بدھ, فروری 22, 2012
Text Size

جدید کتب ومضامین

  • خوداختیاری موت اور خودکشی

  • نرمی اور بردباری

  • اَسماءُ اللہ الحسنیٰ " اہمیت و فضیلت"

  • ایک ہزار منتخب احادیث۔ از صحیح مسلم

  • محبت کا تہوار منانا

خوداختیاری موت اور خودکشی

چند مستثنیات کے ماسوا ہر بیماری کا علاج بندہ کے اختیار میں ہے

علاج کے بعد بھی بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا کوئی علاج نہیں۔اس میں اسکی موت ہے اور دوسرا بڑھاپا۔موت کسی کی واقع ہونے والی ہے تو کتنی ہی احتیاطی تدابیر اختیار کیوں نہ کرلی جائیں اسے کوئی روک نہیں سکتا اور وہ وقتِ معینہ پر آکر رہے گی . اسی طرح بڑھاپے کو بھی کوئی دوا ٹال نہیں سکتی ، کیوں کہ بڑھاپا طاری ہی اسی لیے ہوتا ہے کہ اب اس کا کام اس دنیا سے ختم ہوگیا اس لیے اسے بڑھاپے کی منزل میں پہنچادیا گیا جس میں وہ کچھ دن مبتلا رہ کراس دنیا سے رخصت ہوجائے گا چنانچہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا :اللہ کے بندو ! علاج کراؤ اس لیے اللہ عزوجل نے موت اور بڑھاپے کے سوا جو بھی بیماری اتاری ہے اس کے لیے شفا بھی رکھی ہے ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کے رسو ل ﷺنے فرمایا کہ :ہر بیماری کا علاج اللہ نے پیدا کیا ہے مگر بڑھاپے کا کوئی علاج نہیں۔
کیا انسان نے بعض بیماریوں کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے؟
باوجود اس کے بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا علاج اطباء ڈھونڈنے میں اب تک ناکام ہیں ۔ یہ انسانوں کی کم علمی ہے نہ کہ خالق کائنات کا نقص اسی لیے تو قرآن میں متعدد مقامات پر اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے کہ تم کائنات کی تخلیق پر غو رکیوں نہیں کرتے ، تم اشیاء کے رموز وحقائق کے جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ، تم میں اتنا شعورکیوں نہیں کہ تم نامعلوم چیزوں کا علم حاصل کرسکودنیانے دیکھا ہے کہ انسان جن نامعلوم چیزوں کے جاننے کی کوشش برابر کرتارہا اسے ان میں کامیابی مل گئی۔ کینسر جو کسی زمانے میں لاعلاج بیماری تصور کی جاتی تھی آج اس کا علاج تو نہیں البتہ اس کے انسداد کا حل کافی حد تک تلاش کر لیاگیا ہے . سینکڑوںمریض دوا کے سہارے آج زندہ ہیں اگرچہ ان کو جان کا خطرہ لگارہتاہے یہ کیا کم ہے کہ ان کا عرصہ حیات تنگ نہیں ہوا ہے۔اگر بیماری پہلے یا دوسرے مرحلے میں ہو اور بر وقت اس اسکا علاج شروع کر دیا گیا تو یہ بیماری بھی ختم ہو جاتی ہے۔خود اللہ کے رسول ا کو اس بات کا اندازہ تھا کہ بعض بیماریوںکا علاج بھی انسان کی دسترس سے باہر ہے ، لہذا آپ نے لوگوں کو اس میں کامیابی حاصل کرنے کی ترغیب دی . چنانچہ آپ انے فرمایا ۔۔:
اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر یہ کہ اس کی شفا بھی اتاری ہے ، جاننے والا اسے جانتا ہے ، نہ جاننے والا نہیں جانتا ۔
حالات اور وقت کے ساتھ آدمی کی ضرورتیں بدلتی رہتی ہے ، پہلے طب میں وہ سہولتیں نہیں تھیں جو آج کے زما نے میں ہیں اور آئندہ بھی مزید سہو لہتیں فراہم ہو ں گی (انشاء اللہ ) جو مریض اور طبیب کے لیے تقویت کا باعث ہونگی چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہے کہ۔:رسول ا کا ارشاد ہے’’لکل داء دواء ‘‘ مریض اور طبیب دونوں کے لیی تقویت کا با عث ہے۔اس میں علاج کے تلاش کی ترغیب بھی ہے ،اگر مریض کو یہ محسوس ہو کہ اس کا مرض لا علاج نہیں ہے بلکہ اس کا علاج ممکن ہے تو اس کا دل امید سے بھر جائے گا اور مایوسی ختم ہوجائے گی اس سے وہ اپنے اندر نفسیاتی طور پر مرض پر غالب آنے والی توانائی محسوس کرے گا اسی طرح طبیب کو جب معلوم ہوگا کہ ہر بیماری کی اللہ نے دوا رکھی ہے تو تلاش وجستجو اس کے لیی ممکن ہوگی ۔

عیادت سے مریض کی صحت کو تقویت ملتی ہے
یہیں سے عیا دت کی شرعی حیثیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مصیبت اور بیماری میں مبتلاہوتو دوسرے بھائی کو چاہیی کہ وہ اس کی عیادت کے لیی پہنچے اور مریض کو تسلی بخش باتیں سنا کر لوٹے اس سے مریض کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی یہ خیر خواہی مریض کے حق میں اتنی مفید ہوتی ہے کہ کوئی دوا بھی اس کا بدل نہیں ہوتی اور بیمار باتو ں باتوں میں اچھا ہوجاتا ہے اور بستر مرض سے اٹھ کرچلنے پھرنے لگتا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف مریض کے حق میں فائدہ ہوتا ہے بلکہ عیا دت کے لیی جانے والے شخص کو بھی اللہ تعالیٰ ڈھیر ساری نیکیوں سے نوازتا ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ :’’جو مسلما ن کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس پر رحمت کی دعا بھیجتے ہیں ، اگروہ شام کے وقت اس کی عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس پر رحمت کی دعا بھیجتے ہیں اور جنت میں اس کے لیی پھل ہوں گے ۔‘‘
ایک دوسری حدیث میں ہے:’’بیشک مسلمان جب اپنے بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اس کے وہا ں سے واپس ہونے تک وہ جنت کے پھلو ں میں رہتا ہے۔‘‘ عیادت نہ صرف یہ کہ اپنے قریب ترین رشتہ دار کی کی جائے بلکہ اس کے مستحق سارے لوگ ہیں ۔ بچہ، بوڑھا ، جوان ، عورت ، مرد ،پڑوسی ، یہاں تک کہ غیر مسلموں کی بھی کی جانی چاہیی۔اللہ کے رسول ﷺکا اس پر کثرت سے عمل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو تا کید کے ساتھ فرمایا : ’’بھوکے کو کھا نا کھلاؤ ،مریض کی عیادت کرو ، اور قیدی کو چھڑاؤ ۔‘‘

بیما ری سے گناہ کم ہوتے ہیں
تندرستی کے برقرار رہنے کے لیی ضروری ہے کہ انسانوں کا واسطہ چھوٹی موٹی بیماری سے پڑتا رہے، تاکہ اس کے جسم سے غیر ضروری اجزاء اور فضلات کا اخراج ہوتا رہے ۔ اس کا دوسرا فا ئدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ گناہ کم ہوتے ہیں .کیوں کہ اللہ تعالیٰ جس بندے سے خفا ہوتا ہے تو اسے بیماری میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ بندہ نے جو گناہ کیا ہے اس کی مدافعت ہو جائے . چنا نچہ اللہ کے رسول ا نے فر ما یا :
’’مسلما نوں کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے یہاں تک کہ اسے کوئی کا نٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ اگر کسی مؤمن بندے کو یہ اندازہ ہو جائے کہ بیما ری اور مصیبت کے ذریعہ اسے کتنا بڑا فائدہ پہنچنے والا ہے تو وہ یہی چاہے گا کہ ہمیشہ بیماری میں مبتلا رہے . جیسا کہ رسول ا نے فرما یا : جو لوگ عافیت میں ہیں ، قیا مت کے دن جب کہ مصیبت زدوں کو ثواب دیا جائے گا ، یہ چاہیں گے کاش ! دنیا میں قینچیوں سے ان کی کھا لوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جا تے۔‘‘
ایک دوسری حدیث میں بیماری کومسلما نوں کے لیی ایک نعمت اور اس کے گنا ہوں کا کفارہ قرار دیتے ہوئے فرما یا گیا :’’ جس مسلمان کو کا نٹا چبھنے کی یا اس سے بڑی کو ئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کی غلطیوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتاہے۔ شیخ عبد القادر جیلانی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:مصیبت اور پریشانیوں میں مبتلا ہونے کے بعد رنجیدہ خاطرنہیں ہو نا چا ہیی بلکہ اسے خدا کا عطیہ اور نعمت تصور کرنا چا ہیی اے میرے بیٹے مصیبت تجھے ہلاک کر نے کے لیی نہیں آتی بلکہ تیرے صبر وایمان کا امتحان لینے آتی ہے .نیز اس کا علاج یہ بھی کہ تو سوچے کہ اگر دنیا میں مصائب و محن نہ ہو تے تو بندے عجب وفرعونیت ،شقاوت قلبی جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتے،جن سے آدمی دنیا میں اور آخرت میں ہر جگہ تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتا ۔اس لیی یہ تو ارحم الراحمین کا کمال رحمت ہے کہ بعض اوقات وہ مصائب کی دوا استعمال کرادیتا ہے جن کے باعث امراض سے تحفظ رہتا ہے اور صحت عبدیت قائم رہتی ہے .نیز کفر و عدوان اورشرک وغیرہ کے فاسق مادوں کا استفراغ جاری رہتا ہے۔بس پاک ہے وہ جو ابتلاء کے ذریعہ رحم فرماتی ہے اور انعاما ت کے ذریعہ ابتلاء میں ڈال دیتی ہے ۔

بیماری میں صبر کی اہمیت
اللہ تبارک وتعالی اپنے جس بندے سے زیادہ محبت کرتا ہے اسے اتنی ہی بڑی ابتلاء وآزمائش میں بھی مبتلا کرتا ہے تاکہ اندازہ لگائے کہ میرے بندے کامصیبت میں کیا رویہ رہتا ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول انے فرمایا :اللہ تعالیٰ جس کے سا تھ خیر کا ارادہ کر تا ہے تو اسے مصیبت میں ڈال دیتا ہے ۔ اسی طرح کی اور دوسری احادیث بھی ہیں جن سے اسی مفہوم کی وضاحت ہوتی ہے .ایسی صورت میں مومن کا رویہ یہ ہو نا چاہیی کہ وہ ہر حال میں صبرکرے اور اسے اپنی تکالیف کا مداوا تصور کرے۔ اگر وہ ناشکری اور جزع و فزع کرتا ہے تو وہ اپنی تکلیف میں اضافہ ہی کرتاہے۔ کیونکہ صبرسے تکالیف میں برداشت کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:اے ایمان والو! مددطلب کرو صبر اور نماز کے ذریعہ ، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جائیںانہیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں لیکن تم محسوس نہیں کرتے ۔ہم ضرور تمہیں کسی قدر خوف اور بھوک کے ذریعہ اور مالوں ،جانوں ِاورپھلوں میں کمی کر کے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو! جن کواگر کوئی مصیبت آتی ہے توکہتے ہیں،ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے ،ایسے ہی لوگوں پر ان کے رب کی عنایات اور رحمتیں ہیں اور یہی ہدایت یافتہ ہیں ۔(البقرۃ) بعض صحابہ کرام بیماری میں مبتلاء ہوتے تودوا علاج ترک کردیتے اور صبر وشکر کو ہی اس کا مداواسمجھتے تھے جس کی اللہ کے رسول ا نے ممانعت کی اور فرمایا کہ صحت کو تندرست رکھنے کے لیی دوا بھی ضروری ہے اور صبر بھی ضروری ہے ، چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے ،کہ ایک عورت مرگی کی بیماری میں مبتلا تھی جب اس پردورہ پڑتاتو اسے اپنے کپڑوں کی خبر نہ رہتی اور وہ بے ستر ہوجاتی تھی اس نے اللہ کے رسول اسے دعا کی درخواست کی ،آپ انے فرمایاتم چاہو تو دعا کرو اور چاہو تو صبر کرو ، اللہ تعا لی اس کے عوض جنت عطا فرمائے گا ،اس پر اس نے کہا تب تو میں صبر کرونگی البتہ آپ دعا فرمائیی !کہ دورہ کی حالت میں میری بے ستری نہ ہو ،آپ انے اس کے لیی دعا فرمائی۔ اس عالم پریشانی میں جو بندہ صبر کر تا ہے اللہ کے نزدیک اس کا مقام بہت بلند ہو جاتا ہے ،جیساکہ باری تعالی کا فرمان ہے:’’وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں تنگی ترشی اورتکلیف میں اور جنگ کے وقت ،یہی لوگ سچے ہیں اور یہی تقوی والے ہیں۔‘‘صبر وشکر کو مؤمن کا خاص وصف قرار دیتے ہوئے اللہ کے رسول ا نے فرمایا:’’ مؤمن کا معاملہ کتنا اچھا ہے ،کہ وہ جس حال میں بھی ہوتا ہے ،وہ اس کے حق میںبہتر ہوتا ہے یہ بات مؤمن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتی ،اگر وہ مسرت سے ہمکنار ہوتو شکر کرتا ہے یہ اس کے لیی بہتر ہوتا ہے اگر تکلیف پہنچتی ہے تو صبرکرتاہے یہ بھی اس کے حق میںبہتر ہوتا ہے۔‘‘ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں نبیوں اور نیک بندو ںکو بڑی مشکلات ، سخت سے سخت بیماری اور آزمائش میں مبتلا کرکے ان کے صبر کا امتحان لیا ہے ،مگر وہ ہر حال میں صبر کرتے رہے ،جس کے صلہ میں اللہ نے ان کے مرتبے کو بلند فرمایا صبر ایوب سے کون واقف نہیں ہے ، حضرت ایوب علیہ السلام مہلک ترین بیماری میں ایک لمبے عرصے تک مبتلارہے لیکن پھربھی انہوں نے صبرکے علاوہ کوئی لفظ شکوہ اپنی زبان پر کبھی آنے نہیں دیااس بیماری میں انکے تمام قریبی لوگ ساتھ چھوڑگئے مگر انکی بیوی اٹھارہ سال تک خدمت کرتی رہیںانکی تکلیف کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات انکی بیوی بھی کرب والم میں مبتلا ہوجاتی تھی ایک باربجذبہ ہمدردی انکی بیوی نے کچھ ایسے الفاظ کہے جو صبر ایو ب کے منافی تھے اور خداکی جناب میں شکوہ کا پہلو لیی ہوئے تھے اس پر وہ اپنی مونس و غم خوار بیوی سے ناراض ہوگئے اور کہا کہ تم نے کفران نعمت کی ہے اسکی سزا میں تم کو ضرور دونگا اس صبر کے صلہ میں اللہ نے انکے درجات بلندکئے جس کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے۔
اور یاد کرو جب ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے تو ارحم الرا حمین ہے،ہم نے اس کی پکار سنی اور اسے جو تکلیف تھی وہ دور کردی ۔ہم نے اسے اس کو اہل وعیال دئیی اور اس کے صبر کے ذریعہ نہ صرف دنیوی و اخروی درجات بلند ہوتے ہیں بلکہ اس سے مریض کی صحت پر بھی مثبت اثرات پڑتے ہیں کیونکہ جو آڈمی بیماری کی حالت میں صبر کرے گا اسے اپنی تکلیف کا بوجہ ہلکا معلوم ہوگا اور اس کی امیدیں اور نیک خواہشات برآئیں گی چنانچہ مرض چھوٹا ہو یا بڑا، قابل علاج ہو یا لا علاج ہر حال میں اسلام نے صبر کی تعلیم دی ہے ۔جو لوگ مذہبی اقدار کی اہمیت نہیں محسوس کرتے ان کے نزدیک یہ ایک بے معنی نصیحت ہے۔ اس سے انسان کے مسائل حل نہیں ہوتے اور وہ ممکنہ تدابیر بھی اختیار نہیں کرتا ، لیکن یہ صبر کا غلط تصور ہے۔ صبر اس بات کا نام ہے کہ آدمی مشکلات میں جزع ، فزع اور گھبراہٹ کا مظاہرہ نہ کرے ،شکوہ شکایت کی جگہ جم کر ان کا مقابلہ کرے جو تدبیریں اس کے بس میں ہوں ان کو پورے سکون کے ساتھ اختیار کرے اور نتیجہ اللہ کے حولے کردے ، اس سے انسان کی قوت ارادی (will power) مضبوط ہوتی ہے اور آدمی کے اندر خود اعتمادی اور خدا اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ مریض کے اندر مضبوط قوت ارادی ہو تو وہ مرض کا بڑی ہمت اور پامردی سے مقابلہ کرسکتا ہے۔ چنانچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جن مریضوں کی قوت ارادی مستحکم ہوتی ہے وہ مایوس اور بے صبر مریضوں کے مقابکہ میں لمبی زندگی پاتے ہیں ۔

