Login


غصہ کا علاج

 

فضیلۃ الشیخ/ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

عن سليمان بن صرد رضي الله عنه قال : استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فجعل أحدهما يغضب ويحمر وجهه و تنتفخ أوداجه فنظر إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال : إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب ذا عنه :" أعوذ بالله من الشيطان الرجيم " فقام إلى الرجل رجل ممن سمع النبي صلى الله عليه وسلم فقال : تدري ما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم آنفا ؟ قال : لا، قال: إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب عنه : أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، فقال له الرجل : أمجنونا تراني؟ .  ( صحيح البخاري : 3282 ، بدء الخلق / صحيح مسلم : 2610 ، البر / الفاظ صحیح مسلم کے ہیں )

ترجمہ :

سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوچ کررہے تھے ان میں کا ایک غصے میں آگیا ، اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس کی رگیں پھول گئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا :" میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کی یہ کیفیت دور ہوجائے ، وہ کلمہ ہے " اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " [ میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ]" چنانچہ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ان میں سے ایک شخص اس غصہ ہونے والے شخص کے پاس گیا اور کہنے لگا : کیا تم جانتے ہو کہ ابھی ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا  : اس نے جواب دیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ ہیں میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے اگر یہ پڑھ لے تو  اس کا غصہ جاتا رہے ، وہ کلمہ ہے  : " اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " اس شخص نے کہا کہ کیا تو مجھے پاگل سمجھ رہا ہے ۔ [ صحیح بخاری وصحیح مسلم ]

تشریح :

غصہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے کہ اگر فوری اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر باہمی نا اتفاقی ، حسد و کینہ ، بغض و نفرت ، گالی و گلوچ حتٰی کہ مارپیٹ ، قتل و خونریز ی ، طلاق اور مال و اولاد پر بد دعا کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، اس لئے اپنے دین و ایمان پر حریص شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس مرض کا علاج کرے ۔

واضح رہے کہ سب سے بہتر اور کامیاب وہ علاج ہے جس کی طرف اسلام نے  رہنمائی کی ہے ، چنانچہ جب ہم نصوصِ شرع پر غور کرتے ہیں تو  اس مرض کے بہت سے علاج کی طرف ہماری رہنمائی ہوتی ہے ، اختصار کے ساتھ وہ بعض علاج درج ذیل ہیں :

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت :

   یعنی ایک مومن یہ سوچے کہ اللہ اور اس کے رسول نے غُصّہ آنے پر صبر سے کام لینے اور لوگوں کی غلطی کو معاف کردینے کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ( سورة فصلت : 34)  

ترجمہ: " اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے "

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرِ قرآن سیدنا ابن عباس   tبیان کرتے ہیں کہ ، اس سے مراد غُصّہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کو معاف کرنا ہے ۔ [ صحیح  بخاری  معلقا ]۔

 بُرے نتائج پر غور :

 غصہ کو پی جانے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ غصہ کےدینی و دنیوی  نتائج پر غور کرے کہ بسا اوقات  ایک شخص غصہ میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے ۔

 پرہیز:

 ان اسباب اور چیزوں  سے پرہیز (اجتناب)کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں ۔

 اجر و ثواب کی نیت :

اُن فضائل ، اجر و ثواب کو اپنے پیش نظر رکھے جو غصہ پی جانے اور غصہ پر کنٹرول کرنے کے عوض حاصل ہوتے ہیں ۔ جیسے :

مزید پڑھیے۔۔۔

شرک کے مختلف رائج الوقت اسباب

تحریر: فضیلۃ الشیخ اقبال کیلانی حفظہ اللہ

یوں تو نہ معلوم ابلیس کن کن اور کیسے کیسے دیدہ ونادیدہ طریقوں سے شب وروز اس شجرہ خبیثہ ’’ شرک‘‘ کی آبیاری میں مصروف ہے ‘اور نہ معلوم جاہل عوام کے ساتھ ساتھ بظاہر کتنے نیک سیرت درویش ‘پاک طینت بزرگان دین ‘صاحب کشف وکرامت اولیاء عظام‘ ترجمان شریعت علماء کرام ‘ملک وقوم کے سیاسی نجات دہندگان اور خادم اسلام حکمران بھی حضرت ابلیس کے قدم بقدم اس ’’ کارخیر‘‘ میں شرکت فرمارہے ہیں

بقول سیدنا عبداﷲبن مبارک رحمہ اﷲ۔

فَھَلْ أَفْسَدَ الدِّ یْنَ اِلَّا الْملُوک   وَأَحْبَارُ سُوْء وَ رُھْبَانُھا

 ترجمہ: ’’کیا دین بگاڑنے والوں میں بادشاہوں ‘علماء اور درویشوں کے علاوہ کوئی اور بھی ہے؟‘‘


 اس لئے ایسے اسباب وعوامل کا ٹھیک ٹھیک شمار کرنا تو مشکل ہے تاہم جو اسباب شرک کی ترویج کا باعث بن رہے ہیں ان میں سے اہم ترین اسباب درج ذیل ہیں۔


        (۱) جہالت (۲) ہمارے صنم کدے (تعلیمی ادارے) (۳) دین خانقاہی (۴) فلسفہ وحدت الوجود ‘ وحدت الشہوداور حلول (۵) برصغیر ہندوپاک کا قدیم ترین مذہب‘ ہندومت (۶) حکمران طبقہ


۱۔جہالت

 کتاب وسنت سے لاعلمی وہ سب سے بڑا سبب ہے جو شرک کے پھلنے پھولنے کاباعث بن رہا ہے ‘اسی جہالت کے نتیجے میں انسان آباء واجداد اور رسم ورواج کی اندھی تقلید کا اسیر ہوتا ہے اسی جہالت کے نتیجے میں انسان ضعفِ عقیدہ کا شکار ہوتا ہے اسی جہالت کے نتیجے میں انسان بزرگان دین اور اولیاء کرام سے عقیدت میں غلو کا طرز عمل اختیار کرتا ہے درج ذیل واقعات اسی جہالت کے چند کرشمے ہیں ۔

۱۔دھنی رام روڈ لاہور میں تجاوزات پر جوتیر چل رہا ہے ان کی زد سے بچنے کے لئے میو ہسپتال کے نزدیک ایک میڈیکل اسٹور کے منچلے مالک نے اپنے اسٹور کے بیت الخلاء پر رات کے اندھیرے میں ’’شاہ عزیز اﷲ‘‘کے نام سے ایک فرضی مزار بناڈالا اس مزار پر دن بھر سینکڑوں افراد جمع ہوئے جو مزار کا دیدار کرتے اور دعائیں مانگتے رہے ‘‘(نوائے وقت ۱۹ جولائی ۱۹۹۰  )

۲۔ ’’ اختلاف امت کا المیہ ‘‘کے مصنف حکیم فیض عالم صدیقی صاحب لکھتے ہیں’’میں آپ کے سامنے ایک واقعہ حلفیہ پیش کرتا ہوں چند روز ہوئے میرے پاس ایک عزیز رشتہ دار آئے جو شدت سے کشتہ پیری ہیں ۔میں نے باتوں باتوں میں کہا کہ فلاں پیر صاحب کے متعلق چار عاقل بالغ گواہ پیش کردوں جنہوں نے انہیں زنا کاارتکاب کرتے ہوئے دیکھا ہو تو پھر ان کے متعلق کیا کہو گے ؟کہنے لگے ’’یہ بھی کوئی فقیری کا راز ہوگا جو ہماری سمجھ میں نہ آتا ہوگا ‘‘پھر ایک پیر صاحب کی شراب خوری اور بھنگ نوشی کا ذکر کیا توکہنے لگے ’’بھائی جان یہ باتیں ہماریسمجھ سے باہر ہیں وہ بہت بڑے ولی ہیں‘‘( ۔ اختلاف امت کا المیہ صفحہ ۹۴)

مزید پڑھیے۔۔۔

امت مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل

 

