مناقب عمر ِفاروق رضی اللہ عنہ از مصادر شیعہ

Hazrat Umer Farooq in Shia Books

یکم محرم یوم شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

یکم محرم خلیفہ دوم، رسولﷺ کے سسر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت ہے۔ اور افسوس کی بات ہے کہ محرم کی آمد کے ساتھ محلوں ، گلیوں ، کوچوں ، چوراہوں اور بازاروں میں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا نام لے کر ان لوگوں پر طعن وتشنیع کے تیر چھوڑے جاتے ہیں جن کا اس واقعہ کے ساتھ دُور  دُور تک کسی قسم کاکوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ااس واقعہ کے رونما ہونے سے نصف صدی پہلے اس کائنات سے رخصت ہو چکے تھے۔حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اس واقعہ کے چالیس برس پہلے اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اس واقعہ سے انچاس برس پہلے رخصت ہو چکے تھے، حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کربلا کے اس واقعہ سے تیس سال پہلے اپنے رب کے پاس جا چکے تھے۔ طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، ابو عبیدہ ابن جراح، سعد ابن ابی وقاص ،خالد ابن ولید، حتی کہ امیر معاویہ رضوان اللہ علیھم اجمعین وہ بھی جب یہ واقعہ رونما ہوا ہے اس کائنات میں موجود نہیں تھے۔

اور پھر لوگوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اہل بیت کے اصلی پیروکار ہیں اور مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے حق کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ چنانچہ درج ذیل سطور میں مختصرً ا یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ کیا شیعہ واقعی اہل بیت سے محبت کے دعوی میں سچے ہیں ؟ کیا شیعہ اہل بیت کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلتے ہیں ؟ کیا شیعہ واقعی اہل بیت کی اطاعت کرتے ہیں ؟ کیا شیعہ اہل بیت کے احکامات اور تعلیمات پر عمل کرتے ہیں ؟کیا شیعہ اہل بیت کے اقوال اور خیالات کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں ؟ ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کے لئےشیعہ حضرات کے مستند کتابوں سے حضرت عمر کےفضائل ومناقب پر مشتمل یہ چند سطور قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔

نام ونسب :

 عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔(كتاب المعارف، ابن قتيبةالدِّينَوري،  ص :  179)

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمدﷺ کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم ﷺ سے جا ملتا ہے۔ آپ ﷺکی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ ﷺمرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔( الفاروق از شبلی نعمانی) حضرت عمر کاخاندان ایام جاہلیت سے نہایت ممتاز تھا، آپ کے جدا علیٰ عدی عرب کے باہمی منازعات میں ثالث مقرر ہواکرتے تھے اورقریش کو کسی قبیلہ کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آجاتا تو سفیر بن کر جایا کرتے تھے(، الاستيعاب، ج 3، ص 145)

ولادت:

شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں :

ولد عمر فی مكة بعد عام الفيل بثلاثة عشرة سنة

 یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے۔(بحار الأنوار ج31 ، ص:116)

كنيت:  

حضرت عمر کی کنیت أبو حفص اور آپ کے والد کا نام الخطاب بن نُفَيل جوخاندان قریش سے تعلق رکھتے تھے ، (الإصابة، ج 4، ص 484)

والدہ :

والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں  ( الإصابة، ج 4، ص: 484)

حضرت عمر كا قبول اسلام

قریش کے سربرآوردہ اشخاص میں ابو جہل اورعمر اور بہادری میں سب سے مشہور تھے، اس لیےنبی کریم ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کے لیے اسلام کی دعا فرمائی :

اللَّهمَّ أعزَّ الإسلامَ بأحبِّ هذينِ الرَّجُلَيْنِ إليكَ بأبي جَهْلٍ أو بعُمرَ بنِ الخطَّابِ قالَ: وَكانَ أحبَّهما إليهِ عمرُ

حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی : اے اﷲ! تو ابو جہل یا عمر بن خطاب دونوں میں سے اپنے ایک پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں میں اللہ کو محبوب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔(صحيح الترمذي: 3681) وأحمد (5696)

 اس دعائے مستجاب کا اثریہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد عمرکا دامن دولت ایمان سے بھر گیااوراسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا۔

ملا باقرمجلسی نے بھی اپنی کتاب میں محمد باقر سے اس دعا کی روایت نقل کی ہے۔ ’’دیکھئے  ! (بحارالانوار‘‘ ج 4کتاب السماء والعالم)۔

مشہور شیعہ مؤرخ مسعودی لکھتے ہیں :

اعتنق عمر للإسلام بعد إسلام 45 رجلا و11 امرأة، في سنة 6 أو 9 للبعثة النبوية.

