اصلاحِ نفس و معاشرہ

آپ کا دوست و ہم نشین کیسا ہو؟

خطبہ اول:

تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جو دانہ اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے، میں اس پاک ذات کی اس کی بے شمار نعمتوں پر حمد بیان کرتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، وہ زمین اور بلند آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جو چنیدہ نبی، پسندیدہ رسول اور وہ محبوب ہیں جن پر جان قربان کی جائے۔

 اے اللہ درود و سلام نازل کر اپنے بندے اور رسول محمد پر، ان کے آل و اصحاب پر جو ہدایت کے پیشوا اور اندھیرے میں چمکتے ستارے ہیں، تابعین پر اور ان پر جو اچھی طرح ان کی پیروی کرے اور ان کے نقش قدم پر چلیں۔

 اما بعد:

اللہ کے بندو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے، ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا۔ سو جس نے ذرہ برابر بھی بھلائی کی ہے اسے وہ دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہے اسے وہ دیکھے گا۔

 مسلمانو! جب خطرات آ گھیریں اور مصائب بڑھ جائیں تو عقلمند لوگ نئی نسل کی طرف ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے دولت مند اپنی دولت کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس لیے وہ ہر اس راستے پر چلنے کے لیے تیز گام ہونا ضروری سمجھتے ہیں جس پر چل کر وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ نئی نسل کی حفاظت اور اس کا دفاع اس طرح کرتے ہیں کہ قلعہ محفوظ ہوتا ہے، مصیبت دور ہوتی ہے اور حملہ آور کو روکا جاتا ہے کیونکہ امت کے وجود کو تحفظ دینے اور اس کی ترقی کی عمارتوں کو بلند کرنے میں امت کے نوجوانوں کی حفاظت کا بڑا اثر ہے۔ کہ یہ امت باقی تمام امتوں کے بیچ اپنے مناسب مقام پر فائز ہو جاتی ہے اور ویسی ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے چاہا ہے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ1

 سب سے بہتر امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے۔

 نئی نسل کی پوری دیکھ بھال اور اس کی خوبصورت نگہبانی دلوں پر راج کرنے اور نفسوں کو گرویدہ بنانے کے قوی ترین اسباب میں سے ہے۔

  اسی طرح یہ دیکھ بھال اور نگہبانی صحیح عقیدے کو راسخ کرتی ہے، علم و عمل کے ذریعے دین کے احکامات کی حفاظت کرتی ہے، اچھے اخلاق کے بیج بوتی ہے، نیک خصلتوں کی عادت ڈلواتی ہے اور عیبوں، خرابیوں اور ہر اس چیز سے نفرت دلاتی ہے جس کے لیے معذرت کی جائے۔ یہ دیکھ بھال اور نگہبانی اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ ہمنشینی، ہم مجلسی اور باہمی معاشرت کے معاملے میں نئی نسل کی اچھی طرح خبرگیری کی جائے۔ کیونکہ یہ حاصل ہونے والی ترقی یا تنزل، کامیابی یا ناکامی، بے چینی یا سکون کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔

اللہ کے بندو، چونکہ انسان کے نفس پر اس کے ساتھی یا ہمنشین کا گہرا اثر ہوتا ہے، اس لیے کامل حکمت میں سے یہ ہے کہ اس کے معاملے میں احتیاط برتی جائے اور سوچ سمجھ کر اس کے ساتھ دوستی کا رشتہ جوڑا جائے یہاں تک کہ اس کے حالات کی جانچ پڑتال کر لی جائے، اس کی حقیقت نمایاں ہو جائے اور اس کے دین و اخلاق پر اعتماد بحال ہو جائے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصول کو بلیغ ترین انداز میں بیان کیا ہے چنانچہ آپ نے آگاہ اور متنبہ کرتے ہوئے فرمایا:

الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ2

آدمی اپنے دوست کے دین پرہوتا ہے ، اس لیے تم میں سے ہرشخص کویہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہاہے

 اور چونکہ ایک طبیعت دوسری طبیعت سے اثر قبول کرتی ہے اور انسان اس راستے پر جلدی چل پڑتا ہے جسے اس کا دوست ترجیح دیتا ہے اور چنتا ہے،

اس لیے نبی ﷺنے ایک جامع مثال ذکر کی ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا:

مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً3

اچھے اور برے دوست کی مثال مُشک بیچنے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے، مُشک بیچنے والا تجھے ہدیہ دے گا یا اس سے تو خریدے گا یا کم از کم خوشبو سے محظوظ ہوگا اور بھٹی پھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا یا کم از کم تجھے اس کے پاس بدبو ملے گی۔

 اگر دوست ان لوگوں میں سے ہو جو کمی پوری کرتے ہیں، غلطیاں معاف کرتے ہیں، لغزشوں کو درگزر کرتے ہیں، عیبوں کو چھپاتے ہیں، اپنے ساتھی کو بھلائی کی طرف بلاتے ہیں اور اس میں اس کی نگرانی اور مدد کرتے ہیں، اطاعت کو اس کے لیے خوشنما بناتے ہیں اور نافرمانی کو بدنما بنانے کے ساتھ مسلسل یاد دہانی، تنبیہ اور آگاہ کرکے اس کے اور نافرمانی کے درمیان حائل ہوتے ہیں تو وہ ایسا نیک دوست ہے جس سے اس کا ہمنشین سعادت مند ہوتا ہے اور اس کی ہمنشینی سے اس کا انجام بہتر ہوتا ہے۔

لیکن اگر دوست ان لوگوں میں سے ہو جو بدنما چیز کو خوشنما بناتے ہیں، برے اقوال و اعمال، بگڑے عقائد اور گمراہ فرقوں کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں اور ان کے جھنڈا تلے سمٹ آنے اور ان کے گڑھوں میں گر کر ہلاک ہونے پر ابھارتے ہیں تو یہ ایسا برا دوست ہے جس سے اس کا ہمنشین بدبخت ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے، جب اس کی فرمانبرداری کرے گا اور اپنا معاملہ اس کے سپرد کرے گا تو اسے وہ ہلاکت اور آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا اور اس وقت مارے ندامت کے دانت پیسے گا جب اس کی ندامت کوئی فائدہ نہ دے گی۔

اللہ کا فرمان ہے:

 وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ؐيَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًاؐ لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا4

 اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول کی راہ اختیار کی ہوتی! ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا! اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے۔

 اس لیے عجب نہیں کہ اس گروہ کی دوستی عداوت میں بدل جائے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ5

 اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔

اور یہ بھی عجب نہیں کہ عقلمند آدمی اپنی ہم مجلسی اور ہمنشینی کا حد درجہ خیال رکھے اور خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اسے صرف اہلِ ایمان کے لیے مختص کرے اور اصحاب تقویٰ سے متعلق رکھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ6

مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے۔

اللہ کے بندو، ضروری ہے کہ ہمنشینی اللہ کی خوشنودی کے لیے خالص ہو، مفادات سے پاک ہو اور خواہشات سے دور ہو، بایں طور کہ وہ ایمان کے سائے میں پروان چڑھے اور عقیدے کی حکمرانی کے ماتحت ہو، یوں مومن اپنے دل کے تمام رجحانات اور اپنے اعضاء و جوارح کے حرکات و سکنات میں اسی عقیدے کی حکمرانی کے اوامر و نواہی کو بجا لائے۔ اس وقت اس کی محبت سے اہلِ خیر و صلاح آخرت میں اپنے مقام سے اوپر کئی درجات بلندی پر فائز ہوں گے۔ اس طرح وہ اس شخص سے جا ملیں گے جس سے محبت کی ہے اگرچہ اس کے جیسا عمل نہ کیے ہوں،

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھا:

 جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ 7

اے اللہ کے رسول، اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو کسی قوم سے محبت کرے مگر اس سے وہ ملا نہیں؟” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “آدمی ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے وہ محبت کرتا ہے۔