موت کی دعا نہیں کرنی چاہیئے
ہر انسان کسی نہ کسی طرح بیماری میں مبتلاہے بعض بیماری قابل علاج ہوتی ہے تو کوئی لا علاج اور زندگی بھر وہ کرب و الم کی دنیا میں زندہ رہتا ہے ، ایسی حالت میں وہ چا ہتا ہے کہ اس لا علاج بیماری اور تکلیف بھری دنیا سے کسی طرح نجات پالے جس کے لیی وہ بعض وقت دعا کرتا ہے کہ اللہ مجھ کو اس تکلیف دہ زندگی سے نکال کر موت دے دے ، جو درست نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے بندو ں پربیماری اسی لیی طاری کرتا ہے کہ اس کے اندر قوت برداشت کا داعیہ پیدا ہو ، اللہ کے رسول ا نے ایسی دعا کرنے سے منع فرمایا ہے ۔:تم میں سے کسی شخص کوکوئی تکلیف پہنچے تووہ موت کی تمنا نہ کرے ،اگر کسی وجہ سے بالکل ضروری ہوجائے تو اس طرح کہے: اے اللہ ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ زندہ رہنا میرے حق میں بہتر ہو اور جب موت میرے حق میں بہترہے تو موت دے دے،مصائب ومشکلات اور بیماری تو وقتی چیز ہے ،یہ کبھی جلد رفع ہو جاتی ہے اور کبھی وقت لگتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اسکا مقابلہ نہ کرے ،اللہ نے انسان کو دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور اپنی عیادت کے لیی پیدا کیا ہے تو پھر کیوں نہ اس کے حکم کی تعمیل کی جائے ۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ بزدلی ہے اور مومن کے شان کے خلاف اور کفر ان نعمت ہے۔ اندازہ لگائیی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں بعض بیماری کا بہتر علاج گرم لوہے سےداغےجانے کا تھا ۔ جس کی تکلیف سے آدمی کی ہڈی چرمر ا جاتی تھی باوجود اس تکلیف کے وہ زندہ رہنے کو ترجیح دیتے تھے ۔بعض روایات میں آتاہے کہ حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہ کو بطور علاج گرم لوہے سے سات داغ لگائے گئے ، اس سے انہیں سخت تکلیف ہو ئی با وجود اس کے انھوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے موت کی دعا کرنے سے منع فرمایا ہے ورنہ تکلیف اتنی سخت ہے کہ میں اللہ سے موت کی دعا کرتا ۔
یہ تو صحابہ کا عمل تھا ،خود اللہ کے رسول ﷺ کو لوہے سے داغےجانے کی تکلیف کا اندازہ تھا ۔باوجود اس کے آپ نے حفظان صحت کے تحت اسکی اجازت دی کہ تم اس طریقہ پر عمل کرکے اپنا علاج کراؤ ،جیساکہ اللہ کے رسول ا نے فرمایا :
شفا تین چیزوں میں ہے ، شہد کا گھونٹ پینے ، پچھنے کا نشان اور آگ سے داغ لگانے میں ۔میںاپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتا ہوں۔کون انسان کب تک زندہ رہے گا اور کب اس کی موت ہوگی یہ اللہ ہی جانتا ہے اور زندگی اور موت دینے کا حق بھی اسی اللہ کوہے ،انسان کے بس میں اگر یہ چیزہوتی تو دنیا کا نظام درھم برھم ہوکر رہ جاتا ،انسان کادنیا میں زندہ رہنا بھی تقویت اور ترقی درجات کا باعث ہے ، اسی لیی اللہ کے رسول انے منع فرمایا کہ موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیی اس لیی کہ اگر وہ نیک ہے تو امید ہے کہ اس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہوگا اور اگر برا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے تائب ہوجائے ۔
لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ زندگی اللہ تعالیٰ کاایک خوبصورت عطیہ ہے جسے اس کی رضا کے حصول اورمرضی کے مطابق ہی استعمال کیا جائے تاکہ اس کی نافرمانی میں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ پر امید رہتا ہے کیونکہ مایوسی کفر ہے
مزید پڑھیے۔۔۔

نرمی اور بردباری

عقلمند انسان کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر معاملے کو نرمی اور بردباری سے حل کرتا ہے، جبکہ بے وقوف انسان کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں جلدبازی اور نادانی سے کام لیتا ہے۔  

مثال مشہور ہے کہ ’’عقلمند سوچ کے کرتا ہے اور بے وقوف کرکے سوچتا ہے۔‘‘ 

نرمی کا تعلق: درگزرکرنے، معاف کرنے اور غصہ پر قابو پانے سے جبکہ بردباری کا تعلق: کسی بھی معاملے کو سوچ سمجھ کر اور غور و فکر کر کے اختیار کرنے سے ہے۔ اور ان دونوں کا تعلق عقلمندی سے ہے۔  

ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی دینِ اسلام کی تعلیمات ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں۔  

َ

نرمی اور ُبرد باری !


انسانوں کی بھلائی کے یہ دو ایسے اوصافِ حمیدہ ہیں جن سے اللہ رب العزت بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

{ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْضَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ} 

’’اور(متقی) غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہوتے ہیں اور اللہ ایسے ہی نیکو کاروں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (ال عمران:134) 

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک صحابی اشجع بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ’’ تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: بردباری اور سوچ سمجھ کر کام کرنا۔‘‘ (صحیح مسلم) 

امُّ المؤمنین ، طاہرہ مُطہّرہ صدّیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ پیارے پیغمبر جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ رفیق (نرمی کرنے والا) ہے اور ہر معاملے میں رفق (نرمی کرنے) کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) 

مزید ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے:  

’’بے شک اللہ تعالیٰ رفیق (نرمی کرنے والا) ہے ، رفق (نرمی) کو پسند فرماتا ہے، نرمی پر جو کچھ عطا فرماتا ہے وہ سختی پر اور اس کے علاوہ کسی اور طریقے پر عطا نہیں فرماتا۔‘‘ (صحیح مسلم) 

ان دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نرمی اور بردباری جیسی اعلیٰ صفات اللہ تعالیٰ کو انتہائی محبوب ہیں اور ان صفات کے اعلیٰ اور محبوبِ الٰہی ہونے کے لئے اگرچہ یہی بات کافی ہے کہ یہ خود ربُّ العالمین کی اپنی صفات ہیں ، لیکن اللہ احکم الحاکمین نے انہیں ہر معاملے میں اپنے بندوں میں بھی ازحد پسند فرمایا ہے اور ساتھ ہی اپنی بارگاہِ اقدس میں معاملات کی قبولیت کیلئے بھی ان صفات کو اوّلین ترجیح عطافرمائی ہے۔ لہٰذا ان صفات کا حامل انسان بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور مقبول ترین انسان ہوتا ہے۔  

کوئی بھی انسان جو یہ چاہتا ہو کہ اس کے ہر معاملے کا حل بہترین ہو، اس کی ہر بات مقبولیت کے درجہ کو پہنچے اور اس کا ہر کام خوبصورت ہو تو اسے چاہئے وہ انہی دو صفات کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالے۔  

جنابِ خاتم النبیّین، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمانِ مبارک ہے: 

’’بے شک جس معاملے میں بھی نرمی شامل ہوتی ہے تو وہ اسے بازینت (خوبصورت) بنادیتی ہے اور جس معاملے سے نکال لی جاتی ہے اسے عیب دار بنادیتی ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم) 

اس حدیث پر غور کریں ، پیغمبرِ اسلام ، نبی مکرم ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  ہر اس معاملے کی خوبصورتی اور زینت کی خبر دے رہے ہیں جس میں نرمی شامل ہو۔ اور ہر اس معاملے کی بدصورتی اور بدنمائی کی بابت بتا رہے ہیں جس میں نرمی شامل نہ ہو۔ 

ہمارے معاشرے میں عموماً دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں:

ایک وہ جو اچھے اخلاق کے حامل ، نرم گفتگو کرنے والے ، سمجھداری کا مشورہ دینے والے اور خلوص کا اظہار کرنے والے ہیں۔

اور دوسرے وہ جوبد اخلاق ، بدتمیز ، چڑچڑے مزاج والے اور جان چھڑانے کیلئے غلط مشورہ دینے والے ہیں۔  

ہر انسان دیکھے کہ وہ ان دونوں قسم کے لوگوں میں سے کس کے پاس شوق اور محبت کے ساتھ جانا گوارا کرتا ہے؟ ظاهرہے بااخلاق ، نرم خو ، بردبار اور مخلص انسان کے پاس۔ 

ذرا سوچیں! انہیں کن چیزوں نے لوگوں کا محبوب بنایا؟ خود ہی جواب ملے گا کہ ان کی انہی اعلیٰ اور احسن صفات نے۔ بات کو مزید سمجھنے کیلئے ہم اسی مثال کو قرآن کریم سے بھی ذکر کرتے ہیں۔  

اللہ ربُّ العزت نے قرآنِ مجید میں اپنے سب سے پیارے اور آخری رسول ، امامِ کائنات ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے: 

{ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْکُنْتَ فَضًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ } 

’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) ان (صحابہ رضی اللہ عنہم) پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بدزبان اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، لہٰذا ان سے درگزر کریں، ان کیلئے استغفار کریں اور معاملات میں ان سےمشورہ کیا کریں۔‘‘ (اٰل عمران:159) 

اس آیت مبارکہ میں اللہ ربُّ العزت نے ہمارے لئے ہمارے ہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نرم دلی اور اعلیٰ اخلاق کی مثال بیان فرمائی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ بار بار تشریف لانا اور محوِ گفتگو ہونا بھی انہی صفات کے سبب بتایا ہے کہ اگر یہ صفات نہ ہوتیں تو یہ لوگ کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جمع نہ ہوتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے دور بھاگتے۔  

اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ کی ابتدا ء میں ایک اور انتہائی اہم سبق بھی دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب ہے، انسان کی ذاتی صلاحیت کا حصہ نہیں! لہٰذا جو انسان ان خصوصیات کا حامل ہے وہ سمجھ لے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہے، اسے بغیر کسی تکبر اور غرور میں مبتلا ہوئے اپنے رب کا اور زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے۔ اور جو انسان ان خصوصیات سے محروم ہے اسے جان لینا چاہئے کہ وہ نہ صرف اللہ رب العالمین کی رحمت سے، بلکہ ہر خیر سے دور ہے۔ جیسا کہ حدیث میں رسول اللہصلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: 

’’جو شخص نرمی سے محروم کردیا گیا ‘ وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔‘‘ (صحیح مسلم) 

لہٰذا ایسے انسان کو اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات میں ان صفات کے حصول کیلئے خصوصی دعا کرنی چاہئے۔ 

 

نرمی اور برد باری کا سب سے بڑا فائدہ !

 

بلاشبہ نرمی اور بردباری انتہائی نیک صفات ہیں ، جبکہ بدمزاجی اور بے وقوفی انتہائی بری صفات ہیں۔ نیکی لوگوں کو قریب، جبکہ برائی دور کرتی ہے۔ نیکی دوست بناتی ہے اور برائی دشمن۔ لہٰذا نیکی کرکے لوگوں کو اپنا دوست بنایاجائے، برائی کرکے دشمن نہ بنایاجائے۔  

انہی باتوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں یوں بیان فرمایا ہے: 

{ وَلَاتَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَاالسَّیّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَاالَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ   وَمَایُلَقّٰھَآ اِلَّاالَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَایُلَقّٰھَآ اِلَّاذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ } 

’’نیکی اور برائی برابر نہیں ہوتی، برائی کو نیکی کے ذریعے دفع کرو‘ تب وہ شخص جو تمہارا (بدترین) دشمن ہے‘ ایسے ہوجائے گا، جیسے وہ تمہارا انتہائی گہرا دوست ہو۔ اور یہ بات انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جو صبر کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کو نصیب ہوتی ہے جو بڑی قسمت والے ہوتے ہیں۔‘‘ ( حم السجدہ: 34-35)

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ خالق و مالک نے گہرے دوست بنانے کا ایک انتہائی اہم اور مجرّب نسخہ تجویز فرمایا ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ برائی یا زیادتی کرے اور جہالت کا ثبوت دے تو اس کی ان برائیوں کا مقابلہ قرآنی حکم کے مطابق نیکی سے کریں۔ اس سے درگزر کریں، محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اجر و ثواب کے حصول کی خاطر اسے معاف کردیں اور اس کی جہالت کا مقابلہ اپنی اعلیٰ اخلاقی تعلیم سے کریں۔ اور اس شخص کی طرح نہ ہوجائیں‘ جو کسی راستے سے گزررہا تھا کہ وہاں کھڑے ایک گدھے نے اسے لات ماردی، اس آدمی نے پلٹ کر گدھے کو زور سے لات ماری اور غصے سے کہا کہ ’’کیا میں تجھ سے کم ہوں؟‘‘۔

جس طرح یہ چیز مناسب نہیں ہے، بالکل اسی طرح اپنے آپ کو ظالم کے مقابلے پر ظالم، بدتمیز کے مقابلے پر بدتمیز اور جاہل کے مقابلے پر جاہل بنانا بھی مناسب نہیں ہے۔ اگر دونوں ایک دوسرے سے یکساں سلوک کریں تو پھر دونوں میںفرق ہی کیا رہ جائےگا؟ لہٰذا ہر بری صفت کا مقابلہ اپنی نیک صفت سے کیا جائے کہ یہی اللہ احکم الحاکمین کا حکمِپاک بھی ہے:

{ خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَ }

’’درگزر سے کام لو، نیکی کا حکم کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو۔‘‘ (الاعراف:199)

 

غصّہ نیکی کا دشمن ہے !


غصہ ہر لحاظ سے انسان کیلئے نقصان دہ ہے۔ بعض اوقات انسان غصے کی حالت میں‘ نادانی اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دین کے معاملات میں بھی کچھ ایسے الفاظ کہہ دیتا ہے جو اس کے ایمان اور نیکیوں کو ضائع کردینے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہی غصہ بہترین دوستوں کو بدترین دشمن بنادیتا ہے۔ اپنوں کو پرایا کردیتا ہے۔ اس لحاظ سے غصہ انسان کا بدترین دشمن ہے۔ لہٰذا غصے کو ہرگز اپنے قریب مت آنے دیجئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ و سلم ! مجھے کوئی نصیحت فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے نصیحت فرمائی کہ ’’غصہ مت کرو‘‘ ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کئی مرتبہ اپنی بات دہرائی کہ مجھے نصیحت کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر بار اسے یہی نصیحت فرمائی کہ ’’غصہ مت کرو‘‘۔ (صحیح بخاری)

اگر کوئی انسان یہ سمجھتا ہے کہ غصے کے ذریعے وہ اپنی قوت کا اظہار کرتا اور اپنے طاقتور ہونے کا ثبوت دیتا ہے تو اس کی یہ سوچ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔نبی کریمصلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے:

’’طاقتور وہ نہیں ہے جو(مدمقابل کو) پچھاڑ دے ، بلکہ طاقتور تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

دینِ اسلام میں جسمانی طاقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بلکہ اصل طاقت نیکی کی طاقت ہے۔ اس لحاظ سے اسلام کی نظر میں اصل طاقتور وہ نہیں ہے‘ جو غصہ کے عالم میں مخالف کو زیر کرکے انتقام کا نشانہ بنائے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے‘ جو حق پر ہوتے ہوئے اور بدلہ لینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہوئے اپنے غصے اور جذبہ انتقام پر قابو رکھے اور درگزر سے کام لے۔

اس بات کی شہادت قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے۔

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ

’’اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو بے شک یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘ (الشوریٰ :43)


نبہ آخر الزماں ﷺ کی مثال !


’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر (جنگ) اُحد سے بھی زیادہ کوئی سخت دن آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں نے تیری قوم سے بہت تکلیف اٹھائی ہے اور سب سے زیادہ تکلیف مجھے اس عقبہ والے دن پہنچی جب میں نے اپنے آپ کو (اسلام کی دعوت کیلئے) ابن عبد یا لیل بن عبد کلال پر پیش کیا۔ (جو طائف کا ایک بڑا سردار تھا) اس نے میری دعوت کو‘ جو میں چاہتا تھا‘ قبول نہیں کیا،تو میں وہاں سے سخت پریشان ہو کر نکلا۔ قرنِ ثعالب پر پہنچ کر مجھے کچھ افاقہ محسوس ہوا تو میں نے سر اٹھایا تو ناگہاں ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو اس میں جبرئیل علیه السلام تھے، انہوں نے مجھے آواز دی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ بات سن لی جو آپ نے ان سے کہی اور وہ بھی جو انہوں نے آپ کو جواب دیا، اللہ تعالیٰ نے آپصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پہاڑوںپر مقرر فرشتہ بھیجا ہے، تاکہ آپ اسے ان لوگوں کی بابت جو چاہیں حکم دیں۔ ‘‘ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کیا۔ اور کہا: ’’اے محمدصلی اللہ علیہ و سلم ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی گفتگو‘ جو آپ سے ہوئی‘ سن لی اور میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ ہوں، مجھے میرے رب نے آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ مجھے اپنے معاملے میں حکم دیں، پس آپ کیا چاہتے ہیں؟ اگر آپ چاہیں تو میں انہیں دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں؟‘‘ تو نبی کریمصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :( ایسا نہ کرو) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ‘‘(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اللہ کے ایک نبی کی مثال !


سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں (اب بھی) گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، اس نبی علیہ السلام کو اس کی قوم نے مار مار کر لہو لہان کردیا تھا۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ ’’اے اللہ ! میری قوم کو معاف کردے، کیونکہ وہ لاعلم ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری )

ہمارا دین کس قدر اَعلیٰ و اَرفع تعلیمات اور مثالوں کا حسین ترین گلدستہ ہے، جس میں ہر لحظہ محبت و امن، نرمی و بردباری اور درگزر و معافی کا حکم دیا گیا ہے ۔اور ظلم و تشدد ، عدمِ برداشت اور بدلہ و انتقام کی سوچ کو غیر اسلامی کہا گیا ہے۔

 

لہٰذا آئیے !

اللہ رب العالمین کی طرف سے اس حسین ترین گلدستۂ اسلام کا تحفہ قبول فرمایئے اور اپنی عادات و اطوار کو اسلامی اوصافِ حمیدہ کے مطابق بنائیے !

