مناقب أبو بكر صدیق رضی اللہ عنہ از مصادر شیعہ

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اولین مسلمان

شیعہ کی معتبر تفسیر مجمع البیان میں یہ صراحت ہے کہ :

إن أولَ من أسلم بعد خديجة أبو بكر

کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے کے  بعد سب سے پہلے جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ۔ (مجمع البیان في تفسیر القرآن ، لفضل بن الحسن بن الفضل الطبرسی، ج ۲ ، ص: ۵۳)

ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے سب سے بڑے خیر خواہ

نہج البلاغہ کی شرح جو شیعہ مجتہد ابن میثم بحرانی نے لکھی ہے، اس میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا امیر شام حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط منقول ہے، اس میں امیر المؤمنین حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اسلام اور ایمان کی جوشان بیان فرمائی ہے وہ نہایت قابل غور ہے ، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں :

وكتب إلى أمير الشام معاوية بن أبي سفيان: (وذكرت أنّ الله اجتبى له من المسلمين أعواناً أيّدهم به، فكانوا في منازلهم عنده على قدر فضائلهم في الإسلام كما زعمت، وأنصحهم لله ولرسوله الخليفة الصدّيق وخليفة الخليفة الفاروق، ولعمري إنّ مكانهما في الإسلام لعظيم، وإنّ المصابَ بهما لجرحٌ في الإسلام شديدٌ، يرحمهما الله وجزاهم الله بأحسن ما عملا).

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملک شام کے امیر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک خط لکھا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے مسلمانوں میں سےبہت سے مدد گار انتخاب فرمایا اور ان مددگار اصحاب کے ذریعے ان کو قوت وطاقت بخشی۔ اور ان حضرات کی حضرت ابوبکر صدیقؓ  کے پاس وہی قدر ومنزلت تھی جو اسلام نے انہیں دی تھی ، جیساکہ تم جانتے ہو ۔ اور رسول ﷺ کے خلیفہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام میں سب سے افضل اور اللہ ورسول کے لئے سب سے زیادہ مخلص اور خیر خواہ تھے اور اس خلیفہ کے خلیفہ حضرت فاروق رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح تھے ، میری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ ان دونوں حضرات کا مرتبہ اسلام میں بڑا عظیم الشان تھا اور بے شک ان کی موت سے اسلام کو سخت صدمہ اور زخم پہنچا ، اللہ تعالیٰ ان دونوں پر رحم فرمائے اور ان دونوں کو ان کے اچھے اعمال کی بہترین جزاء عطا فرمائے ۔(شرح نهج البلاغة لابن الميثم البحرانی، جزء ۳۱ ، ص:488، طبع إيران).

صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے

رسول کریم اور حضرت علی کے چچیرے بھائی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: اللہ ابوبکر پر رحم کرے ، آپ ؓ فقیروں پر رحم کرنے والے ، قرآن کی تلاوت کرنے والے ، بُری بات سے روکنے والے ، دین کے پہچاننے والے ، اللہ سے درنے والے ، ناجائز امور پر دانٹ ڈپٹ کرنے والے ، اچھی باتوں کا حکم کرنے والے ، رات کو اللہ کے حضور کھڑے ہونے والے ، اور دن کو روزہ رکھنے والے تھے ، آپ صحابہ ؓ میں سے تقوی وطہارت میں بر تر مقام کے حامل ، اور زہد وپاکیزگی میں سب سے بلند تر تھے۔ (نواسخ التاریخ ،ج5  ص: 143  مطبوعہ ایران)

صدیق کا لقب

اگر جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق کالقب دیا ہے تو حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے بھی حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو ہمیشہ صدیق کے لقب سے یاد فرمایا ہے ۔ چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب میں امام جعفر صادق رحمہ اللہ یہ ارشاد موجود ہے :

أبو بکر الصدیق جدي ، ھل یسب أحدٌ أباہ ؟ لا قدّمني اللہ إن لا أقدّمه

جناب ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ میرے نانا ہیں ، کیا کوئی شخص اپنے آباء واجداد کو گالی دینا پسند کرتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ مجھے کوئی شان اور عزت نہ دے اگر میں صدیق رضی اللہ عنہ کی عزت وعظمت کو نہ مانوں ۔ (احقاق الحق ، ص: ۷)

اسی کتاب میں امام جعفر صادق رحمہ اللہ کا یہ ارشاد بھی موجود  ہے:

ولدنی أبوبكر مرتین

میں دو طرح سے ابوبكر الصدیق كی اولاد میں داخل هوں ۔(احقاق الحق ، ص: ۷)

امام جعفر صادق رحمہ الله كی اس ارشاد كی تشریح شیعہ كی مستند كتابوں میں یوں بیان ہوئی ہے ۔

ومادرش ام فروه دختر قاسم بن ابی بكر بود ، ومادر ام فروه اسماء دختر عبد الرحمن بن ابو بكر بود