آج اگر امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کی بات کی جائے تو وہ ذاتی زندگی سے متعلق بھی ہیں اور اجتماعی نظم سے بھی انفرادی زندگیوں میں بھی بے شمار کو تاہیاں دیکھنے میں آرہی ہیں اور معاشرتی سطح پر بھی کمزوریاں بڑھتی چلی جارہی ہیں عوام کو بھی اپنی اصلاح کی فکر کرنی ہے اور حکمرانوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ان امور کی نشاندہی کی جائے جو ہمارے مسائل ومشکلات ،بگاڑ وفساد اور زوال وانحطاط کا اصل سبب ہیں۔ جب عوام وخواص ،رعایا اور حکمران ،فرد اور معاشرہ سب اپنی کمزوریوں اور ذمہ داریوں کا احساس وادراک کر کے ان اسباب کے ازالے کی فکر کریں گے تب کہیں بہتری کے آثار نمودار ہونا شروع ہوں گے۔ان شاءاللہ

ایمان محکم ،عمل ِ صالح ،خوف الٰہی اور فکرآخرت :

ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے اپنے معاشرے کی اصلاح کی اور کن بنیادوں پر صحابہ کرام کو کھڑا کیا کہ وہ زمانے کے مقتداءوپیشوا بن گئے۔ایک ایسا معاشرہ جو جہالت اور گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ،جہاں قتل و غارتگری کا رواج تھا ، وہ لوگ راہ راست سے اس حد تک بھٹکے ہوئے تھے کہ کو ئی ان پر حکمرانی کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے آقاﷺ نے اس معاشرے کا نقشہ ہی بدل دیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاشرے کو ایمان محکم ،عمل صالح ، خوفِ الٰہی اور فکرآخرت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں کہ جن کی وجہ سے پورا معاشرہ یکسر بدل گیا وہ لوگ جو پہلے قاتل اور لٹیرے تھے وہ زمانے کے مقتداء اور پیشوا بن گئے۔ان کا معاشرہ جنت کا نمونہ بن گیا ،وہ قیصر وکسری ٰ جیسی عالمی طاقتوں سے ٹکرا کر فاتح ٹھہرے۔ ہمارے حکمرانوں کا معاملہ ہو یا عوام کا،انفرادی زندگیاں ہوں یا اجتماعی نظم یقین محکم کی قوت ،کردار وعمل کی طاقت، خوف الٰہی کا زاد ِ راہ اور فکرآخرت کی دولت سے ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر محروم ہوگئے۔جب ہمارے پاس ایمان ویقین کی بنیاد اور اخلاص پر مبنی جذبہ ہی نہیں ،کردار وعمل کے اعتبار سے ہم کمزور ہوگئے ، محاسبہ کی فکر سے آزاد ہوگئے ،مرنے کے بعد کی زندگی کو بھول بیٹھے تو یہ وہ پہلی اینٹ ہے جو غلط رکھ دی گئی اس اینٹ کو جب تک صحیح نہیں کیا جائے گا اور ان چار بنیادوں پر اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو لانے کی کوشش نہیں کی جائے گی اس وقت تک اصلاحِ احوال کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

 وھن کی بیماری:
اس وقت امت مسلمہ مسائل و مشکلات کے جس گرداب میں پھنسی ہوئی ہے ،ہر طرف ظلم و ستم کی آندھیاں زوروں پر ہیں، ہر جگہ مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے ،ہر آنے والا دن گزرے دن سے زیادہ مصائب و آلام لے کر طلوع ہوتا ہے ۔دشمن اہل ایمان کو کاٹ کھانے اور صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کے لیے بھوکوں کی طرح امت مظلومہ پر ٹوٹا پڑ رہا ہے اس صورت حال سے نہ صرف یہ کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت پہلے خبردار کر دیا تھا بلکہ اس زوال و انحطاط کی وجہ بھی بتادی تھی کہ جب امت” وھن“ کی بیماری میں مبتلا ہو جائے گی یعنی دنیا سے محبت کرنے لگے گی اور موت کی ناپسندید گی کا شکار ہو جائے گی تو پھر اس قسم کے حالات سے دوچار ہو جائے گی اس وقت ہمیں امت مسلمہ میں یقین محکم ،عمل صالح ،خوفِ الہٰی اور فکر آخرت کا شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اجتماعی نظم اور اپنے دل ودماغ سے وھن کی بیماری کو یعنی دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کو ختم کردیں کیونکہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے، موت کی ناپسندیدگی بزدلی اور غیروں کی غلامی کا سبب بنتی ہے۔جب ہم اس بیماری سے نجات پاجائیں گے تو اس کے نتیجے میں بہت سی مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ان شااللہ

 اتحادو اتفاق کا فقدان:
اس وقت امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کی ایک بڑ ی وجہ اتحادواتفاق کا فقدان ہے۔ہمارے ہاں مذہبی بنیادوں پر ،مسلکی بنیادوں پر ،علاقائی بنیادوں پر اور لسانی بنیادوں پر نفرتوں کے ایسے بیج بوئے گئے ہیں کہ ان کی فصل اب بالکل تیار ہے۔دشمن نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ پالیسی کے تحت ہمیں یوں آپس میں دست وگریباں کیا کہ ہمارے مابین دوریوں کی خلیج حائل ہو گئی اور امت کا شیرازہ بری طرح بکھر کر رہ گیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت کے جن کلموں کو بدبودار باتیں کہہ کر چھوڑنے کا حکم دیا تھا انہی چیزوں نے اس امت واحدہ کو بانٹ رکھا ہے۔ ہمارے مسلکی اختلافات مخالفت اور تشدد کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور پھر نہ ختم ہونے والے فساد اور انتشار کا دروازہ کھل جاتا ہے۔اگر آج مسلکی ہم آہنگی ،عصبیت کے خاتمے ،علاقائی اور لسانی تفریق کو مٹانے اور جدید و قدیم کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی جائے کوئی وجہ نہیں کہ مسائل ومشکلات ہمیں یوں ہی گھیرے رکھیں اور اگر آج ہم نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک پھیلی ہوئی اسلامی دنیا کو اتحادو اتفاق کی لڑی میں پرونے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے پر آمادہ کر نے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارا مقدر یقیناً بدل سکتا ہے۔آج اگر یورپی یونین کی شکل میں یورپی ممالک کا بلاک موجود ہے ،افریقی ممالک آپس میں معاہدے کر کے ایک قوت بن سکتے ہیں ،سارک ممالک اکٹھے ہوسکتے ہیں تو اسلامی دنیا مشترکات پر اکھٹی ہو کر اپنا ایک بلاک بنا لینے کی ہمت کیوں نہیں کرتی ؟یا د رکھئے جب تک اس پہلو پر توجہ نہیں دی جائے گی اس وقت تک ہماری پریشانیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی رہیں گی۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا اصلاح معاشرہ اب بھی ممکن ہے؟

اسلام بین الاقوامی مذہب ہے اور اس کی تعلیمات بھی اس امر کا مظہر ہیں کہ ان کا تعلق صرف اہل اسلام سے  نہیں بلکہ غیر مسلم حضرات کے لیے بھی اس میں باقاعدہ رہنمائی موجود ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ غیر مسلم حضرات نے جب بھی اسلام قبول کیا اس میں سب سے بڑی وجہ قرآن مجید کا مطالعہ اور دوسری اہم وجہ اہل اسلام کا مثالی کردار رہا ہے چنانچہ انسانیت نے ان کے عمل اورکردار سے متاثر ہوکر اسلام کو گلے لگایا۔