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن و حدیث کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اَسماءُ اللہ الحسنیٰ " اہمیت و فضیلت"


توحید ِ اسماء و صفات اللہ تعالیٰ کی توحید کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی ربوبیت و الوہیت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی ایمان لایا جائے کہ اللہ رب العزت اپنے تمام ناموں اور صفات میں کامل و اکمل ہے، اس کا ہر نام اور ہر صفت ہر قسم کے نقائص اور عیوب سے پاک ہے۔ پوری کائنات میں اس کے نام اور صفات میں کوئی اس کا ہم مثل ہے اور نہ شریک۔

اللہ ذوالجلالِ والاکرام کے تمام اسماء بہترین ہیں،لہٰذا ان میں کسی بھی قسم کی تاویل، تعطیل یا تشبیہ یا انکار کا عقیدہ رکھنا صریحاً الحاد ہے۔ اللہ رب العزت کے کسی بھی نام کو اس سے دعاء میں وسیلہ بنایا جاسکتا ہے اور یہی سب سے بہترین وسیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے:

وَللہ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بھَا وَ ذَرُوا الَّذِین یُلْحِدُوْنَ فی اَسْمَآئِہٖ، سَیُجْزَوْنَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ   (الاعراف:180)

’’اور اللہ تعالیٰ کے لئے اچھے نام ہیں، لہٰذا انہی کے ساتھ اسے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں کج روی کا شکار ہیں، جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا انہیں عنقریب بدلہ دیا جائے گا۔‘‘(مزید حوالہ جات: طٰہٰ:آیت8/بنی اسرائیل:آیت110/الحشر:آیت24)

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان ناموں کو یاد کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری: کتاب التوحید، باب ان ﷲ مائۃ اسم الا واحد/صحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ کے صرف ننانوے نام ہی نہیں ہیں، بلکہ یہ تو صرف وہ نام ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے ہمیں اپنی وحی کے ذریعے خبر دی ہے، حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار اور لاتعداد نام ہیں جنہیںاس کے سوا پوری کائنات میں اور کوئی نہیں جانتا۔

خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ سے ان کلمات کے ذریعے دعا کیا کرتے تھے:

اَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ ۔

’’اے اللہ! میں تیرے ہر اس نام کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں، جو تو نے اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنی مخلوقات میں کسی کو سکھادیا یا اسے اپنے خزانۂ غیب میں مخفی رکھا۔‘‘ (مسندِ احمد: مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند عبداللہ بن مسعودt)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک آدمی کو سنا وہ ان الفاظ کے ساتھ دعاء کررہا تھا:

(اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنَّکَ اَنْتَ اللہُ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ کُفُوًا اَحَدْ)

’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے سوال کررہا ہوں؛ اس لئے کہ توہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ایسا اکیلا بے نیاز ہے کہ تیرا کوئی باپ نہیں اور نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی تیرے ہم مثل ہے۔رسولِ معظم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اللہ سے ایسے اسم اعظم کے ذریعے سوال کیا ہے کہ جب اس کے واسطے سے اللہ سے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطا کرے اور دعاء کی جائے تو وہ ضرور قبول ہو۔ (ترمذی:کتاب الدعوات، باب جامع الدعوات عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم )

اللہ تعالیٰ ہمیں ان ناموں کو یاد کرنے ،سمجھنے اور ان پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

اسماء الحسنیٰ


کلمہ جلالہ " اللہ "

معبودبرحق ہے، تمام مخلوق اسکی الوہیت اور عبودیت میں شامل ہے ،کیونکہ وہ ان تمام معبودانہ صفات کا حامل ہے،جو صفاتِ کمال ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص ذاتی نام ہے جو اسمائے حسنیٰ میں سب سے زیادہ شان والا ہے، اس لئے اسے اسم اعظم بھی کہتے ہیں۔

یَااَللّٰہُ کہہ کر دعا مانگا کیجئے۔

 

الرَّحْمٰنُ

بہت زیادہ رحم کرنے والا، دنیا میں اس کی رحمت مومنین اور کفار سب کے لئے ہے لیکن آخرت میں یہ رحمت اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کے لئے ،خاص ہوگی۔

 

الرَّحِیْمُ

نہایت مہربان، جو ہر عمل کرنے والے کو اس کا بے حساب اجر عطا کرنے والاہے۔

 

اَلْمَلِکُ

حقیقی بادشاہ،جو اپنے ہر حکم کو نافذ کرنے کی مکمل طاقت رکھتا ہے،جسکی بادشاہی کو کبھی زوال نہیں۔

 

الْقُدُّوْسُ

پاکیزگی والا،جو ہرعیب اورنقص سے پاک ہے۔ایسی پاکی جو انسانی تصور سے بالا ترہے۔

 

السَّلَامُ

سلامتی کا سرچشمہ،جو ہر چیز کو سلامت رکھنے والا، نیک بندوں کی حفاظت اور انہیں سیدھی راہ پر چلاتاہے۔

 

الْمُؤْمِنُ

امن دینے والا،اسکی ذات میں امن ہی امن ہے اس لئے اسی سے امن طلب کیا جاتا ہے۔

 

الْمُھَیْمِنُ

نگہبان اور محافظ،جو اپنی پوری مخلوق کی حفاظت اور نگہبانی کرنے والا ہے ۔

 

الْعَزیْزُ

سب پر غالب،وہ عزت وغلبہ کا سرچشمہ ہے۔وہ جسے چاہتاہے غلبہ عطا فرماتا ہے۔

 

الْجَبَّارُ

بگڑے کاموں کو بنانے والا، طاقتور،جس کے سامنے کوئی بولنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔

 

الْمُتَکَبّرُ

کبریائی والا،وہ اتنا عظیم ہے کہ اس کی طرف کسی برائی ،نقص یا عیب کی نسبت نہیں ہو سکتی۔

 

الْخَالِقُ

ہر چیز کو پیدا کرنے والا، جوپیدا کرنے سے پہلے ہر چیز کی تقدیر لکھنے والاہے۔

 

الْبَا ِریُٔ

عدم سے وجود میں لانے والاجو وجود میں لاکر اس کے معاش کی تدبیر کرنے والا ہے۔

 

الْمُصَوّرُ

صورتیں بنانے والا، جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور اپنی حکمت کے ساتھ خوبصورت بنایا۔

 

الْغَفَّا ُر

بے انتہابخشنے والا، ڈھانپنے والا، جو دنیا میں گناہوں اور برائیوں پر پردہ ڈال کر آخرت میں عذاب دینے کی بجائے در گذر کرتے ہوئے معاف کرنے والا بھی ہے۔

 

الْقَھَّا ُر

ہر چیز پر غالب، جس کے سامنے تمام مخلوقات عاجزہیں۔جو ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے۔

 

الْوَھَّابُ

بہت زیادہ عطا کرنے والا، وہ بغیر کسی غرض کے اور بغیر مانگے عطا کرنے والا ہے۔

 

الرَّزَّاقُ

روزی دینے والا،جو ہر جاندار کے لئے اسبابِ رزق مہیا کرنے اور روزی پہنچانے والا ہے۔

 

الْفَتَّاحُ

مشکلات حل، اپنی رحمت کا دروازہ کھولنے اور حق اور باطل کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے والا ہے۔

 

الْعَلِیْمُ

بہت زیادہ علم رکھنے والا، ہر اول اور آخر کو جانتا ہے جوہر چیز کو ہر وقت جاننے والا ہے۔

 

الْقَابِضُ

روزی تنگ کرنے والا، جو ہر چیز پر قابض ہے۔ موت کے وقت روحوں کو قبض کرنے والا ہے۔

 

الْبَاسِطُ

روزی کشادہ کرنے والا، فراخی دینے والا، جو رزق کو وسیع کرتا ہے اور دلوں کوکشادہ کرتا ہے۔

 

الْخَافِضُ

پست کرنے والا ، جو اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتے ہوئے ذلیل وخوار کردیتا ہے۔

 

الرَّافِعُ

بلند کرنے والا، اٹھانے والا۔ جو اہلِ ایمان کوایمان لانے کی و جہ سے بلند کرتا ہے۔

 

الْمُعِزُّ

عزت دینے والا، وہ اپنے نیک بندوں کو علم و فضل کے ذریعہ عزت عطا فرماتا ہے۔

 

الْمُذِلُّ

ذلیل و خوار کرنے والا، سرکشی اور تکبر کرنے والوں کو ذلیل و خوار کردیتاہے۔

 

السَّمِیْعُ

بہت زیادہ سننے والا، جوچھوٹی سے چھوٹی مخلوق کی فریاد کو بھی سنتا اورقبول فرماتا ہے۔

 

الْبَصِیْرُ

ہر چیزکو خوب دیکھنے والا،جس کی نظروں سے ذرّہ سے بھی چھوٹی کوئی چیز اوجھل نہیں۔

 

الْحَکَمُ

حاکم، انصاف سے فیصلہ کرنے والا، اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیںسکتا اور نہ اس میں تبدیلی کرسکتا ہے۔

 

الْعَدْلُ

انصاف کرنے والا، جو اپنے بندوں کے درمیان تمام معاملات میں انصاف کرنے والا ہے۔

 

اللَّطِیْفُ

باریک بین، اپنی مخلوق کوباریک بینی سے پیدا کرنے اور زیادہ نرمی سے پیش آنے والا ہے۔

 

الْخَبیْرُ

ہر چیز سے آگاہ، کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور وہ ہر وقت ہر چیز سے باخبر رہتا ہے۔

 

الْحَلِیْمُ

بردبار، تحمل(برداشت) والا، وہ لوگوں کی سرکشی کو دیکھنے کے باوجودانہیں اپنی نعمتیں عطا فرماتا رہتاہے

 

الْعَظِیْمُ

سب سے بڑا،وہ اپنی ہر صفت میںبلند شان اورعظمت والا ہے۔

 

الْغَفُوْرُ

بار بار بخشنے والا،جو بار بار گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی بخش دیتا ہے۔

 

الشَّکُوْرُ

قدردان،بہت زیادہ اجر دینے والا،جو معمولی عمل کی قدر کرتے ہوئے اسے بھی شرف قبولیت بخشتا ہے۔

 

الْعَلِیُّ

بہت ہی زیادہ بلندمرتبہ والا، جس کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں اور نہ ہی کسی کو اس کی بلندی کا علمہے۔

 

الْکَبیْرُ

بہت ہی بڑا ، جس کی شان و شوکت کے سامنے بڑے سے بڑا بھی حقیر ہے۔

 

الْحَفِیْظُ

سب کیحفاظت کرنے والا، جو ہر وقت اپنی مخلوق کی حفاظت کرتا ہے اور وہ اس کی حفاظت میں نہ تھکتا ہے اور نہ ہی اکتاتا ہے ، تمام کائنات کا محافظ ہے۔

 

الْمُقِیْتُ

روزی اور توانائی دینے والا،جوپوری مخلوق کو اس کی غذا پہنچاتا ہے اور انہیں با آسانی رزق مہیا کرتاہے۔

 

الْحَسِیْبُ

حساب لینے، کافی ہوجانے والا، جو اپنے بندوں سے حساب لینے اور ہر پریشانی سے کافی ہوجاتا ہے۔

 

الْجَلِیْلُ

بلند مرتبہ والا، افضل ترین صفات والا، جس کی ذات و صفات میں کوئی اسکے مقابل نہیں ہے۔

 

الْکَریْمُ

عطا کرنے والا، بڑا سخی، جو قدرت کے باوجود معاف کرنے اور امید سے بڑھ کر عطا کرنے والا ہے۔

 

الرَّقِیْبُ

بڑانگہبان، پاسبان، محافظ ،جو ہر نفس کا پاسبان اور محافظ اور نگہبان ہے۔

 

الْمُجِیْبُ

بے قراروں کی دعا قبول کرنے والا، حاجت روا،جوسائل کی دعا قبول ، اس کی مدد اور پکارنے والوں کی ہرپکار کا جواب دینے والا ہے۔

 

الْوَاسِعُ

کشادگی دینے والا، علم و حکمت میں وسیع،جس کی سلطنت،علم،سخاوت اور فضل وکرم بڑا وسیع ہے۔

 

الْحَکِیْمُ

حکمت و دانائی والا،جو ہر چیز کو بہتر انداز میں سمجھنے والا ہے،اسکا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔

 

الوَدُوْدُ

بہت زیادہ محبت کرنے والا،جو اپنے انبیا سے محبت رکھنے والوں سے بھی محبت رکھتا ہے۔

 

الْمَجیْدُ

بڑی شان والا،جس کی صفات بہت بلند،تمام کام بہت ہی عمدہ اور ذات بے مثال ہے۔

 

الْبَاعِثُ

مُردوں کو زندہ کرکے قبروں سے اٹھانے والا، مخلوق کی ہدایت کے لئے انبیا oکوبھیجنے والاہے۔

 

الشَّھِیْدُ

حاضروناظر،جو ہر چیزسے باخبر اور ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے اور ان پر گواہ بھی ہے۔

 

الْحَقُّ

وہ اپنی ذات و صفات میں سچا ہے،وہی عبادت کا حقدار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔

 

الْوَکِیْلُ

بڑا کارساز، مختار، پوری مخلوق اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے اور مکمل با اختیار ہے۔

 

الْقَوِیُّ

بڑی طاقت والا، جسے پوری کائنات مل کر بھی عاجز نہیں کرسکتی۔

 

الْمَتِیْنُ

انتہائی مضبوط و مستحکم،وہ بڑی زبردست قوتوں والا ہے، اس کی قوت اور قدرت کی کوئی انتہا نہیں

 

الْوَلِیُّ

مددگار ، حمایتی، اپنے فرماںبردار بندوں کا دوست ہے اور دشمنوں کا صفایا کرنے والا ہے۔

 

الْحَمِیْدُ

تعریف و توصیف کے لائق، جس کی حمد و ثنا ہر زبان پر ہر حال میں جاری و ساری ہے۔

 

الْمُحْصِی

اپنے علم اور شمار میں رکھنے والا اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اس کا علم ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے۔

 

الْمُبْدِیُٔ

پہلی بار پیدا کرنے والا، جو بغیر کسی نمونہ کے مخلوق کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔

 

الْمُعِیْدُ

دوبارہ پیدا کرنے والا، جو موت کے بعد دوبارہ زندگی عطا کرنے اور حساب لینے والا ہے۔

 

الْمُحْیی

زندگی اور صحت عطا کرنے والا، مُردہ دلوں کو زندہ کرنے اور مُردہ زمین کو آباد کرنے والا ہے۔

 

الْمُمِیْتُ

موت دینے والا، جو ایک مقررہ وقت کے بعد ہر ایک کو موت دینے والا ہے، جس نے موت کو پیدا کیا۔

 

الْحَیُّ

ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، جسے کبھی فنا اور زوال نہیں جب کہ اسکے علاوہ ہر چیز فنا ہو جائے گی۔

 

الْقَیُّوْمُ

کائنات کو قائم رکھنے اور سنبھالنے والا، جو پوری کائنات کا محافظ اور نگران ہے۔

 

الوَاجدُ

ہر چیز کو پانے والا، جسے ہر چیز کے بارے میں معلومات ہیں اور ہر چیز اس کے سامنے بالکل واضح ہے۔

 

الْمَاجدُ

بزرگی اور بڑائی والا، بڑے شرف والا، وہ عزت اور شرف کا مالک اور معزز ہے۔

 

الوَاحدُ

بے مثال ،اکیلا،جو اپنی ذات و صفات میں یکتاہے جس کا ذات، صفات، عبادات میں کوئی شریک نہیں۔

 

الصَّمَدُ

بے نیاز، جو کسی کا محتاج نہیں،جو کائنات کی ہر چیز سے بے نیاز ہے۔

 

الْقَادِرُ

مکمل قدرت رکھنے والا، جس کا حکم بغیر کسی واسطہ کے نافذ ہوتا ہے، وہ جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے۔

 

الْمُقْتَدِرُ

بڑی قدرت رکھنے والا، جو ہر چیز پر قادرہے،کوئی بھی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔

 

الْمُقَدِّمُ

آگے بڑھانے والا، جو عزت و شرف ، علم و عمل میں اپنے نیک بندوں کو آگے بڑھانے والا ہے۔

 

الْمُؤَخِّرُ

پیچھے ہٹانے والا، جو اپنے اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرتے ہوئے پیچھے ہٹانے والا ہے۔

 

الْاَوَّلُ

سب سے پہلے، جو ہر چیز کے وجود میں آنے سے پہلے بھی موجود تھا۔

 

الْاٰخِرُ

سب کے بعد، جو سب کو موت دینے کے بعد بھی زندہ اور موجود رہے گا۔

 

الظَّاھِرُ

ظاہر، سب پر غالب، جو اپنی پوری مخلوق پر غالب اور بلند و بالا ہے۔

 

الْبَاطِنُ

سب سے پوشیدہ، جسے دنیا کی کوئی آنکھ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔

 

الْوَالِیُ

سر پرست، جو پوری کائنات کا اکیلا ہی مالک ہے اور اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرنے والا ہے۔

 

الْمُتَعَالُ

سب سے بلند و بالا، جو شان اور مقام کے اعتبار سے تمام کائنات سے بلند و برتر ہے۔

 

الْبَرُّ

تمام اچھائیوں کا سرچشمہ، جو اپنی تمام مخلوق سے اچھائی اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے۔

 

التَّوَّابُ

توبہ قبول کرنے والا، جو بڑے سے بڑا گناہ کرنے وا لے کی بھی توبہ قبول کرنے والا ہے۔

 

الْمُنْتَقِمُ

بدلہ لینے والا، جو سرکش اور نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے والا ہے۔

 

الْعَفُوُّ

بہت ہی زیادہ در گزرکرنے والا۔جو معافی کو بہت ہی زیادہ پسند اور بہت جلد معاف فرمادیتا ہے۔

 

الرَّءُ وْفُ

بڑاہی شفیق و مہربان، جو اپنے بندوں سے نہایت شفقت اور انتہائی نرمی کا برتاؤ کرنے والا ہے۔

 

مَالِکُ الْمُلْکِ

حقیقی شہنشاہ، جسے چاہے بادشاہت عطا کرے اور جس سے چاہے چھین لے۔دنیا و آخرت اور پوری کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے ، پوری کائنات پر جس کی حکومتِ لازوال ہے۔

 

ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام

عظمت و جلال والا اور انعام و اکرام کرنے والا،جو عظمت و کبریائی والاہے اور اپنی مخلوق پر خوب مہربانی کرنے والا اور ہر عام و خاص پر خوب احسان کرنے والا ہے۔

 

الْمُقْسِطُ

عدل و انصاف قائم رکھنے والا، جو اپنے فیصلوں میں مخلوق کے ساتھ مکمل انصاف کرنے والاہے۔

 

الْجَامِعُ

جمع کرنے والا، جوقیامت کے دن اپنی تمام مخلوقات کو جمع کرنے والا ہے۔

 

الْغَنِیُّ

خود کفیل، بے پروا، جو اپنی تمام مخلوق کے افعال سے بے نیاز اور ان سے درگزر کرنے والا ہے۔

 

الْمُغْنِی

مالدار بنانے والا، مال و دولت اور دوسری نعمتوں سے نواز کر محتاجی سے نجات دینے والا ہے۔

 

الْمَانِعُ

ہلاکت سے روکنے والا، وہ جس سے چاہے اور جو چیز چاہے اس چیزسے اپنی مخلوق کو روک لیتا ہے۔

 

الضَّآرُّ

ضرر پہنچانے والا، جوہر چیز کے نفع و نقصان کا مالک ہے۔وہ جسے چاہتا ہے پریشانی میں مبتلا کرتا ہے۔

 

النَّافِعُ

نفع پہنچانے والا، جو ایسی اشیا کا خالق ہے جو اچھائیوں سے بھرپور اور نفع بخش ہیں۔


الْھَادِی

سیدھی راہ دکھانے والا، جو کامیابی کی راہ دکھاتا ہے اور لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے۔

 

الْبَدِیْعُ

بغیر نمونہ کے چیزوں کو پیدا کرنے والا۔جس نے کائنات میں حیرت انگیز چیزیں پیدا کیں۔

 

الْبَاقِی

ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والا ہے۔ جبکہ اس کے سوا ہر مخلوق کو فنا ہونا ہے۔

 

الوَارِثُ

سب کے بعد موجود رہنے والا، جو تمام چیزوں کا حقیقی وارث ہے۔

 

الرَّشِیْدُ

صحیح راہ پر چلانے والا، اپنی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد انہیں سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔

 

الصَّبُوْرُ

بڑے صبر والا، جو انسانوں کے گناہوں پر صبر اور گناہ گاروں کو عذاب دینے میں جلدی نہیںکرتاہے۔



مزید پڑھیے۔۔۔

ایک ہزار منتخب احادیث۔ از صحیح مسلم

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ و شاداب رکھے جس نے میری حدیث سنی پھر اس کو یاد کیا پھر  اس کو اسی طرح دوسروں تک پہنچایا۔‘‘(ترمذی) کتب احادیث کے ذخیرہ میں تمام صحیح احادیث پر مشتمل دوسری  کتاب صحیح مسلم میں سے ایک ہزار منتخب اہم احادیث کا یہ مجموعہ شائقینِ علومِ حدیث کے لئے ایک منفرد اور مفید کاوش ہے۔ گو کہ اصل کتاب کی افادیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اس انتخابی مجموعہ سے عوام الناس کو مطلوبہ علم اور مسائل کا حل ضرور معلوم ہوجاتا ہے۔جس میں سلیس ترجمہ اورمختصر تشریح کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش میں حصہ ملانے والوں کے لئے اسے صدقہ جاریہ بنادے۔ آمین۔

 

 

 

 

 

 

مزید پڑھیے۔۔۔

محبت کا تہوار منانا

 

‘‘ کیا یہ واقعی محبت کا تہوار ہے ؟؟؟ ‘‘

محبت ، ویلنٹائن، یہود ونصاریٰ کی مشابہت،اسلامی وغیر اسلامی تہوار،وغیر ہ سے متعلّق  ایک ایسی تحریر، جس  میں مروّجہ غیر اسلامی و غیر اخلاقی  تہوار و رسومات کے نقصانات ،کتاب  و سنت ،اقوال ِسلف صالحین، اجماع ِ امت ،فتاویٰ کبار اہلِ علم سمیت،خود یورپی ومغربی اداروں کی تحقیقات کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں، ایک منفرد  اور انتہائی مُدلّل و جامع تحریر.


سب تعریفات اللہ رب العالمین کےلیے ہیں جوسب کا پرروردگار ہے ، اورہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پردرود وسلام ہوں اوران کی آل اورسب صحابہ کرام پراللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہو۔

اما بعد :

اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمارے لیےاسلام کودین اختیار کیا ہے اوروہ کسی سے بھی اس دین کے علاوہ کوئي اوردین قبول نہيں کرے گا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :

{ اورجوکوئي دین اسلام کے علاوہ کوئي اوردین چاہے گا اس سے اس کا وہ دین قبول نہيں کیا جائےگا اوروہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا } آل عمران ( 85 ) ۔

اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں یہ بتایا ہے کہ ان کی امت میں سے کچھ لوگ ایسےہونگے جواللہ تعالی کے دشمنوں کے بعض شعائر اوردینی علامات وعادات میں ان کی پیروی اوراتباع کرینگے جیسا کہ مندرجہ ذيل حدیث میں اس کا ذکر ملتا ہے :

ابوسعیدخدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بربالشت اورہاتھ برہاتھ پیروی کروگے ، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے توتم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہوگے ، ہم نے کہا اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم : کیا یھودیوں اورعیسائیوں کی ؟ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اورکون ؟ ! ) امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لتتبعن سنن من کان قبلکم میں روایت کیا ہے دیکھیں صحیح بخاری ( 8 / 151 ) ۔

اورامام مسلم نے کتاب العلم باب اتباع سنن الیھود والنصاری میں ذکر کیا ہے دیکھیں صحیح مسلم ( 4 / 2054 ) ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوکچھ بتایا اس کا وقوع ہوچکا ہے اور ان آخری ایام میں مسلمان ممالک کے اندریہ پھیل چکا ہے کہ بہت سے مسلمان اللہ تعالی کے دشمنوں کی بہت ساری عادات اورسلوک اوران کی علامات میں دشمنوں کی پیروی واتباع کرنے لگے ہیں اورانہوں نے ان کے دینی شعائر کی تقلید کرنا شروع کردی ہے اوران کےتہوارمیں میں شرکت اورانہيں منانا شروع کردیا ہے ۔

ذرا‏ئع ابلاغ اورمیڈیا کےپھیل جانے سے اس میں اوربھی زيادہ برائي پیدا ہوگئی ہے کہ یہ ذرائع ابلاغ سب معاشروں میں کفار کی عادات کوبڑے تزک واحتشام سے نشر کرتے ہیں اوراسے اپنے ممالک سے فضائی چینلوں اورانٹرنیٹ کے ذریعہ اسلامی ممالک میں براہ راست موسیقی اورگندی تصاویر اوررقص وسرور کی محافل سمیت نقل کرتے ہیں جس کی بنا پربہت سے مسلمان لوگ بھی اس کے دھوکہ میں آنا شروع ہوچکے ہيں ۔

ان چندآخری برسوں میں ایک اورچیز بہت سے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں کے مابین پھیل چکی ہے جس میں کوئي خیروبھلائي کی چيز نہیں بلکہ وہ عیسائیوں کی تقلید میں یوم محبت کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے اوراسے ویلنٹائن ڈے کا تہوار منانا شروع کردیا ہے ۔

جس کی وجہ سے اہل علم اوردعوت وتبلیغ کرنے والوں پرضروری ہوگيا ہے کہ وہ اس کے بارہ میں لوگوں کواللہ تعالی کی شریعت کا حکم بتائيں اوربیان کریں جس میں اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمان حکمرانوں اورعام مسلمانوں کی خیرخواہی ہے تا کہ مسلمان شخص اپنے معاملات میں واضح دلیل پر ہو تا کہ وہ کسی ایسی چيز میں نہ پڑ جائے جواس کے عقیدہ کوخراب کرکے رکھ دے کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے مسلمان پریہ عقیدہ صحیحہ اورسلیم ایک انعام ہے ۔

اس تہوار اوردن کی اصل کے بارہ میں یہ مختصرسانوٹ پیش کرتے ہیں کہ یہ کب شروع ہوا اوراس کی حقیقت کیا ہے اوراس سے کیا مقصود ہے اورمسلمان شخص کواس کے بارہ میں کیا کرنا واجب ہے ۔

ویلنٹائن ڈے ( یوم محبت ) کا قصہ :

یوم محبت رومن بت پرستوں کے تہواروں میں سے ایک تہوار شمار کیا جاتاہے جب کہ رومیوں کے ہاں بت پرستی سترہ صدیوں سےبھی زيادہ پرمحیط ہے جوکہ محبت کے الہ کے بارہ میں رومی بت پرستی کی تعبیرہے ۔

اس بت پرستی کے تہوار کے بارہ میں کئي قسم کے قصہ رومیوں اوران کے وارث عیسائیوں کے ہاں معروف ہیں ، ان میں سب سے زيادہ مشہور قصہ یہ ہے کہ :

رومیوں کا عقیدہ تھا کہ روم شہرکے مؤسس روملیوس کوایک دن مادہ بھيڑیے نے دودھ پلایا جس کی وجہ سے اسے قوت فکری حلم وبردباری حاصل ہوئی ۔

لہٰذا رومی لوگ اس حادثہ کی وجہ سے ہربرس فروری کے وسط میں بہت بڑا تہوار منایا کرتے تھے اوراس میں ایک علامت یہ بھی تھی کہ وہ کتا اوربکری ذبح کرتے ، اورمضبوط اورگٹھے ہوئے عضلات والے دونوجوان اپنے جسم پرکتے اوربکری کے خون کا لیپ کرتے اورپھر اس خون کودودھ کے ساتھ دھوتے اوراس کے بعد ایک بہت بڑا قافلہ چلتا جس کےآگے وہ نوجوان ہوتے اوریہ قافلہ گلی کوچوں اورسڑکوں پرچلتا ، ان دونوجوانوں کے ہاتھ میں چمڑے کے دوٹکڑے ہوتے جوبھی انہيں ملتا اسے وہ ٹکڑے مارتے ، اوررومی عورتیں بڑی خوشی سے یہ کوڑے کھاتیں کیونکہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اس سے شفاملتی ہے اوربانجھ پن ختم ہوجاتا ہے ۔

اس تہوار سے سینٹ ویلنٹائن کاتعلق :

سینٹ ویلنٹائن نصرانی کنیسہ کے دوقدیم قربان ہونے والے اشخاص کانام ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہ دوشخص تھے ، اورایک قول میں ہے بلکہ اس نام کا ایک ہی شخص تھاجوشہنشاہ کلاڈیس کی تعذیب کی تاب نہ لاتے ہوئے 296میلادی میں ہلاک ہوگیا ، اورجس جگہ یہ ہلاک ہوا اسی جگہ 350میلادی میں بطوریادگارایک کنیسہ تیارکیا گیا ۔

جب رومیوں نے عیسائیت قبول کی تووہ اپنے اس سابقہ تہوار یوم محبت کومناتے رہے لیکن انہوں نے اسے بت پرستی کےمفہوم سے نکال کرمحبت الہی میں تبدیل کرلیا دوسرے مفہوم محبت کے شھداء میں بدل لیا اورانہوں نے اسے اپنے گمان کے مطابق محبت وسلامتی کی دعوت دینے والےسینٹ ویلنٹائن کے نام کردیا جسے وہ اس راستے میں شھید گردانتے ہیں ، اوراسے عاشقوں کی عید اورتہوار کا نام بھی دیا جاتا ہے اورسینٹ ویلنٹائن کوعاشقوں کا شفارشی اوران کا نگران شمار کرتے ہیں ۔

ان کے باطل اعتقادات اوراس دن کی مشہور رسم یہ تھی کہ نوجوان اور شادی کی عمرمیں پہنچنے والی لڑکیوں کے نام کاغذ کےٹکڑے پرلکھ کرایک برتن میں ڈالے جاتے اوراسے ٹیبل پررکھ دیا جاتا اورشادی کی رغبت رکھنے والے نوجوان لڑکوں کودعوت دی جاتی کہ وہ اس میں سے ایک ایک پرچی نکالیں لہٰذا جس کا نام اس قرعہ میں نکل آتا وہ لڑکا اس لڑکی کی ایک برس تک خدمت کرتا اوروہ ایک دوسرے کے اخلاق کا تجربہ کرتے پھر بعد میں شادی کرلیتے یا پھر آئندہ برس اسی تہوار یوم محبت میں دوبارہ قرعہ نکالتے ۔

دین نصرانی کے عالموں نے اس رسم سے بہت برااثرلیا اوراسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے اخلاق خراب کرنے کا سبب قرار دیا لہٰذا اٹلی جہاں پراسے بہت شہرت حاصل تھی ناجائز قرار دے دیا گيا ، پھر بعد میں اٹھارہ اورانیسویں صدی میں دوبارہ زندہ کیا گیا ، وہ اس طرح کہ کچھ یورپی ممالک میں کچھ بک ڈپوؤں پرایک کتاب ( ویلنٹائن کی کتاب کے نام سے ) کی فروخت شروع ہوئي جس میں عشق ومحبت کے اشعار ہیں ، جسے عاشق قسم کے لوگ اپنی محبوبہ کوخطوط میں لکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، اوراس میں عشق ومحبت کے خطوط لکھنے کے بارہ میں چندایک تجاویز بھی درج ہیں ۔

اس تہوارکا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ :

جب رومیوں نے نصرانیت قبول کی اورعیسا‏ئیت کے ظہورکے بعد اس میں داخل ہوئے توتیسری صدی میلادی میں شہنشاہ کلاڈیس دوم نے اپنی فوج کے لوگوں پرشادی کرنے کی پابندی لگادی کیونکہ وہ بیویوں کی وجہ سے جنگوں میں نہيں جاتے تھے تواس نے یہ فیصلہ کیا ۔

لیکن سینٹ ولنٹائن نے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے چوری چھپے فوجیوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا اورجب کلاڈیس کواس کا علم ہوا تواس نے سینٹ ویلنٹائن کوگرفتارکرکے جیل میں ڈال دیا اوراسے سزائے موت دے دی ، کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران ہی سینٹ ویلنٹائن کوجیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اورسب کچھ خفیہ ہوا کیونکہ پادریوں اورراہبوں پرعیسائیوں کےہاں شادی

کرنااورمحبت کے تعلقات قائم کرنا حرام ہيں، نصاری کےہاں اس کی سفارش کی گئي کہ نصرانیت پرقائم رہو شہنشاء نے اسے عیسائیت ترک کرکے رومی دین قبول کرنے کا کہا کہ اگر وہ عیسائیت ترک کردے تواسے معاف کردیا جائے گا اوروہ اسے اپنا داماد بنانے کے ساتھ اپنے مصاحبین میں شامل کرے گا ۔

لیکن ویلنٹائن نے اس سے انکار کردیا اورعیسائیت کوترجیح دی اوراسی پرقائم رہنے کا فیصلہ کیا توچودہ فروری 270 میلادی کے دن اورپندرہ فروری کی رات اسے پھانسی دے دی گئي ، تواس دن سے اسے قدیس یعنی پاکباز بشپ کا خطاب دے دیا گیا ۔

کتاب قصۃ الحضارۃ میں ہے کہ :

کنیسہ نے ایک ڈائری ترتیب دے رکھی ہے جس میں ہردن ایک مقدس اورپاکباز شخص کا تہوارمقرر کیا ہے ، اورانگلینڈ میں سینٹ ویلنٹائن کا تہوار موسم سرما کے آخر میں منایا جاتا تھا اورجب یہ دن آتا ہے توان کے کہنے کے مطابق جنگلوں میں پرندے بڑي گرمجوشی کے ساتھ آپس میں شادیاں کرتے ہيں ، اورنوجوان اپنی محبوبہ لڑکیوں کے گھروں کی دہلیزوں پرسرخ گلاب کے پھول رکھتے ہیں ۔ دیکھیں : قصۃ الحضارۃ تالیف ول ڈیورنٹ ( 15 - 23 ) ۔

اورپوپ نےسینٹ ویلنٹائن کی یوم وفات چودہ فروری 270 میلادی کویوم محبت قراردے دیا ، اوریہ پوپ کون ہے ؟ عیسائیوں کے سرداراوربڑے عالم جس کی بات حکم کا درجہ رکھے اسے عیسا‏ئی پوپ کا نام دیتے ہیں ، دیکھیں اس پاپائے اعظم نے کس طرح ان کے دین میں اس تہوار کوپیدا کیا اورمنانے کا حکم دیا ، کیا یہ ہمیں اللہ تعالی کا مندرجہ ذیل فرمان یاد نہیں دلاتا :

{ ان لوگوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کراپنے عالموں اوردرویشوں کورب بنالیا } التوبۃ ( 31 ) ۔

عدی بن حاتم رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آيا تومیری گردن میں صلیب لٹک رہی تھی تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

اے عدی اس بت کواپنے آپ سے اتاردو ۔

عدی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ سورۃ التوبۃ کی یہ آیت تلاوت فرمارہے تھے :

{ ان لوگوں نے اللہ تعالی کو چھوڑ کراپنے عالموں اوردرویشوں کورب بنالیا}

عدی رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ان کی عبادت تونہیں کرتےتھے لیکن جب وہ اس کےلیے کسی چيز کوحلال کردیتے تووہ اسے حلال سمجھتے اورجب ان پرکوئي چيزحرام کردیتے تووہ اسے حرام کرلیتے تھے ۔ اسے امام ترمذی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

اس تہوار میں ان کے اہم ترین شعاروعلامات :

1 - خوشی وسرور کا اظہار جس طرح دوسرے اہم ترین تہواروں میں ان کی حالت ہوتی ہے ۔

2 - سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ ، اور وہ یہ کام بت پرستوں کی حب الہی اورنصاری کے ہاں عشق کی تعبیر میں کرتے ہیں ، اوراسی لیے اس کا نام بھی عاشقوں کا تہوار رکھا گیا ہے ۔