امام جعفر صادق رحمہ الله كی والده ام فروه تھیں جو حضرت ابوبكر الصدیق رضی الله عنہ كی پڑپوتی (پوتے كی بیٹی ) اور امام جعفر صادق رحمہ الله كی نانی  تھیں حضرت اسماء  جو حضرت ابوبكر صدیق رضی الله عنہ كی پوتی تھیں ۔(احقاق الحق ، ص: ۷ ، جلاء العیون ،ص: ۲۴۸ ، كشف الغمه ، ۲۱۵ ، ۲۲۲ ، احتجاج طبرسی ، ص: ۲۰۵ )

وَقَالَ حَفْصُ بنُ غِيَاثٍ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بنَ مُحَمَّدٍ، يَقُوْلُ: مَا أَرْجُو مِنْ شَفَاعَةٍ عَلَيَّ شَيْئاً، إِلاَّ وَأَنَا أَرْجُو مِنْ شَفَاعَةِ أَبِي بَكْرٍ مِثْلَه، لَقَدْ وَلَدَنِي مَرَّتَيْنِ.

 حفص بن غیاث کا کہنا یہ ہے میں نے جعفر بن محمد سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے اپنے بارے میں کسی بھی شفاعت کی اتنی امید نہیں ہے جتنی کہ ابو بکر کی شفاعت کی امید ہے کہ انہوں نے مجھے دو مرتبہ پیدا کیا ہے، رضی اللہ عنہ۔ [سير أعلام النبلاء ط الرسالة (6/ 259]

دو مرتبہ پیدا كرنے سے مراد

دو مرتبہ پیدا کرنے سے مراد یہ ہے کہ امام جعفر الصادق کی والدہ ام فروہ کے والد قاسم بن محمد بن ابی بکر تھے۔ اور ام فروہ کی والدہ اسماء بنت عبد الرحمن بن ابی بکر تھیں ، رحمہم اللہ۔ یعنی امام جعفر الصادق کے نانا بھی ابو بکر کے پوتے ہیں اور نانی بھی ابو بکر کی پوتی ہیں، رحمہم اللہ۔ اسی لیے امام محمد الباقر رحمہ اللہ کا کہنا ہے؛

عن محمد بن علي قال أجمع بنو فاطمة على أن يقولوا في أبي بكر وعمر أحسن ما يكون من القول

 محمد بن علی زین العابدین کا کہنا ہے کہ بنو فاطمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے اچھی بات ہی کی جائے۔[تاريخ دمشق لابن عساكر (54/ 284)]

ابو بکرتُو صدیق ہے

شیعہ  كی تفسیر قمی میں امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے نبی کریم ﷺ کے واقعہ غار سے متعلق یہ روایت موجود ہے :

لما كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الغار قال لأبي بكر: كأني أنظر إلى سفينة جعفر في أصحابه تقوم في البحر، وأنظر إلى الأنصار محتبين في أفنيتهم، فقال أبو بكر: وتراهم يا رسول الله! قال: نعم، قال: فأرنيهم، فمسح على عينيه فرآهم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أنت الصديق

جب رسول اللہ ﷺ غار میں تھے تو نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: گویا کی میں جعفر طیار اور اس کے ساتھیوں کے کشتی کو دیکھ رہا ہوں ۔ ابوبکررضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، کیا آپ ان کو دیکھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ ابوبکررضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے دکھا دیجیئے ، نبی کریم ﷺ نے ان کے آنکھوں پر پاتھ پھیرا تو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے ان سب کو دیکھ لیا۔ پس اس وقت رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’تو صدیق ہے‘‘۔(تفسير القمي: (1/289)

سورہ زمر کی آیت کی تفسیر

وَالَّذِى جَآءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِه ُأولٰٓئِكَ هُمُ المُتَّقُونَ

الزمر – 33

اور جو سچے دین کو لے کر آئے اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔

اس آیت كی تفسیر میں شیعہ كی معتبر كتاب تفسیر مجمع البیان میں لکھا ہے کہ:

الذي جاء بالصدق رسول الله ﷺ وصدق به أبوبكر

وہ شخص جو سچ لیکر آیا جناب رسول اللہ ﷺ ہیں ، اور وہ شخص جس نے نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی اور ہر بات کو بلا چوں وچرا مان لیا وہ حضرت ابو بکر الصدیق ہیں۔ (تفسیر مجمع البیان ، ج۴ ، ص: ۴۹۸)

اسی طرح شیعہ کی ایک اور معتبر کتاب میں یہ درج ہے کہ:

كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (ما سبقكم أبو بكر بصوم ولا صلاة ولكن بشيء وقر في صدره)

نبی کریم ﷺ ہمیشہ صحابہ کی جماعت میں فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر کی سبقت وفضیلت روزہ ،نماز سے نہیں بلکہ وہ ان کے دل کی عقیدت مندی اور اخلاص کا ثمر ہے ۔ مجالس المؤمنين، ص: (88)

امام محمد تقی رحمہ اللہ کا قول

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت جس طرح شیعہ کتابوں میں نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے اسی طرح حضرات أئمہ کرام سے بھی ثابت ہے ، چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب میں امام محمد تقی رحمہ اللہ کا یہ قول ثابت ہے ۔