یعنی حضرت عمرؓ نے نبوت کے چھٹے یا نویں سال اسلام قبول کیا، آپؓ سے پہلے 45 مرد اور 11 خواتین اسلام قبول کرچکی تھیں۔  ( مروج الذهب، ج 1، ص 299؛ الطبقات لابن سعد ، ج 4، ص 269؛ تاريخ الأمم والملوك،للطبری ج 3، ص: 270)

صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام  لانےکے واقعہ کے بیان میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے یہ الفاظ  موجود ہیں:”حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو ایک ہنگامہ برپاہوگیا، مشرکین بکثرت ان کے مکان پرجمع ہو گئے اورکہنے لگے صبا عمر، عمر بے دین ہو گئے، حضرت عمرؓ خوف زدہ گھر کے اندر تھے اور میں مکان کی چھت پرتھا۔” (صحیح بخاری اسلام عمر ؓ)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ بنے۔ تقریباً  11 سالہ دور حکومت میں حضرت عمر نے اسلامی سلطنت کا دائرہ 22 لاکھ مربع میل تک پھیلادیا۔ آپ کے دور حکومت میں ہی پہلی بار مسلمانوں نے بغیر لڑائی کے یروشلم کو فتح کیا۔( الدولة العربية الإسلامية الأولى،  دكتور عصام شبارو ،ص: 279  )

دین اسلام کا غلبہ اسلام ِ عمر ؓ میں

حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے اسلام لانے سے دینِ اسلام ایک نیے دور میں داخل ہوا ، اگرچہ حضرت عمرؓ سے قبل عرب کے مشہور بہادر حضرت امیر حمزہ ؓ بھی مسلمان ہوچکے تھے مگر مسلمان اپنے فرائضِ مذہبی اعلانیہ طور پر ادا نہیں کر سکتے تھے ، اسلام ِعمر ؓ کے بعد حالات یکسر بدل گئے اور مسلمانوں نے بیت اللہ میں جاکر نماز ادا کی ۔

چنانچہ شیعہ مجتہد اپنی کتاب ’’غزوات حیدری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ جب دروازہ کھلا تو عمر ؓ بصد عذر خواہی خدمتِ رسالت پناہی میں حاضر ہوا ۔ حضرت نے بعد از تلقینِ مراتب ِاسلام اُس کو مرحباً کہا ، اور باعزاز پاس اپنے بٹھایا ،تب حضرت عمرؓ نے عرض کی ، یا نبی اللہ ! اب ہم کو اجازت دیجئے اور بے تکلف فرمایئے تاکہ حرمِ محترم میں جاکر آشکارا نماز پڑھیں اور اطاعت الہی بجماعت بجا لاویں ۔ ہرگاہ اصحابِ فضیلت انتساب نے جماعت پر اتفاق کیا ۔ محبوب ایزد خلّاق نے بھی شاداں وفرحاں طرف سجدہ گاہ آفاق کے قدم رنجہ فرمایا اور آگے سب کے عمرؓ تیغِ بکمر بجماعت وافر اور پیچھے اصحاب بصد کرّ وفرّ ہنستے اور باتیں کرتے بے خطر داخلِ خانہ وارد ہوئے ۔ یکبار جدارِ حرم نے بصد افتخار سر اپنا بعرش کود گار پہنچایا، کفار نا ہنجار نے جس وقت یہ حال دیکھا اور جاہ وجلال یاورانِ نیک افعال کا اس مرتبہ مشاہدہ کیا اور اس خود سر نے عمرؓ کے آگے کہا کہ ’’ اے عمر ؓ یہ کیا فتنہ دگر ہے اور اس گروہ پُرشکوہ میں کیوں تیغ بکمر ہے ؟ عمر ؓ نے یہ بات سن کر پہلے اپنا اسلام ظاہر کیا اور بصد طیش کہا : ’’ اے نابکار، ہفوت شعار، اگر تم میں سے ایک نے بھی اس وقت اپنی جگہ سے حرکت کی یا کوئی بات بے جا زبان پر آئی ، بخدا لایزال ایک کا سر بھی بدن پر نہ ہوگا ‘‘ پس دلاورانِ دین، اصحاب سید المرسلین مسجد میں آئے اور صف اسلام کو نبیت ِاقتداء جماکر  برابر کھڑے ہوگئے ۔ خطیب مسجد اقصیٰ حبیب ِ کبریاﷺ نے قصدِ امامت کیا اور واسطے نیت ِنماز کے دست تا بگوش پہنچایا ۔

نبی گفت تکبیر چوں در حرم 
 فتادند اصنام بر رُ وئے ہم

اور اہلِ شریر ہر چند دیکھتے تھے لیکن کسی کو مجالِ مقاومت نہ تھی ‘‘ ( غزوات ِ حیدری، ص: 42  وقائع دوم )

مناقب عمر رضی اللہ عنہ از مصادر شیعہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدح

جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں  :

لِلهِ بِلَاد فُلَانٍ ، فَقَدْ قَوَّمَ الْأَوَدَ، وَدَاوَي الْعَمَدَ ، وَأَقَامَ السُّنَّةَ وَخَلَّفَ الْفِتْنَةَ، ذَهَبَ نَقِيَّ الثَّوْبِ ، قَلِيلَ الْعَيْبِ ، أَصَابَ خَيْرَهَا وَسَبَقَ شَرَّهَا ، أَدَّي إِلَي اللهِ طَاعَتَهُ وَاتَّقَاهُ بِحَقِّهِ.