3 - اس کی خوشی میں کارڈوں کی تقسیم ، اوربعض کارڈوں میں کیوبڈ کی تصویر ہوتی ہے جوایک بچے کی خیالی تصویربنائي گئی ہے اس کے دوپرہیں اوراس نے تیرکمان اٹھارکھا ہے ، جسے رومی بت پرست قوم محبت کا الہ مانتے ہیں ، اللہ تعالی ان کے اس جھوٹ اورشرک سے بلندوبالا ہے ۔

4 - کارڈوں میں محبت وعشقیہ کلمات کا تبادلہ جواشعاریا نثریا چھوٹے چھوٹے جملوں کی شکل میں ہوتے ہیں ، اوربعض کارڈوں میں گندے قسم کے اقوال اورہنسانے والی تصویریں ہوتی ہيں ، اوراکثر طور پراس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ ولنٹائینی بن جاؤ ، جوکہ بت پرستی کے مفہوم سے منتقل ہوکر نصرانی مفھوم کی تمثیل بنتی ہے ۔

5 - بہت سے نصرانی علاقوں میں دن کے وقت بھی محفلیں سجائي جاتی ہیں اوررات کوبھی عورتوں اورمردوں کا رقص وسرور ہوتا ہے ، اوربہت سے لوگ پھول ، چاکلیٹ کے پیکٹ وغیرہ بطورتحفہ محبت کرنے والوں اور، شوہروں اوردوست واحباب کوبھیجتے ہيں ۔

اوپر جوکچھ بھی اس تہوار کے بارہ میں قصے بیان ہوئے ہیںانہیں بغور دیکھنے سے

مندرجہ ذيل اشیاء واضح ہوتی ہیں :

اول :

یہ تہوار اصلارومی بت پرستوں کا عقیدہ ہے جسے وہ محبت کے الہ سے تعبیر کرتے ہیں اوراللہ تعالی کےعلاوہ اس کی عبادت کرتے ہیں ، لہٰذا جس نے بھی اس تہوارکومنایا وہ ایک شرکیہ تہوار منارہا اوربتوں کی تعظیم کررہا ہے ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ یقین جانو جوکوئي بھی اللہ تعالی کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالی نے اس پرجنت حرام کردی ہے ، اوراس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے ، اورگنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئي نہيں ہوگا } المآئدۃ ( 72 ) ۔

دوم :

رومیوں کے ہاں اس تہوار کی ابتداء قصے کہانیوں اورخرافات پرمشتمل ہے جسے عقل ہی تسلیم نہیں کرتی چہ جائیکہ اسے اللہ تعالی اوراس کے رسولوں پرایمان رکھنے والے مسلمان کی عقل تسلیم کرے ۔

توکیا عقل سلیم یہ تسلیم کرتی ہے کہ روم شہرکوآباد کرنے والے مؤسس کوکوئي مادہ بھڑیا دودھ پلائے اوراس سے اسے قوت اورعقلی بردباری حاصل ہو ؟ توجوکچھ اس قصے میں ہے وہ مسلمان شخص کےعقیدہ کے مخالف ہے کیونکہ قوت اورعقلی بردباری وحلم تواللہ خالق سبحانہ وتعالی ہے نہ کہ کسی بھیڑیے کا دودھ !!

اوراسی طرح یہ قصہ کہ ان کے بت ان سے برائي اورمصیبت کودورکرتے ہیں اوران کے جانوروں کوبھیڑیوں سے بچاتے ہیں ۔

سوم :

رومیوں کے ہاں اس تہوار کے بدصورت شعارمیں کتے اوربکری کوذبح کرکے کتے اوربکری کا خون دونوجوان لڑکوں پرلیپ اورپھر اسے دودھ کےساتھ دھونا ۔۔۔۔ الخ یہ ایسا قصہ ہے جس سے فطرت سلیمہ نفرت کرتی ہے اوراسے صحیح عقل قبول ہی نہیں کرتی ۔

چہارم :

اس تہوارسے بشپ ویلنٹائن کے مرتبط ہونےمیں کئي ایک مصادرنے شک کا اظہارکیا ہے اوراسے وہ صحیح شمارنہيں کرتے ، لہٰذا نصاری کے لیے اولی اوربہتریہی تھا کہ وہ اس بت پرستی تہوارکا انکار کرتے جسے بت پرست ہی مناتے ہیں ، توپھر ہم مسلمان کیسے اسے تسلیم کریں اورہمیں توعسیائیوں اوران سے پہلے بت پرستوں کی مخالفت کرنے کا حکم دیا گيا ہے ۔

پنجم :

کیتھولک فرقہ کے عیسا‏ئی دینی لوگوں نے اس تہوار کواٹلی میں بالکل منانے پرپاپندی لگا دی ہے کیونکہ اس میں گندے اخلاق کی اشاعت اورنوجوان لڑکے اورلڑکیوں کی عقلوں پربرا اثرپڑتا ہے ، توپھرمسلمانوں کے لیے بالاولی اسے اپنے آپ سے دورہٹانا ہوگا اوراس سے بچنے کے ساتھ ساتھ انہيں اس سلسلہ میں امربالمعروف اورنہی عن المنکر کا بھی کام کرنا ہوگا ۔

اورکوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے :

 

ہم مسلمان اس تہوارکوکیوں نہيں مناسکتے ؟ !

 

اس کا جواب کئی ایک وجوھات میں دیا جاسکتا ہے :

پہلی وجہ :

دین اسلام میں عیدیں اورتہوار محدود اورثابت شدہ ہیں ان سے زيادہ اوراس میں کمی نہيں کی جاسکتی ، اوراسی طرح یہ ہماری عبادات کی سختی بھی ہے یعنی یہ توقیفی ہے ( اورجس میں کمی وزيادتی نہيں ہوسکتی اوراسی طرح عمل کرنا ہوگا جس طرح ثابت ہے ) اسے ہمارے لیے اللہ تعالی اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع کیا ہے ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

( عیدیں اورتہوار شرع اورمناھج اورمناسک میں سے ہیں جن کے بارہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ ہم نے ہرایک کے لیے طریقہ اورشریعت مقرر کی ہے }

اورایک دوسرے مقام پراس طرح فرمایا :

{ ہرقوم کے لیے ہم نے ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس پروہ چلنے والے ہيں }

مثلا قبلہ ، نماز ، روزے ،لہٰذا ان کا عید اورباقی مناھج میں شریک ہونے میں کوئي فرق نہیں ، اس لیے کہ سارے تہوار میں موافقت کفرمیں موافقت ہے ، اوراس کے بعض فروعات میں موافقت کفرکی بعض شاخوں میں موافقت ہے ، بلکہ عیدیں اورتہوار ہی ایسی چيزہیں جن سے شریعتوں کی تمیز ہوتی ہے اورپہچانی جاتی ہیں اورشعائر سے بھی زيادہ ظاہر ہوتے ہیں ۔

لہٰذا ان تہواروں میں موافقت کرنا کفرکے خاص طریقے اورشعار کی موافقت ہے ، اوراس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ اس میں موافقت کرنے سے پوری شروط کے ساتھ کفرپر جاکرختم ہوسکتا ہے ، اوراس کی ابتداء میں کم از کم حالت یہ ہے کہ یہ معصیت وگناہ ہوگی ، اوراس کی جانب ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں اشارہ کیا ہے :

( یقینا ہر قوم کےلیے ایک عید اورتہوار ہے اوریہ ہماری عیدہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 952 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 892 ) ۔ دیکھیں : الاقتضاء ( 11 / 471 - 472 ) ۔

اوراس لیے کہ یوم محبت کا تعلق رومی دور سے متعلق ہے نہ کہ اسلامی دور سے تواس کا معنی یہ ہوا کہ یہ عیسائیوں کی خصوصیات میں سے ہے نہ کہ مسلمانوں کے ، بلکہ اسلام اورمسلمانوں کا اس میں کوئي حصہ اورتعلق بھی نہيں ہے ، توجب ہرقوم کےلیے عیداورتہوار ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا تھا : ( یقینا ہرقوم کے لیے عید ہے ) اسے بخاری اورمسلم نے روایت کیا ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہرقوم کواس کے خصوصی تہوارکے ساتھ واجب کرتا ہے ،لہٰذاجب عیسائیوں کی علیحدہ اورخاص عید ہے اوریھودیوں کی خاص عید توجس طرح مسلمان ان کی شریعت میں شریک نہيں اسی طرح ان کی عید اورتہوار میں بھی شریک نہيں ہوسکتے اورنہ ہی ان کے قبلہ میں ۔

دوسری وجہ :

یوم محبت کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اورپھر اہل کتاب عیسائيوں کے ساتھ مشابھت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید کی ہے اوریہ تہوار ان کے دین میں نہيں ، اورجب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چيزمیں مشابھت سے ممانعت ہےجوہمارے دین اسلام میں نہیں بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں ہے ، توپھرایسی چيز جوانہوں نے ایجاد کرلی اوربت پرستوں کی تقلید کرنے لگے اس میں مشابھت اختیار کرنا کیسا ہوگا !!


کفار چاہے وہ بت پرست ہوں یا اہل کتاب ان سے عمومی مشابھت اختیارکرنا حرام ہے ، چاہے وہ مشابھت ان کی عبادات میں ہو – اوریہ بھی زيادہ خطرناک ہے – یا پھران کی عادات ورسم ورواج میں ، اس کی حرمت پرکتاب وسنت اوراجماع دلالت کرتا ہے :

 

1 - قرآن مجید سے کفارکی مشابھت کی حرمت کے دلائل :

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورتم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اوراختلاف کیا ، انہیں لوگوں کےلیے بہت بڑا عذاب ہوگا } آل عمران ( 105 ) ۔

 

2 - اورسنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جس نے بھی کسی قوم سے مشابھت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے ) مسند احمد ( 2 / 50 ) ، سنن ابوداود حدیث نمبر ( 4021 ) ۔

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

( اس حدیث کی کم از کم حالت ان سے مشابھت کرنے کی تحریم کا تقاضا کرتی ہے ، اگرچہ حدیث کا ظاہرمشابھت اختیار کرنے والے کےکفرکا متقاضی ہے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان ہے : { اورجوبھی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے یقینا وہ انہی میں سے ہے } الاقتضاء ( 1 / 314 ) ۔

3 - اوررہا اجماع :

تواس میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یہ نقل کیا ہے کہ کفارسےان کی عیدوں اورتہواروں میں مشابھت اختیارکرنے کی حرمت پرصحابہ کرام کے وقت سے لیکر اجماع ہے ، جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس پرعلماء کرام کا اجماع نقل کیا ہے ۔ دیکھیں : الاقتضاء ( 1 / 454 ) اوراحکام اھل الذمۃ ( 2 / 722- 725 ) ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی نے کفارکی تقلیدکرنے سے منع فرمایا ہے اورتقلید کرنے والے پرناراضگي کا اظہار کیا اوربہت ساری آيات میں کئي ایک مواقع پر اورمختلف اسلوب میں اس سے بچنے کا کہا ہے ، اورخاص کرکفارکی تقلید سے تومنع کیا ہے ، کبھی ان کی پیروی واتباع اوراطاعت سے روک کر ، اورکبھی ان سے ڈرا کر ، اورکبھی ان کے مکروفریب سے دھوکہ نہ کھانے کا کہہ کر، اوران کی آراء اورخیالات کے پیچھے نہ چلنے کا کہہ کراور کبھی یہ کہا کہ ان کے اعمال اوراخلاق اورسلوک سے متاثرنہ ہوں ۔

اوربعض اوقات ان کی غلط خصلتیں ذکرکرکے جن سے مومن نفرت کرتے ہیں اوران کی تقلید کرنے سے بھی نفرت کرتے ہیں ، اورقرآن مجید میں اکثر طور پر یھودیوں اورعیسائیوں سے بچنے کا کہا گيا ہے ، اورپھر عمومی طور پراہل کتاب اورمشرکوں سے ، اوراللہ تعالی نے قرآن مجید میں یہ بیان فرمایا ہے کہ کفار کی تقلید اوران کی اطاعت کرنے سے انسان مرتد ہوجاتا ہے ، اوراللہ تعالی نے ان کی اطاعت اوران کی خواہشات کے پیچھے چلنے اوربری خصلتیں اپنانے سے منع فرمایا ہے ۔

 

اوراسی طرح تقلید سے رکنا توشریعت کے مقاصد میں شامل ہے ، جبکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ھدایت اوردین حق کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا تا کہ اسے سب دینوں پرغالب کردے ، اوراللہ سبحانہ وتعالی نے لوگوں کے لیے شریعت کومکمل کردیا ہے :

فرمان باری تعالی ہے :

{ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کومکمل کردیا ہے اورتم پر اپنا انعام بھرپور کردیا ہے اورتمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پررضامند ہوگیا ہوں } المآئدۃ ( 3 ) ۔

اوراس شریعت کوہرحالت اورہرزمانے اورسب لوگوں کے لیے صالح بنایا لہٰذا کفارسے کچھ حاصل کرنے اوران کی تقلید کی کوئي ضرورت نہيں رہتی ۔

اورپھرتقلید مسلمان کی شخصیت میں خلل کا باعث بنتی ہے ، شعورمیں نقص اورکمزوری اورچھوٹا پن ، شکست خوردہ ذھن پیدا ہوتا اورپھر اللہ تعالی کے منھج اورطریقے اوراس کی شریعت سے کنارہ کشی ہے ، تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کفارسے دوستی لگانا اورانہیں پسند کرنا اوران کی تقلید کرنا ان سے اوران کی ثقافت وتھذیب سے محبت ، اوران پرمطلقا بھروسہ اوران کے ساتھ دوستی اوراسلام اوراہل اسلام سے ناپسندیدگي ، اوردین اسلام اوراس کی ثقافت اورقدروقیمت اوراس سے جہالت ان سب کا سبب بنتا ہے ۔

تیسری وجہ :

اس دورمیں یوم محبت منانے کا مقصد لوگوں کے مابین محبت کی اشاعت ہے چاہے وہ مومن ہوں یا کافر ، حالانکہ اس میں کوئي شک وشبہ نہیں کہ کفارسے محبت ومودت اوردوستی کرنا حرام ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اللہ تعالی اورقیامت کے دن پرایمان رکھنے والوں کوآپ اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں سے محبت کرتے ہوئے ہرگزنہیں پائيں گے ، اگرچہ وہ کافر ان کے باپ ہوں یا بیٹے یاان کے بھائي یاان کے کنبے قبیلےکے عزيز ہی کیوں نہ ہوں } المجادلۃ ( 22 ) ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :

( اللہ سبحانہ وتعالی نے اس آيت میں یہ خبردی ہے کہ کوئي بھی مومن ایسا نہيں پایاجاتا جوکافرسے محبت کرتا ہو لہٰذا جومومن بھی کافر سے محبت کرتا اوردوستی لگاتا ہے وہ مومن نہيں ، اورظاہری مشابھت بھی کفارسے محبت کی غماز ہے لہٰذا یہ بھی حرام ہوگی ) دیکھیں : الاقتضاء ( 1 / 490 ) ۔

چوتھی وجہ :

جب سے یہ تہوار عیسائیوں نے شروع کیا ہے اس میں مقصود محبت زوجیت کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے عشق اوردل کوعذاب میں ڈالنے والی محبت مراد ہے ، جس کےنتیجہ میں زنا اورفحاشی پھیلے اورعام ہو ، اوراسی لیے کئي اوقات میں نصاری کے دینی لوگوں نے اس کے خلاف آوازاٹھاتے ہوئے اس کےخلاف کام کیا اوراسے باطل قراردیا اوراسے ختم کیا لیکن پھردوبارہ اسے زندہ کردیا گیا ۔

اوراسے منانے والے بھی اکثرنوجوان ہوتے ہیں کیونکہ اس میں ان کی خواشات کی تکمیل ہوتی ہے ، اگراس میں کفار کی تقلید اورمشابھت کونہ بھی دیکھا جائے حالانکہ یہ حرام ہے لیکن کچھ دیر کےلیے ہم اس سے صرف نظر کرتے ہيں آپ میرے ساتھ اس مصیبت کودیکھیں کہ اس کی وجہ سے وہ لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوتےہوئے زنا وغیرہ میں پڑتے ہیں جوکہ صرف اورصرف عیسائیوں سے مشابھت کے طریقہ سے ہوتا ہے ، اوریہ ان کی عبادات میں سے ہے جس کے بارہ میں خدشہ ہے کہ اس میں ان کی مشابھت کرنا کفرہوسکتا ہے ۔

 

اورہوسکتا ہے کہ بعض لوگ سوال کرتے ہوئے یہ کہيں کہ :

تم تواس طرح ہمیں محبت سے محروم کرنا چاہتے ہو ، حالانکہ ہم تو اس دن اورتہوار میں اپنے شعور اورخیالات کی کوعملی جامہ پہناتے ہوئے اس کی تعبیرکرتے ہیں ، تواس میں ممانعت کیا ہے ؟

 

اس کے جواب میں ہم یہ کہيں گے :

اول :

اس دن کے ظاہری نام اوراوراس کے پیچھے جوکچھ ان کا حقیقی مقصد ہے اورجووہ چاہتے ہیں اس میں خلط ملط کرنا غلط ہے ، لہٰذا اس دن میں جومحبت مقصود ہے وہ عشق معشوقی اورجنونی محبت اورچوری چھپے لڑکے لڑکیوں کا آپس میں ایک دوسرے سے دوستی لگانا اوریار بنانا ہے ، اوراس دن کے بارہ میں معروف ہے کہ یہ تہوار اوباشی اورفحاشی اوران کے ہاں بلاقیود یاحدود جنسی تعلقات کا تہوار ہے ۔۔۔