لستُ بمنكر فضل عمر ولكن أبا بكر أفضل من عمر

یعنی میں جناب عمر رضی الله عنہ كے فضائل كا منكر نہیں لیكن حضرت ابو بكر رضی الله عنہ حضرت عمر رضی الله عنہ سے افضل ہیں ۔ (الاحتجاج للطبرسی ، ص: ۲۵۰ )

حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کا قول

اگر حضرت امام محمد تقی رحمہ اللہ نے حضرت صدیق اکبر اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما دونوں حضرات کی فضیلت کا اقرار کرکے حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان فرمائی ہے تو حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے ان دونوں حضرات کو امامت وخلافت ِحقہ کا اعلان فرمایا: چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب میں امام جعفر صداق رحمہ اللہ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا:

ھما إمامان  عادلان قاسطان كانا علی الحق وماتا علیه فعلیهما رحمة الله یوم القیامة

دونوں عادل ومنصف امام تھے ،دونوں حق پر رہے اور دونوں حق پر رہتے ہوئےدنیا سے رخصت ہوئے ، پس ان دونوں پر تا قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ (احقاق الحق ، ص: ۱۶ )

سورۃ النور کی آیت ۲۲ کی تفسیر

شیعہ کی تفسیر مجمع البیان میں قرآن كی درج ذیل آیت :

وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ  وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا  أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

النور – 22

اور تم میں سے آسودہ حال لوگوں کو یہ قسم نہ کھانا چاہئے کہ وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ (صدقہ وغیرہ) نہ دیں گے۔ انھیں چاہئے کہ وہ ان کو معاف کردیں اور ان سے درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کردے۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

سورہ نور کی اس آیت کی تفسیر میں تفسیر مجمع البیان مذکور ہے كہ:

أن قوله وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ ، الآیة ، نزلت في أبي بكر ومسطه بن أثاثة

 اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ  حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ  رضی اللہ عنہ کے حق میں اتری ہے (جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی مسکین اور مہاجر تھے )۔ (مجمع البیان في تفسیر القرآن ، ج4  ص: 133  )

شیعہ کی معتبر تفسیر یہ بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو أولو الفضل منکم میں فضیلت اور بڑے درجے والا فرمایا ہے۔

سورۃ اللیل کی آیت کی تفسیر

اسی تفسیر مجمع البیان میں قرآن کی آیت :

وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ‎﴿١٧﴾‏ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ

اللیل – 17/18

اورجو بڑا پرہیزگار ہوگا اسے اس سے دور رکھا جائے گا ،جس نے پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیا ۔

اس آیت کی تفسیر میں یہ نقل کیا گیا ہے :

عن ابن الزبیر ، قال: إن الآیة نزلت في أبي بكر، لأنه اشتری ممالیك الذین  أسلموا مثل بلال وعامر بن فهیرة وغیرهما وأعتقهم

  ابن زبیر نے کہا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ جیسے مسلمان ہونے والے غلاموں کو ان کے کافر مالکوں سے خرید کر آزاد کر دیا تھا ۔ (مجمع البیان في تفسیر القرآن ، ج5  ص؛ 501  )

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مصلیٰ امامت پر

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے آخری ایام میں تمام صحابہ واہل بیت وبنی ہاشم کا امام اور اپنا قائم مقام مقرر فرمایا، چنانچہ درّنجفیہ شرح نہج البلاغہ میں خود شیعہ کے مجتہد اعظم کا یہ اقرار ہے کہ :

كان عند خفة  مرضه یصلی بالناس بنفسه ، فلما اشتد به المرض أمر أبا بكر أن یصلی بالناس ، وأن أبا بكر صلی بالناس بعد ذلك یومین ثم مات

جناب رسول اللہ ﷺ اس وقت تک خود بہ نفس نفیس لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے جب تک مرض خفیف رہا ، لیکن جب مرض سخت ہوگیا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایاکہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں ، اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ دو دن تک نبی کریم ﷺ کی زندگی میں تمام لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے پھر نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی ۔(در نجفیه، محمدباقر بن محمد جعفر شیخی همدانی ، ص: 225)

حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے مقتدی

اگر نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں جناب صدیق أکبر کو امام مقرر فرمایاتو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ ان کی امامت کو صدق دل سے قبول فرمایا ، شیعہ کی کتابوں سے بخوبی ثابت ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ مسجد میں آکر حضرت صدیق اکبر کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی میں یہ بات مذکور ہے ۔

ثم قام وتهیأ للصلاة وحضر المسجد وصلی خلف أبی بكر

پھر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اٹھے اور نماز کے لئے تیاری کرکے مسجد میں حاضر ہوئے اور حضرت ابو بکر کے پیچھے نماز پڑھی ۔(الاحتجاج – الشيخ الطبرسي – ج ١ – الصفحة ١٢٦) و تفسير القمي – علي بن إبراهيم القمي – ج ٢ – ص: ١٥٩)