“فلاں آدمی تعریف کے مستحق ہےکہ اس نے ٹیڑے پن کو سیدھاکیا۔مرض کو دور کردیا ، فتنہ کو پیچھے چھوڑ دیا ، سنت کوقائم کیا، بہت کم عیوب والا تھا ، پاک دامن رخصت ہوا ، شر سے اجتناب کیا ، خیر کو پا لیا ، اللہ کی اطاعت کا حق ادا کر دیا ، اس کے حق کو ادا کرنے میں ہمیشہ تقوی سے کام لیا۔ ( نہج البلاغۃ ، تحقیق محمد عبدہ ، ج2   ص: 322  )

نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید کہتے ہیں :

’’وفلان المكنّى عنه ، عمر بن الخطاب، وقد وجدت النسخة التي بخّط الرضي أبي الحسن جامع نهج البلاغة وتحت فلان: عمر، وسألت عنه النقيب أبا جعفر يحيى ابن زيد العلوي، فقال لي: هو عمر، فقلت له : أثنى عليه أمير المؤمنين ؟ فقال: نعم).

یعنی یہاں فلاں آدمی سے مراد عمر بن خطاب ہیں ، مجھے رضی ابو الحسن کے ہاتھوں کا لکھا ہوا نہج البلاغہ کا نسخہ مل گیا ، اس میں فلاں کے تحت عمرؓ  لکھا ہوا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں ابو جعفر یحیٰ بن ابی زید علوی سے پوچھا تو اس نے مجھ سے کہا : فلاں سے مراد عمر ؓ ہیں ، میں نے پوچھا : پھر تو امیر المؤمنین نے عمر کی تعریف کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا:جی ہاں :  امیر المؤمنین نے عمرؓ کی تعریف کی ہے ‘‘ ۔ (شرح نهج البلاغة – ابن أبي الحديد – ج ١٢ ، ص: ٣)

حضرت عمر ؓکو غزوۂ  روم میں شریک نہ ہونے کا مشورہ

حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ حضرت فاروق اعظم ؓ کو اسلام کی قرار گاہ ، مرکز اور مسلمانوں کی جائے پناہ سمجھتے تھے ، چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ غزوہ روم میں جانے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو آپ ؓ نے حضرت عمر ؓ کے اوصاف حمیدہ کا تزکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

إنك متى تسر إلى هذا العدو بنفسك، فتلقهم فتنكب، لا تكن للمسلمين كانفة دون أقصى بلادهم. ليس بعدك مرجع يرجعون إليه، فابعث إليهم رجلاً محرباً، واحفز معه أهل البلاء والنصيحة، فإن أظهر الله فذاك ما تحب، وإن تكن الأخرى، كنت ردأ للناس ومثابة للمسلمين”

اگر آپ بنفس نفیس دشمن كی طرف چلے گئے تو آپ اپنے مركز سے دور ہو جائیں گے ۔ مسلمانوں كے دوسرے شہرون كا محافط ونگہبان كوئی نہیں رہے گا ، آپ كے بعد كوئی نہیں جس كی طرف مسلمان جائیں ، آپ دشمن كی طرف كسی اور جنگجو كو قائد بناكر بهیج دیجیئے ۔ ان كے ساتھ شجاع اور نصیحت قبول كرنے والواں كو روانہ كر دیجئے ، اگر الله نے انہیں  غلبہ دیا تو یهی آپ كی منشا ہے ، بصورت، دیگر آپ لوگوں كو سہارا دینے والے اور مسلمانوں كی جائے پناه ہوں گے ۔ (نهج البلاغة،تحقيق صبحي صالح، ص:193).

حضرت عمر ؓکوجنگ فارس میں نہ جانے کا مشورہ

جنگ فارس میں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خود لڑائی میں جانے کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرماتے ہوئے روک دیا :

وعندما استشاره عمر بن الخطاب رضي الله عنه في الشخوص لقتال الفرس بنفسه، قال الإمام علي عليه السلام: «إن هذا الأمر لم يكن نصره ولا خذلانه بكثرة ولا قلة، وهو دين الله الذي أظهره، وجنده الذي أعده وأمده، حتى بلغ ما بلغ، وطلع حيث طلع، ونحن على موعود من الله، والله منجز وعده وناصر جنده، والعرب اليوم -وإن كانوا قليلاً، فهم- كثيرون بالإسلام، وعزيزون بالاجتماع، فكن قطباً، واستدر الرّحى بالعرب، وأصلهم دونك نار الحرب، فإنك إن شخصت – أي خرجت – من هذه الأرض انتقضت عليك العرب من أطرافها وأقطارها، حتى يكون ما تدع وراءك من العورات أهمّ إليك مما بين يديك. إن الأعاجم إن ينظروا إليك غداً يقولوا: هذا أصل العرب فإذا قطعتموه استرحتم، فيكون ذلك أشد لكَلَبِهم عليك، وطمعهم فيك»