اوروہ لوگ خاوند اوربیوی اوربیوی اوراس کے خاوند کے مابین پاکيزہ اورشفاف محبت کی بات نہیں کرتے یا پھر کم ازکم وہ خاوند اوربیوی کے مابین شرعی محبت اورعاشق ومعشوق اورچوری چھپے دوستیاں لگانے والوں کی حرام محبت کے مابین کسی قسم کا کوئي فرق نہيں کرتے ، لہٰذا یہ تہوار ان کے ہاں ساری محبت کی تعبیر کا وسیلہ ہے ۔

دوم : شعور اورخیالات کی تعبیرمسلمان کے لیے یہ جائز نہيں کرتی کہ وہ اس کےلیے اپنی جانب سے ہی کوئي ایک دن مخصوص کرتا ہواایجاد کرلے جس کی وہ تعظیم کرنا شروع کردے اوراسے عید اورتہوار کا نام دے اوراسے عید کی طرح بناڈالے ، توپھر وہ تہوار اورعید جوکفار کی ہو اس کے بارہ میں کیا خیال ہے کہ وہ جائزہوسکتا ہے ؟

لہٰذا دین اسلام میں خاوند اپنی بیوی سے اوربیوی اپنے خاوند سے توسارا سال ہی محبت کرتے ہیں اوروہ اس محبت کی تعبیر بھی ایک دوسرے کوھدیہ اورتحفہ تحائف دے کراوراشعار اورنثر اورخط وکتاب وغیرہ میں کرتے ہیں جوکہ سارا سال ہی ہوتا رہتا ہے نہ کہ سال بھر میں کسی ایک دن میں ۔

سوم :

کوئي ایسا دین نہیں جواپنے پیروکاروں کواس طرح آپس میں محبت وبھائي چارہ قائم کرنے پرابھارتا ہوجس طرح دین اسلام ابھارتا ہے کہ آپس میں محبت وبھائي چارہ اورالفت قائم کی جائے ، اوردین اسلام میں یہ ہروقت اورہرلحظہ میں ہے نہ کہ کسی ایک معین دن میں جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :

( جب کوئي شخص اپنے کسی بھائي سے محبت کرے تواسے چاہیے کہ وہ اسے بتائے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 5124 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2329 ) یہ حدیث صحیح ہے ۔

اورایک دوسری حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس وقت تک جنت میں نہيں جاسکتے جب تک تم مومن نہ بن جاؤ اورتم اس وقت تک مومن ہی نہیں ہوسکتے جب تک تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو ، کیا میں تمہیں اس چيز کا نہ بتاؤں جب تم اس پرعمل کرو توآپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کوپھیلاؤ ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 54 ) ۔

چہارم :

بے شک اسلام میں محبت توایک صورت یعنی آدمی اورعورت کے مابین محبت میں ہی منحصرہونے کی بجائے عام اوراشمل ہے زيادہ بہتر ہے وہ اس طرح کہ دین اسلام میں اللہ تعالی سے محبت اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ، صحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم سے محبت کرنا ، اورخیروبھلائي کے کام کرنے والے لوگوں سے محبت کرنا اوراصلاح اوردین سے محبت کرنے والوں اوردین کی مدد کرنے والوں سے محبت کرنا ، اوراللہ تعالی کے راستے میں شھادت پانے سے محبت کرنا ، اوراسی طرح بہت ساری اوربھی محبتیں ہیں جواسلام ہمیں بتلاتا ہے ، لہٰذا جب محبت کے اس وسعی معنی کوصرف محبت کی اس نوع اورقسم میں ہی منحصرکردیا جائے توپھر بہت ہی خطرناک بات ہے غلط ہے ۔

پنجم :

بے شک جولوگ یہ گمان اورخیال رکھتے ہيں کہ شادی سے قبل محبت کرنا شادی کے لیے مفیداوربہترنتائج کا باعث ہے اوراس سے اچھے اوربہتر تعلقات قائم ہوتےہیں توان کا یہ خیال اورگمان تباہ کن اورخسارے والا ہے ، جیسا کہ تجربات وواقعات اورسروے سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے ،

 

لہٰذاقاہرہ یونیورسٹی نے محبت کی شادی ، اورتقلیدی شادی کے بارہ میں جو ریسرچ کی ہے اس سے ثابت ہوا ہے کہ :

وہ شادی جومحبت کی شادی یا محبت ہونے کے بعد شادی کی جاتی ہے اس میں 88 ٪ اٹھاسی فیصد شادیاں ناکامی کا شکار ہوتی ہیں یعنی اس میں کامیابی کا تناسب صرف 12 ٪ بارہ فیصد سے زيادہ نہيں ، اورتقلیدی شادیاں یعنی جومحبت کی شادی نہيں ہوتی بلکہ رواج کے مطابق ہوتی ہے اس میں کامیابی کا تناسب 70 ٪ سترفیصد ہے ۔

یعنی دوسری عبارت میں کہ جسے وہ تقلید شادی کانام دیتے ہیں اس میں کامیابی کا تناسب محبت کی شادی کے تناسب سے چھ گنازيادہ کامیاب ہے ۔دیکھیں : رسالۃ الی مؤمنۃ صفحہ نمبر ( 255 ) ۔

 

(کیا ہم نے کبھی سوچا ہے؟؟؟)

اورجب ہم یورپی معاشرے کے حالات دیکھتے ہیں جویوم محبت بھی مناتے اوراس کی ترویج کا بھی اہتمام کرتے ہیں توہم یہ پوچھتے ہیں کہ :

 

کیا ان کے ہاں اس تہوار کومنانے سے ان کے ازدواجی تعلقات میں میلان پیدا ہوا ہے اورخاوند بیوی کے مابین اس کا کیا اثر ہے ؟ اورکیا ان میں اس کا کوئي مثبت اثربھی ہوا ہے ؟

 

ان کے سروے اورریسرچ میں مندرجہ ذيل نتائج سامنے آئے ہیں :

1 - 1470ھجری الموافق 1987میلادی سال میں امریکی ریسرچ کے مطابق 79 ٪ مرد عورتوں کوذدکوب کرتےہیں ، اورخاص کرجب وہ شادی شدہ ہوں ۔۔۔ ! دیکھیں جریدۃ القبس ( 15 / 2 / 1988 ) ۔

2 - نفسیاتی صحت کے امریکی ادارے کے سروے میں ہے کہ :

17 ٪ عورتیں ایسی تھیں جوابتدائي طبی امداد لینے آئيں جنہیں ان کے خاوندوں یاپھر دوستوں نے زدکوب کیا تھا ۔

83 ٪ عورتیں ایسی تھیں جوکم ازکم ایک بارپہلے ہسپتال میں زخموں کا علاج معالجہ کروانے کے لیے داخل ہوئيں ، وہ زدکوب کیے جانے کے نتیجہ میں داخل ہوئيں ، اس ریسرچ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ بہت ساری عورتیں ایسی ہیں جواپنے زخموں کا علاج کروانے ہاسپٹلوں میں نہيں جاتیں ، بلکہ اپنے گھروں میں ہی مرہی پٹی کرلیتی ہیں ۔

 

3 - امریکی تحقیقی کمیٹی F.P.T کا کہنا ہے کہ :

امریکہ میں ایسی بیوی بھی موجود ہے جسے اس کا خاوند ہر اٹھارہ سیکنڈ میں زدکوب کرتا ہے ۔

 

4 - امریکی ٹائم میگزین نے نشر کیا ہے کہ:

چھ ملین زدکوب کی جانے والی بیویوں میں سے چارہزار ایسی ہیں جوزدکوب کیے جانے کے نتیجہ میں ہلاک ہوچکی ہیں !!!

 

5 - جرمنی کے سروے کے مطابق یہ ہے کہ :

کم ازکم ایک لاکھ عورتیں ایسی ہیں جوسالانہ جسمانی یا نفسیانی زيادتی کا شکارہوتی ہیں جوان کے خاوند یا پھران کے ساتھ رہنے والے مرد کرتے ہیں ، لیکن احتمال یہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ کرایک ملین تک پہنچ سکتی ہے ۔

 

6 - اورفرانس میں:

تقریبا دوملین عورتیں مارپیٹ کا شکار ہوتی ہیں ۔

 

7 - اوربرطانیا میں ایک سروے کے مطابق:

  جس میں سات ہزار عورتیں شریک ہوئي ان میں سے 28 ٪ فیصد عورتوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاوندوں اوردوستوں کی مارپیٹ کا شکارہوتی ہیں ۔

 

توان نتائج کے بعد ہم یہ کس طرح مانیں اورتصدیق کریں کہ محبت کا تہوار خاوند اوربیوی کے لیے مفید وفائدہ مند ہے ؟؟؟ حقیقت تویہ ہے کہ یہ تہوار تومزید فسق وفجور اورحرام تعلقات اورذلت کی دعوت دیتا ہے ۔

 

اوراپنی بیوی سے سچی اورحقیقی محبت کرنے والے خاوند کواس کی کوئي ضرورت نہیں کہ اسے اس تہوار کی محبت کی یاد دلائي جائے کیونکہ وہ توہروقت اورہرلحظہ اپنی بیوی سے محبت کی تعبیر میں مصروف رہتا ہے ۔

 

مسلمان کا یوم محبت کے بارہ میں موقف :

اوپرجوکچھ بیان ہوچکا ہے وہ اس تہوار کےبارہ میں مسلمان شخص کا مندرجہ ذيل امور میں موقف بیان کرتا ہے :

اول :

اس تہوارکا نہ منانا یا پھر اس تہوارکومنانے والوں کے ساتھ ان کی محفلوں میں شرکت نہ کرنا ، یا ان کے ساتھ حاضرہونا کیونکہ کفارکے تہوار منانے کی حرمت کے دلائل اوپربیان کیے جاچکے ہیں ۔

حافظ ذھبی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : ( لہٰذا جب یھودیوں کی خاص عید ہے اورعیسائيوں کی اپنی خاص عید توپھر جس طرح ان کی شریعت اورقبلہ میں مسلمان شخص شریک نہيں اسی طرح ان کے تہواروں میں بھی شریک نہيں ہوسکتا ) اھـ ذلیل شخص کا اہل خمیس کی مشابھت کرنا : دیکھیں مجلۃ الحمکۃ ( 3 / 193 ) ۔

اورجب اہل سنت اورسلف صالحین کے اعتقاد کے اصول میں الولاء والبراء شامل ہے توپھر اس اصل اورقاعدہ کے تطبیق بھی ہرلاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے شخص کے لیے ضروری ہے ، لہٰذا مومن شخص مومن اورمسلمان سے ہی محبت کرے گا اورکافروں سےبغض اوردشمنی رکھے گا اوران کی مخالفت کرے گا ۔

اوریہ علم میں ہونا چاہیے کہ اس میں ایسی مصلحتیں پنہاں ہیں جوشماربھی نہيں ہوسکتیں ، جیسا کہ ان سے مشابھت اختیارکرنے میں فساد بھی بہت زيادہ ہے اسی طرح ان کی مخالفت میں فائدہ بھی بہت ہے ، اوراس پراضافہ یہ کہ مسلمانوں کا ان سے مشابھت کرنے میں کفارکے سینے کھلتے ہیں اورانہيں خوشی وسرورحاصل ہوتا ہے ، اورمسلمانوں کوکفار سےمحبت قلبی تک لے جاتی ہے ۔

اورجومسلمان لڑکیاں بھی ان کے اس تہوار کومناتی ہيں اوروہ دیکھتی ہيں کہ اسے مارگریٹ تھیچر اورھیلری کلنٹن وغیرہ بھی مناتی ہيں ۔۔۔ تواس میں کوئي شک نہيں کہ وہ اس سے اپنے انتباہ کے برعکس چلتی ہے اوراپنے مسلک کوبھی چھوڑ رہی ہيں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا توفرمان ہے :

{ اے ایمان والو ! تم یھود ونصاری کودوست نہ بناؤ یہ توآپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جوبھی ان میں سے کسی ایک سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، یقینا اللہ تعالی ظالموں کوہرگزھدایت نہیں دکھاتا } المآئدۃ ( 51 ) ۔

اوران کی تعداد میں اضافہ کرنا اوران کے دین کی مدد کرنا اوراس کی پیروی کرنا ان سے پوری اورمکمل مشابھت ہی ہے ، اورپھریہ کس طرح اس مسلمان شخص کے شایان شان ہے جونماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھے :

{ ہمیں سیدھی اورسچی راہ دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پرتونے انعام کیا ، ان کی راہ نہيں جن پرغضب کیا گيا اورنہ ان کی راہ گمراہ ہوئے } الفاتحۃ (6- 7)

کہ اللہ تعالی سے توصراط مستقیم اورمومنوں کی راہ کی ھدایت طلب کرے اورجن پرغضب کیا گيا اورگمراہ لوگوں کی راستے سے بچنے کاسوال کرے اورپھر خود ہی اپنی رضامندی سے ان کے راستے پربھی چلنا شروع ہوجائے ۔

سروے سے بات ثابت ہے کہ کرسمس کےتہوارکے بعد یوم محبت دوسرے نمبر پرآتا ہے ، لہٰذا جب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یوم محبت ( ولنٹائن ڈے ) عیسائیوں کے تہواروں میں سے ایک تہوار ہے اورکرسمس کےبعددوسرے درجہ پریوم محبت کودرجہ حاصل ہے تومسلمانوں کے اسے منانے میں شریک ہونا جائزنہيں کیونکہ ہمیں توان کے دین اوران کی عادات میں ان کی مخالفت کرنے کاحکم دیا گيا ہے ، اوراسی طرح ان کی دوسری خصوصیات میں بھی ہمیں ان کی مخالفت کرنے کا حکم ہے جیسا کہ قرآن مجیداورسنت نبویہ اوراجماع سے بھی یہ ثابت ہے کہ ان کی مخالفت کی جائے ۔

دوم :

اس تہوار کے منانے میں کفارکی معاونت نہ کرنا ، کیونکہ یہ تہوار کفرکے شعارمیں سے ایک شعار ہے ، لہٰذا اس میں ان کی معاونت کرنا اوراسے تسلیم کرنے میں کفرکوبلند کرنے اورپھیلانے اوراس کے اقرار میں معاونت ہوتی ہے ، اورمسلمان شخص کواس کا دین کفر کی اعانت اوراس کے اقرار اوراسے بلند اورظاہر کرنے اوراس میں مدد وتعاون کرنے سے منع کرتا ہے ۔

اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

( مسلمانوں کے لیے حلال نہيں کہ وہ کفارسے ان کے خصوصی تہواروں میں ان کی لباس ، کھانے پینے ، اورغسل کرنے اورآگ جلانے اوراپنی کوئي عادت اورکام وغیرہ اورعبادت سے چھٹی کرنے میں ان کفار کی مشابھت کریں ۔۔۔ مجمل طورپر یہ کہ : ان کے لیے یہ جائزنہيں کہ وہ کفار کے کسی خاص تہوار کوان کے کسی شعار کے ساتھ خصوصیت دیں ، بلکہ ان کے تہوار کا دن مسلمانوں کے ہاں باقی سارے عام دنوں جیسا ہی ہونا چاہیے ) دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 25 / 329 ) ۔

سوم :

مسلمانوں میں سے جوبھی اس تہوار کومناتا ہے اس کی معاونت نہ کی جائے بلکہ اسے اس سے روکنا واجب ہے ، کیونکہ مسلمانوں کا کفارکے تہوارمناناایک منکر اوربرائي ہے جسے روکناواجب ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

( اورجس طرح ہم ان کے تہواروں میں کفار کی مشابھت نہیں کرتے ، تواس طرح مسلمان کی اس سلسلے میں مدد واعانت بھی نہیں کی جائے گی بلکہ اسے اس سے روکا جائے گا ) دیکھیں : الاقتضاء ( 2 / 519 - 520 ) ۔

توشیخ الاسلام کے فیصلہ کی بنا پرمسلمان تاجروں کےلیے جائزنہيں کہ وہ یوم محبت کےتحفہ تحائف کی تجارت کریں چاہے وہ کوئي معین قسم کا لباس ہویا سرخ گلاب کے پھول وغیرہ ، اوراسی طرح اگرکسی شخص کویوم محبت میں کوئي تحفہ دیا جائے اس تحفہ کو قبول کرنا بھی حلال نہیں ہے کیونکہ اسے قبول کرنے میں اس تہوارکا اقرار اوراسے صحیح تسلیم کرنا ہوگا ۔

ایک مبلغ عالم دین کا کہنا ہے کہ :

ہم ایک مسلمان ملک میں ایک پھول فروش کی دوکان میں گئے توہم یہ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ اس نے اس تہوار کی مکمل تیاری کررکھی تھی ، دوکان میں داخل ہونے سے لیکر سارے فرش پرسرخ رنگ کا قالین اوراسی طرح سرخ رنگ کی تختیاں اورسارا منظر ہی سرخ کیا ہوا تھا ، ہم نے اس دوکان کے ایک ملازم سے ملاقات کی اوراس سے ہم نے اس تہوار میں ان کی تیاری کے بارہ میں سوال کیا تواس کا جواب تھا :

یہ تیاری توبہت پہلے سے ہی شروع کی جاچکی تھی اوراس کی مانگ بھی بہت زيادہ تھی ، پھراس ملازم نے ہمیں یہ بتایا کہ اسے تواس سے بہت زيادہ تعجب ہورہا ہے ، اوراس نے یہ بتا کرہمیں حیران کردیا کہ وہ کچھ عرصہ قبل ہی مسلمان ہوا ہےاوراس نے نصرانیت ترک کردی ہے اوراسلام قبول کرنے سے قبل ہی اسے علم تھا کہ ان کے دین میں ہی ہے توپھر خریدارمسلمانوں میں سے کس طرح ہوسکتے ہیں نہ کہ عیسائیوں میں سے ؟ !

اوردوسری دوکانوں میں توپھول ختم ہوچکے تھے جوبہت زيادہ مہنگے فروخت ہوئے ، اورجب ایک مسلمان مبلغہ عورت ایک ہال میں جمع ہونے والی طالبات کودرس دینے گئی تواسے بہت زيادہ خفت اٹھانی پڑی کیونکہ حاضر ہونے والی طالبات کوسرخ ماحول میں پایا ، اس لڑکی کے پاس سرخ پھول ہیں ، اوردوسری نے سرخ رنگ کی شال اوڑھ رکھی ہے یا سرخ رومال پکڑا ہوا ہے اورکسی کے ہاتھ میں سرخ رنگ کابیگ ہے اورکسی نے سرخ جرابیں پہن رکھی ہيں اوراس طرح ہرایک نے ۔۔۔۔۔

ہائے مسلمانوں کی بیٹیوں پرافسوس !!