لیکن افسوس اپنے اسلاف کی شاندار تاریخ سے قطع نظر اگر ہم عصر حاضر کے اہل اسلام کی طرف دیکھیں تو صد افسوس اسلام کے ماننے والے اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں، اور سچی بات تو یہ ہے کہ تعلیمات اسلامی پر عمل تو ایک طرف رہا ہماری اکثریت نے تعلیمات اسلامی کو من مانی تشریحات دیکر اسے اسلام کا نام دینا شروع کر دیا ہر فرقہ اور ہر مسلک اپنے نظریات کے مطابق اسلام کی آفاقی تعلیمات کو اپنے فرقہ کی مزعومہ حقانیت بیان کرنے میں استعمال کر رہا ہے یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ زندگی کے ہرشعبے میں ہم نے اسلامی تعلیمات کو نظرانداز کررکھا ہے  اس کا تعلق عقائد سے ہو یا عبادات سے یا پھر معاملات سے ہو یا اخلاقیات  سے متعلق، معاشرت ومعیشت الغرض زندگی کا ہرشعبہ اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح سے خالی نظر آتا ہے۔

وہ دین جس کی اساس توحید ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مکمل پیغمبرانہ زندگی اثبات توحید اور بطلان شرک کے بیان میں صرف کردی، یہاں تک کہ زندگی کے آخری ایام میں انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنا لینے پر یہودونصاری کو مطعون کرتے ہوئے دعا کی تھی کہ’اے اللہ میری قبرکوعبادت گاہ نہ بنانا-لیکن آج دیکھا جائے تو اسی دین کے ماننے والے اور اسی رسول کے پیروکاروں کا عمل دیکھیں اور پاکستان کے ہر شہر میں ایسے مناظر کثرت سے نظر آئیں گے جس کی نفی اور تردید کے لیے پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی صرف کی یعنی دن رات قبروں پر نذریں چڑھانا مردوں کومشکل کشا، حاجت روا اور غوث اعظم تصورکرنا۔

اور توحید اور رسالت کے تصور کا حسن تو مسخ ہوا ہی عبادات کی عالمگیریت کو بھی اپنے مزعومہ نظریات کے تحت محدود کر دیا یعنی وہ دین جس میں نماز، زکاۃ، روزہ اور حج بنیاد اور اساس تھی اور اگر ہم نماز کی ہی بات کریں تو اس کی یہی اہمیت کافی تھی کہ اسے عطا کرنے کے لیے خالقِ کائنات نے اپنے حبیب کو اپنے پاس بلایا تھا لیکن صد افسوس ہماری اکثریت  نے اس کی عالمگیریت کو مسخ کردیا کہ اب نماز ایک نہ رہی بلکہ حنفی نماز ، شافعی نماز ، حنبلی نماز اور مالکی نماز بلکہ اب تو فقہ جعفریہ کی نماز بھی سامنے آ چکی ہے آخر کیا امر مانع ہے کہ نماز جیسی عبادت میں ہم ایک نہیں اختلافات کی عملی شکل بن چکے ہیں سارا دن وطن عزیز میں اذانیں ہوتی رہتی ہیں ٖفلاح کی طرف بلایا جاتا ہے لیکن نہ فلاح نظر آتی ہے اور نہ ہی خیر یہی وجہ ہے کہ مساجد صرف نماز کی ادائیگی کی جگہ بن چکی ہیں اور جبکہ دین اسلام میں مساجد ہماری مکمل زندگی کا محور اور مرکز ہے۔ اور یہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک ہم اپنی نمازیں ایک نہیں کریں گے اور ایک ہونے کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے کتاب و سنت کی براہ راست رہنمائی جس میں کوئی شخصیت پرستی نہ ہو اور تقلید کی وجہ سے دین اسلام کی آفاقی تعلیمات کو مشرف بہ مسلک نہ کیا جاتا ہو۔

وہ دین جس کی حقیقی پہچان اخلاقیات عظیم باب تھا اور جس کی تکمیل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے وہ دین جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا تھا، آج اسی دین کے ماننے والے اخلاقیات اور معاملات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے کہ ججز حضرات کم پڑ رہے ہیں۔ ہر کاروباری محض دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے جھوٹ کو اپنی کاروباری مہارت گردانتا ہے فائدہ ہو تو بہت فخر سے اپنا کارنامہ بتایا جاتا ہے اور نقصان ہو تو وہ اللہ تعالی کے کھاتے میں کہ اللہ تعالی  کی مرضی۔ الاماں والحفیظ۔ منشیا ت کے بازار، ہوس کے اڈے ، شراب خانے ، جوا ، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،رشوت خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کو ن سی اخلاقی بیماری ہے جو ہم میں نہیں پائی جاتی؟

اوراگر معاشرتی زندگی کی طرف دیکھا جائے تو جہیز کی لعنت، لڑکیوں کی وراثت کا مسئلہ، طلاق کا غلط استعمال اورہندوانہ رسم ورواج کا اختیار کرنا  ذات پات کے مسائل اورمسلکی تعصب ونفرت نے ہمیں تباہ برباد کر کے رکھ دیا ہے بقول کسے :

تن ہمہ داغ داغ شد

پنبہ کجا کجا نہم

 ”پورا جسم زخم آلود ہے، مرہم کہاں کہاں لگائیں“

اور صاف بات ہے کہ آج مبلغین کی کثرت کے باوجود اسلام کی اشاعت محدود ہوگئی ہے اغیار کی اسلام پر انگشت نمائی نے اسلامی تعلیمات کی عالمگیریت اور آفاقیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔

یہ ہماری داخلی پستی کا حال ہے تو اس سے دشمنان اسلام کیوں نہ فائدہ اٹھائیں انہوں نے ہمہ جہتی یلغار کے ذریعے دین اسلام کی حقانیت اور مسلمانوں کو دہشت گرد بنانے کا عمل انتہائی شد و مد سے جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کا سب سے بڑا مظہر امت کے نونہالوں کے ساتھ فکری جنگ جو نصاب کے ذریعے کی جا رہی ہے ہمارے ارباب حکومت کو اس امر کا علم ہی نہیں کہ ہمارے نصاب کی ترجیحات کیا ہونی چاہیے اور یہ مستقبل کے معماروں کی تربیت اور نشوونما میں اس اساس کی صورت ہے اور اس میں تخریب کاری خارجی سطح پریہود و ہنود اور ان کے ناجائز بچے اورداخلی سطح پر قادیانیت اور مختلف این جی اوز جن کا مقصد ہی وطن عزیز کو ختم کرنا ہے۔

حیران کن امر تو یہ ہے کہ سیادت عالم کے دعوی دار اس امر کی اہمیت کو ہی نہیں جان سکے کہ بین الاقوامی سطح پر انہیں مرکزیت کی کس قدر ضرورت ہے میڈیا، معیشت اور سیاست اگر ان تین نکات پر ہی اگر امت مسلمہ فکری اور عملی طور پر اپنے اصل اور حقیقی محور پر گردش شروع کر دے تو ممکن ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو دھرا سکیں لیکن عالمی میڈیا یہودیوں کے ہاتھ میں اور عالمی معیشت گر یہود اور طرز حکمرانی یہودیانہ ﴿ لفظ یہودی۔ الکفر ملۃ واحدۃ۔ کے پس منظر میں دیکھا جائے ﴾

کیا ان حالات میں بھی اصلاح معاشرہ کی ضرورت نہیں ہے ؟

المیہ تو یہ ہے کہ اس بات کا اعتراف تو سب کرتے ہیں لیکن حاملان اصلاح خود محدودیت کے راہی نتیجتاً مصلحین خود عاجز وقاصرنظر آرہے ہیں  یا انہیں جزئیات میں الجھا دیا گیا کہ ایک فرد ایک جزئی فقہی حکم کے اثبات میں مکمل کتاب تصنیف کر دیتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا عظیم کارنامہ قرار دیتا ہے پھر جواب آں غزل کے طور پر کچھ لکھا جاتا ہے پھر اس کا جواب اور محض اسے ہی حق کی نشر واشاعت سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس کی ایک اہم  وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بعض علماء ترجیحاتِ دین کو نظر انداز کرکے فروعی مسائل میں مناظروں اور مباحثوں میں مشغول ہیں جس کی وجہ سے علم کا استحصال ہورہا ہے اورمعاشرہ دن بدن پستی کا شکارہوتا جارہا ہے۔

اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اصلاح کی کوششیں نہیں کی جا رہی۔ اصلاح معاشرہ کی کوششیں ہر سطح پر ہو رہی ہیں، اجتماعات، کانفرنسیں، جلسے اورسیمینارز یہ سب اصلاح احوال کے لیے کی جانے والی مختلف جہود کے مناظر ہیں لیکن نتائج اس مقدار میں نہیں ظاہر ہو رہے جس مقدار میں یہ جہود کی جا رہی ہیں۔

اگر میں یہ کہوں کہ مطلوبہ اھداف حاصل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ مناظر محض ہماری جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہماری جہود کا محورصرف اپنی جماعت کی خدمت ہوتاہےیہی وجہ ہے کہ روحِ اخلاص سے خالی ہوتے ہیں۔ اب اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا لائحہ عمل بنانا ممکن ہے جو امت مسلمہ کے فکری جمود کو توڑ سکے اور اصلاح معاشرہ کے لیے کی جانے والی جہود کے فوائد نظر بھی آئیں ؟

بالکل ہمارے پاس ایسا مکمل حل موجود ہے جو مردہ دلوں کو زندگی بخش سکتا ہے اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ہم اصلاح امت کے لیے اسی نسخہ کیمیا کو اپنائیں جسے اپناکر ہمارے اسلاف کامیاب ہوئے تھے۔ اس ممکنہ حل کا تعلق تین جہات سے ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

اول: اولین مدرسہ یا تربیت گاہ کی تربیت کا مکمل اہتمام یعنی علاقائی سطح پر ماں اور باپ کی فکری تربیت کیا جائے کہ ان کی گود اور آغوش بنیاد اور اساس ہے۔

دوم : سکول میں معماران مستقبل کی نظریاتی تربیت کا اہتمام ابتدائی سطح سے کیا جائے۔

سوم:  مساجد کو اس کا حقیقی مقام دیا جائے یعنی صرف دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی طرح اسے محض ایک عبادت گاہ نہ بنایا جائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب علماء وخطباء اورداعیانِ دین فروعی معاملات پر تحقیق کرنے اور مناظروں ومباحثوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ترجیحاتِ دین پر توجہ دیں۔ اور اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ ان تینوں میں سے سب سے اہم کون سا مرحلہ ہے جس کے بغیر اصلاح معاشرہ ممکن ہی نہیں تو میں بلاجھجھک نکتہ نمبر تین کا انتخاب کروں گا۔

1  اور اس حوالے سے مساجد کے عملی کردار کے صرف ایک پہلو یعنی خطبہ جمعہ کی فعالیت کو بحال کرنا

2  اس کے لیے ضروریہ ہے کہ مساجد میں امام وخطیب کے تعیین میں مسلکانہ تعصب سے کام نہ لیا جائے اور ایسے ائمہ وخطباءکا انتخاب کیاجائے جو نیک اور صالح ہونے کے ساتھ عصری علوم پر دسترس نہیں تو کم از کم واقفیت ضرور رکھتے ہوں تاکہ عوام کی صحیح رہنمائی کرسکیں۔

 3  اس کے بعد ناظرہ قرآن اور قرآن فہمی کے لیے ہر محلہ کی مسجد میں حلقے قائم کیے جائیں،

4  عوامی دروس کا بکثرت اہتمام کیا جائے

5  ناخواندہ حضرات کو ضروریاتِ دین سے واقف کرانے کے لیے تعلیم بالغان کا اہتمام کیا جائے۔

6  اصلاح معاشرہ میں خواتین کے بنیادی کردار کوبحال کرنے کے لیے علیٰحدہ خواتین کے لیے دینی اجتماعات کا نظم کیاجائے،

7  گھر کے اندر ماں کے کردار کوفعال کیاجائے ،

8  گھرمیں بچوں کو دینی ماحول فراہم کیاجائے،

9  دینیات پرمشتمل کتابوں کی چھوٹی لائبریری بنائی جائے۔

 0  عیسائی مشینریزکے زیراہتمام چلنے والی درسگاہوں میں بچوں کو تعلیم دلانے کی بجائے ایسے سکولز کے انتظامات کیے جائیں جہاں دینی ماحول ہو۔

تلک عشرۃ کاملۃ لیکن ان سب کی بنیاد وہ ندائے ربانی ہے کہ اے ایمان والو وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر خود تمہارا اپنا عمل نہیں۔ تو ہرشخص کودوسروں کی اصلاح کے لیے فکرمند ہونے سے پہلے اپنا احتساب کر نا ہو گا، خود کو بدلنا ہو گا۔کیونکہ افراد سے ہی معاشرہ بنتا ہے۔ فرد کی جب تک اصلاح نہ ہوگی معاشرے کی اصلاح کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا

مزید پڑھیے۔۔۔

دعوت کا منہج کیا ہو؟

1-  داعی اور اس کا مقام

دعوت دین کے عناصر میں سب سے زیادہ اہم عنصر ’’داعی‘‘ ہے۔یہ دعوتِ دین کی بنیاد ہے، اس کا مقام ومرتبہ انتہائی اہم اور نازک ہے۔ وہ کائنات کا عظیم ترین پیغام پہنچانے میں انبیاء کا نائب ہے ۔اسے عظیم ترین کام کے لئے ایک عظیم ہستی نے بھیجا ہے پھر اس کا مقام بلند کیوں نہ ہو اس کی شان عظیم کیوں نہ ہو۔

داعی کی اہمیّت کا راز یہ ہے کہ وہ مدعوّین کے لئے نمونہ ہے ۔اکثر مدعوّین بات کی بجائے عمل سے متأثر ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر سننے کی بجائے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رسالت کی ذمہ داری ایسے شخص کو دیتے ہیں جو صداقت اور اخلاق میں سب سے افضل ہو اور سب انسانوں میں قربانی دینے اور عقل وفہم میں برتر ہو۔

فرمانِ ربّ العزت ہے  :  {وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ وَیَخْتَارُ }  [القصص:۶۸]’’اور تیرا ربّ جو چاہتاہے پید ا کرتا ہے اور جو چاہتاہے پسند کرتاہے‘‘۔

یعنی جو وقت ، جو جگہ اور جو اشخاص چاہتاہے منتخب کرتاہے۔ ارشادِ ربّ العالمین ہے  : 

{اَللہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ }     [الحج:58]

’’ اللہ فرشتوں میں سے بھی اپنے پیغام بر چنتاہے جس طرح انسانوں میں سے چنتاہے ‘‘۔

لغت میں ’’اصطفاء‘‘ کا معنی منتخب کرناہے اور انتخاب ہمیشہ پسندیدہ چیز کا ہوتاہے۔

مشہور مفسّر ابنِ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میںسے ایسے افراد کو پیغامبر منتخب فرماتے ہیں جو اپنی نوع میں پاکیزہ ترین ہوں۔ صفاتِ کمال سے موصوف اور لائق انتخاب ہوں۔ لہذا تمام رسول پوری مخلوق میں سے منتخب کردہ ہوتے ہیں۔

 اللہ تعالیٰ ان سے صادر ہونے والے عملوں کو بھی ان کی رسالت کا تکملہ بنادیتاہے اور لوگوں کو ان کی اِقتداء کا حکم دیتاہے۔

{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ }   [الأحزاب:۲۲]

’’ اور تمہارے لئے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔

نیز فرمایا  : 

{ فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہِ }    [الأنعام:۹۰]

’’تم بھی انہی کے طریقے کی پیروی کرو‘‘۔

اس لئے انبیاء  علیہم السلام کے تمام کام وحی کا حصہ اور اس کا تکمیلی جز ہیں۔انبیاء کو داعی بنا کر ان کی اقتداکا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ داعی کی شخصیت ، اس کی خوبیوں اور اُسلوب کا مدعوّین پر گہرا اثر ہوتاہے ۔لوگ داعی کی شخصیت، اُسلوب، اخلاق اورلین دین سے اس کے علم اور تبلیغ کی نسبت کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اکثراوقات یہی تاثر انہیں اس کے افکار کو تسلیم کرنے اور کسی اعتراض اور لیت ولعل کے بغیر اس کی دعوت قبول کرنے کے لئے مجبور کرتاہے۔

