سے شیطان قریب نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی صبح ہو جائے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی اسے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی سوائے موت کے۔

آیت الکرسی کے اندر توحید کے دلائل کامل اور مکمل ترین صورت میں موجود ہیں۔ یہ آیت ایسے معانی پر مشتمل ہے جو اللہ کے کمال اور جلال و جمال پر دلالت کرتے ہیں۔

اللہ کا فرمان ہے:

 “اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ”

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے بارے میں یہ خبر ہے کہ وہی معبودِ برحق ہے جو حتمی طور پر تمام قسم کی عبادت، اطاعت اور عبودیت کا مستحق ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت سب سے بڑا باطل اور سب سے سنگین ظلم ہے۔ اور یہ کہ تمام مخلوقات کا صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی تنہا معبود ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ غیر اللہ کی ہر عبادت باطل ترین ہے۔

“الْحَيُّ الْقَيُّومُ”

پھر اللہ نے اپنا وصف بیان کیا اور فرمایا :وہ اللہ عزوجل زندہ ہے، ایسی حیات والا ہے جو کامل و دائم اور ابدی و ازلی ہے۔

 ایسی حیات جس سے قبل عدم نہیں اور نہ جس کے بعد فنا یا زوال ہے۔

 اس کا فرمان ہے:

 وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ3

اس ہمیشہ زندہ رہنے والے اللہ پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں۔

اور وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کامل قیومیت والا ہے، اپنے ماسوا سے بے نیاز ہے، تمام موجودات کا کارساز ہے، وہی ان کا نگہبان اور ان کا مدبر ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد سے وہ قائم ہیں۔ اللہ کے کمال اور تمامِ حیات اور کمالِ قیومیت میں سے یہ ہے کہ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں کامل ہے۔ اسے کسی بھی شکل میں کوئی نقص لاحق نہیں ہوتا۔ چنانچہ نہ اسے اونگھ آتی ہے، اور نہ نیند اور نہ سہو و غفلت۔

اسلامی بھائیو! اس آیت میں یہ سچی خبر ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب باعتبارِ خلق و ملکیت اور تدبیر کے، اللہ ہی کی قوت و بادشاہت، جبروت اور قدرت اور مشیت کے ماتحت ہیں۔

اللہ کا فرمان ہے:

 لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ

 آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملکیت ہے۔
اس کی عظمت و جلال اور کبریائی یہ ہے کہ کوئی بھی اس کے یہاں سفارش کرنے کی جرات نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ اللہ اجازت دے۔ اور وہ اہلِ توحید و ایمان میں سے صرف اسی کی سفارش کرے جس سے اللہ راضی ہو۔

اللہ کا فرمان ہے:

مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ

  کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے۔

 اور ہمارے نبی ﷺ اہلِ موقف کے لیے سفارش کرنے والے سب سے افضل مخلوق ہیں۔ جب تمام انبیاء معذرت کر لیں گے اور ان میں سے ہر ایک ‘نفسی نفسی’ کہیں گے تو لوگ ہمارے نبی محمد ﷺ کے پاس آئیں گے

نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ4

 اور ہمارے نبی ﷺ فرمائیں گے: “ہاں میں سفارش کروں گا”۔ آپ ﷺ عرش کے نیچے اللہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے سجدہ ریز ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ آپ پر معانی اور دعاؤں کے دروازے کھولے گا یہاں تک کہ آپ ﷺ سے کہا جائے گا: “اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کیجیے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔

اسلامی بھائیو! اللہ تعالیٰ کا فرمان:

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ

  یعنی وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علم کے بارے میں خبر ہے، اسے کامل علم ہے اس کا جو ہوا اور جو ہونے والا ہے اور جو نہیں ہوا اگر وہ ہوتا تو کیسا ہوتا۔ ایسا علم جو تمام چیزوں کو ان کے ہونے سے پہلے، ہونے کے بعد اور فنا کے بعد محیط ہے۔ جو ظاہر و باطن، ماضی و حال اور مستقبل تمام کو جانتا ہے۔ وہ کلیات کے تمام تفصیل کو اور جزئیات کے ساتھ جانتا ہے۔

 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطًا5

 اس کا علم تمام چیزوں کو محیط ہے۔

جہاں تک مخلوقات کی بات ہے تو ان کے پاس علم نہیں سوائے اس علم کے جو اللہ نے انہیں سکھایا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا:

 وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ

 یعنی اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔

 معلوم ہوا کہ ان کے پاس اس زندگی میں واقع ہونے والے شرعی و قدرتی امور کی نہ معرفت ہے اور نہ کوئی علم، سوائے اس کے جس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں مطلع کر دیا ہے اور انہیں سکھا دیا ہے۔

جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:

لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا6

 ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا رکھا ہے۔

ایک اور جگہ فرمایا:

مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ

آسمانوں اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا۔(سورۃ النمل:۶۵)
اسی طرح اللہ کے اسماء و صفات اور افعال کا ہمیں اتنا ہی علم ہے جتنا ہم نے قرآن و سنت سے اس امت کے سلف یعنی صحابہ و تابعین کے فہم کے مطابق جانا ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ کے کمالِ عظمت اور وسیع بادشاہت میں سے یہ ہے کہ اس نے خبر دی ہے

وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ

: یعنی اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے

ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: صحیح بات یہ ہے کہ کرسی عرش کے علاوہ ہے اور عرش اس سے بڑا ہے، جیسا کہ اس پر آثار اور اخبار دلالت کرتے ہیں۔

اس کرسی کی وسعت اور عظمت میں سے یہ ہے کہ یہ کرسی آسمانوں اور زمین کو، اور جو اشیاء، مخلوقات اور کائنات ان میں اور ان کے درمیان ہیں، سب کو محیط ہے۔

ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: “ساتوں آسمان کرسی کے مقابل ایسے ہیں جیسے صحرا میں پڑا ہوا ایک کڑا، اور کرسی کے مقابلے میں عرش کی عظمت ویسے ہی ہے جیسے کڑے کے مقابلے میں صحرا کی۔”

اللہ کے بندو! یقیناً اللہ سبحانہ و تعالیٰ قوت و طاقت والا زور آور ہے، کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی، ہر چیز اس کی تدبیر و تصرف کے ماتحت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ:

وَلَا يَنُودُهُ حِفْظُهُمَا

اللہ تعالی  ٰ پر ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں۔

 یعنی اس پر آسمانوں اور زمین کی حفاظت اور نہ ان چیزوں کی حفاظت بھاری اور دشوار ہے جو ان میں اور ان کے درمیان ہیں، بلکہ یہ اس پر آسان و سہل ہے۔ ساری چیزیں اللہ کے سامنے حقیر، پست، چھوٹی اور ذلیل ہیں اور اپنے وجود و بقا کے لیے اس کی قدرت کی محتاج اور ضرورت مند ہیں۔

 اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا7

 “یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔

اور فرمایا:

 لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ8

اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔

اس آیت کے اخیر میں اللہ عزوجل اپنے آپ کو غایت درجہ کمال سے متصف کرتا ہے،

وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

(وہ تو بہت بلند بہت بڑا ہے)۔ اپنی ذات میں اپنی تمام مخلوقات پر بلند ہے۔

 اس کا فرمان ہے:

اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ الرَّحْمَٰنُ9

جو رحمان ہے، عرش پر مستوی ہے۔

وہ اپنی صفات کی عظمت اور ان کے جمال و جلال میں بلند ہے۔ اور وہ “الکبیر المتعال” یعنی سب سے بڑا اور سب سے بلند و بالا ہے۔ ایسا بلند جو تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ ساری موجودات جس کے تابع فرمان ہیں، جس کے سامنے مضبوط سے مضبوط ترین چیزیں پست ہیں اور گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔
اور “وھو العلی الکبیر” یعنی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے اور “وھو القاھر فوق عبادہ” یعنی وہی اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ وہ اپنی ذات، صفات اور بادشاہت میں عظیم ہے۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :

  الْعِزُّ إِزَارُهُ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَاؤُهُ. فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ10

اس حدیثِ قدسی میں وارد عظمت و کبریائی کی تمام صفات کو جامع ہے: “عزت میرا ازار ہے اور کبریائی میری ردا ہے، جو شخص ان صفات میں میرا مقابلہ کرے گا میں اسے عذاب دوں گا۔

اللہ کے بندو! اللہ کی کماحقہ تعظیم کرو، اس کی کماحقہ قدر کرو، اس کی شریعت کی تعظیم کرو، اس کے اوامر اور اس کے رسول کے احکام کی پابندی کرو، کامیاب و کامران اور سعادت مند ہو گے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ11

اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیے رہو اے عقلمندو! تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

اے اللہ! ہمیں وہ سکھا جو ہمیں فائدہ پہنچائے اور ہمیں مزید ہدایت، ایمان اور توفیق سے نواز۔ اے اللہ ہماری لغزشیں معاف کر، ہمارے گناہ مٹا دے اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں شامل کر لے۔