ایسے امور میں فتح وشکست کا دار ومدار قلت وکثرت پر نہیں ہوتا ۔ یہ اللہ کا دین ہے ، اسی نے اسے غالب کیا ہے ، یہ اللہ کا لشکر ہے ، اسی نے اسے آمادہ وتیار کر لیا ہے ، جو پہنچ چکا سو پہنچ چکا ، جو ظاہر ہوچکا سو ظاہر ہوچکا ، ہمارے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ تعالٰ اپنا وعدہ پورا کرنے والا ہے ، وہی اپنے لشکر کو کامرانی بخشنے والا ہے ، نگران کا کام موتیوں کی لڑی جیسا ہے جو سب موتیوں کو پرو لیتی اور جمع رکھتی ہے ۔ اگر لڑی ٹوٹ جائے تو موتی بکھر جاتے ہیں ( یعنی قوموں کا نظم وضبط تباہ ہوجاتا ہے ) پھر ان سب کبھی ایک رُخ پر جمع نہیں کیا جاسکتا ، آج عرب اگرچہ تھوڑے ہیں لیکن اسلام کی برکت سے بہت ہیں ، آج سب عرب اجتماع چاہتے ہیں ،آپ قائد بنیں ، عرب کو اپنے گرد جمع کر لیں ، جنگ کی آگ میں دوسروں کو جانے دیں ، اگر آپ نے یہ جگہ چھوڑ دی تو عرب کے اطراف واکناف میں بغاوتیں اٹھ کھڑی ہوں گی ۔ آپ اپنے پیچھے جن خطرات کو چھوڑ کر جائیں گے وہ پیش آمدہ خطرہ سے زیادہ زیادہ اہم اور توجہ کے قابل ہیں ۔ کل جب عجمی آپ کو دیکھیں گے تو کہیں گے : یہی عرب کی بنیاد اور جڑ ہے ۔ اگر تم اسے کاٹ ڈالو تو آرام پا جاؤگے ، وہ سب جمع ہوکر آپ پر ٹوٹ پڑیں گے ،آپ کے درپے ہو جائیں گے ، باقی آپ نے جو ذکر کیا ہے کہ دشمن مسلمانوں سے جنگ وقتال کے لیے نکل پڑا ہے ۔(نهج البلاغةج2 ، ص:320- 321).

خلاصہ

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کو حضرت عمر ؓکی زندگی نہایت عزیز تھی ، اس لیے ایسے نازک موقع پر آپ ؓ نے صائب مشورہ دیا ، کیونکہ کوئی بھی نا مناسب مشورہ مسلمانوں کے لیے بڑی مصیبت کا باعث ہو سکتا تھا ، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امانت سمجھ کر دیانت داری کے ساتھ مسلمانوں کے مفاد عامہ کے مطابق مشورہ دیا ۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا حضرت عمرؓ کی مدح

اہلِ بیت کے مشہور ترین اور ممتاز فرد، نبی علیہ السلام کے چچا زاد بھائی، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما آپ رضی اللہ عنہ کی مدح و ثنا کرتے ہوئے کہتے ہیں:

رحم الله أبا حفص كان والله حليف الإسلام، ومأوى الأيتام، ومنتهى الإحسان، ومحل الإيمان، وكهف الضعفاء، ومعقل الحنفاء، وقام بحق الله صابراً محتسباً حتى أوضح الدين، وفتح البلاد، وآمن العباد”

’’اللہ ابو حفص (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد، عمررضی اللہ عنہ) پر رحم کرے، اللہ کی قسم وہ اسلام کے حلیف تھے، یتیموں کی جائے قرار تھے، احسان کرنا آپ پر ختم تھا، صاحب ایمان تھے، کمزوروں کی جائے پناہ اور موحدین کا سہارا تھے، آپ نے اللہ کے حق کو صبر اور ذمہ داری سے پورا کیا ، حتی کہ دین نکھر گیا، ممالک فتح کرلیے گئے اور بندوں کو امن نصیب ہوا۔‘‘  (مروج الذهب،ج3 ، ص: 51، وناسخ التواريخ، ج 2 ص:144، ط إيران).

امت کے افضل ترین لوگ

شیعہ کی ایک مشہور کتاب میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان منقول ہے:

إن خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر

کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد بہترین لوگ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔(كتاب الشافي، ج2 ص: 428).

کوڑوں کی سزا

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

لو أوتي برجل يفضلني على أبي بكر وعمر إلا جلدته حد المفتري

اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس پر حد قذف لاگو کروں گا۔(بحار الأنوار  10/344 ، رجال الكشي:393 ، عيون أخبار الرضا، 2/187 )

ابوبکرؓ  میری سماعت اور عمرؓ  میری بصارت

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

إن أبا بكر مني بمنزلة السمع، وإن عمر مني بمنزلة البصر

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابو بکررضی اللہ عنہ کا درجہ میرے نزدیک ایسا ہے کہ گویا یہ میری سماعت ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ میرے ہاں ایسا ہے کہ گویا میری بصارت ہیں۔(عيون أخبار الرضا، لابن بابويه القمي، ج1 ص:313 ، ومعاني الأخبار، للقمي ص:110 )

ابوبکر ؓ وعمر سے بغض رکھنا کفر ہے

مشہور شیعہ محقق وعالم ابو عمرو محمد بن عبد العزیز الکشی بیان کرتے ہیں :

’’ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے کہا : مجھے سفیان ثوری محمد بن المنکدر کے حوالے سے یہ روایت بیان کی کہ حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ میں منبر پر کھڑے ہوکرفرمایا: اگر میرے پاس ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابوبکر ؓ اور عمرؓ پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور سزا دوں گا جو بہتان لگانے والے کو دی جاتی ہے ، ابو عبد اللہ نے کہا : ہمیں مزید حدیث بیان کریں ، تو سفیان نے جعفر کے حوالے سے بیان کیا : ابوبکر ؓاور عمر ؓسے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔( رجال الکشی ، ص:  338  طبع مؤسسة الأعلمی ، کربلا )۔