 

اس تہوار ( ولنٹائن ڈے ) کے موقع پرمسلمانوں میں دیکھے جانے والے کام :

 

1 - ہرطالبہ اپنی پسندیدہ سہیلی کے ساتھ متفق ہوتی ہے کہ وہ اپنی کلائي پرسرخ رنگ کا ربن باندھے گی ۔

2 - سرخ رنگ کا کوئي بھی لباس زيب تن کیا جاتا ہے ( جوتے ، بال ، بلاوزر ، کلپ وغیرہ سب سرخ رنگ کا ہوتا ہے ) پچھلے برس تواس کا انتہائي زيادہ اہتمام کیا گیا اوربہت زيادہ واضح تھا اوراس درجہ تک کہ ہم کلاس روم میں داخل ہوتے تواکثر طالبات کواسی سرخ لباس میں دیکھا گویا کہ یہ سکول یونیفارم ہو ۔

3 - سرخ رنگ کے غبارے جن پر ( I Love you ) میں تم سے پیارکرتا ہوں ) ہوں لکھا ہوتا ہے ، عادتا طالبات پڑھائي کے آخری دن میدان میں استانیوں کی نظروں سے دور ہوکر نکالتی ہیں ۔

4 - ہاتھوں پرنام اوردلوں کے نشانات اورناموں کے پہلے حروف نقش کروائے جاتے ہیں ۔

5 - اس دن میں بہت زيادہ سرخ گلاب کے پھول بکھیرے جاتے ہیں ۔

چودہ فروری کوطالبات کا ایک گروپ میٹنگ ہال میں داخل ہوا ان میں سے ہرایک لڑکی نے سرخ لباس زیب تن کیا ہواتھا اوراپنے چہرے پرسرخ دل کے نشانات بنوارکھے تھے اوراپنے چہرے پرخوب میک اپ یعنی بناؤ سنگھار بھی کررکھا تھا ،وہ سب ایک دوسرے کوبڑی گرمجوشی سے چومتے ہوئے آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرنے لگيں ، یہ ہے وہ کچھ جوایک اسلامی ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں میں ہوا بلکہ اسلامی یونیورسٹی میں اورخاص کرسینٹ ویلنٹائن کے تہوارکے موقع پر ۔ !!!

اوراس دن تومڈل سکولوں میں بھی حیران کن معاملہ ہوا وہ اس طرح کہ طالبات اعلی قسم کے سرخ گلاب کے پھول لائيں ، اوراپنے چہروں کوسرخ رنگ کے بناؤ سنگھارمیں ڈبورکھا تھا اورسرخ بالیاں وغیرہ پہنے ہوئے ایک دوسری سے تحفوں اوربڑی گرمجوشی سے محبت بھرے الفاظ والی عبارتوں کا تبادلہ کرتے ہوئے یہ تہوارمنانے لگيں ۔

عربی انسیکلوپیڈیا ( الموسوعۃ العربیۃ ) اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ : ویلنٹائن ڈے ( یعنی یوم محبت ) کے کچھ خاص دینی طریقے ہیں جن میں کارڈوں پر عشقیہ اورمحبت کے اشعارچھاپنا اوراسے عزيزواقارب اوراپنے محبوب لوگوں میں تقسیم کرنا شامل ہے ، اوربعض لوگ توان کارڈوں پرمضحکہ خيزتصاویر بناتے ہیں، اوراکثرکارڈوں میں یہ لکھا جاتا ہے ( ویلنٹائنی ہو جاؤ ) ۔

اوراکثرطورپردن کے وقت ان کے طریقہ پرہی رقص وسرور کی محفلیں سجائي جاتی ہیں ، اوراب تک یورپی لوگ یہ تہوارمناتے چلے آرہے ہیں ، اس دن ( یعنی چودہ فروری کے دن ) برطانیہ میں بائیس ملین پاؤنڈ کے پھول فروخت ہوئے ، اورچاکلیٹ کی فروخت بھی بہت زيادہ ہوتی ہے ، اوراسی مناسبت سے انٹرٹیٹ پرکچھ کمپنیاں اپنی ویب سائٹوں پرمفت رسائل پیش کرتی ہیں تا کہ ان کی ویب سائٹ کوترویج حاصل ہوسکے ۔

یوم محبت (ویلنٹائن ڈے ) بہت سے اسلامی اورعرب ممالک میں بھی منتقل ہوچکا ہے ، بلکہ اسلام کے وطن ( جزیرہ عربیہ ) میں بھی پہنچ چکا ہے اورایسے معاشروں میں اس کی جڑیں پہنچ چکی ہیں جن کےبارہ میں ہم خیال کرتے تھے کہ وہ اس گنداورخرابی سے دور ہے ، حتی کہ اس دن سرخ گلاب کے پھول کی قیمت جنونی حد تک بڑھ جاتی ہے اورایک پھول کی قیمت دس ڈالرتک جا پہنچتی ہے حالانکہ اس کی قیمت کبھی بھی 1.4 ڈالر سے زيادہ نہیں ہوئي تھی ، اورتحفے تحائف اورکارڈوں کی دوکانیں اس موقع پرکمپیٹیشن یعنی باہم مقابلہ کی صورت اختیارکرلیتی ہیں اورایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کرکارڈوں کواس مناسبت سے بہتر چھاپنے کی کوشش کرتے ہیں ، اوربعض خاندان اورگھروں والے تواس دن اپنےگھروں کی کھڑکیوں میں سرخ گلاب لٹکاتے ہیں ۔

اوربعض خلیجی ممالک میں توبہت سے تجارتی مراکز اورکمپنیاں اور ہوٹل یوم محبت کے موقع پرخاص محفلیں سجاتے ہیں ، اوراکثر دوکانیں اورتجارتی مراکزتوسرخ لباس میں ڈوبے ہوتے ہیں اورایک اعلی فائیوسٹارخلیجی ہوٹل میں توسرخ غبارے ، اورکھیل اورگڑیاں پیھل چکی ہیں اوروہ یوم محبت کی عادات کے مطابق چلنا شروع ہوچکا ہے ، اوراس ہوٹل میں بت پرستی کے قصے کیوبڈ جسے رومی قصوں میں محبت کا بت مانا جاتا ہے کا ڈرامہ بنایا جاتا ہے جوتقریبابےلباس اوراس کے ہاتھ میں تیرکمان پکڑاہوا ہے ، اوراس ڈرامے میں فنکارحاضرہونے والے لوگوں میں سے اس وصف کے ( مسزویلنٹائن اورمسٹر ویلنٹائن ) کوچنتا ہے ۔

کویت میں یوم محبت کی سب سے عجیب چيز یہ تھی کہ ایک دوکاندار نے فرانسیسی زندہ خرگوش منگوائے جوبالکل چھوٹے اورسرخ آنکھوں والے ہوتے ہیں اوران کے گلے میں پٹا ڈال کرایک چھوٹے سے ڈبہ میں رکھا تا کہ یہ بطورھدیہ پیش کیے جاسکیں !!

لہٰذا اس کے خلاف ہرقسم کے وسائل استعمال کرتے ہوئے لڑنا واجب ہے اوراس کی مسؤلیت سب کے کندھوں پرہے کسی ایک پرنہیں ۔

چہارم :

یوم محبت کی مبارکباد کا تبادلہ نہيں کرنا چاہیے اس لیے کہ نہ تویہ مسلمانوں کا تہوار ہے اورنہ ہی عید ، اوراگر کوئي مسلمان کسی کواس کی مبارکباد بھی دے تواسے جوابامبارکباد بھی نہيں دینی چاہیے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں : ( اورکفارکےخصوصی شعارجوصرف ان کے ساتھ ہی خاص ہیں ان کی مبارکباد دینا متفقہ طور پرحرام ہے ، مثلا انہیں ان کے تہواروں یا روزے کی مبارکباد دیتے ہوئے یہ کہا جائے : آپ کوعید مبارک ، یا آپ کواس تہوار کی مبارک ، لہٰذا اگراسے کہنے والا کفر سے بچ جائے توپھر بھی یہ حرام کردہ اشیاء میں سے توہے ہی ، اوریہ اسی طرح ہے کہ صلیب کوسجدہ کرنے والے کسی شخص کومبارکباد دی جائے ۔

بلکہ یہ اللہ تعالی کے ہاں تواورشراب نوشی اوربے گناہ شخص کوقتل اورزنا کرنے سے بھی زيادہ عظیم اورزيادہ ناراض کرنے والی ہے ، اوربہت سے ایسے لوگ جن کے ہاں دین کی کوئي قدروقیمت نہيں وہ اس میں پڑ جاتے ہیں اورانہيں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کتنا بڑا قبیح کام کرلیا ہے ، لہٰذا جس نے بھی کسی بندے کومعصیت اورنافرمانی یا بدعت اورکفر پرمبارکباد دی اس نے اپنے آپ کواللہ تعالی کے غصہ اورناراضگی پرپیش کردیا ) دیکھیں : احکام اھل الذمۃ ( 1 / 441 - 442 ) ۔

پنجم :

اس اورکفارکے اسی طرح کے دوسرے تہواروں کی سادہ اورعام مسلمانوں کے لیے وضاحت اوربیان کرنا واجب ہے ، اوریہ بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان شخص کواپنے عقیدے اوردین کی حفاظت کےلیے ایسے معاملات کی تمیزکرنی چاہے جواس کے دین اورعقیدہ میں مخل ہوں ، اسی میں امت کی نصیحت اوربہتری وبھلائي اورامربالمعروف اورنہی عن المنکرجیسے واجب کی ادائيگي ہے ۔

 

یوم محبت کے بارہ میں مسلمان علمائے اُمّت کے فتاوی جات :

 

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح عثیمن رحمہ اللہ تعالی کا فتوی :

سوال : ؟

کچھ عرصہ سے یوم محبت کا تہوار منایا جانے لگا ہے – اورخاص کرطالبات میں اس کااہتمام زيادہ ہوتا ہے – جونصاری کے تہواروں میں سے ایک تہوارہے ، اس دن پورالباس ہی سرخ پہنا جاتا ہے اورجوتے تک سرخ ہوتے ہیں ، اورآپس میں سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔۔۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طرح کے تہوارمنانے کا حکم بیان کریں ، اوراس طرح کے معاملات میں آپ مسلمانوں کوکیا نصیحت کرتے ہیں ؟ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے ۔

اس کے جواب میں شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

یوم محبت کا تہوارکئي ایک وجوھات کی بنا پرمنانا جائز نہيں :

اول :

اس لیے کہ یہ تہواربدعت ہے اورشریعت میں اس کی کوئي دلیل اوراصل نہيں ملتی ۔

دوم :

یہ تہوار دل کواس طرح کےگرے پڑے امور میں مشغول کرتا ہے جوسلف صالحین رضي اللہ تعالی عنہم کے طریقہ کے مخالف ہے ، لہٰذا اس دن اس تہوار کی کوئي علامت اورشعار ظاہرکرنا حلال نہيں چاہے وہ کھانے پینے میں ہو یا لباس اورتحفے تحائف کے تبادلہ کی شکل میں یا اس طرح کسی اورشکل میں ہو ، اورمسلمان شخص کوچاہیے کہ وہ اپنے دین کوہی عزیز سمجھے اورایسا شخص نہ بنے کہ ہرکائيں کائيں کرنے والے کے پیچھے ہی نہ چلنا شروع کردے ، میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مسلمانوں کوہرقسم کے ظاہری اورباطنی فتنوں سے محفوظ رکھے ، اورہمیں اپنی ولایت میں لے اورتوفیق سے نوازے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔

شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن بن جبرین رحمہ اللہ کا اس تہوار کے منانے کے بارہ میں فتوی :

فضیلۃ الشیخ سے مندرجہ ذيل سوال کیا گیا :

ہمارے نوجوان لڑکے اورلڑکیاں کے درمیان کچھ عرصہ سے یوم محبت ( ویلنٹائن ڈے ) کے نام سے ایک تہوارمنانا چل نکلا ہے ، جوایک عیسائي بشپ کانام ہے اورعیسائی اس کی تعظیم کرتے ہوئے ہرسال چودہ فروری کواس کا تہوار مناتے ہیں ، لہٰذا اس تہوارکے منانے یا اس دن تحفے تحائف کے تبادلوں اوراس تہوارکوظاہرکرنے کا حکم کیا ہے ؟ اللہ تعالی آپ کوجزائے خیرسے نوازے ۔

شيخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

اول :

اس میں کفارکی مشابھت اوران کی تعظیم کرنے والی اشیاء میں ان کی تقلید میں تعظیم کرنا اوران کے تہواروں اورعیدوں میں ان سے مشابھت ہے جوکہ ان کے دین میں شامل ہے اورحدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( جو کوئي بھی کسی قوم سے مشابھت اختیارکرتا ہے وہ انہيں میں سے ہے )

سوم :

اس کی وجہ سے بہت سارے فساد اورممنوعات مرتب ہوتے ہیں جن میں لھوولعب اوررقص وسرور اورموسیقی اورشروفساد اوراکڑ وبے پردگی وبے حیائي اورمردوعورت کا آپس میں میل جول اوراختلاط یا پھر عورتوں کا غیرمحرم مردوں کے سامنے نکلنا اوراس کے علاوہ بہت سارے حرام کام مرتب ہوتے ہیں ، یاپھر ایسے کام جوبے حیائي اورفحاشی کا وسیلہ اوراس کی ابتداء میں شامل ہونے والے کام بھی اسی سے مرتب ہوتے ہیں ، اسے بےغمی اورآسودگی وخوشحالی جیسی چھوٹی تعلیل سے اس کا جواز پیدانہيں ہوجاتا ، اورجواسے تحفظ سمجھتے ہیں وہ بھی صحیح نہیں ،لہٰذا نصیحت کرنے والے نفس کوچاہیے کہ وہ گناہ اوراس کے وسائل سے بھی دور رہے ۔

تواس بنا پرجب یہ معلوم ہوجائے کہ خریدار یہ تحفے تحائف اورگلاب کے پھول ان تہواروں اورعیدوں کےلیے خرید رہا ہے اوراسے ھدیہ میں دے گا یا ان کے ساتھ وہ اس دن کی تعظیم کرے گا تویہ اشیاء فروخت کرنا بھی جائز نہيں ، تا کہ فروخت کرنے والا بھی اس بدعتی اورحرام کام میں شریک نہ ہوجائے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ اھـ

دیارِ حرمین شریفین کی مستقل فتوی کمیٹی (اللجنۃ الدائمۃ ) کا فتوی ہے :

مستقل فتوی کمیٹی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گيا :

بعض لوگ ہر سال چود فروری یوم محبت ( ویلنٹائن ڈے ) کا تہوار مناتے ہیں ، اوراس دن آپس میں ایک دوسرے کوسرخ گلاب کے پھول ھدیہ میں دیتے ہیں اورسرخ رنگ کا لباس پہنتے ہیں ، اوران میں سے بعض ایک دوسرے کومبارکباد بھی دیتے ہیں ، اوربعض مٹھائي کی دوکانوں والے سرخ رنگ کی مٹھائي بھی تیار کرتے اوراس پردل کا نشان بناتے ہیں ، اوربعض دوکاندار اپنے مال پراس دن خصوصی اعلانات بھی چسپاں کرتے ہیں ، تواس سلسلے میں آپ کی رائے کیا ہے ؟

کمیٹی کا جواب تھا :

مسلمان پراس تہوار یا اس طرح کے کسی اورحرام تہوار میں اعانت کرنا حرام ہے وہ تعاون کسی بھی طریقہ سے ہوچاہے کھانے پینے یا خریدوفروخت یا کوئي چيزتیارکرکے یا ھدیہ اورتحفہ دے کریا خط وکتاب کرکے یا اعلان کے ذریعہ ہویہ سب کچھ گناہ اوراللہ تعالی اوراس کے رسول کی معصیت ونافرمانی میں تعاون کے زمرہ میں آتا ہے ، اوراللہ سبحانہ وتعالی تویہ فرمارہا ہے :

{ اورنیکی اوربھلائي کےکاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہا کرو ، لیکن گناہ اوردشمنی میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کیا کرویقینا اللہ تعالی شدید سزا دینے والا ہے } ۔

اورمسلمان کےلیے ہرحالت میں کتاب وسنت پرعمل کرنا واجب ہے اورخاص کر فتنہ وفسادکے اوقات میں تواسے اس کا زيادہ اہتمام کرنا چاہیے ، اورمسلمان کوچاہیے کہ وہ ذہین وچالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گمراہی اورناراضگی کے کاموں سے بچ کررہے اورنہ ہی وہ فاسقوں اورگمراہ اورجن پراللہ تعالی کا غضب نازل ہوا ان لوگوں کے طریقہ پرچلے جنہیں اللہ تعالی کے وقار کا خیال ہی نہيں ، اورنہ ہی وہ اسلام قبول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مسلمان شخص کوچاہیے کہ وہ ھدایت وراہنمائی کے لیے اللہ تعالی ہی سےالتجا کرے اوردین اسلام پرثابت قدم رہنے کی دعا کرتا رہے ، کیونکہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي بھی ھدایت نصیب کرنے والا نہيں اورنہ ہی اللہ سبحانہ وتعالی کے علاوہ کوئي اوردین اسلام پرثابت قدم رکھنے والا ہے ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والاہے ،اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء سعودی عرب ۔

 

آخر میں ہم اپنےبہنوں اور بھائیوں کومندرجہ ذیل نصیحت کرتے ہيں :