 پھر اس دور کے وسائل کی ترقی خصوصاً ذرائع ابلاغ میں انٹرنیٹ، چینلز اور سوشل میڈیا وغیرہ کی ترقی، ہمنشینی اور ہم مجلسی کے مفہوم کو نئے مفاہیم کی طرف منتقل کرنے میں اثر انداز ہوئی ہے۔

 یوں ان وسائل پر چل رہی ہمنشینی میں وہ مضبوط تاثیر پیدا ہو گئی ہے جو دوسرے وسائل پر فائق ہے کیونکہ ان کے استعمال کے دائرے وسیع ہیں اور ان کے صارفین کے خیالات اور ثقافات متنوع و متعدد ہیں۔ یہ صورتحال والدین، علماء، دعاۃ، تربیت کے ذمہ دار مرد و خواتین اور دیگر ذمہ داروں پر بھاری اور دوہری ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ امت کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی حفاظت کریں اور انہیں تحفظ فراہم کریں۔

مخلص لوگوں کی کوششوں اور ان کے تجربے، حکمت، جانکاری، سچی نیت، خیر خواہی کی رغبت اور بھلائی کی چاہت میں وہ خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بدولت قدموں کو درستی عطا کرتا ہے، کوششوں میں برکت دیتا ہے اور امیدوں اور مقاصد تک پہنچاتا ہے۔ اللہ مجھے اور آپ کو اپنی کتاب کے طریقے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فائدہ پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، بے شک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

خطبہ ثانی:

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ کارساز اور قابلِ حمد ہے، وہ جو چاہے کرنے والا ہے۔ میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

 اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر، ان کے آل پر اور ان کے اصحاب پر درود و سلام بھیج۔

 اے اللہ! تو برکت نازل فرما محمدﷺ پر، ان کے آل پر، جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، بے شک تو صاحب عظمت ہے اور قابلِ حمد ہے۔

 اے اللہ! ان کے چاروں خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا۔ تمام آل بیت، صحابہ، تابعین اور آپ کی ازواجِ مطہرات، امہات المومنین سے راضی ہو جا اور جو ان کے نقشِ قدم پر تا قیامت احسان کے ساتھ چلیں، ان سے بھی راضی ہو جا اور ہمیں بھی اپنے عفو و کرم اور احسان سے ان میں شامل فرما، اے سب سے زیادہ کرم کرنے والےہے۔

خطبۂ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 04 شعبان 1447 ہجری بمطابق 23 جنوری 2026 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ اسامہ خیاط حفظہ اللہ

_______________________________________________________________________________

  1. (سورۃ آل عمران:110)
  2. (جامع ترمذی:2378)
  3. (صحیح بخاری:5534)
  4. (سورۃ الفرقان:27تا29)
  5. (سورۃ الزخرف:67)
  6. (جامع ترمذی:2395)
  7. ( صحیح بخاری:2640)
فضیلۃ الشیخ اسامہ خیاط حفظہ اللہ

Recent Posts

شب برأت کی حقیقت؟

ماہ شعبان میں پیارے نبی کریم ﷺ کا کیا معمول تھا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟…

4 hours ago

دل کی سختی اہم وجہ اور علاج!

امام ابن تیمیہؒ دل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کو کون سے…

2 days ago

ملازمت، ایک امانت اور ذمہ داری

خطبہ اول: ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے مسلمان کی پوری…

4 days ago

بعثتِ نبوی ﷺ کا مقصد اور سیرت کا پیغام

نبی ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد کیا تھا؟سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنے کا صحیح…

4 days ago

نکاح کی نیت سے RELATIONSHIP میں رہنا کیسا؟

اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…

5 days ago

موسم سرما میں شریعت کی رخصتیں اور سہولتیں

محترم قارئین کرام! ہم اس وقت سخت سردیوں کے موسم میں داخل ہو رہے ہیں۔جب…

1 week ago