یہی عبارت  شیعہ کی تفسیر البرھان اور دیگر کئی کتابوں کے اندر بھی درج ہے ۔

ثُمَّ قَامَ وَ تَهَيَّأَ لِلصَّلاَةِ،وَ حَضَرَ الْمَسْجِدَ،وَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ  ( البرهان في تفسير القرآن ، الجزء : 4  صفحة : 348 ، ومرآة العقول ، ص: 388 )

شیعہ کی اردو کتاب غزوات حیدری میں حضرت صدیق اکبر کے متعلق لکھا ہے : ’’ بس بے اختیار اٹھے اور گزرتے وقت سےبہت گھبرائے ناچار آن کر اقامت کہی اور جماعت اہل دین نے عقب ان کے صف باندھی ، چنانچہ اس صف میں شاہِ لا فتی بھی تھے‘‘۔ (غزوات حیدری ، ص: 627 )

ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز

شیعہ كا مشہور مترجم قرآن مجید ترجمہ مقبول احمد كے ضمیمہ پر حضرت علی المرتضی كے بابت لكها ہے : ’’ پھر وه (علی رضی الله عنہ) اٹھے اور نماز كے قصد سے وضو فرماكر مسجد میں تشریف لائے اور ابو بكر كے پیچھے نماز پڑھی ‘‘  (ضمیمه ترجمه قرآن از مقبول احمد ، ص: 415 )

حضرت علی کی حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت

شیعہ کی کتاب احتجاج طبرسی میں لکھا ہے:

قال أسامة له هل بایعته ؟ فقال: نعم یا أسامة

حضرت اسامہ نے حضرت علی سے پوچھا کیا آپ حضرت صدیق اکبر کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جی ہاں! میں ان کے ہاتھ پربیعت کر چکا ہوں ۔ (الاحتجاج للطبرسی ، ص: 56  )

اسی کتاب کے دوسرے مقام پر لکھا ہے :

ثم تناول ید أبي بكر فبایعه

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کر لی ۔ (الاحتجاج للطبرسي ، ص: 52 ، و روضة الكافي للكليني ، ص: 115 ، 139)

خلافت ابوبکررضی اللہ عنہ کی پشین گوئی

حضرت علی رضی اللہ عنہ كیسے حضرت ابوبكر صدیق كے پیچھے نماز نہ پڑھتے ،كیونكہ خود رسول كریم ﷺ نے ان كو امام مقرر فرمایاتھا، اور اسی طرح حضرت ابوبكر صدیق رضی اللہ عنہ كی خلافتِ حقہ پر بیعت کیوں نہ کرتے کیونکہ خود نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر کی خلافت کے متعلق اللہ تعالی کی طرف سے خوشخبری سنا دی تھی جو شیعہ کی مختلف کتابوں سے ثابت ہے۔ چنانچہ شیعہ تفسیر قمی ، مجمع البیان اور تفسیر صافی میں موجود ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دفعہ پریشان تھیں، ان کو خوش کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے  یہ خوش خبری سنائی :

إن أبا بکر یلي الخلافة بعدي ثم بعده أبوك، فقالت من أنباك هذا ؟ قال نبأني العلیم الخبیر

ضرور بضرور میرے بعد خلافت کا والی ابو بکر ہوگا اور ابو بکر کے بعد تیرا باپ ( حضرت عمر) خلیفہ ہوگا، تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے دی ہے جو بہت جاننے اور باخبر ذات ہے۔ ( تفسیر قمی ، ص: 354  ، تفسیر مجمع البیان ، ج 5 ، ص: 314 ، اور تفسیر صافی ، ص:  522)

ایک اور جگہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو بکر کی بیعت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فمشيت عند ذلك إلى أبي بكر فبايعته، ونهضت في تلك الأحداث حتى زاغ الباطل وزهق، وكانت كلمة الله هي العليا ولو كره الكافرون، فتولى أبو بكر تلك الأمور، فيسر وسدد وقارب واقتصد، فصحبته مناصحاً، وأطعته فيما أطاع الله فيه جاهدا.

چنانچہ میں اٹھا اور ابوبکر کے پاس گیا اور میں نے ان سے بیعت کی اور میں ان واقعات کے دوران ڈٹا رہا  ، حق کا ساتھ دیتا رہا ، یہاں تک کہ باطل مٹ گیا اور اللہ کا کلام غالب ہوگیا، اگرچہ کافرلوگ اس کا انکار کرتے ہیں ۔اور جب ابوبکررضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے رعایا کے ساتھ نرمی کی، کجی کو سیدھاکیا، معاملات کی اصلاح کی، میانہ روی اور کفایت شعاری اختیار کی۔ پس میں اس کا ساتھی بن گیا اور جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا رہا میں اس کی اطاعت کی کوشش کرتا رہا  ۔). شرح نهج البلاغة لابن أبي الحديد: (6/95)، کتاب الغارات للثقفي: 2/305 – 307).