حضرت عمر رضی الله عنہ كو كن وجوہات كی بنا پر فضیلت ہے

ساتویں ہجری کے معروف بزرگ شیخ ابن أبی الحدید لکھتے ہیں :

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :  حضرت عمر ؓکو جن وجوہات کی بنا پر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ، ان میں سےایک سبب یہ ہے کہ قرآن کریم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر ؓکی رائے کی توثیق ان کلمات میں فرمائی :

 مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ

سورۃ الانفال – 67

کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ اس کے قبضہ میں قیدی ہوں حتی کہ وہ زمین میں ( کافروں کا ) اچھی طرح خون بہا دے ‘‘ ۔

ان کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج کے حجاب کے متعلق ان کی رائے کے موافق یہ آیت نازل ہوئی :

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ

الاحزاب – 53

اور جب تم نبی ﷺ کی ازواج سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے پیچھےسے مانگو، ایسا کرنے سے تمہارے اور ان کے دل زیادہ پاکیزہ رہیں گے۔

ان کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے اسلام لانے کی دعا کی : اے اللہ !  ابن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو غلبہ عطا فرما ‘‘  ( شرح نہج البلاغة ، ج 12  ، ص: 57، 58)

چنانچہ رسول اللہ ﷺکی اسی دعا ئے مستجاب کی برکت سے حضرت عمر ؓ ایمان لائے ، اسی لیے آپ ؓ کو مراد ِ رسول ﷺ کہا جاتاہے ۔

شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ : فلاں شخص سے حضرت عمر ؓکی ذات مرادہے( شرح نہج البلاغة، ج 12 ، ص: 3 )

نہج البلاغہ کے اردو مترجم رئیس احمد جعفری کہتے ہیں کہ یہ خطبہ حضرت عمر کے متعلق ہے ( نہج البلاغہ مترجم اردو ، ص:  541  )

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گواہی

مِسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تو وہ بہت بے قرار تھے ،حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا : امیر المؤمنین پریشانی والی کوئی بات نہیں ، آپؓ  رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہے ، آپؓ نے نبی ﷺ کی صحبت اچھی طرح نبھائی ، پھر رسول اللہ ﷺ رضاندی کی حالت میں آپؓ سے رخصت ہوئے ، پھر آپ حضرت ابوبکر ؓکی صحبت میں رہے اور آپؓ نے ان کی صحبت اچھی طرح نبھائی ، وہ بھی آپؓ سے راضی ہوکر رخصت ہوئے ، پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے ، آپ نے ان کا  اچھا ساتھ نبھایااور اب آپ ان سے اس حال میں رخصت ہو رہے ہیں کہ وہ آپ سے راضی ہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: آپ نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کی صحبت کا ذکر کیا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ ، جو آپ میری بے قراری دیکھ رہے ہیں تو بخدا اگر میرے پاس تمام روئے زمین کے برابر سونا  ہوتاتو میں اس کو اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے دے دیتا ‘‘  ایک روایت میں ہے : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: امیر المؤمنین آپ کیوں گھبراتے ہیں ، بخدا آپ کا اسلام لانا مسلمانوں کا غلبہ تھا ، آپ کی حکمت مسلمانوں کی فتح تھی ، آپ نے روئے زمین کو عدل سے بھر دیا ۔ حضرت عمرؓ نے کہا : ابن عباس ! کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو ؟ حضرت ابن عباس نے توقف کیا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا: کہو ہاں ! میں بھی تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں ، پھر انہوں نے فرمایا:  ہاں!  میں گواہی دیتا ہوں ۔ (شرح نہج البلاغہ ، لابن أبی الحدید ، ج12  ، ص:  191 ، 192   )

عمر رضی اللہ عنہ محبوب شخصیت

شیعہ حضرات  کےامام محمد بن باقر بیان كرتے ہیں كہ حضرت جابر بن عبد الله ؓنے بیان كیا ؛

لما غسل عمر وكفن دخل علي عليه السلام فقال: ما على الأرض أحد أحب إلي أن ألقى الله بصحيفته من هذا المسجى(أي المكفون) بين أظهركم

جب شہادت كے بعد حضرت عمر ؓ كو غسل دے كر كفن پہنایا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے : ان پر الله تعالیٰ كی رحمت ہو ، میرے نزدیك تم میں سے كوئی شخص ان سے زیاده محبوب نہیں كہ میں ان جیسا نامہ اعمال لے كر بارگاه الہی میں حاضر ہوں۔ (کتاب الشافي، لعلم الهدى ص:171، وتلخيص الشافي للطوسي ج2 ص428 ط إيران، ومعاني الأخبار للصدوق، ص: 117 ط إيران)

الہامی اور پاکیزہ نفس والے شخص

علامہ باقر مجلسی نے اپنی کتاب میں حضرت ابوبکر و عمر کی تعریف میں امیر المومنین علیہ السلام کے ارشادات کی چند مثالیں نقل کی ہیں ، لکھتے ہیں :

 «فاستخلف‌ الناس‌ أبابكر ثم استخلف أبوبكر عمر، فأحسنا السيرة و عدلا في الأمة … »

یعنی  لوگوں نے ابوبکرؓ کو جانشین مقرر کیا، پھر ابوبکرؓ نے عمرؓ کو جانشین بنایا، چنانچہ ان دونوں نے امت کے اندر عمدہ اخلاق کا نمونہ پش کیا اور عدل وانصاف قائم کیا۔ (بحار الأنوار، ج32، ص456)

و قال أیضا: «فتولی ابوبکر تلک الأمور ، و سدّد و یسّر ، و قارب و اقتصد … و تولی عمر الأمر فکان مرضی السیرة میمون النقیبة».