خطبہ ثانی

میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے اللہ درود و سلام نازل فرما آپ پر اور آپ کے آل و اصحاب پر۔

اللہ کے بندو! کتاب و سنت میں وارد اوصاف اور اوراد کی پابندی کرو، انہیں اپنے اہل و اولاد کو سکھاؤ، ان میں خیرِ عظیم ہے اور مضبوط ڈھال ہے۔ اللہ پر کماحقہ بھروسہ کرو، جس نے اس پر بھروسہ کیا اللہ اس کی پریشانیوں میں اس کے لیے کافی ہو گیا۔

 اللہ کا فرمان ہے:

 وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ12

 اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا، اللہ اسے کافی ہوگا۔

اے اللہ درود و سلام نازل فرما ہمارے نبی محمد پر اور اے اللہ راضی ہو جا ان کے آل و اصحاب سے۔

اے اللہ اپنی حفاظت میں ہمیں محفوظ رکھ۔ ہمیں اپنی نگہبانی میں لے لے۔ ہمیں اپنی توفیق و درستی سے نواز۔ اے اللہ مسلمان مرد و خواتین کو بخش دے۔ اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کی حفاظت فرما، ان کی صفیں متحد کر دے۔ ان میں اتحاد و اتفاق پیدا کر، ان سے فتنے ختم کر۔ ان کے فقیروں کو مالدار کر دے، ان کے خوفزدہ کو امن عطا فرما۔ ان کے فوت شدگان پر رحم فرما، انہیں بخش دے۔
اے اللہ! خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو توفیق یاب کر، انہیں درست راہ پر رکھ اور ان کی حفاظت فرما اور انہیں ان کاموں کی توفیق دے جسے تو پسند کرتا ہو اور جن سے تو راضی ہو۔
اور مسلمانوں کے تمام حکمرانوں کو ان کاموں کی توفیق دے جسے تو پسند کرتا ہو اور جن سے تو راضی ہو اور انہیں تمام ہدایتوں کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ ہمیں بارش سے نواز۔ اے اللہ ہمارے کمزوروں کی مدد فرما۔ اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کی مدد فرما۔
اے اللہ ہم تیرے فضل و کرم کا سوال کرتے ہیں۔ اے کریم! اے بہت زیادہ کرم کرنے والے! اے بہت زیادہ رحم کرنے والے! اے اللہ ہماری دعائیں قبول فرما۔
ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔

خطبہ جمعہ مسجد نبوی

 14 جمادی الثانی 1447 ہجری (بمطابق 05 دسمبر 2025 عیسوی : تاریخ
خطیب: فضیلۃ الشیخ حسین آل شیخ (حفظہ اللہ) 

_________________________________________________________________________________________



  1. (سورۃ الحجرات:10)
  2. (صحیح بخاری:3275)
  3. (سورۃ الفرقان:58)
  4. (صحیح بخاری :4712)
  5. (سورۃ النساء:126)
  6. (سورۃ البقرۃ:32)
  7. (سورۃ فاطر: 41)
  8. (سورۃ الرعد:11)
  9. (سورۃ الفرقان:59)
  10. (صحیح مسلم:2620)
  11. (سورۃ المائدہ:۱۰۰)
  12. (سورۃ الطلاق:03)
فضیلۃ الشیخ جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

آپ مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے خاندان سے ہیں، بنو تمیم سے تعلق ہے، آپ نے جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے ماجستیر کی ڈگری حاصل کی ، پھر مسجد نبوی میں امام متعین ہوئے اور ساتھ ساتھ مدینہ منورہ میں جج کے فرائض بھی ادا کررہے ہیں۔

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

Recent Posts

جرابوں پر مسح کرنا اجماع کے خلاف ہے؟

کیا مسح صرف چمڑے کے موزوں پر ہی ہوتا ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنے…

2 days ago

عبادت میں دل نہیں لگتا، کیا کریں؟

عبادت میں دل کیوں نہیں لگتا؟ عبادت میں دل کیسے لگائیں؟ عبادت کے اثرات ہماری…

4 days ago

تاریخِ اسلام کی ایک دلچسپ اور انوکھی شادی

ایک غریب صحابی کے رشتے کے لیے نبی کریم ﷺ نے کس گھرانے کو منتخب…

4 days ago

کیا اہلِ حدیث کے فقہی مسائل اجماع کے خلاف ہیں؟

مسئلہ تین طلاق پر اجماع کے دعوے کی حقیقت؟ "حلالہ" کی حقیقت اور شرعی حیثیت؟…

6 days ago