خلفاء ثلاثہ كی بیعت

نہج البلاغة مولف علامہ الشریف ابو الحسن محمد الرضی بن الحسن الموسوی  المتوفی404ھ کی شرح میں ہے۔

(ومن كتاب له (عليه السلام) إلى معاوية : إنه بايعني القوم الذين بايعوا أبا بكر، وعمر ، وعثمان ،على ما بايعوهم عليه ، فلم يكن للشاهد أن يختار ، ولا للغائب أن يرد ، وإنما الشورى للمهاجرين والأنصار، فإن اجتمعوا على رجل وسمَّوه إماماً كان ذلك لله رضاً ، فإن خرج عن أمرهم خارج بطعن أو بدعة ردوه إلى ما خرج منه ، فإن أبى قاتلوه على اتباعه غير سبيل المؤمنين ، وولاه الله ما تولى . ولعمري يا معاوية لئن نظرت بعقلك دون هواك لتجدني أبرأ الناس من دم عثمان ، ولتعلمن أني كنت في عزلة عنه إلا أن تتجنى فتجن ما بدا لك.والسلام)

حضرت علیؓ نے حضرت امیر معاویہرضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ بے شک میری بیعت اسی قوم نے کی ہے جس نے حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی بیعت کی ہے اور انہیں شرطوں پر کی ہے جن شرطوں پر ان کی بیعت کی تھی ،سو کسی موجود کےلئے گنجائش نہیں کہ اپنی مرضی کرے اور کسی غیر حاضر کو مجال نہیں کہ وہ اس کو رد کرے اور یقینی امر ہے کہ شورٰی کا حق مہاجرین اور انصار کوحاصل ہے سو وہ جس آدمی کے بارے میں اتفاق کر لیں اور اس کا امام مقرر کریں تو اسی میں اﷲ تعالیٰ کی رضا ہے پس اگر کوئی شخص طعن کرتے ہوئے یا بدعت کا ارتکاب کرتے ہوئے ان کے فيصلہ سے سرتابی کرے گا تو وہ اسے اس چیز کی لوٹائينگے جس سے وہ نکلا ہے، اگر اس نے انکار کیا تو وہ اس سے قتال کریں گے کيونکہ وہ مومنوں کے راستہ کے بغیر کسی اورراستہ پر چل پڑاہے اور اﷲ تعالیٰ نے اس کو اسی طرف پھیر دیا ہے جدھر کو وہ چل پڑا ہے۔ اے معاويہؓ مجھے اپنی عمر (کے خالق) کی قسم اگر تو عقل سے ديکھے گا نہ کہ اپنی خواہیش سے تو تو مجھے حضرت عثمان کے خون سے بری پائےگا اور تو ضرور جان لے گا کہ میں اس سے بیزار ہوں ہاں اگر تو میرے پيچھے پڑ کر مجھے اس جرم میں آلودہ کرے تو جوخیال میں آئے کرو۔ والسلام(شرح نهج البلاغة – ابن أبي الحديد – ج ١٤ – ص: ٣٥)

اس خط سے درج ذیل واضح اور قیمتی فوائد حاصل ہوتے ہیں 

  • حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرات خلفاءثلاثہ رضی اللہ عنہم کو برحق خلفاءتسلیم کرتے تھے جیسا کہ عبارت میں تصر یح ہے۔
  • اپنی خلافت کے حق ہونے کی يہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ مجھے اسی قوم نے خلیفہ منتخب کیا ہے۔جس نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا ہے، پھر تم مجھے خلفیہ برحق کیوں نہيں تسلیم کرتے ؟
  • جس طریقہ پر خلفاءثلاثہ رضی اللہ عنہم کا انتخاب ہوا تھا کہ حضرات مہاجرین اورانصاررضوان اللہ علیہم اجمعین کے شورٰی سے يہ انتخاب ہوا تھا بالکل وہی طریقہ میرے انتخاب کا ہے تو پھر میں کیوں خلفیہ برحق نہیں ہوں؟
  • اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی خلافت کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے کوئی نص یا وصیت ہوتی جیسا کہ شیعوں کا دعوی ہے تو اس مقام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ضرور اس کا حوالہ ديتے کہ :اے معاويہ !میں تو آنحضرت ﷺ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور مقرر کردہ خلیفہ ہوں پھر مجھے تم کیوں نہیں مانتے؟ اس اہم موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ  کا اپنی خلافت کے بارے میں قرآن کریم اور حدیث شریف کی کسی نص کا ذکر نہ کرنا  اس حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیتا ہے کہ خلافت کی وصیت کے افسانے شیعہ کی  تراشی ہوئی جھوٹی کہانیا ں ہیں ۔
  • مہاجرین وانصار سبھی مومن ہیں اوران مومنین کے راستے کو چھوڑنے والا غیرسبیل المومنین پر گامزن ہے اورحسب ارشاد خداوندی نولہ ما تولی کا مصداق ہے۔
  • مہاجرین اور انصار کا کسی امر پر اتفاق و اجماع اﷲ تعالیٰ کی رضا ہے اور اس کی خلافت ورزی بدعت ہے۔
  • مہاجرین اور انصار کا کسی امر پر اتفاق و اجماع اﷲ تعالیٰ کی رضا ہے اور اس کی خلافت ورزی بدعت ہے۔
  • جوشخص مہاجرین و انصار کے اس اجتماعی فیصلہ سے خروج کرے کا تو اس کے خلاف جہاد اورقتال ہوگا تا کہ وہ راہ راست پر آجائے۔( سبع سموت(
  • يہ فوائد اس عبارت سے بالکل عیاں ہیں جیساکہ کسی بھی عربی دان سے مخفی نہیں ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت امیر معاويہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ بھی اسی ليے ہوئی کہ ان کی تحقیق و اجتہاد میں حضرت امیر معاويہ رضی اللہ عنہ بظاہر مہاجرین اور انصار کے شورٰی اور ان کے فیصلے کا احترام نہیں کرتے تھے اور حضرت امیر معاويہ رضی اللہ عنہ اس لئے قتال پر آمادہ ہوئے کہ ان کی دانست میں حضرت علی رضی اللہ عنہ مظلوم خلفیہ حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص میں تساہل سے کام لے رہے تھے اور درحقیقت سبائی پارٹی نے بدنیتی کی وجہ سے فریقین کو سوچنے اورسمجھنے کا موقع نہیں دیا۔