داعی جس قدر اچھی خوبیوں سے موصوف ہوگا اسی قدر اس کی دعوت زیادہ مؤثر اور لوگوں میں اس کی پذیرائی زیادہ ہوگی۔ داعی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی کچھ خاص خوبیاں اور کچھ امتیازات ہوں، وہ مخصوص عادات کا پابند ہو اور قابلِ قدر تصرّفات کا حامل ہو، تاکہ وہ مدعوّین کو متاثر کرے اور اس کی دعوت بار آور ثابت ہو وگرنہ عملِ دعوت پر اس کے منفی اثرات مرتّب ہوں گے۔ آئندہ سطروں میںداعی کی اہم خوبیاں بیان کی جارہی ہیں۔

 - 2داعی کی خوبیاں

۱۔ اِخلاص وتقویٰ

دین کی دعوت کوئی عام دعوت نہیں ہے کہ انسان اس پریقین رکھنے، اس کے ساتھ مخلص ہونے اور صدقِ دل سے اس پر عمل پیرا ہوئے بغیر اس پر گفتگو کرتا چلا جائے۔ یہ تو اہلِ دعوت کے لئے تقویٰ ، اخلاصِ نیت اور صداقت کو شرط قراردیتی ہے تاکہ وہ اپنے مِشن میں کامیاب بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا ثواب بھی حاصل کریں۔اسلام کے ہر عمل میں یہ باتیں شرط ہیں ان عملوں میں سرِفہرست کارِدعوت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا  :  

{أَ لَا لِلَّہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ }    [الزمر:۳]

’’یادرکھو کہ اطاعتِ خالص کے لائق اللہ تعالیٰ ہی ہے‘‘۔

نیز فرمایا  : 

{قُلْ إِنِّیْٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ }  

’’کہہ دو کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ ‘‘۔[الزمر:۱۱]

داعی کے لئے تقویٰ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ درخت کے لئے پانی اور جسم کے لئے روح۔تقویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین پر ظاہر وباطن دونوں طرح عمل پیرا ہو۔ بالخصوص اپنی دعوت کے نکات پر عمل کرے ۔اگر کوئی شخص اپنی دعوت پر خود عمل نہیں کرتا تو وہ اللہ کی توفیق سے محرومی اور عمل کی ناقبولیت ہی کے لئے لائق ہے۔ارشاد ربّانی ہے  : 

{إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ}     [المائدۃ:۲۷]

’’اللہ تو صرف اپنے متقی بندوں سےقربانی قبول کرتاہے‘‘۔

تقویٰ کی اہمیت کے پیش نظرسورئہ احزاب کے آغاز میں سالارِقافلہ دعوت کو اسے اپنانے کا الگ سے حکم دیاگیا ہے۔ 

{یٰٓا أَیُّھَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللَّہَ وَلَا تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَ الْمُنَافِقِیْنَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا }

’’اے نبی! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی باتوں پرکان نہ دھرو، بے شک اللہ علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔[الاحزاب:۱]

اگرچہ یہ ساری اُمّت سے مطلوب ہے لیکن کلام کا رخ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف ہونے سے یہ بات معلوم ہورہی ہے کہ یہ آپ سےبطور خاص مطلوب ہے۔

تقویٰ ہی کے ذریعے گفتار وکردار کی اصلاح کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔ خالقِ کائنات ارشادفرماتاہے  :

{یٰٓا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللَّہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا یُصْلِحْ لَکُمْأَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللَّہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا       }      [الأحزاب:۷۰۔۷۱]

’’ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو اللہ تمہارے اعمال سدھارے گا اور تمہارے گناہوں کو بخشے گا اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے انہوں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ‘‘۔

تقویٰ کے ذریعے اللہ تعالیٰ داعی کو حق وباطل میں امتیاز کا ملکہ عطا فرماتے ہیں اس کے ذریعے اسے دعوتی تنگنائیوں سے چھٹکارا ملتاہے، اس کی لغزشوں سے درگزر اور گناہوں کو معاف کیا جاتاہے۔

ارشادِ ربّ العزت ہے  : 

{یٰٓا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنْ تَتَّقُوْا اللَّہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ  }              [ الأنفال:۲۹ ]

’’اے ایمان لانے والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو تو وہ تمہارے لئے فرقان نمایاں کردے گا اور تم سے تمہارے گناہ صاف کر دے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘۔

ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ تقویٰ کا مدعوّین پر بھی گہرا اثر ہوتاہے ۔لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ وہ سچّے آدمی کی بات مانتے ہیں اور جھوٹے سے نفرت کرتے ہیں جبکہ ان کے ہاں سچ اور جھوٹ کا معیار داعی کے عمل کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا ۔ داعی کی دعوت پر عمل کرنے سے لوگوں کو دعوت کے صحیح اور داعی کے سچّاہونے کا سبق ملتاہے اور وہ ان کے ہاں مقبول ہوجاتاہے۔

جبکہ داعی کے بے عمل ہونے سے لوگوں کے دلوں میں دعوت کے غلط ہونے اور داعی کے جھوٹا ہونے کا خیال آتاہے اور یہ چیز ان کے دِلوں میں نفرت اور حقارت پیدا کرتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام اس چیز کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔ دیکھئے حضرت شعیب u اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں

{وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلَی مَا أَنْھَاکُمْ عَنْہُ }  [ ہود :۸۸ ]

’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہاری مخالفت کرکے وہی چیز خود اختیار کروںجس سے میں تمہیں منع کرتا ہوں‘‘۔

تمام انبیاء ورسل بعثت سے پہلے ہی صداقت سے موصوف ہوتے تھے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو لقب’’امین‘‘ کے ساتھ بعثت سے پہلے ہی یاد کیا جاتا تھا،اور یہ عرب سے مخفی نہیں تھا۔

اسی طرح قومِ صالح کا  ان سے طرزِ کلام بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے۔{یَا صَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِینَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھَذَا }[ ہود:۶۲ ]

’’وہ بولے کہ (اے)صالح! اس سے پہلے تم ہمارے ہاں بڑی اُمیدوں کے مرکز تھے ‘‘۔ یہ دشمنوں کی طرف سے ان کی صداقت اور قبل از بعثت بلندمرتبہ ہونے کی گواہی ہے۔ یہ چیزیں تو مدعوّین کی طرف سے حاصل ہوتی ہیں جبکہ اللہ کے ہاں دعوت کے مطابق عمل کرنے والے داعی کے لئے بہت زیادہ اجر وثواب ہے۔

جہاں اللہ ربّ العزت نے دعوت کے مطابق عمل پیرا ہونے کو کہا ہے وہاں اس کی خلاف ورزی اس پر عمل نہ کرنے سے بچنے کی تلقین بھی کی ہے۔

ارشادِ ربّ العالمین ہے  :

 {یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ  کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّہِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ    }      

’’اے ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ،اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ غصّے کی ہے کہ تم وہ بات کہو جوخود کرتے نہیں‘‘۔ [  الصّف:۲۔۳  ]

نیز آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے :’’کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اس کی آنتیں باہر آجائیں گی اور وہ ایسے چکر کاٹے گا جیسے گدھا چکی لیکر گھومتاہے ۔دوزخی اس کے آس پاس جمع ہوکر اس سے پوچھیں گے ۔ ارے بھائی! تمہیں کیا ہوگیا؟ تم تو نیک کام کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی تلقین کرتے تھے وہ کہے گا میں تمہیں نیکی کی تلقین کرتا تھا لیکن خود نیک کام نہیں کرتا تھا اور تمہیں برائی سے روکتا تھا اور خود اس میں ملوّث تھا۔