امیر المؤمنین نے یہ بھی فرمایا کہ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے تمام امور اپنی نگرانی میں لے لیے اور سب امور آسانی، درستگی، میانہ روی اور عمدہ طریقے پر سرانجام دینے لگے،  پھر عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ، آپ پسندیدہ سیرت اور پاکیزہ نفس والے شخص تھے۔) بحار الانوار، ج32، ج33، ص:568-569(

ابوبکرؓ وعمرؓ سے محبت کا حکم

شیعہ حضرات کے چھٹے امامِ معصوم جعفر بن محمد نہ صرف شیخین یعنی وبوبکر وعمر سے محبت رکھتے تھے، بلکہ محبت کی وجہ سے آپ دونوں کے احکامات کی تعمیل بھی کیا کرتے تھے۔چنانچہ ابوبصیر بیان کرتا ہے کہ:

كنت جالساً عند أبي عبد الله عليه السلام إذ دخلت علينا أم خالد التي كان قطعها يوسف بن عمر تستأذن عليه. فقال أبو عبد الله عليه السلام: أيسرّك أن تسمع كلامها؟ قال: فقلت: نعم، قال: فأذن لها. قال: وأجلسني على الطنفسة، قال: ثم دخلت فتكلمت فإذا امرأة بليغة، فسألته عنهما (أي أبي بكر وعمر) فقال لها: توليهما، قالت: فأقول لربي إذا لقيته: إنك أمرتني بولايتهما؟ قال: نعم”

’’میں ابوعبداللہ علیہ السلام کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت ام خالد، جسے یوسف بن عمر نے علیحدہ کردیا تھا، آئی اور آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگنے لگی، ابوعبداللہ علیہ السلام نے کہا: اس کی باتیں سننا چاہتے ہو؟ میں نے کہا ہاں! کہنے لگے کہ پھر اسے اجازت دے دو۔ اور مجھے آپ نے چٹائی پر بٹھالیا، پھر وہ آئی اور گفتگو شروع کی، وہ نہایت فصیح و بلیغ انداز میں گفتگو کر رہی تھی، میں نے ابوعبداللہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا، آپ نے اس عورت سے کہا: ان دونوں سے محبت رکھو، کہنے لگی: میں جب اپنے رب سے ملوں گی تو کہوں گی، تونے مجھے ان دونوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے؟ ابوعبداللہ نے کہا:  ہاں۔‘‘(الروضة من الكافي ، ج8 ، ص:101 ط إيران )

آپ رضی اللہ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺکی روایات کے بہت بڑے محدث ہیں، اس لیے آپ چھوٹے چھوٹے اور معمولی و غیر اہم کاموں میں بھی آپ کی سیرت و عمل کی مخالفت نہیں کیا کرتے تھے، شیعہ مصنف دینوری بیان کرتا ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ’’آپ سے پوچھا گیا، یا امیر المومنین! کیا آپ محل میں ٹھہریں گے؟ آپ نے کہا: مجھے وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں جسے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے، میں کھلے میدان میں ٹھہروں گا، پھر آپ سب سے بڑی مسجد میں گئے، دو رکعت نماز ادا کی اور اس کے بعد کھلے میدان میں ٹھہرے۔ (الاخبار الطوال‘‘ لاحمد بن داؤ

د دینوری ص 152)۔

عمر رضی اللہ عنہ کی تابعداری

حضرت علی رضی اللہ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہﷺکی روایات کے بہت بڑے محدث ہیں، اس لیے آپ چھوٹے چھوٹے اور معمولی و غیر اہم کاموں میں بھی آپ کی سیرت و عمل کی مخالفت نہیں کیا کرتے تھے، شیعہ مصنف دینوری بیان کرتا ہے کہ :

وعندما نزل الإمام علي عليه السلام الكوفة، فقيل له: يا أمير المؤمنين، أتنزلُ القصر؟، قال: “لا حاجة لي في نزوله، لأنَّ عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يبغضُه، ولكنِّي نازل الرحبة”، ثم أقبل حتى دخل المسجد الأعظم، فصلَّى ركعتين، ثم نزل الرحبة

جب علی رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ’’آپ سے پوچھا گیا، یا امیر المومنین! کیا آپ محل میں ٹھہریں گے؟ آپ نے کہا: مجھے وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں جسے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے، میں کھلے میدان میں ٹھہروں گا، پھر آپ سب سے بڑی مسجد میں گئے، دو رکعت نماز ادا کی اور اس کے بعد کھلے میدان میں ٹھہرے۔ (الأخبار الطوال -ابنُ قتيبة الدينوري، ص: 152).