خلفاء راشدین کے طرز پر حکومت کرے

و كان الحسن يُجل أبابكر وعمر رضي الله عنهما حتى أنه أشترط على معاوية فى صلحه معه أن يسير بسيرتهما فمن ضمن شروط معاهدة الصلح” إنه يعمل و يحكم فى الناس بكتاب و سنة رسول الله و سيرة الخلفاء الراشدين

حضرت حسن  رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی نہایت عزت واحترام کیا کرتے تھے اس حد تک کہ اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنےصلح کے معاہدے میں یہ شرط رکھی کہ وہ خلفاء راشدین یعنی ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی سیرت  پر چلوگے۔ چنانچہ اپنی شرائط بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک زندہ رہو گے قرآن وسنت کے پر عمل کروگےاور حکومت اس طرز پر کروگے جس طرز پر ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے کیا تھا ۔ 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعا

عن الإمام جعفر الصادق عن أبيه الإمام محمد الباقر قال: قال رجل من قريش لعلي بن أبي طالب، رضي الله عنه: يا أمير المؤمنين نسمعك تقول في الخطبة آنفا، اللهم أصلحنا بما أصلحت به الخلفاء الراشدين المهتدين، فمن هم؟ فاغرورقت عيناه، ثم أهملهما فقال: “هم حبيباي وعماك أبو بكر وعمر، إماما الهدى، وشيخا الإسلام، ورجلا قريش، والمقتدى بهما، بعد رسول الله (صلى الله عليه وسلم)، فمن اقتدى بهما عصم، ومن اتبع آثارهما هدي إلى صراط مستقيم، ومن تمسك بهما فهو من حزب الله، وحزب الله هم المفلحون”

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد امام باقر علیہ السلام سے روایت كرتے ہیں كہ قریش كے ایك شخص نے حضرت علی رضی الله عنہ سے كہا: اے امیر المؤمنین ابھی ہم نے آپ سے خطبہ کے دوران سنا ۔ آپ فرما رہے تھے ۔یا اﷲ ! ہماری اسی طری اصلاح فرما جس طرح تو نے خلفاءراشدین کی اصلاح کی۔ سوال کیا گیا کہ خلفاءراشدین کون تھے، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ وہ میرے دوست اور تیرےچچا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ ہیں، وہ دونوں ہدایت کے امام اور قریش کے فرد تھے اور جناب رسول کریم ﷺ کے بعد رہنما اور مقتدی تھے،  وہ دونوں شیخ الاسلام تھے، جس نے بھی ان کی پیروی کی وہ گمراہی سے بچ گیا اور جو ان کے نقش قدم پر چلا وہ صراط مستقیم پا گیا۔اورجو ان دونوں کی پیروی کرے گا وہ  اللہ کی جماعت میں سے ہوگا اوراللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد امام باقر علیہ السلام سے روایت كرتے ہیں كہ قریش كے ایك شخص نے حضرت علی رضی الله عنہ سے كہا : اے امیر المؤمنین ابھی ہم نے آپ سے خطبہ کے دوران سنا ۔ آپ فرما رہے تھے ۔یا اﷲ ! ہماری اسی طری اصلاح فرما جس طرح تو نے خلفاءراشدین کی اصلاح کی۔ سوال کیا گیا کہ خلفاءراشدین کون تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ میرے دوست اور تیرےچچا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ ہیں، وہ دونوں ہدایت کے امام اور قریش کے فرد تھے اور جناب رسول کریم ﷺ کے بعد رہنما اور مقتدی تھے،  وہ دونوں شیخ الاسلام تھے، جس نے بھی ان کی پیروی کی وہ گمراہی سے بچ گیا اور جو ان کے نقش قدم پر چلا وہ صراط مستقیم پا گیا۔اورجو ان دونوں کی پیروی کرے گا وہ  اللہ کی جماعت میں سے ہوگا اوراللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے۔