داعی کو پرہیز گار ہونا چاہیے تاکہ لوگ اس کی دعوت قبول کریں اور اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول کرے۔ اگر داعی پرہیز گار نہ ہواور لوگ اس کی بات سن کر عمل بھی کرلیں تو اسے دعوت سے کیا فائدہ ہوگا ؟جب وہ قیامت کے دن خالی ہاتھ آئے گا اللہ نے اس کے عمل کو برباد کردیا ہوگا۔ کیونکہ اس میں اخلاص اور تقویٰ نہیں تھا۔

اس کے علاوہ تقویٰ اختیار کرنے سے نیکی کی مزید توفیق اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب بھی ملے گا۔ کٹھن اور مشکل اوقات میں ثابت قدم رہنے کیلئے تقویٰ بہت بڑا معاون اور دشمنوں کے چُنگل سے بچنے کے لئے داعی کی مضبوط ترین زِرہ ہے۔

فرمانِ ربّ العزت ہے : {وَإِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّ کُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا}[آل عمران:۱۲۰]

’’اور اگر تم صبر کروگے اور تقویٰ اختیار کروگے تو ان کی چال تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی‘‘۔

نیز فرمایا  : 

{لَتُبْلَوُنَّ فِیْ أَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوْا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُوْا أَذًی کَثِیْرًا وَّإِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَإِنَّ ذَلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ}                            [ آل عمران:۱۸۶ ]

’’تمہارے مال اور تمہاری جان میں تمہاری آزمائش ہونی ہے اور تمہیں ان لوگوں کی طرف سے جنہیں تم سے پہلے کتاب ملی، اور ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے شرک کیا بہت سی تکلیف دہ باتیں سننی پڑیں گی اوراگرتم ثابت قدم رہے اور تم نے تقویٰ کو ملحوظ رکھاتو بے شک یہ چیز عزیمت کے احوال میں سے ہے‘‘۔

اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے صبر اور تقویٰ کو فتنوں کا مقابلہ کرنے اور حق پر ثابت قدمی کے لئے داعی کا اہم ترین اسلحہ قراردیا ہے۔

   ۲   :  مضمونِ دعوت کو اچھی طرح سمجھنا

دین کے داعی کے لئے از حد ضروری ہے کہ وہ جس مضمون کو پیش کررہا ہو اس سے متعلق بطورِ خاص اور دیگر مضامین کے بارہ میں تمام معلومات رکھتاہو۔

ارشادِ ربّ العزت ہے  :  

{قُلْ ھٰذِہِ سَبِیلِیْ اَدْعُوْ إِلَی اللَّہِ عَلَی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحَانَ اللَّہِ وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ }

’’کہہ دو !یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف پوری بصیرت کے ساتھ بلاتاہوں میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔[ یوسف:۱۰۸ ]

بصیرت عام معلومات سے ہٹ کر ایک خاص چیز ہے اس میں دلیل ، گہرا اِدراک ، فہم وفراست ،بات کے واضح ہونے اور اس پر یقین ہونے کے اضافی معنی شامل ہیں۔

بصیرت کا ایک پہلو یہ ہے کہ داعی انجام ہائے کارسے آگاہ ہو ،کہی جانے والی باتوں اوراپنے تصرّفات کے نتائج سے غافل نہ ہو۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : علم ،نرمی اور صبر یہ تین چیزیںداعی کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ دعوت سے پہلے علم، دعوت دیتے وقت نرمی اور اس کے بعد صبر۔

اگرچہ یہ تینوں چیزیں کچھ صورتوں میں ایک ساتھ بھی رہتی ہیں۔

قاضی ابو یعلی رحمہ اللہ نے سلف صالحین میں سے کسی کافرمان ذکر کیاہے جسے کچھ مصنفین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں’’ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کاکام صرف وہی شخص کرے جو تلقین کئے جانے والے نیکی کے کام اور روکے جانے والے برائی کے کام کی کامل بصیرت رکھتاہو۔ دونوں صورتوں میں نرم مزاج اور بردبار بھی ہو‘‘۔(اس حدیث کی کوئی بھی سند ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے)

 لہذا امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے پہلے بصیرت حاصل کرنا دعوت إلی اللہ کی یہ بنیادی شرط ہے۔ داعی کا اوّلین فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی دعوت سے بخوبی آگاہ ہو، فہم وفراست سے مزّین اور یقین سے مسلّح ہو۔ اپنی دعوت میں ثابت قدم ہو ، دعوت مدعوّین میںسے دوست ودشمن اور اپنے اردگر دپیش  آمدہ واقعات سے پو ری طرح آگاہ ہو، بصیرت کا اطلاق ان سب باتوں پر ہوتاہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے دعوت کے لئے شرط قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت إلی اللہ کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان عملِ دعوت کے لئے بقدرِ کفایت علم وفہم سے بہرہ ور ہو  تاکہ اس کیلئے راستہ روشن اور واضح ہو۔ علم اسے صحیح راہ دکھائے گا اور فہم اس کی بصیرت بڑھائےگا۔ علم کے بغیر دعوت دینے سے داعی میں انحراف آجاتاہے اور بصیرت کے بغیر وہ لغزش کاشکار ہوجاتاہے۔

علاوہ ازیں بصیرت کے بغیر دعوت دینا گناہ ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت ہے ۔علم وفہم کے بغیر نہ صرف وہ خود کوبھٹکائے گا بلکہ اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرے گا۔

{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطَانٍ مَّرِیْدٍ } 

’’اورکچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے اللہ کی توحید کے باب میں کٹ حجتی کرتے اور ہرسرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں‘‘۔[ الحج:۳ ]

ہوسکتاہے کہ وہ امر کو نہی ، نہی کو امر، معروف کو منکر ،منکر کو معروف ، سنّت کو بدعت اور بدعت کو سنّت قرار دے دے۔

ممکن ہے کہ وہ دین کے نام پر ناجائز کام کی دعوت دینے لگ جائے۔ جیسے کچھ لوگ نافرمان حکمرانوں کے خلاف بغاوت کردیتے ہیں اور خارجی، معتزلی، غالی صوفیاء اور شیعہ دین کے نام پر بدعت وگمراہی کی دعوت دیتے ہیں۔ ان جیسے لوگوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا   :

   {وَإِنَّ کَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَھْوَائِھِمْ بِّغَیْرِ عِلْمٍ}                              

’’اور بے شک بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں جو کسی علم کے بغیر اپنی بدعات کے ذریعے سے گمراہ کررہے ہیں‘‘۔ [ الانعام : ۱۱۹ ]

نیز فرمایا :

{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ} [  لقمان : ۶ ]

’’اورکچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو فضولیات کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ لاعلمی کے ذریعے اللہ کی راہ سے گمراہ کریں‘‘۔

اللہ نے تو علم کے بغیر کی جانے والی ہر بات کو ’’خودساختہ‘‘ کہاہے اور اگر یہ دین یا دعوتِ دین ہوتو اس کا اندازہ خود ہی لگا لیں۔

ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے  :

{وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ}    [ الإسرائ:۳۶ ]

’’اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے درپے نہ ہوا کرو‘‘۔

کافروں کے کچھ کفریہ اقوال وافعال شمار کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے   : 

{قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا أَوْلَادَھُمْ سَفَھًا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللَّہُ افْتِرَاء ً عَلَی اللَّہِ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا کَانُوا مُھْتَدِیْنَ }             [ الأنعام:۱۴۰ ]

’’وہ لوگ نا مراد ہوئے جنہوں نے محض بے وقوفی سے بغیر کسی علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا اور اللہ نے انہیں جو روزی بخشی انہوں نے اسے اللہ پر افترا کرکے حرام ٹھہرایا۔ یہ گمراہ ہوئے اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے‘‘۔

ربّ تعالیٰ کا فرمان ہے  :

{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِکُوْا بِاللَّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَانًا وَّأَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللَّہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ }                  [  الأعراف:۳۳ ]