1 - مساجد کے خطباء حضرات کوتنبیہ پرابھارا جائے اورانہيں چاہیے کہ وہ لوگوں کواس سے بچنے کی تلقین کریں ، اورامام مسجد کوبھی اس موضوع کی وضاحت کریں اوراس کےساتھ ساتھ اس تہوار کے قریب آنے پراسے مستقل فتوی کمیٹی کافتوی اورشیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے فتوی کی کاپی بھی دی جائے تا کہ لوگوں کواس کی وضاحت ہوسکے ، اورہرشخص کواپنی مسجد کے امام تک اس خبر کوپہنچانے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے ، اوریہ یقینی بات ہے کہ جب ہماری مساجد کے امام وخطیب حضرات بھائي یہ فتوی اورمقالہ پڑھ کرسنائيں گے تووہ لوگوں کوبتانے سے بری الذمہ ہوجائيں گے ۔

2 - ہراستاد اوراستانی کے ذمہ یہ امانت ہے کہ وہ اس تہوار کی صورت کواپنے شاگردوں کے سامنے وضاحت سے بیان کرے کیونکہ یہ لوگ کل اللہ تعالی کوجواب دہ ہونگے اس لیے انہيں چاہیے کہ وہ مستقل فتوی کمیٹی کے فتوی کے ذریعہ اس کی حرمت بیان کریں اوریہ سب کچھ اس تہوار کے آنے سے تقریباایک ہفتہ قبل ہونا ضروری ہے تا کہ لوگ اس سے مسفید ہوسکیں ۔

3 - امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے اداروں اوراہل حسبہ ( یعنی برائي کا مواخذہ کرنے والے ادارہ کے لوگوں ) کوایسی دوکانوں اورجگہوں کے متعلق بتایا جائے جواس تہوارکے لیے تحفے تحائف فروخت کرتے ہيں یا ایسی تصویریں رکھتے ہیں جس میں تحفے کی شکل اوراسے پیک کرنے کا طریقہ وغیرہ بتایا گيا ہے ۔

4 - اسی طرح ہرانسان کواپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اسےاپنے گھرمیں بھی پورا کرنا چاہیے لہٰذا جس کسی کی کوئي بہن یا بھائي پڑھاتے ہیں انہيں چاہیے کہ وہ اسے اس معاملہ کے بارہ میں آگاہ کرے ، کیونکہ بہت سارے لوگ اس تہوار کی ماہیت وشکل سے جاہل ہیں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ مسلمانوں کی ہرگمراہی اورفتنہ وفساد سے حفاظت فرمائے ، اورانہیں ان کے نفسوں کے شرسے اوران کے دشمنوں کی چالوں اورمکروں سے بچاکررکھے ، یقینا اللہ سبحانہ وتعالی سننے والا اورقبول کرنے والا ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندے اوررسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتیں برسائے اوربرکت عطا فرمائے ۔

===المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر===

مزید پڑھیے۔۔۔
Previous
اگلا

سہ ماہی مجلہ البیان

صفحہ اول

نرمی اور بردباری

( 3 Votes )

عقلمند انسان کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر معاملے کو نرمی اور بردباری سے حل کرتا ہے، جبکہ بے وقوف انسان کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں جلدبازی اور نادانی سے کام لیتا ہے۔  

مثال مشہور ہے کہ ’’عقلمند سوچ کے کرتا ہے اور بے وقوف کرکے سوچتا ہے۔‘‘ 

نرمی کا تعلق: درگزرکرنے، معاف کرنے اور غصہ پر قابو پانے سے جبکہ بردباری کا تعلق: کسی بھی معاملے کو سوچ سمجھ کر اور غور و فکر کر کے اختیار کرنے سے ہے۔ اور ان دونوں کا تعلق عقلمندی سے ہے۔  

ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی دینِ اسلام کی تعلیمات ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں۔  

َ

نرمی اور ُبرد باری !


انسانوں کی بھلائی کے یہ دو ایسے اوصافِ حمیدہ ہیں جن سے اللہ رب العزت بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

{ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْضَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ} 

’’اور(متقی) غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہوتے ہیں اور اللہ ایسے ہی نیکو کاروں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (ال عمران:134) 

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک صحابی اشجع بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ’’ تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: بردباری اور سوچ سمجھ کر کام کرنا۔‘‘ (صحیح مسلم) 

امُّ المؤمنین ، طاہرہ مُطہّرہ صدّیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ پیارے پیغمبر جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ رفیق (نرمی کرنے والا) ہے اور ہر معاملے میں رفق (نرمی کرنے) کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) 

مزید ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے:  

’’بے شک اللہ تعالیٰ رفیق (نرمی کرنے والا) ہے ، رفق (نرمی) کو پسند فرماتا ہے، نرمی پر جو کچھ عطا فرماتا ہے وہ سختی پر اور اس کے علاوہ کسی اور طریقے پر عطا نہیں فرماتا۔‘‘ (صحیح مسلم) 

ان دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نرمی اور بردباری جیسی اعلیٰ صفات اللہ تعالیٰ کو انتہائی محبوب ہیں اور ان صفات کے اعلیٰ اور محبوبِ الٰہی ہونے کے لئے اگرچہ یہی بات کافی ہے کہ یہ خود ربُّ العالمین کی اپنی صفات ہیں ، لیکن اللہ احکم الحاکمین نے انہیں ہر معاملے میں اپنے بندوں میں بھی ازحد پسند فرمایا ہے اور ساتھ ہی اپنی بارگاہِ اقدس میں معاملات کی قبولیت کیلئے بھی ان صفات کو اوّلین ترجیح عطافرمائی ہے۔ لہٰذا ان صفات کا حامل انسان بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور مقبول ترین انسان ہوتا ہے۔  

کوئی بھی انسان جو یہ چاہتا ہو کہ اس کے ہر معاملے کا حل بہترین ہو، اس کی ہر بات مقبولیت کے درجہ کو پہنچے اور اس کا ہر کام خوبصورت ہو تو اسے چاہئے وہ انہی دو صفات کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالے۔  

جنابِ خاتم النبیّین، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمانِ مبارک ہے: 

’’بے شک جس معاملے میں بھی نرمی شامل ہوتی ہے تو وہ اسے بازینت (خوبصورت) بنادیتی ہے اور جس معاملے سے نکال لی جاتی ہے اسے عیب دار بنادیتی ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم) 

اس حدیث پر غور کریں ، پیغمبرِ اسلام ، نبی مکرم ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  ہر اس معاملے کی خوبصورتی اور زینت کی خبر دے رہے ہیں جس میں نرمی شامل ہو۔ اور ہر اس معاملے کی بدصورتی اور بدنمائی کی بابت بتا رہے ہیں جس میں نرمی شامل نہ ہو۔ 

ہمارے معاشرے میں عموماً دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں:

ایک وہ جو اچھے اخلاق کے حامل ، نرم گفتگو کرنے والے ، سمجھداری کا مشورہ دینے والے اور خلوص کا اظہار کرنے والے ہیں۔

اور دوسرے وہ جوبد اخلاق ، بدتمیز ، چڑچڑے مزاج والے اور جان چھڑانے کیلئے غلط مشورہ دینے والے ہیں۔  

ہر انسان دیکھے کہ وہ ان دونوں قسم کے لوگوں میں سے کس کے پاس شوق اور محبت کے ساتھ جانا گوارا کرتا ہے؟ ظاهرہے بااخلاق ، نرم خو ، بردبار اور مخلص انسان کے پاس۔ 

ذرا سوچیں! انہیں کن چیزوں نے لوگوں کا محبوب بنایا؟ خود ہی جواب ملے گا کہ ان کی انہی اعلیٰ اور احسن صفات نے۔ بات کو مزید سمجھنے کیلئے ہم اسی مثال کو قرآن کریم سے بھی ذکر کرتے ہیں۔  

اللہ ربُّ العزت نے قرآنِ مجید میں اپنے سب سے پیارے اور آخری رسول ، امامِ کائنات ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے: 

{ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْکُنْتَ فَضًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ } 

’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) ان (صحابہ رضی اللہ عنہم) پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بدزبان اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، لہٰذا ان سے درگزر کریں، ان کیلئے استغفار کریں اور معاملات میں ان سےمشورہ کیا کریں۔‘‘ (اٰل عمران:159) 

اس آیت مبارکہ میں اللہ ربُّ العزت نے ہمارے لئے ہمارے ہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نرم دلی اور اعلیٰ اخلاق کی مثال بیان فرمائی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ بار بار تشریف لانا اور محوِ گفتگو ہونا بھی انہی صفات کے سبب بتایا ہے کہ اگر یہ صفات نہ ہوتیں تو یہ لوگ کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جمع نہ ہوتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے دور بھاگتے۔  

اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ کی ابتدا ء میں ایک اور انتہائی اہم سبق بھی دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب ہے، انسان کی ذاتی صلاحیت کا حصہ نہیں! لہٰذا جو انسان ان خصوصیات کا حامل ہے وہ سمجھ لے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہے، اسے بغیر کسی تکبر اور غرور میں مبتلا ہوئے اپنے رب کا اور زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے۔ اور جو انسان ان خصوصیات سے محروم ہے اسے جان لینا چاہئے کہ وہ نہ صرف اللہ رب العالمین کی رحمت سے، بلکہ ہر خیر سے دور ہے۔ جیسا کہ حدیث میں رسول اللہصلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: 

’’جو شخص نرمی سے محروم کردیا گیا ‘ وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔‘‘ (صحیح مسلم) 

لہٰذا ایسے انسان کو اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات میں ان صفات کے حصول کیلئے خصوصی دعا کرنی چاہئے۔ 

 

نرمی اور برد باری کا سب سے بڑا فائدہ !

 

بلاشبہ نرمی اور بردباری انتہائی نیک صفات ہیں ، جبکہ بدمزاجی اور بے وقوفی انتہائی بری صفات ہیں۔ نیکی لوگوں کو قریب، جبکہ برائی دور کرتی ہے۔ نیکی دوست بناتی ہے اور برائی دشمن۔ لہٰذا نیکی کرکے لوگوں کو اپنا دوست بنایاجائے، برائی کرکے دشمن نہ بنایاجائے۔  

انہی باتوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں یوں بیان فرمایا ہے: 

{ وَلَاتَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَاالسَّیّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَاالَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ   وَمَایُلَقّٰھَآ اِلَّاالَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَایُلَقّٰھَآ اِلَّاذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ } 

’’نیکی اور برائی برابر نہیں ہوتی، برائی کو نیکی کے ذریعے دفع کرو‘ تب وہ شخص جو تمہارا (بدترین) دشمن ہے‘ ایسے ہوجائے گا، جیسے وہ تمہارا انتہائی گہرا دوست ہو۔ اور یہ بات انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جو صبر کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کو نصیب ہوتی ہے جو بڑی قسمت والے ہوتے ہیں۔‘‘ ( حم السجدہ: 34-35)

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ خالق و مالک نے گہرے دوست بنانے کا ایک انتہائی اہم اور مجرّب نسخہ تجویز فرمایا ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ برائی یا زیادتی کرے اور جہالت کا ثبوت دے تو اس کی ان برائیوں کا مقابلہ قرآنی حکم کے مطابق نیکی سے کریں۔ اس سے درگزر کریں، محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اجر و ثواب کے حصول کی خاطر اسے معاف کردیں اور اس کی جہالت کا مقابلہ اپنی اعلیٰ اخلاقی تعلیم سے کریں۔ اور اس شخص کی طرح نہ ہوجائیں‘ جو کسی راستے سے گزررہا تھا کہ وہاں کھڑے ایک گدھے نے اسے لات ماردی، اس آدمی نے پلٹ کر گدھے کو زور سے لات ماری اور غصے سے کہا کہ ’’کیا میں تجھ سے کم ہوں؟‘‘۔

جس طرح یہ چیز مناسب نہیں ہے، بالکل اسی طرح اپنے آپ کو ظالم کے مقابلے پر ظالم، بدتمیز کے مقابلے پر بدتمیز اور جاہل کے مقابلے پر جاہل بنانا بھی مناسب نہیں ہے۔ اگر دونوں ایک دوسرے سے یکساں سلوک کریں تو پھر دونوں میںفرق ہی کیا رہ جائےگا؟ لہٰذا ہر بری صفت کا مقابلہ اپنی نیک صفت سے کیا جائے کہ یہی اللہ احکم الحاکمین کا حکمِپاک بھی ہے:

{ خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَ }

’’درگزر سے کام لو، نیکی کا حکم کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو۔‘‘ (الاعراف:199)

 

غصّہ نیکی کا دشمن ہے !


غصہ ہر لحاظ سے انسان کیلئے نقصان دہ ہے۔ بعض اوقات انسان غصے کی حالت میں‘ نادانی اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دین کے معاملات میں بھی کچھ ایسے الفاظ کہہ دیتا ہے جو اس کے ایمان اور نیکیوں کو ضائع کردینے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہی غصہ بہترین دوستوں کو بدترین دشمن بنادیتا ہے۔ اپنوں کو پرایا کردیتا ہے۔ اس لحاظ سے غصہ انسان کا بدترین دشمن ہے۔ لہٰذا غصے کو ہرگز اپنے قریب مت آنے دیجئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ و سلم ! مجھے کوئی نصیحت فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے نصیحت فرمائی کہ ’’غصہ مت کرو‘‘ ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کئی مرتبہ اپنی بات دہرائی کہ مجھے نصیحت کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر بار اسے یہی نصیحت فرمائی کہ ’’غصہ مت کرو‘‘۔ (صحیح بخاری)

اگر کوئی انسان یہ سمجھتا ہے کہ غصے کے ذریعے وہ اپنی قوت کا اظہار کرتا اور اپنے طاقتور ہونے کا ثبوت دیتا ہے تو اس کی یہ سوچ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔نبی کریمصلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے:

’’طاقتور وہ نہیں ہے جو(مدمقابل کو) پچھاڑ دے ، بلکہ طاقتور تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

دینِ اسلام میں جسمانی طاقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بلکہ اصل طاقت نیکی کی طاقت ہے۔ اس لحاظ سے اسلام کی نظر میں اصل طاقتور وہ نہیں ہے‘ جو غصہ کے عالم میں مخالف کو زیر کرکے انتقام کا نشانہ بنائے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے‘ جو حق پر ہوتے ہوئے اور بدلہ لینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہوئے اپنے غصے اور جذبہ انتقام پر قابو رکھے اور درگزر سے کام لے۔

اس بات کی شہادت قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے۔

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ

’’اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو بے شک یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘ (الشوریٰ :43)


نبہ آخر الزماں ﷺ کی مثال !


’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر (جنگ) اُحد سے بھی زیادہ کوئی سخت دن آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں نے تیری قوم سے بہت تکلیف اٹھائی ہے اور سب سے زیادہ تکلیف مجھے اس عقبہ والے دن پہنچی جب میں نے اپنے آپ کو (اسلام کی دعوت کیلئے) ابن عبد یا لیل بن عبد کلال پر پیش کیا۔ (جو طائف کا ایک بڑا سردار تھا) اس نے میری دعوت کو‘ جو میں چاہتا تھا‘ قبول نہیں کیا،تو میں وہاں سے سخت پریشان ہو کر نکلا۔ قرنِ ثعالب پر پہنچ کر مجھے کچھ افاقہ محسوس ہوا تو میں نے سر اٹھایا تو ناگہاں ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو اس میں جبرئیل علیه السلام تھے، انہوں نے مجھے آواز دی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ بات سن لی جو آپ نے ان سے کہی اور وہ بھی جو انہوں نے آپ کو جواب دیا، اللہ تعالیٰ نے آپصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پہاڑوںپر مقرر فرشتہ بھیجا ہے، تاکہ آپ اسے ان لوگوں کی بابت جو چاہیں حکم دیں۔ ‘‘ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کیا۔ اور کہا: ’’اے محمدصلی اللہ علیہ و سلم ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی گفتگو‘ جو آپ سے ہوئی‘ سن لی اور میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ ہوں، مجھے میرے رب نے آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ مجھے اپنے معاملے میں حکم دیں، پس آپ کیا چاہتے ہیں؟ اگر آپ چاہیں تو میں انہیں دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں؟‘‘ تو نبی کریمصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :( ایسا نہ کرو) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ‘‘(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اللہ کے ایک نبی کی مثال !


سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں (اب بھی) گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، اس نبی علیہ السلام کو اس کی قوم نے مار مار کر لہو لہان کردیا تھا۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ ’’اے اللہ ! میری قوم کو معاف کردے، کیونکہ وہ لاعلم ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری )

ہمارا دین کس قدر اَعلیٰ و اَرفع تعلیمات اور مثالوں کا حسین ترین گلدستہ ہے، جس میں ہر لحظہ محبت و امن، نرمی و بردباری اور درگزر و معافی کا حکم دیا گیا ہے ۔اور ظلم و تشدد ، عدمِ برداشت اور بدلہ و انتقام کی سوچ کو غیر اسلامی کہا گیا ہے۔

 

لہٰذا آئیے !

اللہ رب العالمین کی طرف سے اس حسین ترین گلدستۂ اسلام کا تحفہ قبول فرمایئے اور اپنی عادات و اطوار کو اسلامی اوصافِ حمیدہ کے مطابق بنائیے !

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن و حدیث کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

البیان فہم دین و عربی لینگویج ، ایک سالہ ڈپلومہ ۲۰۱۲


آن لائن فتویٰ

اہم ترین تقاریر و مضامین


ویب سائیٹ کو خوبصورت اردو میں دیکھنے کے لیے فونٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں

        download

زائرین کی تعداد

mod_vvisit_counterآج:81
mod_vvisit_counterکل1353
mod_vvisit_counterاس ہفتے:5250
mod_vvisit_counterاس ماہ:44455
mod_vvisit_counterگذشتہ ماہ40735
mod_vvisit_counterکل تعداد:144336

آن لائن مہمان : 28

اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل

نام:
ای میل:

شئیر کریں

By A Web Design

جملہ حقوق @ مرکز المدینہ العلمی لخدمۃ الکتاب والسنّۃ