خلافت عمر  رضی اللہ عنہ کی پیشن گوئی

خود نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق اللہ تعالی کی طرف سے خوشخبری سنا دی تھی جو شیعہ کی مختلف کتابوں سے ثابت ہے۔ چنانچہ شیعہ تفسیر قمی ، مجمع البیان اور تفسیر صافی میں موجود ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دفعہ پریشان تھیں، ان کو خوش کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے  یہ خوش خبری سنائی :

إن أبا بکر یلي الخلافة بعدي ثم بعده أبوك، فقالت من أنباك هذا ؟ قال نبأني العلیم الخبیر

ضرور بضرور میرے بعد خلافت کا والی ابو بکر ہوگا اور ابو بکر کے بعد تیرا باپ ( حضرت عمر) خلیفہ ہوگا، تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے دی ہے جو بہت جاننے اور باخبر ذات ہے ۔( تفسیر قمی ، ص: 354  ، تفسیر مجمع البیان ، ج 5 ، ص: 314 ، اور تفسیر صافی ، ص:  522 )

عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے ایک خط میں، جو آپ نے مصر کے دوستوں کی طرف اپنے عامل مصر محمد بن ابی بکر کے قتل کے بعد لکھا، اس بات کا اقرار کر رہے ہیں۔ آپ رسول اللہ ﷺکی وفات کے بعد کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امورِ (سلطنت) سنبھال لیے … جب آپ اس دنیا سے چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی ذمہ داری میں لے لیا، ہم نے آپ کی بات سنی، اطاعت کی اور خیر خواہ رہے۔‘‘ اس کے بعد حسبِ عادت آپ رضی اللہ عنہ کی بے حد تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں… ’’اور عمر رضی اللہ عنہ نے اقتدار سنبھال لیا، آپ پسندیدہ سیرت اور بابرکت شخصیت کےمالک تھے۔ یعنی ہم نے آپ کی بیعت کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ کیونکہ آپ کی سیرت بہت پاکیزہ اور اعلیٰ تھی، آپ کی ذات بابرکت و متبرک تھی، آپ اپنے امور میں کامیاب رہے، اپنے مقاصد میں کامرانی حاصل کی۔ ہم نے آپ کی بیعت اسی طرح کی جیسے تم نے عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، پھر میں نے اس بیعت کو پورا کیا اور نبھایا، پھر جب آپ رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ کی نامزد کردہ چھ افراد کی کمیٹی میں چھٹا نام میرا تھا۔

شیعہ کے شیخ طوسی نے بھی اپنی کتاب ’’الآمالی‘‘ میں یہی بات علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

فبايعت أبا بكر كما بايعتموه ، وكرهت أن أشق عصا المسلمين ، وأن أفرق بين جماعتهم ، ثم أن أبا بكر جعلها لعمر من بعده فبايعت عمر كما بايعتموه ، فوفيت له ببيعته حتى لما قتل جعلني سادس ستة ، فدخلت حيث أدخلني

چنانچہ میں نے ابوبکر کی اسی طرح بیعت کی جس طرح تم نے بیعت کی تھی اور مجھے مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کی لاٹھی کو توڑنا گوارا نہیں تھا ۔پھرمیں نےعمرؓ کی اسی طرح بیعت کی جس طرح تم نے بیعت کی ،پھر میں نے اس بیعت کو پورا کیا اور نبھایا، پھر جب آپ ؓ قتل کر دئے گئے تو مجھے چھ میں سے چھٹا فرد بنایا گیا ۔ میں اسی طرح شامل ہوگیا ، جیسے مجھے شامل کیا گیا تھا ۔(الأمالي- الشيخ الطوسي، ص: 507)

شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے حضرت علیؓ کی خلافت چھین لی تھی ،کیا یہ ممکن ہے کہ جس نے خلافت چھینی ہو ، ظلم کیا ہو  ،امیر المؤمنین اس شخص کی تعریف کرے؟

اہل تشیع سے ایک سوال ہے؟

اگر اصحاب ثلاثہ مومن اور خلفائے برحق نہیں تھے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے جو شیر خدا ہیں ان کی بیعت کیوں کی؟

اگر کوئی شیعہ کہے کہ انہوں نے ’’تقیّہ ‘‘کیا یعنی خوف کے باعث بہ امر مجبوری تو اوّل تو یہ حضرت علی جیسے’’اَشْجَعُ النَّاسِ‘‘ ’’فاتح خیبر‘‘ اور ’’شیر خدا‘‘کی شان کے خلاف ہے۔

دوسرے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نعوذباللہ اگر ایک ’’فاسق، غاصب اور خائن‘‘کی مجبوراً بیعت کرلینا ایک مستحسن فعل تھا تو پھر حضرت امام حسین ؓنے اپنے جلیل القدر والد کی اس اچھی سنت پر عمل کرکے کیوں یزید کی بیعت نہ کی؟ اپنی اور خاندان نبوت کے بیسیوں معصوموں کی جانیں کیوں قربان کروا  ڈالیں؟

حالانکہ جہاں تک شجاعت اورمردانگی کا سوال ہے اس کے لحاظ سے حضرت حسین ؓ حضرت علی سے بڑھ کر نہ تھے۔ پس ثابت ہے کہ چونکہ حضرت امام حسینؓ کے نزدیک یزید خلیفہ برحق نہ تھا اس لئے انہوں نے جان دے دی لیکن ایسے شخص کی بیعت نہ کی لیکن چونکہ حضرت علیؓ کے نزدیک حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ خلفائے برحق تھے اس لئے انہوں نے ان کی بیعت کرلی۔