’’ کہہ دو ! میرے ربّ نے حرام تو بس بے حیائیوں کو ٹھہرایا ہے خواہ کھلی ہوں ، خواہ پوشیدہ اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کا کسی چیز کو شریک بنائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر کسی ایسی بات کا بہتان لگاؤ جس کا تم علم نہیں رکھتے‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی حدیث کو سننے کے بعد پہنچاتے وقت اچھی طرح یادکرنے کا حکم دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے   : 

’’نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَء اً سَمِعَ مِنَّا شَیْئاً فَبَلَّغَہٗ کَمَا سَمِعَ ،فَرُبَّ مَبَلَّغٍ اَوْعیٰ مِنْ سَامِعٍ‘‘    ۔ 

’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش وخرم رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی پھر اسے لوگوں تک ویسے پہنچایا  جیسے اسے سنا ،جن تک بات پہنچائی جاتی ہے ان میں سے بہت سے لوگ خود سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں‘‘۔ [الترمذی:۲۶۵۷]

اسی چیزکی اہمیّت کے پیشِ نظر امام بخاری رحمہ اللہ  نے الجامع الصحیح میں ان الفاظ میں عنوان قائم کیا ہے ’’بات کہنے اور عمل کرنے سے پہلے علم حاصل کیا جائے‘‘ کیونکہ علم ہی بات میں درستی اور عمل میں راست بازی پیدا کرتاہے۔ امام عسقلانی رحمہ اللہ نے شرح صحیح بخاری میں ، ابن المنیر کے الفاظ میں اس کی تشریح اس طرح کی ہے کہ ’’امام بخاری رحمہ اللہ  یہ عنوان قائم کرکے بتلانا چاہتے ہیں کہ قول وعمل کی صحّت کے لئے علم شرط ہے اس کے بغیر یہ دونوں ناقابل اعتبار ہیں اور یہ ان دونوں سے مقدّم ہے‘‘ ۔ ) فتح الباری : ج۱ : ص ۱۶۰)

ابو حیان اندلسی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ ’’نیکی کی دعوت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے قابل وہی شخص ہے جو معروف اور منکر کو جانتاہو جو اسے نافذ کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے طریقے سے آشنا ہو، جاہل تو ممکن ہے کہ برائی کرنے اور نیکی سے رُک جانے کی دعوت بھی دینے لگ جائے ، نرمی کی جگہوں میں شدّت اور اس کے برعکس رویہّ اختیار کرلے‘‘۔(تفسیر البحر المحیط: ج۳: ص ۲۰)

یہاں میں اہل علم کو دوباتیں بتانا چاہوں گا۔

۱۔ کسی چیز کو یاد کرلینااسے سمجھنے سے مختلف ہے، اسی طرح بصیرت حاصل کرنا کسی چیز کو معلوم کرنے سے بالاتر درجہ ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف یاد کرلینے سے علم حاصل ہوجاتاہے، یہی وجہ ہے کہ وہ عالم ہونے کا دعویٰ کرنے لگ جاتے ہیں اور ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی نہیں اور ایسے مسائل بیان کرتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ۔ وہ محض حفظ کرلینے کے بعد خود کو عالم بلکہ علّامہ سمجھنے لگتے ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  فرماتے ہیں  : ’’کچھ لوگ علم کے ابجد حفظ کرتے ہیں ان میں قرآنِ مجید کے عالی مرتبت ابجد بھی شامل ہیں لیکن انہیں فہم واِدراک نہیں ہوتا‘‘۔ ( الفتاوی : ج۱۱: ص ۳۹۷)

 ہر صاحبِ علم فقیہ اور صاحبِ بصیرت نہیں ہوتاہے۔ علم حاصل کرنا اس کا فہم حاصل کرنے سے مختلف ہے اور اسے کارآمد لانے کی بصیرت ایک دوسری چیز ہے۔

۲۔کسی چیز کا علم ہونے اور علم ظاہر کرنے میں اسی طرح عالم وخود نما عالم، میں فرق کرنا ہوگا یہ چیز دروس ، خطابات اور باہمی مکالمہ جات میں انتہائی ضروری ہے ۔ اکثر داعی جو خود گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہی پھیلاتے ہیں وہ خود کو عالم سمجھتے ہیں حالانکہ وہ خود نما عالم ہوتے ہیں۔ یہ چیز علم اور اظہارِ علم میں فرق نہ کرنے کی بناپر ہے۔

خارجی ، معتزلی، جہمی اور دیگر فرقوں میں سے ان کے ہم نشین لوگوں کی یہی صورتِ حال ہے۔ علماء کو اپنے دروس میں علم اور اظہارِ علم ، عالم اورخودنما عالم میں فرق ضرور بیان کرنا چاہیے۔اکثر سامعین نیک نیّت ہوتے ہیں ممکن ہے وہ اس سے سبق حاصل کرلیں۔ اس بات کے اختتام سے پہلے یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ علم کی شرط عام نہیں ہے کہ ہر داعی کے لئے تمام علوم سے بہرہ ور ہونا ضروری ہو، ہرگز نہیں ۔شرط صرف یہ ہے کہ داعی کو اپنی دعوت سے متعلق معلومات ہوں تاہم داعی جتنا بڑا عالم ہو اتنا ہی زیادہ بہترہے۔ بہت سے مبلّغ جو اپنی دعوت پر بصیرت رکھتے ہیں اپنے سے بڑے ایسے عالم سے بہتر ہوتے ہیںجو بصیرت سے محروم ہو۔ یہاں علم سے مراد شریعت کا علم ہے جس کی طرف شروع میں بھی اشارہ کیا گیا ہے یعنی اس کے پاس توحید، اس کی اقسام، ارکانِ ایمان ، ارکانِ اسلام ، دین کی مبادیات ، اس کے عام اُصول ،سنن اور بدعات کا علم ہو۔ عبادت، اس کی اقسام ، فرض اور نفل ہونے کے لحاظ سے اس کی شرعی حیثیّت ، احکامِ خمسہ ، فرض ، مستحب ، حرام ، مکروہ، جائز اور اس جیسی دیگر معلومات سے بہرہ ور ہو۔

جب ایک مسلمان پر نیکی کاکام کہنے ، نصیحت کرنے، برائی سے روکنے کی ذمہ داری آجائے اور وہ اس کے بارہ میں علم بھی رکھتا ہوتو بقدرِدانست اس امانت کو ادا کرنا اس پر فرض ہوجائے گا۔ ایسے میںداعی کا عالم مطلق ہونا شرط نہیں اور نہ سابقہ تفصیلات جاننا شرط ہے۔

(جاری ہے)

مزید پڑھیے۔۔۔
Previous
اگلا
( 13 Votes )

 

فضیلۃ الشیخ/ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

عن سليمان بن صرد رضي الله عنه قال : استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فجعل أحدهما يغضب ويحمر وجهه و تنتفخ أوداجه فنظر إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال : إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب ذا عنه :" أعوذ بالله من الشيطان الرجيم " فقام إلى الرجل رجل ممن سمع النبي صلى الله عليه وسلم فقال : تدري ما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم آنفا ؟ قال : لا، قال: إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب عنه : أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، فقال له الرجل : أمجنونا تراني؟ .  ( صحيح البخاري : 3282 ، بدء الخلق / صحيح مسلم : 2610 ، البر / الفاظ صحیح مسلم کے ہیں )

ترجمہ :

سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوچ کررہے تھے ان میں کا ایک غصے میں آگیا ، اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس کی رگیں پھول گئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا :" میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کی یہ کیفیت دور ہوجائے ، وہ کلمہ ہے " اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " [ میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ]" چنانچہ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ان میں سے ایک شخص اس غصہ ہونے والے شخص کے پاس گیا اور کہنے لگا : کیا تم جانتے ہو کہ ابھی ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا  : اس نے جواب دیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ ہیں میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے اگر یہ پڑھ لے تو  اس کا غصہ جاتا رہے ، وہ کلمہ ہے  : " اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " اس شخص نے کہا کہ کیا تو مجھے پاگل سمجھ رہا ہے ۔ [ صحیح بخاری وصحیح مسلم ]