اس خطاب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کو خلیفہ برق تسلیم کیا اور ان کو خلفاءراشدین مانا ہے اور ان کو محبوب اور قابل حترام تسلیم کیا ہے۔ اور ان کو خلفاءراشدین مانا ہے اور ان کو اپنا محبوب اور قابل احترام تسلیم کیا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے بعد انہیں امت کے لئے مقتدی کہا ہے اور ان کی اتباع کو گمراہی سے بچاؤ کاذریعہ اور ان کی پیروی کوہدایت اور صراط مستقیم قرار دیا ہے۔ اﷲتعالیٰ ہر مسلمان کوان کی محبت مرحمت فرمائے۔ اوراس محبت پر تازیست قائم رکھے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدد

حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ وحضرات حسنین شریفین كو حضرت صدیق اكبر سے اس قدر كیوں محبت نہ ہوتی جبكہ حضرت صدیق اكبر ہمیشہ جناب علی المرتضی كے ساتھ محبت كرتے اور ہر قسم کی ممكنہ دوستانہ امداد واعانت كرتے رہتے تھے، چنانچہ حضرت علی المرتضی كی شادی جب سیده فاطمہ سےہوئی تو شادی کی تمام ضرویات حضرت صدیق اكبر ؓ هی بازار سے خرید كر لائے ۔  چنانچہ ملا باقر مجلسی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

دو کف ازاں دراہم برگفت وبابوبکر داد وفرمود بروببازار و از برائے فاطمہ بگیر آنچہ  او را درکار است  از جامہ واثاث البیت ، عمار بن یاسررضی اللہ عنہ وجمعے از صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین از پے او فرستادہمگی در بازار در آمدند ، پس ہریک از ایشاں چیزے را اختیار مے کر دند بہ ابو بکر می نمودند وبمصلحت او می خریدند  (جلاء العیون ، ص: 55 )

یعنی جناب رسول اللہ ﷺ نے ان درہموں سے دو مٹھی بھر ابوبکرؓ کے حوالے کی اور بازار جانے کا حکم فرمایا تاکہ سیدہ فاطمہ کی شادی کے لئے کپڑے اور سامان خرید لاؤ ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور صحابہ کی ایک جماعت ان کے ساتھ روانہ کی ، یہ تمام حضرات بازار آئے ،پس ہر شخص جس چیز کو پسند کرتا تھا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ دکھاتا تھا تو صدیق اکبر کے مشورے اور صوابدید سے خرید کی جاتی تھی ۔

ابوبکر صدیو رضی اللہ عنہ مشکل وقت کا ساتھی

نبی کریم ﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس قدر گہرے پیارے اور برادری کے تعلقات کیوں نہ ہوتے جب کہ وہ ان کو مشکل سے مشکل وقتوں میں آزما چکے تھے کہ یہ شخص سچا جان نثار اور پورا وفا دار ہے ، اگر اُحد کا میدان کارزار ہے تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں ۔ چنانچہ شیعہ کی کتاب تفسیر مجمع البیان کے  مصنف لکھتا ہے :

ذكر أبو القاسم البلخي أنه لم یبق مع النبي ﷺ یوم أحُد إلا ثلاثة عشر نفرا ، خمسة من المهاجرین وثمانیة من الأنصار، فأما المهاجرون فعلي وابوبكر ،وطلحة وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص ۔

ابو القاسم بلخی نے بیان کیا ہے کہ اُحد کے دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ تیرہ شخصوں کے سوا کوئی نہ رہا ، پانچ مہاجرین اور آٹھ انصاری تھے ، مہاجرین میں سے جناب علی المرتضی رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوبکر صدیق ،  جناب طلحہ وعبد الرحمن ابن عوف وسعد بن ابی وقاص رہے  ۔(تفسیر مجمع البیان ، ج 1  ، ص : 24 )

ہاں وہ صدیق ہیں

عن عروة بن عبد الله ،قال سألت أبا جعفر محمد بن علی علیهما السلام عن حلیة السیوف فقال لابأس به قد حلّیٰ أبو بكر الصدیق رضی الله عنه سیفه، قلت : فتقول الصدیق ؟ قال : فوثب وثبة واستقبل القبلة وقال: نعم ، الصدیق ، نعم الصدیق ، نعم الصدیق ، فمن لم یقل له الصدیق فلا صدّق الله له قولا في الدینا ولا في الآخرة ۔

عروہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابا جعفر محمد باقر بن علی رحمہ اللہ سے تلواروں کو زیور سے آراستہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو امام صاحب نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کو زیور پہنایا تھا ( لہذا یہ جائز ہے )  راوی کہتا ہے کہ میں نے امام کی خدمت میں عرض کی کہ آپ بھی ابو بکر کو صدیق کہتے ہیں ؟ امام صاحب جلدی کھڑے ہوئے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے فرمانے لگے : ہاں ! وہ صدیق ہیں ، ہاں ! وہ صدیق ، ہاں ! وہ صدیق ہیں ۔ (كشف الغمة ، ج 2 ، ص: 148)