اصحاب ِرسول ﷺ کو گالی نہ دو

ملا باقر مجلسی نے طوسی کی سند سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ایک معتبر روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اپنے اصحاب سے فرمایا:  

أوصيكم في أصحاب رسول الله ، لا تسبوهم، فإنهم أصحاب نبيكم، وهم أصحابه الذين لم يبتدعوا في الدين شيئاً، ولم يوقروا صاحب بدعة، نعم! أوصاني رسول الله في هؤلاء

میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، ان کو گالی نہ دو، کیونکہ وہ تمہارے نبی کے اصحاب ہیں اورنبی کے وہ اصحاب ہیں جنہوں نے دین میں کوئی بدعت ایجاد نہیں کی، اور کسی بدعتی شخص کی تعظیم نہیں کی، ہاں! رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں مجھے وصیت کی۔(حياة القلوب للمجلسي” ج2 ص621).

شہادت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ 26 ذوالحجہ کو معمول کے مطابق نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد نبوی میں تشریف لائے جہاں نماز فجر میں مسجد کی حالت میں ابو لولو نامی مجوسی غلام نے جو قتل کے ارادے سے محراب میں چھپا ہوا تھا۔ تین بے دردی سے وار کیے پہلا ہی وار بہت گہرا تھا جس سے آپ کا خون اتنا بہہ گیا کہ مسجد نبوی کے منبر و محراب خون فاروقی سے سرخ ہوگیا۔ تین روز یہی کیفیت رہی جو دوا دی جاتی وہ کٹی ہوئی آنتوں سے باہر آجاتی تھی۔ یکم محرم سنہ 24 ہجری کو آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ مبارک میں دفن کیا گیا۔

تاریخ وفات

حضرت عمر فاروق رضي الله عنہ کی وفات محرم کی پہلی تاریخ کو ہوئی تھی … اور یہی بات مشہور ہے …

ابن اثير جزرى اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ “حضرت عمر رضي الله عنہ کو جب زخمی کیا گیا تو وہ دن بدھ کا دن تھا، اور ماه ذو الحج ختم ہونے میں تین دن باقی تھے ، اور آپ کی تدفین اتوار کی صبح ہوئی اور اس دن محرم کا پہلا دن تھا ” ۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة ، ج 4 ص 166) نوٹ: ابن اثیر نے آگے ایک اور روایت ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ “والاول اصح ما قيل في عمر” کہ پہلی بات جو حضرت عمر رض کے بارے میں کہی گئی ہے وہ زیاہ صحیح ہے (یعنی آپ کی تدفین یکم محرم کو ہوئی تھی)۔

ابو حفص الفلاس کی روایت ہے کہ “ذو الحجة کی چند راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر رضي الله عنہ حملے میں زخمی کیے گئے ، اس کے بعد آپ تین راتیں زندہ رہے اور سنہ 24 ہجری کے محرم کی پہلی تاریخ کو آپ کی وفات ہوئی” (تاريخ مدينة دمشق يعني تاريخ ابن عساكر ،ج 44 ص 478)

“حضرت عبدالله بن زبير رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت عمر رضي الله عنه کو بروز بدھ جب ذو الحج کے تین دن باقی تھے زخمی کیا گیا پھر آپ تین دن تک زندہ رہے پھر اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی” (كتاب المحن ، صفحه 66)

اور امام ابن الجوزیؒ نے “مناقب عمر رضی اللہ عنہ “میں لکھا ہے کہ:

طعن عمر رضي الله عنه يوم الأربعاء لأربع ليالٍ بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين، فكانت ولايته عشر سنين وخمسة أشهر وإحدى وعشرين ليلة

یعنی 23 ہجری کے ذوالحجہ چھبیس تاریخ بدھ کے روزحضرت عمر ؓپر قاتلانہ حملہ ہوا، اور اتوار کے دن یکم محرم چوبیس ہجری کو دفن کئے گئے۔ آپ کی مدت خلافت دس برس ،پانچ ماہ اور اکیس دن تھی ۔

ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما پر سلام

سید مرتضی اپنی کتاب ’’ الشافی‘‘  میں شیعہ اثنا عشری کے چھٹے امام جعفر بن محمد یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام کا عمل نقل کرتے ہیں :

ويروي السيد المرتضى عن جعفر بن محمد عليه السلام أنه «كان يتولاهما – أي أبا بكر وعمر رضي الله عنهما – ويأتي القبر فيسلم عليهما مع تسليمه على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم»

 یعنی سید مرتضی اپنی کتاب ’’ الشافی‘‘  میں جعفر بن محمد کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ وہ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما سے بڑی محبت کرتے تھے ، چنانچہ جب نبی کریم کی قبر مبارک پر آتے تو رسول اللہ ﷺ پر سلام پڑھنے کے ساتھ ابوبکر وعمر ؓ پر بھی سلام پڑھتے تھے۔  (كتاب الشافي، ص:238).

دعا ہے کہ جس طرح اہل بیتِ نبوت اور ائمہ کرام خلفاء ثلاثہ اور دیگر صحابہ کرام سے پیار ومحبت کرتے تھے ، عزت واحترام کرتے تھے، اللہ پاک  اسی طرح تمام مسلمانوں کو بھی محبت اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

مصنف/ مقرر کے بارے میں

IslamFort