تشریح :

غصہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے کہ اگر فوری اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر باہمی نا اتفاقی ، حسد و کینہ ، بغض و نفرت ، گالی و گلوچ حتٰی کہ مارپیٹ ، قتل و خونریز ی ، طلاق اور مال و اولاد پر بد دعا کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، اس لئے اپنے دین و ایمان پر حریص شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس مرض کا علاج کرے ۔

واضح رہے کہ سب سے بہتر اور کامیاب وہ علاج ہے جس کی طرف اسلام نے  رہنمائی کی ہے ، چنانچہ جب ہم نصوصِ شرع پر غور کرتے ہیں تو  اس مرض کے بہت سے علاج کی طرف ہماری رہنمائی ہوتی ہے ، اختصار کے ساتھ وہ بعض علاج درج ذیل ہیں :

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت :

   یعنی ایک مومن یہ سوچے کہ اللہ اور اس کے رسول نے غُصّہ آنے پر صبر سے کام لینے اور لوگوں کی غلطی کو معاف کردینے کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ( سورة فصلت : 34)  

ترجمہ: " اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے "

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرِ قرآن سیدنا ابن عباس   tبیان کرتے ہیں کہ ، اس سے مراد غُصّہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کو معاف کرنا ہے ۔ [ صحیح  بخاری  معلقا ]۔

 بُرے نتائج پر غور :

 غصہ کو پی جانے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ غصہ کےدینی و دنیوی  نتائج پر غور کرے کہ بسا اوقات  ایک شخص غصہ میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے ۔

 پرہیز:

 ان اسباب اور چیزوں  سے پرہیز (اجتناب)کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں ۔

 اجر و ثواب کی نیت :

اُن فضائل ، اجر و ثواب کو اپنے پیش نظر رکھے جو غصہ پی جانے اور غصہ پر کنٹرول کرنے کے عوض حاصل ہوتے ہیں ۔ جیسے :

مزید پڑھیے

By A Web Design

آن لائن فتویٰ

خواتين كا انسائیكلوپيڈا

اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت

اسلا م میں عورت کا مقام

پہلی عورت کی تخلیق

ماں کا مقام

بیوی کا مقام

بہن اور بیٹی کا مقام

اولاد کی موت پرصبر کرنے کا اجر و ثواب

بچوں سے جھوٹ بولنے کی ممانعت

عورت کی طہارت

عورتوں کے لئے قضائے حاجت کے آداب :

حیض کے احکامات

حائضہ عورت کے لئے نماز اور روزہ کے احکام :

حائضہ عورت کی نماز اور روزوں کی قضا کا حکم :

حائضہ عورت کا مسجد میں ٹھہرنا :

حیض والی عورت کے جسم اورکپڑوں کا حکم :

حائضہ عورت کا قرآن کریم کی تلاوت کرنا :

حیض و نفاس کی حالت میں عورت سے ہم بستری کی ممانعت :

حیض کو روکنے والی دواؤں کے استعمال کا حکم :

حیض کی حالت میں ذکر و اذکار کا حکم :

مستحاضہ کے مسائل

مستحاضہ کے احکام :

سیلان رحم(لیکوریا)کا حکم :

ودی،مذی اور منی کا حکم :

ودی

مذی

نفاس کے مسائل

حمل کو چھپانے اور ضائع کرنے کی ممانعت :

حمل کی حالت میں خارج ہونے والے خون کا حکم :

عورت کے فرضی غسل کا بیان

فرضی غسل کا طریقہ :

عورت پر غسل فرض ہونے کی وجوہات :

عورت کے لئے غسل کے وقت اپنے سر کی چوٹی کھولنے کا حکم :

نکاح کا بیان

بالغ ہونے کے بعد عورت کا جلدی نکاح کرنے کا حکم :

نکاح کے لئے نیک اور خوش اخلاق مَردوں کو ترجیح دیجئے :

 بہو بنانے کا معیار

مشرک مَردوں اور عورتوں سے نکاح کی ممانعت :

بدکردار مرد یا عورت سے نکاح کی ممانعت :

ولی کے بغیر عورت کو نکاح کرنے کی ممانعت :

شادی کے لئے عورت کی رضامندی :

نکاح سے پہلے منگیتر یا ہونے والی بیوی کو دیکھنے کی اجازت :

بیوہ کے نکاح کا بیان :

نکاح کے وقت دف بجانے کا جواز :

نکاح کے وقت فضول خرچی سے ممانعت :

نکاح کے وقت طے کردہ شرائط پر عمل کرنے کا حکم :

غیر شرعی شرائط کی ممانعت :

نکاح اور دیگر معاملات میں دھوکا دینے کی ممانعت :

دلہن کا بناؤ سنگھار کرنا :

نکاح کے وقت ایجاب وقبول :

ایک سے زیادہ شادیوں کا مسئلہ :

سوتیلی ماں سے نکاح کی ممانعت :

وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے :

شوہر والی عورتوں سے نکاح کی ممانعت :

مہر کا بیان

صحبت سے پہلے طلاق دینے پر مہر :

مہر کی اقسام :

خدمت کے عوض نکاح :

قرآن کریم کی سورتوں کے عوض نکاح :

آپ

نکاح کے بعد دولہا اور دلہن کو مبارکباد دینے کا طریقہ :

صحبت (ہم بستری) کے آداب

شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے راز ظاہر نہ کریں :

شوہر کے سامنے کسی دوسری عورت کا حال بیان کرنے کی ممانعت :

اجنبی عورت اچھی لگنے پر کیاکیا جائے ؟

عورت شوہر کے جنسی جذبات کا احترام کرے :

والدین کی شباہت پر اولاد کب ہوتی ہے ؟

حمل اور وضع حمل کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے :

اولاد اللہ کی مرضی پر منحصر ہے :

خاوند کی ناشکری پرعذاب

نیک عورت کی پہچان :

نیک عورتیں جنت میں اپنے شوہر کے ساتھ :

زناکاری کی مذمت

غیر شادی شدہ مرد یا عورت کی بدکاری پر سزا :

شادی شدہ مرد یا عورت کی بدکاری پر سزا :

طلاق کا بیان

طلاق اللہ ربّ العزّت کے نزدیک نا پسندیدہ عمل ہے :

بلاوجہ طلاق (خلع) کا مطالبہ کرنے والی عورت کا حکم :

طلاق کے لئے بھڑکانے والوں کے بارے میں حکم :

زبردستی کی طلاق کا حکم :

طلاق سے بچنے کے اسلامی طریقے :

طلاق دینے کے مراحل :

طلاق دیتے وقت حق مہر واپس لینا جائز نہیں :

دوران حیض طلاق دینا منع ہے :

دوران حمل طلاق کا حکم :

مشروط طلاق کا حکم :

نکاح کے بعد ہم بستری سے پہلے طلاق کا حکم :

عورت کو طلاق کا اختیار دینا :

طلاق ثلاثہ (ایک ہی وقت میں

وقفہ وقفہ سے دی گئی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا :

عدت کی تکمیل کے بعد عورتوں کو نکاح سے روکنے کی ممانعت :

خلع کا بیان

خلع یا طلاق کے بعد بچہ کو دودھ پلانے کا مسئلہ :

طلاق یا خلع کے بعد بچوں کی پرورش کا مسئلہ ؟

 

 

 

 

( القصص:28 - آيت:68 ) اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں اللہ ہی کے لئے پاکی ہے وہ بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں۔

تازہ اپ ڈیٹس کے لئے ای میل ایڈریس داخل کریں

urdu-font

زائرین کی تعداد

mod_vvisit_counterآج:503
mod_vvisit_counterکل1728
mod_vvisit_counterاس ہفتے:12016
mod_vvisit_counterاس ماہ:54565
mod_vvisit_counterکل تعداد:294306

آن لائن مہمان : 63

جملہ حقوق @ مرکز المدینہ العلمی لخدمۃ الکتاب والسنّۃ