فرزندانِ اہلبیت کے اسمائے گرامی

بلکہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور دیگر ائمہ اہل بیت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس قدر محبت اور عقیدت رکھتے تھے کہ جناب امیر المؤمنین علی المرتضی اور دیگر ائمہ اہل بیت نے اپنے فرزندوں کے نام ابو بکر رکھے ، (تاریخ الائمہ ، ص: ،43 )

أبناء علی المرتضیٰ ، حسن ، حسین ، محسن ، عباس ، محمد ، أبوبکر ، عمر ، عثمان وغیرھم

كشب الغمة – ص/132

جلاء العیون میں شیعہ مجتہد باقر مجلسی  لکھتے ہیں :

فرزند حضرت امیر المؤمنین او  را  ابوبکر مے گفتند

جناب علی المرتضی كے فرزند جن كو ابو بكر كهتے تھے۔ (جلاء العیون ، ص:  193)

حضرت حسن رضی الله عنہ كے فرزندوں كے نام

حضرت حسن رضی الله عنہ كے فرزندوں كے نام بھی ابو بكر عمر تھے۔

فرزندان امام حسن ، قاسم ، عبد الله ، حسن مثنی ، زید عبد الرحمن ، ابوبكر ، عمر ، اسماعیل وغیرهم

حضرت حسین رضی الله عنه كے فرزندوں كے نام

حضرت حسین رضی الله عنه كے فرزندوں كے نام بھی ابوبكر وعمر تھے ، چنانچہ شیعہ کی مشہور تاریخ کی کتاب میں یہ بات صراحت ہے :  فرزندان امام حسین رضی اللہ عنہ ،  زین العابدین ، علی اكبر ، علی اصغر ، زید ، ابراهیم ، محمد ، همزه ، ابوبكر ، جعفر ، عمر  وغیرهم ۔ (تاریخ الائمہ ، ص:  83  )

کربلا میں شہید ہونے والے

وممن قتلوا في كربلاء من ولد الحسين ثلاثة، علي الأكبر وعبد الله الصبي وأبو بكر بنوا الحسين بن علي

کربلا میں شہید ہونے والوں میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے علی اکبر ، عبد اللہ اور ابوبکر بن حسین بھی شامل تھے۔(التنبيه والإشراف” ص:263)

امام زین العابدین رحمہ اللہ

إن زين العابدين بن الحسن كان يكنى بأبي بكر أيضاً

یعنی امام زین العابدین رحمہ اللہ کی کنیت ابو بکر تھی ۔( كشف الغمة” ج2 ص74).

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پوتا

وأيضاً حسن بن الحسن بن علي، أي حفيد علي بن أبي طالب سمى أحد أبنائه أبا بكر

یعنی حضرت علی کے پوتے حسن بن حسن نے اپنے ایک بیٹے کا نام ابوبکر رکھا ۔)مقاتل الطالبيين، ص: 188 ، ط دار المعرفة ، بيروت ) .

امام موسی کاظم رحمہ اللہ

والإمام السابع عند الشيعة موسى بن جعفر الملقب بالكاظم أيضاً سمى أحد أبنائه بأبي بكر

شیعہ کے ساتویں امام موسی کاظم  رحمہ اللہ نے بھی اپنے ایک بیٹے کا نام ابو بکر رکھا ۔ )كشف الغمة ” ج 2 ص 217 ( .

امام علی رضا رحمہ اللہ

ويذكر الأصفهاني أن علي الرضا – الإمام الثامن عند الشيعة – كان يكنى بأبي بكر

اصفہانی کے مطابق شیعوں کے آٹھویں امام علی رضا رحمہ اللہ کی کنیت بھی ابوبکر تھی ۔(مقاتل الطالبين” ص:561، 562)

امام موسی ٰ کاظم رحمہ اللہ کی بیٹی کانام

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسی کاظم رحمہ اللہ نے اپنی ایک بیٹی کام بھی حضرت ابوبکر کی بیٹی عائشہ صدیقہ کے نام رکھا ۔ چنانچہ شیخ مفید ’’ ذكر عدد أولاد موسى بن جعفر وطرف من أخبارهم‘‘ یعنی اولاد موسی بن جعفر کی تعداد اور ان کے احوال کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :

وكان لأبي الحسن موسى عليه السلام سبعة وثلاثون ولداً ذكراً وأنثى منهم علي بن موسى الرضا عليهما السلام و … وفاطمة … وعائشة وأم سلمة

جناب ابوالحسن موسی کے 37 بیٹے اور بیٹیاں تھے جن میں (امام) علی بن موسی الرضا اور فاطمہ ، عائشہ اور امِ سلمہ شامل ہیں۔ (الإرشاد، ص:302، 303، والفصول المهمة، ص:  242، وكشف الغمة،ج2 ص:237)

مصنف/ مقرر کے بارے میں

IslamFort